زہر آلود تعلیم و تربیت۔۔۔ فاشزم کے فروغ کا ایک ذریعہ

ssi-2

سبط حسن

مداری کے لئے بندر کی زندگی محض ایک جسم ہے۔ جسم بھی نہیں، جسم کے چند اعضاء کی اوراس کی چھڑی کی جنبش سے وابستہ چند حرکات۔ ان حرکات کو مداری نے بندر کے ناچ کا نام دیا۔ بندر کے لئے محض خوف اور سزا کی اذیت سے سیکھی گئی چند حرکات۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے مداری نے بندر کی مجموعی زندگی کو ردّ کردیا اور صرف بندر کی خصوصی حرکات کو سیکھنے کی صلاحیت کو ہی بندر کی مجموعی زندگی کا متبادل مان لیا۔ یعنی کل سے انکار کردیا اور جزو کو ہی کل بناکر اسے حقیقت مان لیا۔

ایسی صورتحال مرد اور عورت کے تعلق میں بھی ہے۔ معاشرہ مرد کو سمجھاتا ہے کہ عورت ایک جسم ہے۔ ایسا فرد نہیں جس میں انسان بننے کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں۔(یہ صلاحیتیں سوال اٹھانے، حالات کو تبدیل کرنے اور حالات کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو تبدیل کرنے پر مشتمل ہیں۔) یعنی ایسا جسم جو بندر جیسا شعور رکھتا ہو اور خوف وسزا کے اشاروں پر اپنا جسم پیش کرتا رہے۔ ایسے میں انسان بننے کی صلاحیتوں کی نمو کی گنجائش ختم کردی جاتی ہے اور حیوانیت کو ہی زندگی مان لیا جاتا ہے۔ اس طرح عورت کی زندگی کی کلیت کو رد کرکے اس کو ٹکڑوں میں بانٹ کر زندہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بچے کی کلیت یہ ہے کہ اس میں انسان بننے کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ اس کو معاشرے کی’ ضروریات‘ کے تحت اجزا میں بانٹ کر محدود کردیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہ سوال کرنے سے مناہی، اپنے طور پر آزادانہ جستجو سے مناہی، اردگرد بہتی زندگی کو اس کے حقیقی سیاق وسباق میں سمجھنے کی مناہی۔۔۔ یعنی یہ کہ معاشرہ، والدین کی وساطت سے بچے کے وجود کے ٹکڑے کرتا ہے او رپھر ان ٹکڑوں میں سے چند کو کار آمد قرار دے کر انہی پر زندگی گزارنے کی مشق کرواتا ہے۔ اسی طرح، جس طرح مداری، بندر کو ناچنے کی مشق کرواتا ہے۔ اسی طرح باپ او ربچوں یا بچوں اور ماں کے رشتوں کو دیکھ لیں۔۔۔ باپ، صرف گھر کے اخراجات پورا کرنے والی مشین ہے، اگر وہ اس کا اہل نہ رہے تو اس کے وجود سے انکار کردیا جاتا ہے۔ ماں گھر کی لونڈی ہے۔ اگر وہ خدمت گزاری نہ کرے تو اسے بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ سب انسانوں کو ٹکڑوں میں بانٹنے اور انسانی زندگی کو قصاب کی دکان بنانے کا معاملہ ہے، جہاں کوئی وجود اپنی کلیت میں نظر نہیں آسکتا۔

کلیت کو ختم کرکے، اس کے جزو کو کلیت کا متبادل سمجھ لینا، ایسا آسان معاملہ نہیں۔ یہ دراصل انسانی خواہشات، زندگی کو دیکھنے کے نظریات، خود اپنے آپ کو دیکھنے کے شعور، لوگوں سے تعلق کی ترجیحات اور اداروں سے تعلق کی نوعیت کو طے کردینے کا معاملہ ہے۔ ایسا تربیتی نظام قائم اور بر قرار رکھنے کا قضیہ ہے جس میں سے گزر جانے والے وہی سوچتے ہیں، جو یہ نظام ان کو سوچنے کی استطاعت دیتا ہے۔ بظاہر، افراد اپنی مرضی او رمنشا سے کام کررہے ہوتے ہیں مگر ان کی مرضی اور منشاء اس طرح طے کردی جاتی ہے کہ کوئی فرد اس سے انحراف ہی نہیں کرسکتا۔

مثال کے طور پر ہمارے سرکاری سکولوں میں انسان بننے کی صلاحیتوں کی نمو کے لئے ضروری مہارتوں کی تربیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انسان بننے کی صلاحیتوں کی غیر حاضری میں، بچوں کو جبر میں رہنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ جہاں انسان بننے کی صلاحیتیں نہیں ہوں گی، وہاں وہی تربیتی نظام ہوسکتا ہے جو مداری کے پاس ہوتا ہے اور جس کی مدد سے جانوروں کو سدھایا جاسکتا ہے۔ اس طرح سرکاری سکولوں میں روّیوں کو مخصوص سانچوں میں ڈھالنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔

II

فاشزم یا ریاستی مطلق العنانیت زندگی اور انسانوں کو دیکھنے کا ایک نظریہ ہے۔ صرف نظریہ نہیں انسانوں اور زندگی کی رنگارنگی کو ختم کرکے ان کو زندگی سے عاری ایک رنگ میں ڈھالنے کا طریقہ بھی۔ ایسا نظام، حقیقی زندگی، کی سچائیوں کو ختم کرکے یا ان میں ترمیم کرکے اپنی’’سچائیاں‘‘ تخلیق کرتا ہے۔ ان گھڑی ہوئی سچائیوں کی اس زور زبردستی سے ترویج کی جاتی ہے کہ یہ لوگوں کے گھروں میں گھس آتی ہیں۔ یعنی یہ کہ ایسی ’’سچائیاں‘‘ محض اجتماعی پروپیگنڈا یا اجتماعی سطح پر محض سرکاری حیثیت نہیں رکھتیں کہ کوئی فرد ان کو درخوراعتنا ہی نہ سمجھے۔ ’’سچائیوں‘‘ کے اس غلغلے میں کوئی فرد جرأت نہیں کرسکتا کہ اس’’سچائی‘‘ کو ماننے سے انکار کردے۔ بلکہ اس کے لئے لازم ہوگا کہ وہ تجویز کردہ رسوم اور قاعدوں پر چلتے ہوئے ان ’’سچائیوں‘‘ کے اقرار کا سماجی سطح پر اظہار بھی کرے۔ یہ اظہار چہرے کے خدوخال، لباس اور باتوں میں نظر آنا ضروری ہے۔

فاشزم یا مطلق العنانیت دراصل بنیادی طو رپر نہ صرف انسانوں کو ٹکڑوں میں بانٹتی ہے بلکہ لوگوں او رگروہوں کو ان کی شناخت سے قطع نظر ایک بھیڑ میں منقلب کر دیتی ہے۔ ہجوم میں نقالی اور بھیڑچال کی خصوصیت زیادہ متحرک ہوتی ہے۔ دراصل، فاشزم، فرد کو اس کی انسانی صلاحیتوں سے الگ کر کے ایک بھیڑیا ریوڑ میں شامل کردیتا ہے۔ یہ طریقہ نہایت مؤثر رہتا ہے او رکوئی فرد چاہتے ہوئے بھی ریوڑ کی طے کردہ چال سے انحراف نہیں کرسکتا۔ کچلے جانے کا خوف اس سے انحراف کی طاقت چھین لیتا ہے۔

III

آج ایسی مشینیں بن گئی ہیں کہ اگر آپ نے ڈرائیونگ سیکھنی ہے تو آپ اس مشین کے سامنے بیٹھ کر اسے چلائیں۔ آپ کو ایسے ہی محسوس ہوگا کہ جیسے آپ واقعی گاڑی چلا رہے ہیں۔ ایسے تجربے کو ورچوئیل کہتے ہیں۔ وہ حقیقت جو دراصل نہیں بلکہ محض حقیقت کی نمائندگی کررہی ہو، ورچوئیل حقیقت ہے۔
فاشزم اور ورچوئیل حقیقت میں مماثلت یہ ہے کہ ’’دونوں میں حقیقت کے شائبے‘‘ کو حقیقت کے طو رپر پیش کیا جاتا ہے۔ گاڑی چلاتے وقت، گاڑی میں بیٹھنے، اسے چلانے اور اردگرد کے ماحول کے ساتھ انسانی ربط کی بجائے محض رفتار کے عنصر کو نمایاں کرکے ورچوئیل حقیقت تو پیدا کی جاسکتی ہے مگر یہ حقیقی تجربے کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ اس لئے کہ آپ گاڑی چلانے کی کلیت سے انکار کرکے، اس کے ایک جزو کو کلیت کا متبادل قرار نہیں دے سکتے۔

تاریخ میں ورچوئیل حقیقت کا فاشزم بہت قدیم ہے۔ جب انسان نے دیو مالائی او رمذہبی قصوں کو حقیقی کائنات اور فطرت کا متبادل سمجھ لیا تو وہ دراصل ورچوئیل حقیقتیں قائم کررہا تھا۔ آسمانوں پر بسی اس ورچوئیل دنیا کے زیر اثر گذشتہ چھ سات ہزار سالوں میں انسانوں کو کلیت میں رہنے کی بجائے ٹکڑوں پر بادشاہتیں بنیں، انقلاب آئے، کروڑوں انسانوں سے زندگیاں چھین لی گئیں، ’’جمہوری‘‘ حکومتیں بنیں اور بگڑیں اور سب سے بڑھ کر صارفانہ نظام نے اپنے طنطنہ قائم کیا۔ ورچوئیل حقیقت، چونکہ محض حقیقت کی جھلک یا اشارہ دیتی ہے، اس لئے اس میں حقیقی تعلق، سود مندی یا زندگی کی گرمائش کی بئجائے محض علامتی تعلق ہی کافی ہوتا ہے۔

ورچوئیل حقیقت کا جادو ایسا سر چڑھ کے بولتا ہے کہ جاپان میں جنسی تعلق بھی ورچوئیل ہوگیا ہے۔ وہاں آبادی میں منفی نمو کی وجہ یہ ہے کہ نوجوان حقیقی جنسی میلاپ کی بجائے، کمپیوٹر پر مخصوص پروگرام میں نظر آنے والی لڑکی، سے ہی سب کچھ کرلیتے ہیں۔ صارفانہ نظام میں اشیاء کی صارفانہ ضرورت یا قدر کافی نہیں، ان کی علامتی حیثیت بھی ہے جو آپ کی سماج میں ورچوئیل حیثیت کو طے کردیتی ہے۔

باہمی تعلق میں قرب ضروری نہیں، اس کا علامتی اظہار ضروری ہے جو تحفے کے تبادلے، سیل فون یا کسی اور سائبرحوالے سے پیغام رسانی کی صورت میں کردنیا کافی ہے۔ چونکہ علامتی اظہار کے لئے اشیاء کی ضرورت ہے، اس لئے انسانی گھن چکر ہوتے ہوئے بھی، اشیاء نے انسانوں کو اپنا اسیر کرلیا ہے۔ یہ دراصل صارفانہ نظام کا فاشزم ہے۔ یہ فاشزم کسی بھی سیاسی، مذہبی یا نظریاتی فاشزم سے مختلف نہیں۔ یہی فاشزم صارفانہ نظام کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔

جو نظام تدریس، انسان بننے کے لئے سوال پر مبنی تعلیم نہیں دیتا، وہ لامحالہ فاشزم کو قبول کرنے کی تربیت کرتا ہے۔ یہ بڑی خاموشی سے انسانوں کو بندر بنادیتا ہے اور ساری زندگی حیوانیت کا ناچ نچواتا رہتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *