تاریخ سے سبق حاصل نہ کرنے والے تباہ ہو جاتے ہیں

Asif-Javaid4آصف جاوید

میاں آگے کی فکر کرو، جو ہوگیا، وہ ہوگیا، مٹی پاؤ ، گڑھے ہوئے مردے مت اکھاڑو۔  کیوں راکھ کو کرید کر اُس میں چنگاریاں ڈھونڈتے ہو؟  ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھو اور مستقبل کی پیش بندی کرکے آگے کی طرف قدم بڑھائو۔  مستقبل تمہارا ہے۔

یہ  وہ الفاظ ہیں جو ہم اپنی زندگی میں عام طور پر اپنے بڑوں سے  اس وقت سنتے ہیں، جب ہمارے بڑے ہمیں الجھے ہوئے ماضی  کی ناکامیوں سے نکال کر   ہمیں بہتر مستقبل کے لئے ذہنی طور پر تیّار کررہے ہوتے ہیں۔

ہر گزرا ہوا وقت تاریخ بن جاتا ہے، ہر آنے والا وقت مستقبل ہوتا ہے۔ جبکہ حال جس میں ہم رہ رہے ہوتے ہیں اگر اُس کو سمجھنے کی کوشش کریں تو پتہ لگے گا کہ ہمارا حال تو بس ایک لمحہ ہوتا ہے جس میں ہم جی رہے ہوتے ہیں، گزرا ہوا لمحہ ماضی، اور آنے والا لمحہ مستقبل ہوتا ہے۔

 حال تو ایک پُل ہے جو ہمیں اپنے ماضی سے جوڑ کر ہمیں مستقبل میں لے جاتا ہے۔  مستقبل کی پیش بندی کے لئے ہمیں حال کے پُل پر کھڑے ہوکر ماضی سے رشتہ جوڑنا ہوتا ہے۔ ایک اچھّے مستقبل کے لئے ، ہمیں حال میں موجود رہ کر ماضی کی غلطیوں اور ماضی کے تجربوں سے سبق سیکھنا ہوتا ہے۔ حال میں رہ کر، اپنی شاندار صلاحیتوں کو کام میں لاکر  ، ماضی کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر ہی ہم مستقبل کی بہتر پیش بندی کر سکتے ہیں۔   مستقبل میں اچھّے نتائج حاصل کرنے کے لئے ہم بغیر پلاننگ  (پیش بندی) کے  مستقبل میں  داخل نہیں ہوسکتے۔

قوموں کی  زندگی میں خوشحالی لانے کے لئے جہاں دوسرے وسائل اور انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں  مستقبل میں بہتر نتائج   حاصل کرنے کے لئے بہتر پلاننگ  کی اہمیت سے انکار ممکن ہی نہیں۔ مگر  اس کے لئے گزری ہوئی قومی تاریخ کا بہترین ادراک منصوبہ سازوں کا  بہترین  ہتھیار ہوتا ہے۔

جرمنی نے دوسری جنگِ عظیم مین اتّحادی افواج کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ اپنے منصوبہ سازوں کو اپنی تاریخی لغزشوں اور غلطیوں سے سبق سیکھ کر بہتر مستقبل کی پلاننگ کا ٹاسک دیا،  اور صرف 30 سال کے قلیل عرصہ  میں جرمنی کو دنیا کے ممتاز ملکوں کی صف میں کھڑا کردیا، جاپان نے امریکہ کے ہاتھوں ایٹمی تباہی کے بعد اپنے مستقبل کی پلاننگ کچھ اس انداز سے کی کہ آج جاپان صنعتی اور معاشی اعتبار سے دنیا کے  آٹھ بہترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

جرمنی اور جاپان ، جی – 8 ممالک کی صف میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ اپنے قارئین کی معلومات کے لئے بتاتے چلیں کہ اس وقت ساری دنیا  کی کُل گلوبل جی ڈی پی کا 50 فیصد  صرف جی-8 ممالک  پیدا کرتے ہیں۔  یہاں جی-8 ممالک کا حوالہ دینے کا مطلب جرمنی اور جاپان کی مدح سرائی نہیں ، بلکہ  قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت کا احساس دلانا ہے۔

افراد سے قومیں بنتی ہیں، قوموں سے افراد نہیں۔ جس طرح ایک فرد اپنے زندگی کے اہداف و مقاصد اپنے اپنے حالات کے دائرہ کار میں طے کرتا ہے۔ اس ہی طرح  قومیں بھی   اپنے اپنے اہداف و مقاصد کے تعین  کے لئے تاریخ کا  سہارا لیتی ہیں۔ ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر قوم کا اپنی تاریخ سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔اور قوموں کی مجموعی نفسیات کے معاملے میں بھی تاریخ کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔  ہماری الہامی کتاب قرآنِ کریممیں بھی  تاریخی طور گذرے ہوئے واقعات کا ذکر کرکے اہلِ ایمان کو تنبیہ کی گئی ہے ۔ قرآنِ پاک میں قومِ لوط ، قومِ عاد  کی تباہیوں کا ذکر کرکے اہلِ ایمان کو ڈرایا گیا  ہے۔   

ہم اپنا ماضی بدل نہیں سکتے مگر اپنی تاریخی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اپنا مستقبل ضرور بہتر بنا سکتے ہیں۔  پاکستان کے اربابِ اختیار سے گذارش کریں گے کہ خدارا ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کرلیں۔  بنگالیوں کی حق تلفی کرکے آدھا ملک گنوادیا،  احمدیوں کو کافر قراردے کر  ان کے عقیدےکو ریاست کا قیدی بنا دیا ،   مسیحیوں کی بستیاں جلا ڈالیں، ہندوؤ ں کی کوئی نوجوان لڑکی نہیں چھوڑی، سب کو اغوا کرتے ہیں۔ اور زبردستی مسلمان کرکے شادیاں کر لیتے ہیں۔ ہندو نقل مکانی پر مجبور ہوگئے،۔

 وہ مہاجر جن کے آباؤ اجداد نے پاکستان  بنانے کے لئے  جدوجہد کی، ہجرت کا عذاب سہا، قربانیاں دیں، ان کو  آج  کے دن تک نہ تو مساوی شہری حقوق دئے نہ ہی ان کی شناخت تسلیم کی،  اور ان کی نمائندہ سیاسی جماعت کو بدترین ریاستی  ظلم و تشدّد کا نہ صرف نشانہ بنایا جارہا ہے، بلکہ  مہاجروں کی حب الوطنی پر شک کرکے ان کی حیثیت کو متنازعہ بنایا جارہا ہے۔

  بلوچوں کے ساتھ بدترین ریاستی تشدّد اور زیادتیوں کی مثال پورے پاکستان میں کہیں نہیں ملتی۔  بلوچستان کو خاک و خون میں نہلایا ہوا ہے۔  پاکستان کے  ایک طرف تو سمندر ہے ، اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ سمندر کسی کا دشمن نہیں ہوتا، مگر  تین اطراف میں موجود پڑوسی ممالک  کو  تو دشمن بنا لیا ہے۔ انڈیا سے  ازلی دشمنی، افغانستان کو پانچواں صوبہ بنانے کی ہوس میں افغانیوں کو ناراض،  سعودی عرب کی خوشنودی کے لئے ایران کو ناراض کیا ہوا ہے۔

انڈیا سے 4جنگیں لڑیں، شکست کی ذلّت اٹھائی  اور پھر اقوامِ عالم کی منّت سماجت کرکے جنگیں رکوائیں۔ قیدی آزاد کروائے، زخمی اور لاشیں اٹھائیں ۔   مگر  نہ شرم آئی نہ تاریخ سے کوئی سبق سیکھا۔ پوری قوم کو روس کا ڈراوا دیا کہ روس گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا ہے،  افغان جہاد کے نام پر افغانستان  اور خیبر پختون خواہ کو خون میں نہلا دیا۔ اور اب وہی گرم پانی پیالے میں بھر کو چائنا کو پیش کیا جارہا ہے۔

جس روس کے ساتھ جہاد فرض تھا اب اس ہی رُوس کے ساتھ جنگی مشقیں کی جا رہی ہیں۔  تزویراتی اثاثوں کے نام پر دہشت گردوں کی سرپرستی کی جارہی ہے،  جہادی لشکر  پالے جارہے ہیں۔  ہمارے جہادی لشکریوں کے ٹریننگ کیمپ اور سرگرمیاں،  لائن آف کنٹرول کے اُس پار  جہادی دہشت گردوں کی لانچنگ   کے مناظر ،  انڈین ڈرون کیمروں  اور  انڈین سیٹیلائٹ  کیمروں کے ذریعے  فلم بند کئے جارہے ہیں۔ انڈیا ہماری دہشت گردیوں کے ثبوت جمع کرکے اقوامِ عالم کو پیش کررہا ہے۔  انڈیا ہمیں اقوامِ عالم میں ذلیل اور تنہا کرکے ہمارا سماجی و معاشی مقاطعہ کرانا چاہتا ہے، اور ہم ہیں کہ  ملک سے باہر اور ملک کے اندر اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے باز ہی نہیں آرہے ہیں۔

بلوچستان اور کراچی میں بدترین ریاستی آپریشن کرکے محبِّ وطن لوگوں کو خاک و خون میں نہلا رہے ہیں۔  دانشوروں اورنوجوانوں کو ان کے گھروں سے اٹھا کر غائب کئے دے رہے ہیں۔ زیرِ حراست  ملزمان کو بغیر کسی عدالت میں پیش کئے، انسانیت سوز تشدّد کرکے  ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینک رہے ہیں۔

ہم اپنے ماضی سے کوئی سبق سیکھنا ہی نہیں چاہتے کیونکہ ہم بھنگ  پی کر مستقبل کے سہانے خواب دیکھ رہے ہیں، تاریخ سے سبق لے کر مستقبل کی پیش بندی نہیں کر رہے ہیں۔ روس کو بھی اپنے فوجیوں کی تعداد، سازوسامان ،اور ایٹمی طاقت  کا بہت گھمنڈ تھا۔ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بکھر گیا ، کوئی نہیں بچا سکا۔ اگر یہی لیل و نہار ہے تو ایٹمی قوّت کے غرور اور جنگی جنون میں مبتلا پاکستان کو بھی کوئی نہیں بچا سکے گا۔

وما علینا الالبلاغ 

2 Comments

  1. محمد اسلم شہاب says:

    بہت خوب برادرم آصف جاوید! مگر پھر بھی آپ نے ہلکا ہاتھ رکھا ہے ہمارے حکمرانوں کے اعمال کا ذکر کرنے کے لئے تو لغت میں شاید مناسب ترین الفاظ کی قلت سامنے آتی ہے -بے غیرتی کی ایک مثال ہمارے جرنیل ضیاء الحق نے قائم کی تھی جس نے سیاچین ہاتھ سے گنوانے پر قوم سے عذر گناہ کے طور پرفرمایا تھا”سیاچین میں تو گھاس بھی پیدا نہیں ہوتی!” اور دوسری بے غیرتی کا مظاہرہ نواز شریف نے یہ کہ کر کیا کہ “چین ہماری عزت کا محافظ ہے”- ہمارا مسؑلہ یہ بھی ہے کہ ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور ہماری ایک بڑی اکثریت قابضین اعلیٰ کی افیم کی گھٹی میں ہی مگن رہتے ہیں

  2. Balch is a reality but Mahjar’s (migrants) from India is not reality Asif Sb. I am also migrant from K & K saw the miseries during traveling from our home and hearth evicted by Indian Army in 1948. But Migrants from non agreed ares is not reality, they came running after Liaquat Ali Khan opened Khokhrapar border in 1950 for making his constituency at Karachi against the opposition of Sindhi leaders, some of them were put under prison framing mutiny cases. Asif Sb. U might be out of them tell me did they fight war against Hindus and were evicted from their home hearth. Every Mahajar says that his fore father sacrificed for Pakistan, can U tell me how many were killed in non-agreed areas, riots were mostly in Punjab either side of the divide there massacre, history would tell, massacre Jammu on 6th November 1947, millions were displaced and another millions were killed.Can, U site a place in UP, CP, Bahar and other non agreed area so much mass killings. In Punjab and J & K massacred were there, not less with Muslims, it was mass killings of hindus were there. I am witness to the tragedy I suffered during partition. It was olly of Jinnah of Pakistan, he wanted to become GG of Pakistan making such history which would be unforgettable for coming generation.
    As for Baluch I agree because non one ruler of any state agreed for acceding with Pakistan,only Qazi Isa and Nawab Akbar Bughati signed for joining Pakistan. Akbar Bughati was killed ruthlessly by Pakistan’s army. So, in my opinion Pakistan was a failed state from the beginning and the advent of religiosity it further disintegrated resulting Bangladesh and now movement for Sindhu Desh and greater Baluchistan are taking shape, it might be seemed to me P for Punjab and Pakistan would meet its fate as if war on water starts.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *