وزیر اعظم نواز شریف کا دورہ امریکہ 

aimal-250x300

ایمل خٹک 

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ امریکہ کے کامیابی کے حوالے سے سرکاری بیانات اور ریاست کا پروردہ میڈیا اور دانشوروں کے بلند وبانگ دعوے ایک طرف مگر اصل حقیقت مختلف اور قدرے تلخ  ہے۔ نوازشریف کے دورہ امریکہ کو گرہن اس وقت لگ گیا جب جس دن انہوں نے نیویارک پہنچنا تھا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کے خطاب سے تین دن پہلے اڑی سیکٹر میں بھارتی فوجی کیمپ پر دہشت گرد حملہ ہوگیا۔  

سرحد پار کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور اڑی سیکٹر میں فوجی ہیڈکوارٹر پر حالیہ حملے کے بعد پاک۔بھارت تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں اور دونوں ممالک میں جنگجویانہ جذبات روز افزوں ہیں ۔ اس کے علاوہ پاک۔بھارت کشیدگی کا ایک اہم سبب افغانستان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے سٹرٹیجک تعلقات بھی ہیں۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ کہ دہلی سرکار پاکستان کی سفارتی حصاربندی کرکے اس کو علاقے میں تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ویسے بھی ہمارے حکمرانوں کیلئےہر سال اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت ایک رسم بن چکی ہے۔ شرکت سے پہلے ریاستی اور ریاست کے پروردہ ڈھنڈورچی ایسا ماحول بنا لیتے ہیں کہ شرکت سے پہلے کامیابی ہمارے قدم چومتی ہے۔  شرکت کے بعد سادہ لوح عوام کو بیرون ملک اپنے سفارتی کامیابی کے جھنڈے گاڑھنے کی داستانیں مزے لے لے کر سنائے جاتے ہیں ۔

اس طرح شرکت کے بہانے امریکی حکام سے ملاقات کا امکان بھی پیدا ہو جاتا ہے ۔ جس سے اندرون ملک یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہمیں امریکہ کا آشیرواد حاصل ہے۔ کچھ مضائقہ نہیں ہوتا کہ اگر اس موقع پر کچھ سین بھی بنے جہاں ہم بھارتی وفد کو کھری کھری سناتے ہیں اور انہیں لاجواب یا خاموش کردیتے ہیں ۔ اس بہانے اپنے گھر والوں کو سرکاری خرچ پر اقوام متحدہ کا چکر بھی لگوا دیتے ہیں۔

اس سال پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ اہم رسمی اجلاس میں ان کی بیگم اور نواسی بیٹھی نظر آرہی تھی۔ ہر سال جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے پہلے ہمیں خوشخبری سنائی جاتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو بھر پور انداز میں اجاگر کیا جائیگا۔ بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا جائیگا اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جائے گا۔ مگر چند تقاریر، پریس بریفنگز اور دیگر ممالک سے آئے وفود کے ساتھ فوٹو سیشن کے علاوہ ہم پاکستانی وفد کا جنرل اسمبلی کے دوران اور بعد میں ان تقاریر اور ملاقاتوں کا کوئی خاص اثر نہیں دیکھتے۔

اقوام متحدہ میں ہماری سفارتی کارکردگی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر ابھی تک دو طرفہ ایشو سمجھا جاتا ہے نہ کہ فلسطین وغیرہ کی طرح ایک عالمی ایشو۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے افتتاحی خطاب میں کشمیر یا وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر تک نہیں تھا جبکہ بان کی مون اپنی تقریر میں شام، عراق، یمن، افغانستان اور فلسطین کے تنازعات وغیرہ کا ذکر کرنا نہیں بھولے۔

 اس طرح امریکی صدر کے طویل خطاب میں بھارت کا مثبت انداز میں ذکر کیا گیا اس کے علاوہ برما اور برونڈی میں اقلیتوں پر مظالم کا تذکرہ کیا گیا مگر انہوں نے کشمیر کا نام تک نہیں لیا۔  ماسوائے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے مذمتی بیان اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جائزہ مشن بھیجنے کی تجویز کے ہمارے موقف کی کسی اور جانب سے کوئی پذیرائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ امریکی وزیر خارجہ نے الٹا نواز شریف سے ملاقات میں پاکستان سے اڑی حملے کی تحقیقات میں تعاون کی اپیل کی ہے ۔

جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے ۔اڑی دہشت گرد حملے کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ دوبارہ دہشت گردی پر چلی گئی ہے جو کہ پاکستان کے حق میں درست ثابت نہیں ہوا۔ کیونکہ بیرون ملک ابھی تک  پاکستان کی دہشت گردی کے حوالے سے کردار پر شک کیا جاتا ہے اور کشمیر میں کسی بھی ایسی کاروائی کا شک کشمیری عسکریت پسندوں پر کیا جاتا ہے۔

اس طرح پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو مقدمہ پیش کرنے جا رہا تھا یا جس کی تیاری میں  کئی ہفتے لگے تھے۔ اب مقدمے کا تناظر تبدیل ہونے کی وجہ سے اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکے گی۔ پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے جو مقدمہ بنا رہا تھا اور دنیا بھر میں اس کو پذیرائی ملنا شروع ہو گئی تھی اور خود بھارتی حکومت کے اوسان خطا تھے اور اس سلسلے میں بیرونی کے ساتھ ساتھ سخت اندرونی دباؤ کا شکار تھا۔ مگر اڑی دہشت گرد کاروائی سے وہ مقدمہ کمزور ہو گیا ہے۔

پاکستان میں ریاستی اور ریاست کے ڈھنڈورچی چاہے جتنے بھی اعلی اور ارفع رائے کے مالک ہوں اور خوش فہمیوں یا غلط فہمیوں کا شکار ہو مگر ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا مسئلہ بھارت کے گلے جبکہ دہشت گردی کا مسئلہ ھمارے گلے کا طوق بن چکا ہے۔  مسئلہ کشمیر اب نہتے کشمیری عوام پر ظلم اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے زیادہ اڑی دہشت گرد حملے اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ جنگی جنون کی وجہ سے فلیش پوائنٹ بن گیا ہے۔ جس  سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مسئلہ پس منظر میں چلا جائیگا اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ 

عالمی طاقتیں ماضی میں پاک۔بھارت بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں اور فریقین پر اپنے تنازعات بات چیت سے حل کرنے پر زور دیتی رہی ہیں۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے کئی مواقع پر پاک۔بھارت کشیدگی کو کم کرنے میں ا ہم رول ادا کیا ہے۔ پاکستان اس دفعہ پھر متمنی ہوگا کہ امریکہ یا کوئی اور مغربی طاقت حالات کو معمول پر لانے کیلئے آگے بڑ ھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور بھارت کی طرف اس کے جھکاؤ کے پیش نظر وہ  دونوں ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے کس طرح اور کیا مداخلت کریں گے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ امریکہ نے اس قضیے میں غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔   

 پاک۔بھارت بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر چین نے کشمیر میں کشیدگی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے تنازعے کی بات چیت کے زریعے حل پر زور دیا ہے۔  اڑی دہشت گرد حملے پر فرانس ، روس ، اور نیپال کے بیانات بھارتی موقف کی تائید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ دہشت گردی کے مسئلے پر افغانستان اور بنگلہ دیش بھی بھارت کے ہمنوا نظر آرہے ہیں، جبکہ چینی وزارت خارجہ کا یہ بیان کہ کہ چین ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے بڑا معنی خیز ہے۔ چین کی تشویش کی ایک وجہ چین۔پاکستان اقتصادی راھداری منصوبہ بھی ہے۔ چین نہیں چاہتا کہ پاک ۔بھارت کشیدگی کی وجہ سے یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ جائے ۔

چین بھارت کو منصوبے کی مخالفت ترک کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے ۔ چین کے پالیسی ساز اداروں میں پاک۔ بھارت کشیدگی کے حوالے سے تشویش بڑ ھ رہی ہے۔ چین کو خدشہ ہے کہ پاک۔بھارت کشیدگی کی وجہ سے دہلی سرکار کی مجوزہ راھداری منصوبہ کی مخالفت میں شدت آجائیگی۔ اڑی دھشت گرد حملے کے بعد چین کی حکومت پر پاکستان کے ساتھ یہ ایشو اٹھانے کیلئے اندرونی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں لو شیشنگ جو وزارت خارجہ سے منسلک ادارہ برائے عصری بین الاقوامی تعلقات کے ڈائریکٹر ہیں  کا حالیہ بیان بڑا اہم ہے۔ 

اڑی حملے کی پشت پر جو بھی قوت یا قوتیں تھی اس سے قطع نظر اس کا فائدہ بھارت کو پہنچ رہا ہے۔ یہ کوئی سادہ فائرنگ یا دھماکے یا بارودی سرنگ پھٹنے کا واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک منظم دہشت گردی کی کاروائی تھی جو کہ صرف اعلی تربیت یافتہ اور تجربہ کار افراد یا گروہ کا کام ہو سکتا ہے۔ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں یہ اپنی نوعیت کی نہ تو پہلی کاروائی ہے نہ آخری ۔ یہ حملہ کشمیری مجاہدین نے کیا ہے یا خود بھارتی ایجنسیوں نے یا کسی تیسری قوت نے لیکن شک کا فائدہ بھارت کو پہنچ رہا ہے کیونکہ پاکستان کی حمایت یافتہ عسکریت پسند کشمیر میں اس قسم کی کاروائیوں کیلئے پہلے سے ہی بدنام ہیں۔ 

پاک۔بھارت تعلقات میں کشیدگی کی نئی لہر کے بعد دونوں طرف تند و تیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ کوسوں میل دور نیویارک میں سفارتی جنگ کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر بھی غیر معمولی نقل و حرکت شروع  ہو چکی ہے۔ سٹرٹیجک شطرنج بچھ چکی ہے فریق ایک دوسرے کو برائے راست اور بالواسطہ دھمکیاں دینے،  ایک دوسرے کے چالوں پر نظر رکھنے،  ایک دوسرے کو سیاسی اور حتی کہ فوجی مات دینے کیلئے ممکنہ چالوں اور جوابی چالوں پر سوچ بچار میں مصروف ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں ممالک کے پالیسی ساز اپنے محبوب مشغلے یعنی صرف پراکسی وارز پر اکتفا کرینگے اور اس میں مذید شدت لائینگے یا محدود یا بھرپور جنگ کی طرف بھی جائینگے۔ دونوں فریق دشمنی میں آگے تک چلے گئے ہیں اور صورتحال آہستہ آہستہ نو ریٹرن کی حالات پر جا رئے ہیں  اور اب بلف چالوں کا امکان نہیں رہا۔ پاکستان نے چہوٹے جوہری ہتھیاروں کا آپشن اوپن رکھا ہے۔ دونوں ممالک میں نیوکلئیر ہتھیاروں کی موجودگی میں جنگ کا آپشن ایک خطرناک اور تباہ کن آپشن ہوگا۔ 

دونوں ممالک میں ایسی قوتوں کی کمی نہیں جو دونوں ممالک کو طبل جنگ بجانے کی شہہ دینا اور میدان جنگ سجانا اور گرم کرنا چاہتے ہیں۔   بدقسمتی سے دونوں ممالک میں جنگ پرست اور انتہاپسند قوتیں مضبوط ہیں اور ان کا مفاد کشیدگی کو برقرار رکھنے اور دشمنی کو زندہ رکھنے میں ہے۔ دونوں ممالک کے جنگ پرست اور انتہاپسند حلقوں کے ساتھ ساتھ سیاسی اشرافیہ کو بھی تناؤ اور کشیدگی کی فضا فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔

دونوں ممالک میں جنگی جنون کی فضا اور حالات بتا رہے ہیں کہ آنے والے دن بھاری ہونگے۔ پاک۔بھارت کشیدگی پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے کیونکہ پراکسی وارز کا دائرہ علاقے کے دیگر ممالک تک پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ فریقین ایک دوسرے کے سیاسی ، اقتصادی اور حتی کہ فوجی مفادات کو زک پہچانے کےلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں ممالک خصوصاً اور خطہ عموما ًان محدودے چند جنگ پرست قوتوں کی ضد اور جھوٹی انا کی تسکین کیلئے کیا قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہیں اور یہ قیمت کس شکل میں ادا کر یں گے ۔

♦ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *