کیا پاکستانی ریاست مودی کا چیلنج قبول کرنے کے لیےتیار ہے

Asif-Javaid4آصف جاوید

یہ وہ الفاظ ہیں جو بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نےبالواسطہ طور پر پاکستان کے لئے ادا کئے ہیں۔  مودی نے  ہفتے کے دن بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریلی میں  بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کے شہر كوجھكوڈ میں   خطاب کرتے ہوئے  پاکستان کو خبردار کیا کہ پاکستان دہشت گردوں کی سرپرستی سے باز آجائے،  ورنہ ہم اقوامِ عالم میں  پاکستان کے دہشت گرد چہرے کو بے نقاب کرکے پاکستان کو پوری دنیا میں تنہا کر دیں گے ۔

مودی نے کھلے الفاظ میں پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ  پاکستان کے حکمران  کان کھول کر سن لیں ،  ہمارے 18 جوانوں کی قربانی بے کار نہیں جائے گی۔  اور دہشت گردی کے جرم میں  پوری دنیا میں اکیلا رہنے کے لئے ہم آپ کو مجبور کردیں گے۔

 بھارتی کشمیر  کے قصبے  اوڑی میں بھارتی فوج کی بریگیڈ کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد بھارتی وزیراعظم کا یہ پہلا عوامی خطاب تھا۔  جس میں انھوں نے پاکستان کو سیدھی سیدھی وارننگ  دیتے ہوئے کہا کہ  بھارت پاکستان کو پوری دنیا میں الگ تھلگ کرنے میں کامیاب رہا ہے اور اب وہ یہ کام مزید تیز کردے گا۔

نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے عوام اپنے رہنماؤں سے پوچھیں کہ  پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر  (آزاد کشمیر) تو آپ کے اپنے  پاس ہے، آپ اس کو سنبھال نہیں پاتے۔ کبھی مشرقی پاکستان جو آج کا بنگلہ دیش ہے ، وہ بھی آپ  ہی کے پاس تھا،  آپ تو اس کو بھی سنبھال نہیں پائے۔‘

آپ سندھ کو سنبھال نہیں پا رہے ہو، آپ گلگت کو بھی سنبھال نہیں پا رہے ہو، آپ (خیبر) پختونواہ کو نہیں سنبھال پا رہے ہو، آپ بلوچستان کو نہیں سنبھال پا رہے ہو۔ یہ تو آپ کے  اپنے پاس ہے، آپ کی حکومت ہے، آپ ان کو بھی نہیں سنبھال پائے ہو اور آپ سے کشمیر کی باتیں کر کے یہ  حکمران آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔

 اپنے خطاب میں نریندر مودی نے دونوں ملکوں کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’دونوں ملک ایک ساتھ آزاد ہوئے تھے، پھر  کیا وجہ ہے کہ ہندوستان ، دنیا میں سافٹ ویئر برآمد کرتا ہے اور  پاکستان دہشت گردوں کو برآمد کرتا ہے؟

نریندر مودی نے مزید کہا کہ وہ دن دور نہیں ہوگا جب پاکستان کے عوام پاکستان کے رہنماؤں کے خلاف اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے میدان میں اتر آئیں گے۔

مودی نے کہا کہ  پاکستان کے عوام سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ  آپ کے حکمران آپ کو گمراہ کرنے کے لئے  ایک ہزار سال تک  بھارت سے لڑنے کی باتیں کرتے ہیں ۔ میں ان کے اس چیلنج کو قبول کرنے کو تیّار ہوں، ہندوستان آپ سے لڑائی لڑنے کو تیّار ہے۔

آؤ ، ہمّت ہو تو، ہم اپنے دیس میں غریبی کو ختم کرنے کا کام کریں،  آپ اپنے دیس میں غریبی کو ختم کرنے کا کام کریں،  ہم دونوں لڑائی لڑیں، دیکھتے ہیں سب سے پہلے اپنے دیس کی غربت کون ختم کرتا ہے؟ پاکستان کی عوام اس لڑائی کو پسند کرے گی۔ میں پاکستان کے ان چھوٹے چھوٹے بچّوں سے بات کرنا چاہتا ہوں،  ہم جہالت کو ختم کرنے کے خلاف لڑائی لڑیں، پاکستان بھی جہالت کو ختم کرنے کے لئے  لڑائی لڑے، ہندوستان بھی جہالت کو ختم کرنے کے لئے لڑائی لڑے۔  اور دیکھیں کہ اس لڑائی میں پہلے ہندوستان جیتتا ہے کہ پاکستان جیتتا ہے؟ ۔

ہندوستان میں بھی نوجوان مرتے ہیں، مائیں روتی ہیں۔ پاکستان میں بھی نوجوان مرتے ہیں، مائیں روتی ہیں۔ آؤ لڑائی لڑیں نوجوان بچّوں کو بچانے کی، ماؤ ں کو بچانے کی۔ آپ بچا کرکے دکھاؤ ، ہم بچا کرکے دکھائیں، اور دیکھیں کہ کون جیتتا ہے؟

مودی کی اس چتاؤ نی  (انتباۃ) کے بعد ہمارا بھی پاکستان کی عسکری اشرافیہ کو مشورہ ہے کہ  انڈیا سے طاقت کی جنگ لڑنے کی بجائے مودی کا چیلنج قبول کرکے ،  اپنے ملک میں بھوک  و افلاس، ٖغربت  و جہالت، بیماریوں اور دہشت گردی سے لڑائی شروع کرد یں ، ہمارا اصل دشمن  ہندوستان نہیں ہے۔ بھوک و افلاس، غربت و جہالت، دہشت گردی ہمارے اصل دشمن ہے۔

ہندوستان سے تو ہم شاید ہزار سال تک جنگ لڑنے کے باوجود نہ جیت سکیں گے، مگر یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر ہم خلوص نیت سے اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور وطن کی ترقّی  کے لئے جدوجہد کریں گے تو انشاء اللہّ  اگلے پانچ  سے دس سالوں میں اپنے ملک سے  بھوک و افلاس، غربت وجہالت،  دہشت گردی کا خاتمہ کرکے  معاشی خوشحالی کی جنگ جیت لیں گے۔ انڈیا کو بہت پیچھے چھوڑ دیں گے۔

ہم صرف 22 کروڑ ہیں۔ جب کہ انڈیا ایک ارب 26 کروڑ کی آبادی کا ملک ہے۔ ہمارے  پاس مسائل کم وسائل زیادہ ہیں، انڈیا کے پاس وسائل کم مسائل زیادہ ہیں۔ ہم ہمیشہ انڈیا سے بہتر پوزیشن کے مالک رہے ہیں۔ مگر انڈیا سے ہر محاذ پر شکست کھا رہے ہیں۔

انڈیا سوفٹ ویئر ایکسپورٹ کرتا ہے، ہم تو ایٹمی  توانائی پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہیں، ہم دنیا کو توانائی پیدا کرنے کے لئے ایٹمی ری ایکٹر  اور ایٹمی ایندھن تیّار کرکے  بیچ سکتے ہیں۔ مگر اس کے لئے پہلے ہمیں اپنی دہشت گرد ساز فیکٹریاں بند کرنا ہونگی، دہشت گردی کی سرپرستی ختم کرکے  تزویراتی اثاثوں سے دست بردار ہونا ہوگا، مدرسوں کو بند کرکے پولی ٹیکنک آباد کرنے ہونگے۔

جہادی تیّار کرنے کی بجائے، ہنر مند افراد تیّار کرنے ہونگے۔ ہمارا ہیومن ریسورس ، جہادی نہیں ، ہنرمند  افراد ہونے چاہئے ہیں۔  ہمیں   اپنی عوام کے لئے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی ، روزگار کے مواقع اور معاشی خوشحالی کی ضرورت ہے۔ ہمیں انڈیا سے دشمنی چھوڑ کر اپنے عوام کی فکر کرنی چاہئے۔

آدھا ملک ہم نے پہلے ہی گنوا دیا،  کشمیر کے چکّر میں اب بلوچستان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ دنیا کو کشمیر سے کوئی دلچسپی نہیں،  لیکن خطّے کے امن سے ضرور دلچسپی ہے۔  اقتصادی ترقّی ہی کسی ملک کے معتبر ہونے کا پیمانہ ہے،  جبکہ ہم دہشت گردی کا مرکز اور معاشی بدحالی کی تصویر بن  چکے ہیں ، فوجی طاقت   اور سازو سامان کی تعداد  ، اسلحہ اور گولہ بارود  کی مقدار سے اقتصادی ترقّی اور معاشی خوشحالی  کا حصول ممکن نہیں ہے۔

مودی کا چیلنج قبول کرکے اقتصادی خوشحالی کی لڑائی لڑنے میں ہی پاکستان کی بھلائی ہے۔

One Comment

  1. I agree with mr.asif javaid that in presence of nuclear arsenal,war is not possible.let us tackle poverty,ignorance,injustice ,providing civic amenities to people on war footing.this is the war worth fighting for.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *