فصل سیاہ ست کی آبیاری

13767348_10208177711053468_2656519165861739623_o-2-1-298x300

علی احمد جان

میرے ساتھ کے اس دنیاۓ فانی میں آنے والوں نے ستر کی دھائی کے پر آشوب دور میں ہوش سنبھالا جب اس ملک میں دو جنگیں ہوچکی تھیں اورآدھا ملک اب ایک الگ ملک بن گیا تھا۔ ایسے میں بھٹو کی تقاریر تھیں جو ہم ریڈیو پر سنتے تھے چونکہ ٹیلی ویژن عام نہیں تھا اور جہاں سے میرا تعلق تھا وہاں تھا ہی نہیں۔ لمبے بال رکھ کر عوام اور جمہوریت کی باتیں کرنا، سامراج اور امریکہ کو گالیاں دینا ، ہندوستان کو دھمکیاں دینا ایک فیشن سا بن گیا تھا۔

ایک طرف تو پیپلز پارٹی تھی مگر دوسری طرف کوئی پارٹی نہیں تھی مگر ایک نفرت تھی جو بھٹو کے خلاف تھی اس جمہوری نظام کے خلاف تھی جس میں عام لوگ دندناتے پھر رہے تھے اور ان کے خلاف بھی تھی جو صدیوں سے اقتدار اور طاقت میں رہنے والوں کو اب آنکھیں دکھا رہے تھے اور کھلے عام ان کی بے عزتی کر رہے تھے۔ ہم سکول میں تھے تو سرکاری فرمان کی مطابق سکول کے طلبہ کی ایک یونین بنی جس میں بھی شامل تھا۔

انتخابات ہوۓ تو ہم نے پہلی بار دھاندلی، اپوزیشن ، مارپیٹ، ہنگامے اور تشدد جیسے الفاظ بھی سنے جو پہلے کبھی انتخابات کو دورا ن سنے اور دیکھے نہیں گئے تھے۔ روز ریڈیو پر خبریں آرہی تھیں کہ اپوزیشن نے آج یہ کیا آج وہ کیا، بھٹو نے یہ کہا اور فلاں نے وہ کہا۔

سرکاری ریڈیو چونکہ حکومت کے کنٹرول میں تھا تو بی بی سی سب سے موقر آزادذریعہ تھا جس پر لوگ اعتبار کرتے تھے۔ صبح چھ بج کر بیس منٹ پر اور رات کو آٹھ بجے بی بی سی سنناروزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ تھا۔

پھر مارشل لاء لگنے کی خبریں سنی اور نوے روز میں نئے انتخابات کا اعلان بھی ہوا۔ ہمارے ہیڈ ماسٹر نے اعلان کیا کہ اب کوئی یونین شونین نہیں ہوگی ملک میں مارشل لاء لگ چکا ہے اور سیاسی گفتگو سے پرہیز کیا جاۓ۔ اس دوران نئے الفاظ کاذخیرہ تھا جو ہماری یاداشت میں اکھٹا ہونا شروع ہوا مثلاً صاف اور شفاف غیر جانب درانہ انتخابات ، نظام مصطفیٰ، شریعت، شرعی قوانین، صلواۃ اور صلواۃ کی کمیٹیاں۔

سکول میں دوپہر کا وقفہ جس کو ہم تفریح کہتے تھے اب نماز کا وقفہ بن گیا تھا اور سکول سے طلبہ کو زبردستی نمازیں پڑھنے کے لیٔے مسجدوں میں بھیجا جاتا تھا۔ اخبارات میں لوگوں کو کوڑے مارنے کی تصویریں لگتیں اور روز نئے احکامات آتے۔ ان حالات میں بھٹو کو پھانسی دی گئی اور اس کے خاندان کو جلا وطنی کی زندگی گزارنی پڑی۔ پیپلز پارٹی اور اس کے ماضی کے مخالفین کاایک اتحاد بھی وجود میں آگیا جس نے یک نکاتی تحریک کا آغاز کیا جس کا مقصد جمہوریتت کی بحالی تھی۔

اس دوران ہم سکول سے نکل کر کالج چلے گئے جہاں اب طلبہ یونین پر پابندی لگی تھی جگہ جگہ سیاسی گفتگو سے پرہیزگاری کے فتوےآویزاں تھے۔ مارشل لاء لگانے والوں نے ملک بھر بلدیاتی انتخابات کیساتھ ہی ایک مجلس شوریٰ بھی بنائی جس میں نیٔے چہرے لاۓ گئے جن کے متعلق ایماندار، دیانت دار اور پرہیزگارجیسی اصطلاحیں ہمارےذہنوں میں ڈالی گئیں۔

جب کالج میں تھے تو ۱۹۸۵ میں نوے روز کا وعدہ آٹھ سال بعد غیر جماعتی انتخابات کی شکل میں ایفا ہوا تو پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے اس کا بائیکاٹ کیا ۔ انتخابات تو پھر بھی ہوۓ جو قانونی تھے نہ آئینی اور نہ ہی سیاسی تھے۔ یہاں سےآئینی، قانونی اور سیاسی سیاست کے بجاۓ مفاد، اقتدار اور کاروباری سیاست کا باقاعدہ آ غاز ہوا جس کو ہم سیاہ ست کہتے ہیں۔

انتخابات جیتنے والوں کے لیٔے قومی خزانے کی تجوریاں کھول دی گئیں اور مسلم لیگ کے نام پر ایک اصطبل سیاہ سی گھوڑوں کی خرید و فروخت کے لیٔے کھولا گیا ۔ اسی زمانے میں ہماری سیاسی معلومات کی لغت میں منتخب نمائندہ گان عوام کے لیٔے گھوڑے، لوٹے، تھالی کے بھینگن اور چمچے جیسے الفاظ میں اضافہ ہوا۔

کراچی میں ہمارے علاقے میں ایک صاحب کا نہاری کا ٹھیہ تھا جس سے وہ نہاری والے مشہور تھے الیکشن جیت کر جب مسلم لیگ میں گیٔے تو شیروانی اچکن کیساتھ قراقلی ٹوپی کا ہی اضافہ نہیں ہوا بلکہ اس نے اپنےنام کا لاحقہ بھی نہاری والے سے پاکستان والے میں بدل دیا۔

یوں ایک شفاف، دیانت دار اور پرہیزگار سیاست کا نام پر دراصل ایک سیاہ ست کا فروغ ہوا جس نے پہلا کام گزشتہ آٹھ سال میں کئے گئے تمام سیاسی، آئینی اور قانونی جرائم کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ دیا اور تحفظ دینے والوں پر انعام کے طور پر ملکی وسائل کی بارش کی۔ اب ایک غیر سیاسی اسمبلی کی سیاہ سی قیادت کے ہاتھ میں ملک تھا اور ان کے اوپر ایک باوردی جنرل بیٹھ کر لیفٹ رایٔٹ کا حکم دے رہا تھا۔

اس دوران ہمیں ترقیاتی فنڈ، اسمبلی کے ممبران کے نام کی ترقیاتی سکیمیں متعارف کروائی گئیں جن کا پہلے شائد وجود نہیں تھا۔ منتخب ممبران میں ایک پانچ نکاتی پروگرام کے تحت پیسے تقسیم ہوئے جو دراصل ان کی وفاداریوں اور قانون سازی کے متعلق زبان بندی کی قیمت تھی کیونکہ قانون اب صرف ان کے اوپر بیٹھے ان کے خریدار کا چلتا تھا۔

ایک جہاز کے حادثے نے ۱۹۸۸ میں حالات تو بدل دیے مگر اس دفعہ سیاستدانوں کے مقابلے میں گزشتہ گیارہ سالوں میں پیدا ہونے اور پروان چڑھنے والے سیاہ ست دان بھی ایک بڑی تعداد میں میدان میں آچکے تھے۔ رہی سہی کسر مہران بنک نے ایک دفعہ پھر سرکاری تجوری سے پوری کردی اور ایک اسلامی جمہوریت کا اتحاد وجود میں آگیا جس میں تمام سیاہ ست دانوں کو اکھٹا کیا گیا۔

اس دوران عوام نے اپنی سیاسی قیادت بھی منتخب کردی مگر ملک چلانے والی اصل سیاہ سی قیادت کو یہ پسند نہ آیا اس نے منتخب اسمبلی کو فارغ کرکے نئے انتخابات کے ذریعے ایک سیاہ سی قیادت سامنے لائی۔ سیاسی حکومتوں کے آنے جانے کا سلسلہ ایک دہائی تک جاری رہنے کے بعد ایک دفعہ پھر ملک میں ایک جنرل نے اپنی ریٹائرمنٹ کو نہ مان کر ایک منتخب حکومت کو فارغ کرکے عنان اقتدار پر بطور چیف ایگزیکٹیو قبضہ کیا۔

اس دوران ہمیں نئی نئی سیاسی اصطلاحات بتلائی گئیں جن میں گراس روٹ، اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی، احتساب وغیرہ۔ اس جنرل نے بھی بادل نخواستہ انتخابات کروادیے جس میں بہت سارے سیاہ ست دان ایک دفعہ پھر جمع ہوگئے ۔ مسلم لیگ کا اصطبل ایک دفعہ پھر سجایا گیا ، پھر شیروانیاں اور قراقلی ٹوپیاں پہنا کر عوامی منتخب نمائندوں کو ایک وردی والے جنرل کے گھوڑے بنا دیے گئے ۔

ان سیاہ سی گھوڑوں پر جنرل کی سواری آٹھ سال تک رہی اور آخر کار وہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بدلتے حالات میں بہہ گیا۔ اس نے اپنے تئیں میڈیا کو آزادی دی تھی جس میں اب صحافیوں کے ساتھ شو بزنس سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی سرخی پاؤڈر لگار اپنے چہروں کی قیمت وصول کر رہے تھے۔

جنرل کو سنجیدہ صحافت بہت بری لگتی تھی اس لیٔے زیادہ تر وقت اسکا شو بز نس سے آۓ ہوۓ چہروں با لخصوص خواتین میں گزرتا تھا۔ انتخابات ہار نے اور اقتدار چھوڑدینے کے بعد جنرل کو صائب مشورہ دیا گیا کہ بیرون ملک جاکر اپنی کمائی پر عیش کرے کیونکہ اس نے سیاہ ست کو پروان چڑھاتے چڑھاتے بڑی سیاسی غلطیاں کی ہیں جن کا خمیازہ بھگتنے کا وقت آگیا ہے۔

مگر جنرل کو اپنے سوشل میڈیا پر بننے والے تیس لاکھ سیاہ سی کارکنوں پر ناز تھا ۔ جنرل واپس آگیا تو کراچی کے ائیر پورٹ پر اس کے تیس لاکھ سوشل میڈیا کے پرستاروں میں سے چند سو لوگ ہی نظر آۓ۔ جنرل نظر بند ہوۓ اور بڑی مشکل سے ان کی جان چھوٹی تو لاکھوں پاۓ۔

جنرل تو چلے گئے لیکن ان کے دور میں بوئی سیا ہ ست کی فصل تیا ر ہے جو؛

۔ عملی جدوجہد سے نہیں بلکی سوشل میڈیا کے زریعے انقلاب لانے پر یقیں رکھتی ہے ۔

۔ سیاست دان اور سیاست دونوں کو گالیاں دیتی ہے ، وہ تمام برائیوں کی جڑ سیاست دانوں کو سمجھتی ہے۔

۔ وہ کسی امپائیر کی انگلی کے اشارے کا منتظر ہے۔

۔ اپنے مخالفین کو ملک کے غدّار سمجھتی ہے

۔ کسی بھی سوال کا جواب گالیوں سے دیتی ہے۔

۔ وہ کسی نہ کسی طور بر سر اقتدار آنا چاہتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *