پُورا سچ

shahnaz shoro

ڈاکٹر شہناز شورو۔ٹورانٹو

000       میرے لیے یہ سوال کبھی اہم نہیں رہا کہ پاکستان میں کتنے لوگ لکھ رہے  ہیں، میرا مقصود و منشا یہی ہے کہ دیکھا جائے کہ کیا اور کیسا لکھا جارہا ہے؟ کس قسم کی سوچ کو معاشرے میں پروان چڑھانے کی بات کی جارہی ہے یا کس قسم کے رویّے اور سوچ کے خلاف قلم کار کا قلم حرکت میں آیا ہے۔ 

 یوں تو وطنِ عزیز میں سدا سے بحران اور منفی اندازِ فکر کے سبب غیر ترقی پسندانہ اور غیرمنطقی سوچ کا تسلّط رہا ہے۔ مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے ایک بہتر اور بارآور معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنی سی سعی کی۔ مگر ان کوششوں کے ثمرات دیرپا نہیں رہے، اور یوں بھی ایسے ثابت قدم اور متوازن لوگوں کی اس معاشرے میں ہمیشہ کمی رہی ہے جو کہ سیاسی، سماجی، ثقافتی اور عمرانی علوم سے بہرہ وَر ہوکر منطقی بحث کا آغاز کرکے کسی اہم موضوع کو یا اہم موضوعات کو سلیقے سے معروضی انداز میں بیان کرکے، دوسری یا تیسری سوچ کا راستہ ہموار کریں۔

پے درپے سیاسی اور عسکری، مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے تجرباتی اقدامات، تعلیمی نظام کے ڈھانچے میں بے ہنگم تبدیلیاں، مہنگائی کے دیو کو آزاد چھوڑ دینا، تشدد و فرقہ واریت کے عفریت کو مسلط کرنا، انسانوں کو بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح ہنکانا اور بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم رکھنا….یہ وہ بنیادی عوامل ہیں، جنہوں نے پاکستان کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی زندگی کو پُرتعفّن اور عذاب ناک بنادیا ہے۔

ایک فیصد یا دو فیصد بالادست ہیں، زیرِدست کا نہ کوئی والی نہ وارث۔ بلکہ میں تو اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ نالائق ترین اشرافیہ اور بے حیا ترین اقتداری ٹولے چاہتے ہیں کہ انتشار، غربت، بے یقینی اور جہالت میں اس حد تک اضافہ ہو کہ لوگ سوچنا اور لکھنا چھوڑ کر دو وقت کی روٹی کے لیے دھکے کھاتے پھریں اور وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب رہیں۔

ویسے بھی سنجیدہ تحریریں پڑھنے والا قاری تو غربت کی لکیر کے نیچے سسکتا نظر آتا ہے تو ایسے میں سنجیدہ لکھنے والا سوچتا ہے کہ وہ کیوں لکھے اور کس کے لیے لکھے؟؟ ….‘‘عقلمند’’ اور ‘‘ہوشیار’’ پگھار دار ‘‘دانشورانِ ملّت’’ یا تو ٹی وی چینلز یا پھر اخبارات کی مزدوری میں لگ گئے اور ‘‘پالیسی’’ کے تحت قلم کا استعمال کرنے لگے۔ یہ منافع بخش کاروبار اہلِ زر کے لیے ہرگز مہنگا نہیں تھا۔ مگر قلم کی حُرمت کا سودا جس نرخ پر ہوا، اُسے لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ جاتے ہیں۔

لوگ آدھا سچ بولنے کی کوشش کرتے ہیں، آدھا سچ تحریر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خوفِ خدا اور فسادِ خلق نے زبان و قلم گرفت میں لے رکھے ہیں، مگر جمیل خان ان خطرات کو سامنے دیکھ کر بھی اپنے شعور، تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر اخذ کردہ تجزیے کے اظہار سے نہیں گھبراتے۔ ایسے لفظ، مرکبات اور محاورے جو ایک عرصے سے، ایک مخصوص طبقے یا گروہ کا آلہ کار بن کر سٹریو ٹائپ  بن چکے ہیں،ان کے پوسٹ مارٹم کا کام بھی ادا جمیل خان نے سنبھال لیا ہے۔ ‘‘۔

ظلمتِ شب’’ ان کی پہلی کتاب ہے میں جانتی ہوں کہ کئی کتابوں کے مسودے ادا جمیل خان کی الماریوں اور کتابوں کے آس پاس موجود ہیں۔ موضوعات کی ان کے ہاں کمی نہیں۔ فکر کی تازگی وہ اپنے تجرباتی ذہن سے اخذ کرتے ہیں، متعصب نہیں ہیں، اس لیے سچ، حق، حسن اور انسانیت کی پَرکھ ہے۔

میں ایسے ہی سوچنے والے اور لکھنے والوں کی پرستار ہوں، جن کا قلم آج بھی نہ بکتا ہے، نہ لرزتا ہے، نہ کسی کو سراہتا ہے، نہ کسی کو گراتا ہے، بلکہ اپنے ضمیر اور شعور کی آواز بن کر معاشرے کو تصویر کا دوسرا اور تیسرا رُخ دکھاتا ہے۔ 

کتاب کا عنوان ‘‘ظلمتِ شب’’ ہے، اور بھلا تاریخ موجودہ عہد کو، اس خطے کے مزاج و نظام کو کیا نام دے گی؟؟….مضامین کے موضوعات اور موضوعات کی کلاسیفیکشن پڑھنے والے کو اپنی طرف فوراً متوجہ کرلیتے ہیں۔ ان مضامین میں آپ کو ایک منطقی، روشن خیال، متوازن اور عالمگیر سوچ کا حامل قلم کار ملے گا، جس کے لیے ہر موضوع پر طبع آزمائی محض تکمیلِ شوق نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے بکھرے، غیرمتوازن، جذباتی، منفی سوچ کے شکار معاشرے کی تبدیلی کے لیے۔

‘‘تاریخ کا ایک سبق’’ ہو یا ‘‘لے پالک اشرافیہ’’ …. ‘‘زمیں جنبد نہ جنبد’’ ہو یا ‘‘توہمات پرستی کی کاشت’’…. یا پھر ‘‘مسلمانوں کا زعم اور زمینی حقائق’’…. ادا جمیل خان کا قلم آپ کو ماضی، حال سے لے کر مستقبل کے اندیشوں اور ہونی اور اَنہونی کے بارے میں دلجمعی اور خوبصورتی سے آپ کو آپ سے روشناس کرواتا جائے گا۔

 اگر آپ ذہن رکھتے ہیں اور سوچتے بھی ہیں تو ممکن نہیں کہ یہ تحریریں آپ پر اپنا مثبت اثر قائم نہ کریں۔ ‘‘منفی رویوں کی فصل’’ ہری بھری ہے۔ برسوں سے پھل پھول رہی ہے۔ بار بار کاشت ہوتی رہی ہے، منافع بخش فصل سے کئی طاقتور گروہ بارہا فیضیاب ہوتے رہے ہیں، ہورہے ہیں، اس لیے اربابِ اختیار اس فصل کو ہر بار ایک نئی اُمید کے ساتھ بوتے ہیں اور بہرہ وَر ہوتے ہیں۔

جمیل خان نے بڑے سادہ اور واضح انداز میں آپ کو ان کرداروں اور رویوں کے بارے میں بتایا ہے جو ناسور ہیں اور دھرتی کا روگ بنے ہوئے ہیں۔ مجھے یقین ہے ‘‘ظلمتِ شب’’ کی پذیرائی، روشن اذہان اور حساس افراد کے لیے ایک اُمید افزاء خبر ہوگی۔

 کتاب کا انتساب ‘‘مصدق سانول’’ کے نام ہے۔ جنہیں مرحوم لکھتے، ہاتھ کانپتے ہیں۔ مگر جمیل خان کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے، مجھے اس انتساب پر حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ باضمیر اور باحمیت اشخاص ہی، خوبصورت اور پُرخلوص لوگوں کو ان کی جدائی کے بعد بھی یاد رکھتے ہیں۔

 نام کتاب                    :    ظلمتِ شب
    مصنف                    :    جمیل خان
    ناشر                        :    پورب اکادمی۔ اسلام آباد
                                    فون: 051-2317092
                                    poorab_academy@yahoo.com
    سالِ اشاعت                :     2016ء
    بارِ اشاعت                :    اوّل
    قیمت                         :    499 روپے
    بیرون پاکستان قیمت    :    10 $ڈالرز
   ڈسٹری بیوٹر
                  GLARE ENTERPRISE Karachi
Phone:   03122004774, 03404894393 (only for SMS)
email address:  glare.enterprise989@gmail.com

2 Comments

  1. great introduction ~ going to buy it soon 🙂 Thanks Dr.Shahnaz Shoro

  2. نجم الثاقب کاشغری says:

    زبردست!بہت خوب ! بہت اچھا ہے۔میرے دیس کے غریب ترین مظلوم لوگو۔پانچ پانچ سو کی یہ کتاب ضرور خریدو تاکہ مصنف بھی کچھ سرمایہ جمع کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *