گوہر گزشت

ڈاکٹر پرویز پروازی

gohar_gazasht__54724جناب الطاف گوہر کا نام نامی ہمارے ملک کی نوکر شاہی کا بڑا نمایاں نام ہے اس لئے ان کی سرگزشت کا ذکر آتے ہی ان کے کارہائے نمایاں آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتے ہیں اور قاری یہ سوچنے لگتا ہے کہ اتنے اہم عہد میں اتنے اہم عہدوں پر اور لوگوں کے ساتھ رہنے والے شخص نے ہماری تاریخ کے کیسے کیسے راز ہائے سربستہ وا کئے ہوں گے مگر اے وائے بد نصیبی کہ ان کی مختصر سرگزشت ان کے انتقال کے بعد چھپی ہے تواس نے پڑھنے والوں کو بے انتہا مایوس کیا ہے ۔

گوہر گزشت محض ایک داستانِ ناسفتہ ہے ۔غیر مربوط غیر مسلسل غیر مکمل اور تشنہ۔ کہنے والے نے نہ صرف کچھ کہہ کے نہیں دیا بلکہ بہت سی باتوں کو اور زیادہ پراسرار بنا دیا ہے ۔ ہر شخص کے سینہ میں دفن شدہ تاریخ ایک امانت ہوتی ہے جس کے حقدار اگلی نسل کے لوگ ہوتے ہیں مگر الطاف گوہر نے اس امانت کی امانت داری کا فرض ادا نہیں کیا ۔ اگر میں ان کی شخصی دیانت سے ذاتی طور پر آگاہ نہ ہوتا تو میں کہتا الطاف گوہر نے نہ صرف اپنی ذات کے ساتھ ناانصافی کی ہے بلکہ قوم کو بھی اپنی امانتِ محرمانہ سے محروم رکھا ہے۔

ان کا خیال تھا کہ گوہر گزشت میں ’’ مجھ پر جو کچھ گذری ہے اس کا تذکرہ بھی ہوگا اور جن بزرگوں ‘ سیاست دانوں ‘ حکمرانوں سے ذاتی تعلقات رہے ان کے خاکے بھی ہوں گے۔ مجھے امید ہے کہ گوہر گزشت پاکستان کی سیاست کی ایک تصویر ہوگی جس کے خد و خال اور رنگ میرے مشاہدات اور تجربات کے آئینہ دار ہوں گے ‘‘ ( صفحہ ۸) مگر ان کی علالت آڑے آگئی اور انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع نہ مل سکا ۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ اس تشنگی کی اصل وجہ یہ ہے ان کی عمر اور صحت نے وفا نہ کی مگر جتنا کچھ انہوں نے لکھد یا ہے وہ برنارڈ شاء کے قول کے مطابق اس گھونٹ کی طرح ہے جو پانی کے ذائقہ کی نشان دہی کر دیتا ہے ۔گوہر گزشت کا مزاج شفاف اور میٹھے پانی کا مزاج نہیں ۔ 

گو ہرگزشت‘ کا بیشتر حصہ صدر ایوب کے بارہ میں صفائیاں پیش کرنے پر مشتمل ہے (صفحات ۱۳۰ تا ۱۵۳) مگر یہ کام تو وہ اپنی کتاب صدر ایوب کے دس سال لکھ کر پہلے ہی کر چکے تھے ۔ اس وقت بھی اس کتاب کا تجزیہ کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ اگر الطاف گوہر کا مقصد اپنی بریت پیش کرنا ہے تو وہ اس میں ناکام رہے ہیں اور اگر صدر ایوب کی صفائی پیش کرنا ہے تو وہ ان کے اچھے برے کاموں میں برابر کے شریک رہے ہیں اس لئے وہ ان کے عواقب سے بری الزمہ نہیں ہو سکتے ۔ 

گوہر گزشت میں بھی الطاف گوہر نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے دوسروں کے بارہ میں بے رحم سچائی سے کام لیا ہے اگر وہ اپنے باب میں بھی ایسی ہی سچائی لکھ دیتے تو ان کا قد کہیں زیادہ بڑھ جاتا ۔گوہر صاحب نے یہ تو لکھ دیا کہ انہوں نے ’’ دعائے قنوت نہ سنانے پر مشرقی پاکستان کے ایک صنعت کار کی مکوں اور تھپڑوں سے تواضع کردی ‘‘ اور اپنی حیثیت کو بھول گئے ( صفحہ۱۱۶) مگر جب جرأت سے حق بات کہنے کا موقعہ آیا تو وہ کنی کترا گئے حالانکہ ساری قوم کو نہ صرف دعائے قنوت یاد ہے بلکہ وہ جانے کب سے اس کا ورد بھی کر ر ہی ہے۔ 

منظور قادر کے ذکر میں الطاف گوہر نے ان کا ایک مقولہ درج کیا ہے کہ ’’ کسی کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے اطمینان کر لیجئے کہ آپ کے پاؤں ہوا میں تو نہیں لہرانے لگیں گے ‘‘ ( صفحہ۱۴) گوہر گزشت میں الطاف گوہر کے ہاتھ بہت لوگوں کے گریبان پر ہیں مگر خود ان کے پاؤں ہوا میں معلق ہیں ۔مثلا گوہر صاحب نے منظور قادر صاحب کے خدا کے وجود کے باب میں شکوک و شبہات کا بیان کیا ہے حالانکہ جس محل پر یہ ذکر کیا گیا ہے وہاں اس بات کا کوئی محل نہیں تھا ۔ خدا اور بندے کے تعلقات کا معاملہ بندے اور خدا کے مابین ہوتا ہے ۔ اسی طرح جسٹس منیر کے ذہن میں خدا کے وجود کے بارہ میں جو شکوک تھے ان کا ذکر بھی نہایت بے محل طور پر ہوا ہے ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جناب الطاف گوہر اپنی تشکیک کا بار دوسروں پر ڈال کر خود اپنے ذہن کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرہے ہیں ؟

منظور قادر اور جسٹس منیر کے علاوہ اس کتاب میں بھٹو صاحب کا ذکر بھی ہے ۔ بھٹو گوہر ’’دشمنی ‘‘ تو ایک رازِ سربستہ نہیں ’’راز سرِ راہ‘‘ ہے اس لئے ان کی رائے یک طرفہ اور غیر جانبدار تو ہو نہیں سکتی البتہ یہ ضرور ہے کہ انہوں نے بھٹو صاحب کی کینہ توزی کے ایسے ثبوت مہیا کئے ہیں جو ان کے سوا کسی اور کے علم میں نہیں تھے ۔ مثلاً انہیں وزارت تجارت میں چارج تاخیر سے ملا ۔ جب ان کا ٹاکرا ‘ وزیر تجارت یعنی بھٹو صاحب سے ہؤا تو انہوں نے انہیں جتا دیا کہ تاخیر اس لئے ہوئی ہے کہ انہوں نے کئی برس پہلے بہ حیثیت ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ بھٹو صاحب کو لائسنس نہ دے کر بھٹو خاندان کی توہین کی تھی (صفحہ ۵۱) اور پھر ہنس کر کہنے لگے ’’ میں نے تمہیں معاف کیا آج سے تمہاری ہماری دوستی ہوئی ‘‘۔

مگر دوستی تو بھٹو صاحب اپنے ساتھ نہیں کرتے تھے الطاف گوہر کے ساتھ کیا کرتے؟اور معاف کرنا تو ان لوگوں کی سرشت میں ہوتا ہے جو والعافین عن الناس کا مطلب جانتے ہوں ۔ ’’ بھٹو صاحب سے دوستی کی پہلی شرط یہ تھی کہ آپ ان کی ہر سازش میں شامل ہو جائیں دیدہ دانستہ طور پر یا بے خبری کے عالم میں ‘‘چنانچہ الطاف گوہر ان کے دوست بن گئے اور بیگم بھٹو کو بھٹو صاحب کی ’’ غیر پسندیدہ ‘‘ عائلی سرگرمیوں سے ’’ بے خبر ‘‘رکھنے میں ان کے شریک ہو گئے ۔ این کار از تو آید و مرداں چنیں کنند؟ 

اپنے کراچی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہونے کا ذکر اس لئے بھی انہیں مرغوب ہے کہ ’’ یہ عہدہ بڑے رعب کا عہدہ تھا ‘‘ اس سے پہلے شہر پر ابوطالب نقوی، ہاشم رضا اور کاظم رضا کا راج تھا ۔ ابوطالب نقوی چیف کمشنر تھے اور درخواست گذار ہاتھ باندھ کر ان کے سامنے کھڑے رہتے تھے ان کی بیگم صاحبہ کے حضور جو سائل خواتین پیش ہوتیں وہ سر پر جوتے رکھے رہتی تھیں ‘‘ ( صفحہ۵۱) ۔ الطاف گوہر صاحب نے عوامی انداز اختیار کیا اور امراء اور سیاست دان یہ سمجھ کر انہیں انگیز کرتے رہے کہ ’’پنجابی افسر ہے اور اہلِ زبان کے کلچر سے ناآشنا ہے ‘‘۔

یہ بات بڑی سخن گسترانہ بات ہے ۔ حمید نسیم نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ بہ طور سکرٹری اطلاعات الطاف گوہر’’ ایک فوجی گورنر سے اس رعب داب سے بات کر رہے تھے گویا ان کا مخاطب کوئی فوجی گورنر نہیں چپراسی ہے ۔‘‘ معلوم ہوتا ہے الطاف گوہر بہت جلد اہلِ زبان کے کلچر سے کچھ زیادہ ہی آشنا ہو گئے تھے ۔جو شخص گورنروں سے یوں تخاطب کا اہل ہے وہ عوام الناس سے بھلا کس کس طرح پیش نہ آتا ہوگا ۔ ہم نے تو یہ بھی سنا ہے کہ استاد قمر جلالوی کا جو شعر الطاف گوہر نے ابوطالب نقوی صاحب کی مدح میں کہا گیا بیان کیاہے کہ ’’ خدا نے چیف کمشنر بنا دیا تم کو ۔ دعائیں ہم نے تو مانگی تھیں بادشاہی کی ‘‘ ۔ یہ شعرالطاف گوہر صاحب کی مدح میں کہا گیا تھا کہ ’’ خدا نے ڈپٹی کمشنر بنا دیا تم کو ‘‘ ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ لکھنے والے اور اہدافِ مدح کا معاملہ اب اللہ کے ساتھ ہے ۔شاعر کا بھی ممدوحین کا بھی ۔

ایوب خان کے بارہ میں الطاف گوہر نے صفائیاں ہی پیش نہیں کیں ان کے بارہ میں ایسی باتیں بھی لکھ دی ہیں جو کسی اور نے نہیں لکھیں ۔ مثلاً یہ کہ ایوب ‘ جنرل ریس کی باؤنڈری فورس میں تھے جس کے فرائض میں شامل تھا کہ یہ فورس قتل و غارت کو روکے مگر ایوب پر الزام تھا کہ وہ ’’ مہاراجہ پٹیالہ کی کسی محبوبہ پر ایسے عاشق ہوئے کہ اپنے فوجی فرائض بھول گئے ‘‘ ( صفحہ۴۱) اور ’’ ایوب کو ڈھاکہ میں (اسی الزام کی )سزا کے طور پر متعین کیا گیا تھا ‘‘ ۔

اور پھر یہ بھی کہ ’’ ایوب خان ان دنوں سگریٹ بہت پیتے تھے ان کا بیٹ مین صبح سویرے چائے کے ساتھ سگرٹوں کا ایک ڈبہ بھی پیش کیا کرتا تھا ۔ ایک روز اس نے چائے کی پیالی تو حاضر کر دی مگر یہ خبر بھی دی کہ ’’آج سگرٹ نہیں ملا ‘‘ ایوب خاں بہت برہم ہوئے اور انہوں نے بیٹ مین کو دو چار گالیاں دے دیں ۔ بیٹ مین ایک خود دار پٹھان تھا اور عمر میں ایوب خان سے بہت بڑا تھا اس نے کہا ’’ جناب آپ میرے افسر ہیں مگر میں آپ کو بد کلامی کی اجازت نہیں دے سکتا ۔ آپ پوری ڈویژن کو کمانڈ کر رہے ہیں اور آپ میں اتنا بھی صبر نہیں کہ آپ ایک دن سگریٹ نہ پینے کا دکھ برداشت کر سکیں ‘‘ ایوب خان پر اس بات کا ایسااثر ہؤا کہ اس دن سے انہوں نے سگریٹ پینا بند کر دیا ‘‘ ( صفحہ۴۱)۔

اور اب علمائے کرام کے باب میں ان کے ارشادات کی ایک جھلک ۔ ’’ منیر صاحب کی شہرت منیر کمیٹی رپورٹ سے بھی ہوئی ۔ ہر چند علما کرام اس رپورٹ کو ناقابلِ قبول سمجھتے تھے کمیٹی میں جسٹس کیانی منیر صاحب کے ساتھ تھے اور دونوں نے ان تمام علما کو بطور گواہ طلب کیا اسلامی معاملات میں جن کی رائے حرفِ آخر سمجھی جاتی ۔ کمیٹی نے علما سے پوچھا کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے ہر عالم نے مسلمان کی تعریف پیش کی جو دوسرے علماء سے مختلف تھی ۔ جسٹس منیر اور کیانی نے کہا اس صورت حال میں ہم نے اپنی طرف سے مسلمان کی کوئی تعریف پیش کی تو علما کی طرف سے ہمیں کافر قرار دیا جائے گا‘‘ ( صفحہ ۱۰)۔

نواب کالاباغ کی ’’کالاباغیوں ‘‘کے ضمن میں لکھتے ہیں ’’ ایک دفعہ کہنے لگے کہ میں تو کالا باغ میں کھیتی باڑی کیا کرتا تھا مگر علاقے کے دشمنوں نے میرے ظلم و ستم کے قصے بنانے شروع کر دئے ۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ لوگ کالا باغ کے علاقہ میں داخل ہونے سے گھبرانے لگے۔ ایک روز خبر آئی کہ عطا ء اللہ شاہ بخاری صاحب نے میاں والی میں ایک بہت بڑے جلسے میں میرے خلاف بڑی دھواں دھار تقریر کی اور حاضرین سے حلف لیا کہ اگلے روز سب لوگ سر سے کفن باندھ کر کالا باغ جائیں گے اور ظالم نواب کی خبر لیں گے ۔

علاقے میں خوف پھیل گیا ۔ بخاری صاحب کا ایک ساتھی میرے پاس یہ پیغام لے کر آیا کہ ’’ ہزاروں لوگ سر پر کفن باندھے کل یہاں آئیں گے بہتر یہی ہے کہ آپ ان کے سامنے حاضر ہو کر معافی مانگئے اور خداوند کریم سے توبہ کی التجا کیجئے‘‘۔ میں نے اسی پیغام بر سے کہا کہ بخاری صاحب سے میرا سلام کہنا اور میری طرف سے انہیں یہ بتا دینا کہ اگر وہ سر پر کفن پہنے ہوئے یہاں آئیں گے تو میں انشا ء اللہ انہیں وہی کفن پہنا کر یہاں سے روانہ کردوں گا‘‘ بخاری صاحب کو میرا پیغام مل گیا ہوگا اس لئے دوسرے دن میانوالی سے کوئی جلوس کالا باغ کی طرف نہ آیا ‘‘ ( صفحہ۹۲)۔ بخاری صاحب حلف اٹھوانے کے پرانے عادی تھے۔ استاذی المحترم داکٹر عبادت بریلوی صاحب نے اپنی خود نوشت میں لکھا ہے کہ دلی میں بخاری صاحب نے جامع مسجد میں مسلمانوں پر پاکستان بننے کے نقصانات واضح فرمائے تھے اور ان سے حلف لیا تھا کہ وہ پاکستان کی حمایت نہیں کریں گے۔

الطاف گوہر صاحب کا ارشاد ہے کہ’’ مسلمانوں کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جب ہمارے فتویٰ فروش علما نے حاکمیت کے نظرئے کو ہر ظالم اور سفاک حکمران کے اقتدار پرغاصبانہ قبضے کو جائز ثابت کرنے کے لئے بلا خوف اور بار بار استعمال کیا ہے ۔پاکستان میں آئینی تنازعات کے معاملے میں ہمارے علما کا اکثر و بیشتر منفی کردار رہا اور ان مباحث میں ان کا موقف کبھی ان کی کم سوادی کی نشاندہی کرتا کبھی ان کے مخصوص مفادات کی ترجمانی‘‘ ( صفحہ ۱۶۸)۔

’’ احمدیوں کے خلاف تحریک ایک سیاسی تحریک تھی جو بہت جلد پنجاب کے مختلف شہروں میں پھیل گئی اور ہر طرف آتش زنی قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا بازار گرم ہو گیا۔۔۔ علماء کا مطالبہ یہ تھا احمدیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک فرقہ قرار دے کران کے ووٹوں کا اندراج ملک کی دیگر اقلیتوں کے ساتھ کیا جائے علما ء نے اس پر ا بھی اصرار کیا کہ احمدیوں کو نہ ملکی معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق دیا جائے اور نہ ہی انہیں اہم سرکاری عہدوں پر فائز کیا جائے ۔۔۔ جہاں تک احمدیوں کو کاروبارِ مملکت سے الگ رکھنے کے مطالبے کا تعلق تھا تو یہ مطالبہ شہریوں کے لئے یکساں اور مساوی حقوق کے تصور سے انحراف کے مترادف تھا ۔

کمیشن نے اس ضمن میں قائد اعظم کی ۱۱ اگست ۱۹۴۷ کی تقریر کا حوالہ دیا تھا کہ ہم اس بنیادی ا صول کے ساتھ سفر کا آغاز کر رہے ہیں کہ ہم سب ایک مملکت کے برابر کے شہری ہیں‘‘ علما ء نے قائد اعظم کے پیش کردہ اس نظریہء ریاست کو مسترد کر دیا اور جماعت اسلامی کے ایک کارکن نے بیان دیا کہ ’’ اس نظریہ پر قائم ہونے والی ریاست شیطان کا کارنامہ ہوگا‘‘ (صفحہ۱۲۲)۔ 

جناب الطاف گوہر یہاں تک تو آگئے اور آکر رک گئے ‘ کاش وہ یہ بھی بیان کر دیتے کہ انہی علماء کی شہ پر ایک ظالم اور جابر ڈکٹیٹر نے احمدیوں پر کاروبارِ مملکت میں شرکت تو محال کی ہی تھی اس نے ان کے عقائد پر بھی ضربِ کاری لگائی اور تاریخ میں اپنا نام سیاہ کاروں کی فہرست میں لکھوا کر انجامِ مکذبین کو پہنچا اور ابھی ہمارا ملک خدا معلوم کتنے اور مواقع پر علما ء کی تکذیب و تکفیر کا مورد و مستلزم ٹھہرے گا۔ 

One Comment

  1. آپ نے لکھاہے:
    “جناب الطاف گوہر یہاں تک تو آگئے اور آکر رک گئے ‘ کاش وہ یہ بھی بیان کر دیتے کہ انہی علماء کی شہ پر ایک ظالم اور جابر ڈکٹیٹر نے احمدیوں پر کاروبارِ مملکت میں شرکت تو محال کی ہی تھی اس نے ان کے عقائد پر بھی ضربِ کاری لگائی اور تاریخ میں اپنا نام سیاہ کاروں کی فہرست میں لکھوا کر انجامِ مکذبین کو پہنچا اور ابھی ہمارا ملک خدا معلوم کتنے اور مواقع پر علما ء کی تکذیب و تکفیر کا مورد و مستلزم ٹھہرے گا۔”
    عرض ہے کہ
    یہاں ہی در اصل مومنانہ جرات کا تقاضا شروع ہوتا ہے۔ اور اسی کا ہی فقدان ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *