متنازعہ خبر کا معاملہ، نزلہ پرویز رشید پر

36196434_403


پاکستانی اسٹیبلش منٹ کا وطیرہ رہا ہے۔۔ کہ اصل ایشو سے توجہ ہٹا کر حب الوطنی، ریاستی سیکورٹی اور بوٹ چاٹنے کی طرف لگا دیا جائے۔ مُلک میں اس وقت کوئی ایک ٹی وی چینل ایسا نہیں جو جمہوری حکومت کی حمایت میں بول رہا ہو۔ 

اسامہ بن لادن کو پاکستانی گیرژن سٹی میں رنگے ہاتھوں پکڑ کر جب امریکہ نے آپریشن کرکے مار دیا۔ تو ہماری عسکری اسٹیبلش منٹ پر دو سوال اٹھے تھے۔۔ ایک یہ کہ اسامہ کئی سال سے یہاں چند میل دور ملڑی اکیڈیمی میں رہ رہا ہے۔ اور ہماری سیکورٹی ایجنسیوں کو پتا نہیں ہے؟ دوسرے امریکہ نے پاکستان میں اپنی فوجیں اتاردیں، ایک فوجی آپریشن کردیا اور ہمارے محافظ سوتے رہ گئے۔

یہ ایک انتہائی اہم ایشو تھا۔ پاک فوج جو ہر وقت اپنے آپ کو دنیا کی بہترین فوج کہتی ہے کوامریکہ نے راتوں رات ماموں بنا دیا تھا۔ لیکن ہماری عسکری اسٹیبلش منٹ نے رونا یہ ڈال دیا۔۔۔ ملک کی حاکمیت کی خلاف ورزی ہوگئی۔۔۔ سویلین اتھارٹی نے کچھ نہیں کیا۔۔۔اور بجائے اپنی غلطی کے ماننے کے قربانی کا بکرا سویلین حکومت کو بنادیا ۔پہلے کہا گیا کہ یہ سب زرداری کا کیا دھرا ہے اور پھر امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کو نشانہ بنایا جانے لگا۔ وہ ہنگامہ کھڑا کیا کہ سارے قصے کا رخ بدل دیا۔۔

ڈان لیکس میں آخر کیا کہا گیا ہے۔ کونسا ریاستی راز لیک ہوا ہے؟ کہ لشکر جھنگوی اور لشکر طببہ، حزب المجاہدین اینڈ کمپنی ہم نے پال رکھے ہیں۔۔ کس پاکستانی کو نہیں پتا اور کس انٹرنیشنل ایجنسی اور انٹرنیشنل میڈیا کو نہیں پتا۔ دہشت گرد تنظیمیں عوام کا منظم قتل عام کررہی ہیں مگر ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ۔

جب سیکیورٹی اسٹیبلش منٹ کو کہا گیا کہ جناب ان جہادی انٹی انڈیا اور انٹی افغانستان تنظیموں کے سر پر ہاتھ رکھنے سے پاکستان دنیا میں تنہا ہورہا ہے۔ پاکستان کے سب ہمسائے ہم سے ناراض ہوچکے ہیں۔ اور دنیا کی بڑی طاقتیں بھی ۔ اگر سویلین حکومت ان کے خلاف کوئی قدم اٹھاتی ہے تو ایجنسیاں ان کو بچا لے جاتی ہیں۔

یہ تو جائز مسئلہ تھا۔ اس پر قومی اور عوامی بحث ہونی چاہئےکہ کیا یہ ہمارے نیشنل مفاد میں ہے ایسا کرنا۔۔۔ اگر آپ اس کو قومی رازسمجھتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے آپ اس کو تسلیم کررہے ہیں۔ کہ ہاں ہم ایسا کرتے ہیں۔ لیکن دنیا کو پتا نہیں لگنا چاہئے۔۔ یہ غداری ہے۔۔۔ ایک ایسا سچ جو سب پر عیاں ہے۔ ایک کھلی حقیقت ہے۔ وہ ریاستی راز کیسے ہوسکتا ہے۔

اب بجائے اس پر ہم قومی مباحثہ کرتے یا کمرے کے اندر بیٹھ کر سویلین اور فوجی قیادت اس پر کوئی اتفاق رائے قائم کرلیتی۔۔۔ سویلین حکومت اور رپورٹر کو ٹارگٹ کرلیا۔۔۔ پولیس اور تھانہ کی طرح انکوائری بٹھا دی۔۔ بلیک میلنگ کے لئے عمران خان کی بدمعاشی شروع کرادی۔۔ تختہ الٹنے کی افواہیں پھیلا دی۔۔ اپنے ہی ملک کی آئینی اتھارٹی کو بوٹ چاٹنے پر مجبور کردینا۔۔۔ یہ کیا ہے۔

یہ پاکستان ہم سب کا یعنی 20 کروڑ عوام کا ملک ہے۔ریاست، حکومت، مملکت ایسے نہیں چل سکتی۔۔ وقت اس کے خلاف ہے، سیاسی علوم اس کے خلاف ہیں۔ آپ ملک کی حفاظت نہیں اسے کمزور کررہے ہیں۔ پاکستان بہت پیچیدہ صورت حال اور پیچیدہ تضادات میں ڈوب چکا ہے، اتنے اندھے نہ ہوجائیں۔ آپ کی سب پالیسیاں پاکستان کو فائدہ کی بجائے نقصان پہنچا رہی ہیں۔

خدارا رحم کریں۔ اپنے کو عقل کل نہ سمجھیں۔ یہ پاکستان صرف چند جنرلوں کا نہیں کروڑوں پاکستانیوں کا بھی ہے جنہوں نے اپنے نمائندے پارلیمنٹ میں بھیجے ہیں۔ قومی سلامتی کا ادارہ فوج نہیں پارلیمنٹ ہے۔ فوج کو اپنی آئینی حدود میں رہے۔ پاکستان کی سلامتی اسی میں ہے۔ بدمعاشی اور طاقت ، بدمعاشی اور طاقت ہی ہوتی ہے، وقت اسے زیادہ دیر قبول نہیں کرتا۔۔ سخت سزا دیتا ہے۔

ارشد محمود

One Comment

  1. جب اداروں کے سربراہوں سے قومی معاملات پر بات چیت کے لئے انکے گھروں پر ملاقات ہونے لگے تو اسکا مطلب یہ ہے قومی مفاد پیچھے اور ذاتی مفاد سامنے آ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *