آخر موسیقی کی ممانعت کیوں؟

km-250x300

کامران صدیقی

حال ہی میں کینیڈا کے ایک اخبار گلوب اینڈ میل نے یہ خبر شائع کی کہ ٹورونٹو کے ایک علاقہ کے چند مسلمان خاندانوں نے ٹورونٹو اسکول بورڈ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بچوں کو موسیقی کی کلاس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے جو کہ صوبائی نصاب کا لازمی حصہ ہے۔ یہ خاندان اپنے مطالبے کی دلیل یہ دے رہے ہیں کہ موسیقی کی کلاس ان کے اسلامی عقائد کے خلاف ہے۔

اخبار نے مزید یہ لکھا ہے کہ 130 سے زیادہ مسلم والدین نے یہ درخواست جمع کرائی ہے کہ ان کے بچوں کو مذہبی بنیادوں پر موسیقی کی کلاس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ نصاب کا لازمی حصہ ہونے کی وجہ سے اسکول بورڈ مکمل استثناء پر تو تیار نہیں ہے مگر کچھ رعایت دینے پرآمادہ ہے۔

اس رعایت کے مطابق ان بچوں کو اس بات کی اجازت ہو گی کہ وہ موسیقی کے آلات نہ بجائیں بلکہ اس کی جگہ تالیاں بجائیں یا موسیقی کے بغیر کینیڈا کا قومی ترانہ سنیں۔ لیکن ان مسلم خاندانوں نے اس رعایت کا مثبت جواب نہیں دیا اور اس بات پر مصر ہیں کہ ان کے بچے کسی ایسے کمرے میں بھی نہیں جا سکتے ہیں جہاں موسیقی کے آلات بج رہے ہوں۔ ان خاندانوں نے اپنی اس لڑائی میں مقامی مسجد کے امام کوشامل کر لیا جس نے اخبار کے مطابق یہ بیان دیا کہ ہمارے عقیدے کے مطابق موسیقی حرام ہے۔ ہم نہ موسیقی سن سکتے ہیں اور نہ ہی موسیقی سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھ سکتے ہیں۔

موسیقی کی اسلام میں ممانعت ایک صدیوں پرانا مسئلہ ہے۔ قدامت پسند مسلمان موسیقی کے بجانے اور سننے کو قطعا حرام سمجھتے ہیں۔ لیکن اس مخالفت کے باوجود موسیقی پوری مسلم تاریخ میں مسلم ثقافت کا حصہ رہی ہے۔ مثلا دسویں صدی کے مشہور فلسفی الفارابی نے موسیقی کی معرکہ آرا کتاب کتاب الموسیقی الکبیرلکھی۔ اسی طرح مشہور ہندوستانی ساز ستار ایک مسلمان کی ایجاد ہے۔ برصغیر میں آج تک موسیقی کے فروغ اور ترویج میں مسلمانوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔

موسیقی کی حمایت اور مخالفت کی بحث بدستور جاری ہے۔ اس کے مخالف اسے ہوس، شہوت، بے شرمی اور بے حیائی سے جوڑتے ہیں جو ان کے مطابق انسان کو نیکی اور تقوی سے دور کرتی ہے۔ موسیقی کے حامی ان الزامات کی تردید تو نہیں کرتے اور اپنی دلیل اس بات پر رکھتے ہیں کہ لطف بھی زندگی کا اہم جز ہے اور اس طرح وہ خود کو ان مباحثوں میں دفاعی پوزیشن میں لے آتے ہیں۔

اس دفاعی موقف کی ایک بنیادی وجہ ان مباحث میں منطق اور استدلال کی غیر موجودگی ہے۔ اس مضمون میں ،میں نے منطقی اور سائنسی بنیادوں پر اس مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے۔چونکہ اس مسئلے کو ایک مذہبی مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، لہذا منطقی دلائل سے پہلے میں اس مسئلہ کی وضاحت قرآن کریم کے نقطہ نظر سے پیش کرنا چاہتا ہوں جو کہ آسمانی کتاب اور اسلام کا سرچشمہ ہے۔

اللہ نے قرآن میں واضح طور پر اس کا اعلان کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کو اس کا اختیار نہیں کہ وہ اللہ کی عطا کردہ زندگی کی زیب و زینت کو حرام قرار دے (7:32)۔ اور موسیقی کا پورے قرآن میں نہ تو بطور موضوع کوئی ذکر ہے اور نہ ہی اس کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ کوئی بھی دلیل جو قدامت پسند مسلمانوں کی جانب سے موسیقی کی ممانعت کے طور پیش کی جاتی ہے اس کی بنیاد وہ تحریری مواد ہے جو نزول قرآن کے دو سو سالوں سے زائد عرصے کے بعد تحریر کیا گیا۔

آئیے اب اس مسئلہ کے منطقی اور سائنسی دلائل پر توجہ دیتے ہیں۔ موسیقی بنیادی طور پر صوتی لہروں کا مجموعہ ہے۔ ایک ایسا مجموعہ جس میں مختلف فریکوئنسی اور طاقت کی صوتی لہروں کو اس طرح ایک ترتیب میں مربوط کیا جاتا ہے جو ہمارے اوپر ایک خوشگوار احساس نقش کرتا ہے کیونکہ یہ صوتی ربط ہمارے ذہن و قلب سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ یہی صوتی لہریں جب بے ہنگم طور پر مربوط ہوتی ہیں تو اسے شور کہا جاتا ہے۔ اپنی بے ہنگم فطرت کی وجہ سے یہ صوتی لہریں ہمارے ذہن و قلب سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتیں اور ہمارے اوپر ایک ناخوشگوار اثر ڈالتی ہیں۔

موسیقی صرف انسانی پیداوار نہیں۔ فطرت میں نہ صرف آواز پیدا کرنے کی ان گنت مثالیں موجود ہیں بلکہ ان فطری صوتی لہروں کی قدرتی طور پر مربوط ہو کر ہمارے اوپر خوشگوار اثر چھوڑنے کے بیشمار مشاہدات ہیں جو موسیقی کی تعریف میں آتے ہیں۔ اس کی ایک عام مثال ہوا کے جھونکوں سے موسیقی کا پیدا ہونا ہے۔ کیا قدامت پسند مسلمان قدرتی طور پیدا ہونے والی موسیقی کو بھی حرام قرار دیتے ہیں؟ اور جب بھی ہوا چلتی ہے، کیا یہ اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں؟

موسیقی کے ان مخالفین سے سوال یہ ہے کہ کوئی چیز جو ہمارے اوپر خوشگوار اثر چھوڑتی ہے وہ کیوں حرام ہے؟ اس میں کیا برائی ہے اگر کوئی چیز ہم پر خوشگوار اثر ڈالتی ہے؟ اگر ترتیب یافتہ صوتی لہروں کا سننا حرام ہے تو پھر قاری حضرات قرآن کی قرآت کرتے وقت کیوں اپنی آواز کو اتار چڑھاؤ کے ذریعے ترتیب دیتے ہیں؟ کیوں حمد و نعت خواں اپنی آواز کو اسی قسم کی ترتیب دیتے ہیں اور اسے مترنم بناتے ہیں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ آواز کی یہ ترتیب سامعین پر خوشگوار اثر ڈالتی ہے۔ طبعی نقطہ نظر سے صوتی لہروں کی ترتیب چاہے انسانی آواز کے ذریعے ہو یا موسیقی کے آلات کے ذریعے ہو، بنیادی طور پر ایک ہی عمل ہے۔ تو پھر کیوں ایک کی اجازت ہے اور دوسرا ممنوع جبکہ صوتی لحاظ سے بنیادی طبعی عمل دونوں میں ایک ہی ہے؟

تال یا ردھم انسانی جبلت کا حصہ ہے۔ جو بھی چیز اس سےہم آہنگ ہوتی ہے وہ ہمارے اوپر خوشگوار اثر پیدا کرتی ہے۔ اس میں کیا حرام ہے؟ یہ فطری چیز ہے۔ حقیقتاً یہ قدامت پسند مسلمان بحیثیت انسان، ترتیب شدہ صوتی لہروں یا دوسرے الفاظ میں موسیقی سے بے اثر نہیں ہیں۔ اسی لئے انہوں نے قرآت اور حمد و نعت میں آواز کے اتار چڑھاؤ کے ذریعے اس حس کو پورا کرنے کا راستہ نکال لیا۔ وہ موسیقیت کے اپنے ذہن و قلب پر اثر کو جھٹلا نہیں سکتے کیونکہ یہ انسانی جبلت میں شامل ہے جس کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔

اس میں یقیناً کوئی دو رائے نہیں کہ شاعری میں بیہودا اور چرب الفاظ کا استعمال ہوس اور شہوت کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی طرح نازیبا انداز میں رقص بےحیائی اور بےشرمی کو ابہار سکتی ہے۔ مگر موسیقی اپنی ذات میں نہ تو بیہودا ہے اور نہ ہی بے حیاء۔ اگر کوئی بیہودا شاعری پر مبنی گانا ترتیب دیتا ہے تو اس میں مسئلہ شاعری کا ہے نہ کہ موسیقی کے سروں کا۔

کوئی اور انہی سروں پر ایک شائستہ اور بامعنی گانا ترتیب دے سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی موسیقی کے تال پر بےحیاء رقص مرتب کرتا ہے تو اس میں تال کا کیا قصور۔ کوئی اور انہیں تالوں پر اپنے جذبات کو ایک شائستہ انداز میں بھی ظاہر کر سکتا ہے مثلا تا لی بجا کر۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ موسیقی انسان کے اندرونی جذبات کو متاثر کرتی ہے لیکن عمومی طور پر یہ اس کا اثر ہم پر مثبت انداز میں پڑتا ہے۔

موسیقی کا مختلف اقسام کی نفسیاتی بیماریوں کے علاج میں ایک پراثر دوا کے روپ میں استعمال خاصا عام ہے۔ ہر انسانی ذہن موسیقی کا اثر ایک منفرد انداز میں لیتا ہے اور ہر ایک کی موسیقی کی مختلف اقسام کے لئے پسند یا ناپسند اور محظوظیت یا غیر محظوظیت مختلف ہوتی ہے۔ لیکن اس اختلاف کو موسیقی کی بے حیائی یا ناشائستگی کا رنگ دینا سراسر بد دیانتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موسیقی زندگی میں ہم آہنگی لاتی ہے۔ یہ زندگی میں خوشگوار رنگ بھرتی ہے، جینے کا احساس پیدا کرتی ہے اور ذہنی تھکاوٹ دور کرتی ہے۔ اس کو بلا وجہ اسکول کے نصاب میں لازمی نہیں قرار دیا گیا ہے۔ سائنسی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ موسیقی کی تعلیم بچوں کو دوسرے مضامین میں بہتر سمجھ بوجھ اور اعلی کارکردگی میں مدد کرتی ہے۔

مزید یہ کہ سر اور تال کی ٹریننگ حسابی مضامین ميں مہارت حاصل کرنے میں معاونت کرتی ہے۔ یہ عملی زندگی میں بھی کئی مہارتوں کو بہتر بناتی ہے مثلا خود تنظیمی، تخلیقی صلاحیت، ہمت اور خود اعتمادی۔

مختصراً، موسیقی کی ممانعت کی کوئی بھی عقلی اور منطقی دلیل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اسلام کی اساس و بنیاد یعنی قرآن نے بھی اسے ممنوع قرار نہیں دیا۔ لہذا ان مسلم خاندانوں کا اپنے بچوں کو موسیقی کی کلاس سے مستثنیٰ قرار دینے کے مطالبے کی نہ کوئی منطقی بنیاد ہے اور نہ ہی مذہبی۔ اسکول بورڈ کو اپنے استثناء نہ دینے کے فیصلے پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔

کامران صدیقی، ویسٹرن یونیورسٹی کینیڈا میں استاد ہیں۔

اس مضمون کو انگریزی میں پڑھنے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں

The forbiddance of music

3 Comments

  1. Pingback: The forbiddance of music – Niazamana

  2. FIRDAUS MUHAMMAD says:

    HOW CAN HAVE ITS COPY IN PAKISTAN

  3. YAAR YE JO LIBERAL LOG MOSEQE KO ROOH KE GHAZA SAMAJHTE HA UNKO MERI REQUEST HA KEH JAB BHE KOI UNKE FAMILY MEI KOI FHOT HO JATA HA WOH KESI MUSICAL CONCERT KA FORAN MEIAT K SAMNE IHTEMAM KIA KARE TAKEH MIAT KE ROOH KO GHAZA OR SAKOON PAHUNCH SAKE KIUNCHE ROOH KO GHAZA MAUT K BAD BHE PAHUNCHTE HA.KIA HAAL HA?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *