پہلے اپنے صوبوں کو تو سنبھالو: نریندر مودی

160924200921_indian_prime_minister_narendra_modi_640x360_ap_nocredit

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت پوری دنیا میں پاکستان کو الگ تھلگ رہنے پر مجبور کردے گا۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اوڑی قصبے میں بھارتی فوج کی بریگیڈ کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد یہ بھارتی وزیراعظم کا پہلا عوامی خطاب تھا جس میں انھوں نے اس حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے 18 جوانوں کی قربانی بیکار نہیں جائے گی‘۔

سنیچر کو ریاست کیرالہ کے شہر كوجھكوڈ میں بی جے پی کی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کو پوری دنیا میں الگ تھلگ کرنے میں کامیاب رہا ہے اور وہ یہ کام مزید تیز کریں گے۔

نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’پاکستان کے عوام اپنے رہنماؤں سے پوچھیں کہ پی او کے (پاکستان کے زیرانتظام کشمیر) تو آپ کے پاس ہے، آپ اس کو سنبھال نہیں پاتے۔ کبھی مشرقی پاکستان جو آج کا بنگلہ دیش ہے وہ بھی آپ کے پاس تھا، اس کو بھی سنبھال نہیں پائے‘۔

آپ سندھ کو سنبھال نہیں پا رہے ہو، آپ گلگت کو سنبھال نہیں پا رہے ہو، آپ (خیبر) پختونخواہ کو نہیں سنبھال پا رہے ہو، آپ بلوچستان کو نہیں سنبھال پا رہے ہو۔ یہ تو آپ کے پاس ہے، آپ کی حکومت ہے، آپ ان کو بھی نہیں سنبھال پائے ہو اور آپ سے کشمیر کی باتیں کر کے یہ آپ کو گمراہ کر رہے ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ ’دونوں ملک ایک ساتھ آزاد ہوئے کہ کیا وجہ ہے کہ ہندوستان دنیا میں سافٹ ویئر برآمد کرتا ہے اور آپ کے رہنما دہشت گردوں کو برآمد کرتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی عوام، میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان آپ سے لڑائی لڑنے کے لیے تیار ہے۔ آئیے ہم غربت کو ختم کرنے کا کام کریں، بے روزگاری کو ختم کرنے کی جنگ لڑیں. دیکھتے ہیں پہلے کون جیتتا ہے۔‘۔

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’وہ دن دور نہیں ہوگا جب پاکستان کے عوام پاکستان کے رہنماؤں کے خلاف، دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے میدان میں آئے گی‘۔

خیال رہے کہ اوڑی حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کا شکار ہیں اور انڈین حکام کی جانب سے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیرِاعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اڑی حملے کی بین الاقوامی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غیرجانبدارانہ تفتیش ہوسکے۔

BBC

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *