پاکستان کو افغان بھارت دوستی ہضم نہیں ہورہی

1451078033-9613

افغان حکومت ابھی تک دارالحکومت میں ہونے والے حالیہ خونریز اور پے در پے حملوں کے صدمے میں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پرتشدد کارروائیوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔افغان حکومت ان خونریز حملوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا رہی ہے۔

نئی دہلی کے طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے کابل سے قریبی تعلقات قائم ہیں لیکن حالیہ چند برسوں میں یہ افغانستان کا بڑا امدادی ملک بن کے ابھرا ہے۔ تاریخی طور پر بھی افغانستان کے پاکستان کی نسبت بھارت سے زیادہ بہتر تعلقات رہے ہیں۔بھارت افغانستان میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان طالبان کے ذریعے ان منصوبوں کو نشانہ بنائے ہوئے ہے۔

بھارت نے اس ملک میں اربوں ڈالر کے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے ساتھ ساتھ فوجی تعاون میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ حال ہی میں بھارت نے افغانستان کو چار ایم آئی 25 ہیلی کاپٹروں کا تحفہ بھی دیا ہے جبکہ بھارت سالانہ بنیاد پر سینکڑوں افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔

بھارت افغان تعلقات، پاکستان کی فوجی ایسٹیبلشمنٹ کو ناقابل قبول ہیں ۔ پاکستانی ریاست ابھی تک افغانستان کو اپنا پانچواں صوبہ بنانے کے لیے کوشاں ہے اور طالبان کے ذریعے افغانستان میں پرتشدد کاروائیوں کی حمایت کررہی ہے۔طالبان نے بھارتی فوجی امداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک تباہ حال قوم کے ساتھ ’واضح دشمنی‘ ہے۔

چار ستمبر کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے پیغام میں واضح کیا تھا، ’’ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کو ہلاکت اور تباہی کی طرف لے جانے والے سامان کی برآمد ختم کرے اور خاص طور پر فوجی امداد کے ذریعے کابل کی بدعنوان حکومت کی عمر کو طول دینے کی کوشش نہ کرے‘‘۔

ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں جنوبی ایشیا کے تجزیہ کار زیگفریڈ وولف اس بیان کے حوالے سے کہتے ہیں، ’’اس بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ جہادی عناصر بھارت کو افغانستان میں نہ صرف امریکی مفادات کا ایک پارٹنر بلکہ فوجی امداد کے لحاظ سے امریکا کا جانشین سمجھ رہے ہیں اور اپنا بنیادی ہدف بھی‘‘۔

ان کا کہنا تھا، ’’کابل میں ہونے والے طالبان کے حملے صرف افغان حکومت کے خلاف نہیں تھے بلکہ نئی دہلی کو ملک سے باہر رکھنے کی طرف بھی ایک اشارہ ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے امریکا کو غیرملکی طاقت تصور کیا جاتا ہے‘‘۔

بھارت اور افغان حکومت کے مابین دو طرفہ فوجی تعاون میں حیران کن اضافہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب امریکا آہستہ آہستہ اس ملک سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا پہلے ہی بھارت کو افغانستان میں اپنا ’جانشین‘ مقرر کر چکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے سہ فریقی مذاکرات (بھارت، افغانستان اور امریکا) کا اعلان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ مذاکرات آئندہ ماہ نیویارک میں ہوں گے۔

ماضی میں پاکستان، افغانستان اور امریکا کے سہ فریقی مذاکرات کے کئی دور ہو چکےہیں جو کہ پاکستان کی بھارت دشمنی کی وجہ سے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکے۔لہذا اب امریکا نے پاکستان کی بجائے بھارت کو افغانستان کی تعمیر و ترقی میں شامل کرلیا ہے۔

افغانستان سینٹر فار ریسرچ پالیسی اسٹڈیز نامی تھنک ٹینک کے سیاسی تجزیہ کار ہارون میر انتہائی یقین سے کہتے ہیں کہ سہ فریقی مذاکرات میں سے پاکستان کو نکالنے کے اثرات اسلام آباد اور کابل حکومت کے آپس کے تعلقات پر مرتب ہوں گے، ’’یہ حملے افغان حکومت کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کابل حکومت کو اس بارے میں پہلے ہی خبردار کر چکا ہے اور اب یہ بات طالبان کو استعمال کرتے ہوئے ثابت بھی کی گئی ہے‘‘۔

نئی دہلی اور اسلام آباد عشروں سے کابل میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے کُشتی لڑ رہے ہیں۔ لیکن نئی دہلی اور کابل کے درمیان تعلقات کی مضبوطی نے بھارت اور پاکستان کے درمیان افغانستان میں ممکنہ ’پراکسی وار‘ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

تجزیہ کار وولف کے مطابق، ’’بھارت اور افغانستان میں قربت دیرینہ دوستی کا نتیجہ ہی نہیں ہے بلکہ افغانستان کی جانب سے پاکستان کے نقطہ نظر کا ایک منطقی نتیجہ بھی ہے۔ پاکستان عوامی سطح پر تو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی حمایت کرتا ہے لیکن خفیہ طور پر وہ طالبان کی مدد بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ ڈبل گیم پاکستان کے اس موقف کے خلاف ہے کہ وہ مستحکم، پرامن اور خوشحال افغانستان چاہتا ہے‘‘۔

اس پس منظر میں افغان عوام افغانستان، بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری جغرافیائی سیاسی جدوجہد سے انتہائی خوفزدہ ہیں کیونکہ یہ چپقلش افغانوں کی زندگیوں اور سلامتی کی صورت حال پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

دوسری طرف یہی چپقلش پاکستانی عوام کی سلامتی کےلیے بھی انتہائی خطرناک ہے۔ پاکستانی ریاست کی بھارت دشمنی اس خطے کے امن بلکہ پاکستانی عوام کی سلامتی کے لیے بھی انتہائی خطرہ بن چکی ہے اور پاکستانی عوام اس کی بھاری قیمت ادا کر رہےہیں۔

DW/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *