اخلاقی قدریں

qazi-310x387فرحت قاضی

جب اس نے پیسہ اکھٹا کرلیا تو اس کی چوری کا خوف پیدا ہوا۔
چنانچہ اس نے ایک کتّاپال لیا۔
لیکن اس کے باوجود اس کا مال چوری ہوگیالہٰذا ایک چوکیدار بھی رکھ لیا کچھ عرصہ گزرنے پر اسے یہ فکر ستانے لگی کہ وہ چور نکلا تو پھر کیا ہوگا۔
چنانچہ
اس نے چوکیدار کے کانوں میں یہ کہناشروع کردیا:۔
چوری نہایت بُرا فعل ہے 
یہ نسخہ بھی کارگر نہ ہوا تو حکومت کی بنیاد رکھ دی جس کے فرائض میں چور کو پکڑنا اور سزا دینا تھا۔
اس طرح اخلاقی قدریں اور قانون وجود میں آگئے۔

معیشت،قانون اور اخلاقی قدروں کا گہرا سمبندھ ہوتاہے جس لحظہ چوری سے منع کیا جاتا اور سزا تجویز کی جاتی ہے تو ہمارے ذہنوں میں ملکیت کا تصور ابھرتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے:۔
’’
قانون ملکیت کی حفاظت کرتا ہے ،،
قدیم معاشروں میں قانون کی سخت گیری اور مجرموں کے لئے اذیت ناک سزاؤں کا تصور اسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
انسان غلام دارانہ اور جاگیردارانہ نظاموں سے ہوکر سرمایہ دارانہ نظام میں جی رہا ہے دنیا ریاستوں میں بٹی ہوئی ہے ان میں ایسے ممالک بھی ہیں جہاں جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ کے ساتھ ساتھ غلامی بھی موجود ہے اور پاکستان ان میں سے ایک ہے یہاں قدیم قبائلی نظام بھی ہے اور فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کی صورت میں قوانین کی ایک بدترین شکل بھی کارفرما ہے تو اس کے ساتھ ساتھ ایسی اخلاقی قدریں بھی پائی جاتی ہیں جو ہمیں قرون وسطیٰ اور قرون اولیٰ کی یاد دلاتی ہیں ہمارے پاس توہمات،عقائد اور مذاہب کے علاوہ اخلاقیات اور اخلاقی قدروں کا ایک وسیع اور ضخیم مجموعہ و ذخیرہ موجود ہے جوکہ صدیوں پر محیط ان نظاموں کی داستان سناتا ہے۔
ہر زمانے کی سماجی اور اخلاقی قدریں، توہمات،عقائد اورمذاہب اس کے طبقات،طبقاتی رشتوں اور طبقاتی جدوجہد سے پردہ سرکاتے ہیں مثلاً غلام دارانہ نظام میں انسانوں کا ایک گروہ دوسرے پر حملہ کرتا ہے مفتوح قبیلے کے مردوں کو قتل کرکے اس کی عورتوں اور مویشیوں کو ساتھ لے آتا ہے اور پھر ایسا وقت آجاتا ہے کہ مردوں کو غلا م بنا لیا جاتا ہے ان سے سخت محنت اور مشقت لی جاتی ہے مارا پیٹا جاتا ہے جیل میں ڈالا جاتا ہے زنجیروں میں جکڑا اور اذیت پہنچائی جاتی ہے حتیٰ کہ قتل بھی کیا جاتا ہے گھریلو سامان اور زمین کی طرح غلام بھی نجی ملکیت ہوتے ہیں مالک کے مرنے پر لاش کے ساتھ کھانے پینے کے برتن اور ایک یا دو غلام بھی دفنا دئیے جاتے ہیں ۔
غلاموں کی ضرورت بڑھ جاتی ہے تو مالک کے ساتھ غلام کو دفنانے کی ریت روایت بھی دم توڑ دیتی ہے اسے قتل کرنا جرم ٹھہرتا ہے بلکہ چھپ چھپاکر قتل کرنا بھی برا سمجھا جاتا ہے جیل میں ڈالنے، زنجیروں میں جکڑنے اور اذیت پہنچانے پر مالک کی سرزنش ہونے لگتی ہے ان کو شادی اور بچے پیدا کرنے کا ہی نہیں بلکہ خاندان بنانے کی اجازت بھی مل جاتی ہے انجیل کے’’آنکھ کے بدلے آنکھ‘‘۔

اور بعد ازاں اسلام میں قصاص ودیت کے تصورات سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سماجی، مذہبی ،اخلاقی اور قانونی طور پر غلام کو معاشرے اور ریاست کا حقوق یافتہ شہری تسلیم کرلیا گیا تھا غلام کے حوالے سے بدلتے ہوئے یہ رویے ظاہر کرتے ہیں کہ آقاؤں میں ذاتی ملکیت کی حرص بڑھنے پر ان کا غلاموں پر انحصار بھی بڑھ گیا تھا یہی وجہ ہے کہ اب ایک قبیلہ دوسرے پر حملہ کرتا تو اس کی عورتوں اور مویشیوں کے ساتھ ساتھ مفتوح قبیلہ کے مردوں کو بھی غلا م بنا کرساتھ لے آتا تھا غلام اب آقاؤں کی باقاعدہ ضرورت بن گئے تھے اس لئے ان کی خرید و فروخت کا سلسلہ بھی چل پڑا تھاان میں تفریق وتفاوت بھی کی جانے لگی کام کے دھنی، ہوشیار اوروفادار غلام کی قیمت عام غلاموں سے زیادہ لی جانے لگی۔

غلاموں کو عسکری تربیت دے کر جنگ کے لئے بھی بھیجا جاتا تھا غلام چونکہ آقاؤں کی اشد ضرورت بن چکے تھے لہٰذا کوئی غلام آقا کے سلوک اور حالات سے تنگ آکر خودکشی کرتا تو اس مالک کو نقصان تو پہنچتا ہی تھا مگر ساتھ ہی اس علاقے میں غلاموں کی قلت کا خدشہ بھی سراٹھا لیتا تھا یہ صورت حال آقاؤں کے مجموعی مفادات کے لئے مضرت رساں تھی چونکہ غلام کو خودکشی کرنے پر سزا تو نہیں دی جاسکتی تھی لہٰذا اسے خودکشی کی صورت میں اس سے بڑی سزا دوزخ کی دھکتی آگ سے دہشت زدہ کیا جانے لگاچنانچہ غلام جتنا زیادہ آقاؤں کی مجبوری بنتا گیا اتنا ہی زیادہ اسے سماجی اور اخلاقی زنجیروں سے باندھا جانے لگا مگر یہ کافی نہیں تھا اس لئے مالکوں کے اجتماعی مفادات کے پیش نظر ایک مالک کو بھی پابند کیا جانے لگا چنانچہ اسے بھی سزا دینے کا تصور سامنے آگیا اور یہیں سے غلاموں،بچوں،بوڑھوں، عورتوں اور جانوروں کے لئے رحم دلی اور ہمدردی کے جذبات اور تصورات پیدا کئے گئے۔

اور بالآخر انسان ایسے زمانے میں سانس لینے لگاجہاں اللہ اور ملک کے قانون کی نظروں میں سب شہری برابر ہیں چنانچہ حاکم وقت بھی اس کا پابند کردیا جاتا ہے اور غلاموں کی خرید و فروخت ایک غیر مہذب فعل بن جاتا ہے ۔

تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ ایک بادشاہ نے اپنے جگر گوشہ کو مدعی کے سامنے سزا دینے کے لئے پیش کردیا یا اپنے قریبی رشتہ دار کو موت کے گھاٹ اتار دیا ان واقعات کو انصاف اور بادشاہوں کو انصاف پسند اور عادل کے ناموں سے کتابوں میں محفوظ کرلیا گیا مطلق العنان ہوتے ہوئے ایک حاکم وقت اتنا بے اختیار اور بے بس کیوں ہوجاتا ہے کہ عزیز ترین متاع کو اپنے ہاتھوں ہی مٹا دیتا ہے کیونکہ وہ بالا دست طبقات کا نمائندہ ہوتا ہے طبقاتی استحصال پر استوار نظام کو برقرار رکھنا اس کے لئے ہر چیز پر مقدم ٹھہرتا تھا۔

غلاموں کی رفتہ رفتہ ایسے نفسیات اور ذہن بنادیا جاتا تھا کہ وہ آقا اور بادشاہ کی خاطر سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے وہ ان کی وفاداری کا دم بھرتے تھے دیگر قبائل اور ممالک سے لڑتے اپنا تن، من اور دھن ان پر نچاور کردیتے تھے اپنے بیوی، بچوں اور خاندان کو ان پر قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔

پاکستان کے جن صوبوں اور علاقوں میں جاگیرداریت اپنے آب و تاب سے موجود ہے وہاں اب بھی ایک وڈیرے کے پاس ایسے کارندے موجود ہوتے ہیں جو اس کی خاطر قتل کرتے، قید وبند کی سزا کاٹتے اوربخوشی دار پر لٹک جانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

آقاؤں کا کاروبار جتنا زیادہ پھیلتا گیا تو ان کا غلاموں پر انحصار بھی اسی تناسب سے بڑھتا گیا ان کو تجارت کی نیت و ارادہ سے دور دراز علاقوں اور ممالک کو بھیجا جاتا تھا جو غلام اپنے آقا کے مال اور جان کا جتنا زیادہ خیال رکھتا مالک کا اس پر اعتبار پیدا ہوتا تو اس پر مہربان ہونے لگا اور رفتہ رفتہ اسے غلاموں سے کام لینے اور کام چوری کی صورت میں سزا دینے کا اختیار بھی دے دیا گیا۔

چونکہ غلام کو اپنے کاروبار کی وسعت کی خاطر اب دوردراز آبادیوں میں بھیجا جاتا تھا اور مالک کے لئے یہ اب ممکن نہیں رہا تھا کہ اس کی نگرانی اور پکڑ کرے تو اسے اخلاقیات اور اخلاقی قدروں سے جکڑنے لگا اور یہ اخلاقی قدریں غلاموں میں جوں جوں جڑیں پکڑتی گئیں آقاؤں کے اختیارات بھی اسی نسبت سے بڑھتے گئے چنانچہ ایک غلام مالک کی اجازت کے بغیر کوئی چیز اٹھاکر کھاتا یا ساتھ لے جاتا ہے تو دوسرا یا دیگر غلام یہ دیکھ کر اسے برا بھلا کہتے ہیں اور آقا کو معلوم ہونے پر وہ اس کو جسمانی اذیت دیتا ہے تو غلاموں میں اپنے ساتھی غلام کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ اسے اس سزا اور اذیت کا مستحق سمجھتے تھے اس طرح جہاں اخلاقی اور سماجی قدروں نے آقاؤں کے ہاتھ مزید مضبوط اورسماج پر ان کی گرفت پہلے سے زیادہ مستحکم کردی وہاں انہی قدروں نے غلاموں کو منقسم اور کم زور کردیا تھا۔

جب مالکوں کو پابند بنایا جانے لگا اور ان کے لئے بھی حدود کا تعین کیا گیا بلکہ ان کو غلام کو قتل اور مارنے پیٹنے پر مالی اور جسمانی سزا دی جانے لگی تو اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ اخلاقیات اور قوانین سب کے لئے یکساں ہوتے ہیں ان میں بڑے اور چھوٹے کی کوئی تفریق اور امتیاز نہیں پایا جاتا ہے بلکہ اس تصور نے بھی جنم لیا کہ ان کا مقصد معاشرے کی اصلاح اور فلاح ہے ان اقدامات سے اخلاقی قدروں اور قوانین کی طبقاتی نوعیت رفتہ رفتہ پس پشت چلی گئی وقت کے ساتھ ساتھ اخلاقی قدروں کا دائرہ اتنا وسیع کردیا گیا کہ اب ہر چیز کو اسی نقطہ نظر سے جانچا اور تولا جانے لگا۔

ہمارے ادھر یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں ملک یا نظام میں ایک غلام ارتقائی مدارج طے کرتا ہوا حاکم وقت بن گیا بلاشبہ یہ کل اور آج بھی ہوتا ہے لیکن فقط وہی غلام بادشاہت یا اہم عہدے پر پہنچتا ہے جس کے حوالے سے آقاؤں کویہ یقین محکم ہو کہ یہ ان کے مجموعی مفادات کا بہتر تحفظ کرسکتا ہے حقیقت یہ ہے کہ بادشاہ بالادست طبقہ کا نمائندہ اور ملازم ہوتا ہے اور وہ اس وقت تک تاج پہن کر تخت پر بیٹھا رہتا ہے جب تک ان کے اجتماعی مفادات کی نگرانی اور حفاظت ہوتی ہے بادشاہوں کے دربار اسی لئے سازشوں کے گڑھ بنے رہتے تھے کہ ان میں مختلف پس منظر رکھنے والے نواب اور جاگیردار ہوتے تھے جس گروہ کے مفادات متاثر ہوتے تو وہ شہزادوں یا پھر وزیروں سے گٹھ جوڑ کرلیتا تھا یا پھر اپنے وزیر پر دباؤ ڈالتا رہتا تھا تاکہ اسے زیادہ سے زیادہ سہولیات اور مراعات ہاتھ آ نا ممکن ہو ۔

پاکستان میں بھی یہی صورت حال ہے ایک تھانے دار یا ایس ایچ او اپنے تھانے کی حدود تک بااختیار ہے ایک آئی جی اس سے زیادہ بااختیار ہے اختیارات کا یہ سلسلہ اوپر سے اوپر کو چلا جاتا ہے اس سے ہمارے ذہنوں میں مطلق العنان بادشاہ کا تصور جنم لیتا ہے اسی طرح پاکستان میں جمہوریت کا بھی حال ہے عوام ایک سیاسی جماعت کے امیدوار منتخب کرتے ہیں اسی کامیاب پارٹی کا رہنماء وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنھبالتا ہے عوام وزیر اعظم اور ان وزیروں کو عوامی یا منتخب نمائندوں کے نام سے یاد کرتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انقلاب اور تبدیلی آجائے گی۔

عوام ملک میں ایک سے مایوس ہوکر دوسری جماعت کو اس توقع پر منتخب کرتے ہیں کہ کسی سیاسی یا مذہبی پارٹی کا لیڈر دیانت دار اور عوام دوست ہوگا بعض رہنماء ووٹروں کی انہی توقعات اور کمزوریوں سے
فائدہ لیتے ہوئے ان کے ساتھ فٹ پاتھ اور ٹاٹ پر بیٹھ کر چائے پیتے اور کھانا کھاکریہی یقین دلاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک طبقاتی سماج میں رہتے ہیں ہماری پارلیمنٹ اس کا بین ثبوت ہے پالیسیوں،بجٹ،منصوبوں اور خصوصاً ترجیحات سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ پارلیمنٹ پر جاگیردار یا سرمایہ دار طبقہ کا قبضہ ہے اگر پالیسیوں،بجٹ، منصوبوں اور ترجیحات میں اخلاقی قدروں،ہمسایہ ممالک سے نفرت اور جنگ پر زور دیا جاتا ہے ترقی کے وعدے کئے تو جاتے ہیں مگر ایفاء نہیں ہوتے ہیں بلکہ ہر سال پرانا فٹ پاتھ اکھاڑ کر نیا بنایا جاتا ہے تو یہ جاگیرداروں کی موجودگی کا ثبوت ہے۔

پاکستان میں کہیں پر پرانی اخلاقی قدریں اپنی پرانی آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں تو نئی قدریں بھی شہروں میں نظر آرہی ہیں یہ بنیادی طور پر پرانے اور نئے یعنی جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ کے وجود کا اظہار ہیں ان کے مابین ایک کش مکش بھی جاری ہے جاگیردار کھیت مزدور کے بچے کو تعلیم سے دور رکھنے میں ناکام ہوچکا ہے اس لئے اس نے تعلیمی پالیسی کا اختیار اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے جبکہ سرمایہ دار کو ایسا نوجوان چاہئے جو مشینری اور آلات و اوزار کا استعمال جانتا ہو اسے حساب کتاب کرنا آتا ہو اس لئے اس نے پرائیوٹ سکول بھی کھول لئے ہیں۔

پرانا طبقہ سادگی،انکسار اور عاجزی کی تبلیغ کرتا ہے نیا اسے نئے نئے فیشن اپنانے کے لئے فیشن شو کرارہا ہے پرانا پیسہ جمع کرنے کو دنیاوی لالچ کہتا ہے نیا بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے اور ڈیپازٹ کی ترغیب دے رہا ہے پرانا ماں باپ ،بیوی اور بچوں کی محبت میں مبتلا رکھتا تھا نیا اسے ایڈونچرسٹ بنارہا ہے پرانے نے عورت کو چاردیواری میں رکھا تھا نئے نے اسے شارٹس پہنا دیا ہے پرانا ایک اور چار شادیوں کا قائل تھا نئے نے سرمایہ دار ممالک میں عورتوں کی مارکیٹ کھول دی ہے پرانا کھیت مزدور کو بیوی کے علاوہ کسی سے ملنے نہیں دیتا تھا نیا صنعت کاروں کو سرمایہ کاری کی جانب ترغیب دینے کے لئے شراب اور عورت میز پر رکھ رہا ہے پرانے میں خاندان ایک مضبوط اکائی ہے نیا نئے طبقاتی خاندان بنا رہا ہے پرانا تنقید کو بے ادبی کہتا تھا نئے نے تنقید کی آزادی دی ہوئی ہے پرانا شراب سے دور رکھتا تھا نئے نے ہر گلی اور نکڑ پر مے خانے تعمیر کر رکھے ہیں پرانے میں بیٹے کا باپ اور باپ کا بیٹے پر انحصار تھا بیوی کا شوہر اور ماں کا بیٹوں پر انحصار تھا نئے نے باپ کو بیٹے اور بیٹے کو باپ کی محتاجی سے نکال دیا ہے پرانے میں بوڑھا باپ بولتا تھا اور سب سنتے تھے نئے میں بوڑھا باپ ٹیلی ویژن پر نوجوانوں کی باتیں سن رہا ہے ۔

ایک مکتبہ فکر اخلاقی قدروں کے لئے مشرقی اور مغربی کی اصطلاح استعمال کرتا ہے حالانکہ بنیادی طور پر یہ نظاموں کا فرق ہوتا ہے یہ تفاوت پاکستان میں بھی موجود ہے اس کے قبائلی اور شہری علاقوں میں سماجی اور اخلاقی قدریں یکساں نہیں ہیں۔

قبائلی علاقوں میں عورت چار دیواری تک محدود اور پابند ہے جبکہ شہروں میں وہ مردوں کے شانہ بشانہ ملازمت کررہی ہے۔
دیہات میں بچی کی شادی والدین خصوصاً باپ کی مرضی سے ہوتی ہے جبکہ شہر میں تعلیم یافتہ بیٹی اور بہن سے مشاورت اور رائے بھی لی جاتی ہے۔
دیہہ میں ذاتی دشمنی میں سورہ کے نام پر بیٹی اور بہن کی بلی دی جاتی ہے اور شہر میں وہ اپنے حقوق کے لئے عدالت کے دروازہ پر دستک دینے پہنچ جاتی ہے ۔
دیہہ میں ایک محنت کش جاگیردار کے سامنے سر جھکاکر اس کے احکامات سنتااور ان پر عمل درآمد کرنے پر بے بس ہوتا ہے مگر شہر کے ایک کارخانہ میں وہ یونین اور اتحاد کے ذریعے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرتا ہے۔
چونکہ جاگیرداطبقہ اپنے غلام کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوتا جارہا ہے اس لئے جاگیردارانہ نظام اور اس کی پیدا کردہ قدریں بھی غیر محسوس طور پر بدل رہی ہیں ۔ برطانوی راج میں قبائلی علاقہ جات میں فرنٹئیر کرائمز ریگولیشن متعارف کرانے سے یہ ہندوستان کے ترقی کے مجموعی دھارے سے الگ تھلگ ہوگیا تھا پاکستانی حکام نے بھی ان نوآبادیاتی قوانین کو جاری و ساری رہنے دیا لیکن اس کے باوجود تعلیم و تبدیلی کے اثرات اس پر بھی پڑتے رہے چنانچہ بندوق کو مرد کا زیور کہنے والے نوجوان نے رفتہ رفتہ اسے اپنے کندھوں سے اتار دیا اور وہ اب اسے جہالت سے تعبیر کرتا ہے ۔

اخلاقی قدروں کو ریاست کے سیاسی اور سماجی نظام سے الگ تھلگ لینے سے ہم اس کے پس پشت مفادات کو سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں گاؤں میں پائی جانے والی اخلاقی،سماجی قدریں،روایات، رواجات اور رسومات اس کے بالادست طبقے کو سہارا دیتی ہیں اور شہر میں موجود قدریں نئے اور بااختیار طبقے کی نمائندگی کرتی ہیں۔
مغربی اور یورپی معاشروں میں نئی سائنسی ایجادات اور دریافتوں کے ساتھ اخلاقی اور سماجی قدروں میں انقلاب اور نظام میں اتھل پتھل پیدا ہوا اس نے ان ریاستوں کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیامحنت کشوں کی زندگی میں تبدیلی آئی اس کے ساتھ ہی ان کی سوجھ بوجھ میں بھی اضافہ ہوا تو قدیم اخلاقی قدریں بھی اپنی پرانی صورت میں نہیں ر ہیں ۔

پاکستان میں یہ تبدیلی اور انقلاب تعلیم یافتہ نوجوان نسل کے ایک محدود پرت اور حصّہ میں ہی نظر آتاہے البتہ بلوچستان اور پختونخوا میں فوجی آپریشنوں نے اس کو ممیز دے دی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *