ایستیبان۔ دنیا کا خوبصورت ترین ڈوبنے والا مرد

garcia-marquez-1گیبرئیل گارشیا مارکیز

سب سے پہلے جن بچوں نے سمندر کی طرف سے بہہ کرآنے والی اس سیاہ پھولی ہوئی چیز کو دیکھا تو انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ کوئی دشمن کا جہا زہے، تب پھرا نہوں نے دیکھا کہ یہ شے تو جھنڈے اورمستول کے بغیر ہے او ریوں وہ سمجھے کہ یہ ایک وہیل مچھلی ہے لیکن جب یہ ساحل تک آن پہنچی اور انہوں نے اس پر سے سمندری پودوں کے گچھوں، لعابی مچھلی کے ریشوں او رتباہ شدہ جہاز کی باقیات کو صاف کیا تو پھر ان پر ظاہر ہوا کہ یہ ایک ڈوب جانے والا آدمی تھا۔

وہ ساری سہ پہر اس کے ساتھ کھیلتے رہے کبھی وہ اسے ریت میں دبا دیتے او رکبھی باہر نکال لیتے پھر اسی لمحے کسی کی نظر ان پر پڑی تو اس نے سارے گاؤں میں یہ خبر پھیلادی۔ جو لوگ اس کو اٹھا کر گاؤں کے سب سے قریبی گھر میں لائے۔ انہوں نے محسوس کیا اس کا وزن کسی بھی ایسے ڈوب جانے والے آدمی سے زیادہ تھا جس سے انہیں پہلے کبھی سابقہ پڑا تھا۔ ان کی نظر میں اس کا وزن ایک گھوڑے جتنا تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے کو بتایا کہ ایسا شاید اس لئے تھا کہ یہ کہیں بہت دور سے تیرتا ہوا یہاں پہنچا تھا اور شاید پانی اس کی ہڈیوں میں گھس گیا تھا۔ جب انہوں نے اسے فرش پر لٹایا تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ یہ دوسرے تمام آدمیوں سے زیادہ لمبا بھی تھا، کیونکہ یہ گھر اب اس کے لئے چھوٹا پڑرہا تھا۔ پھر انہوں نے سوچا اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ شاید ڈوب جانے والے آدمیوں میں مرنے کے بعد بھی بڑھتے رہنے کی خصوصیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے آس پاس سمندر کی بوپھیلی ہوئی تھی او ریہ محض اس کا مہاندرا تھا جس کی بناء پر یہ کہا جاسکتا تھا کہ یہ آدمی کی لاش ہے کیونکہ اس کی جلد پر چھلکوں کی تہہ جمی ہوئی تھی۔

انہوں نے اس کا چہرہ صاف کرنے کی کوشش ہی نہ کی کہ پتہ چلتا کہ یہ تو یعنی مردہ شخص کوئی اجنبی تھا۔ یہ گاؤں بیس کے قریب لکڑی کے بنے ہوئے گھروں پر مشتمل تھا جن کے صحن پتھریلے تھے او رجن میں کوئی پھول تک نہ تھا او ریہ سارے گھر صحرا جیسے، ساحل کے آخری کونے پر پھیلے ہوئے تھے۔ یہاں اتنی تھوڑی سی زمین تھی کہ مائیں جب بھی باہر نکلتیں تو انہیں یہ خوف دامن گیر رہتا کہ کہیں ہوا ان کے بچوں کو اڑانہ لے جائے اور پچھلے سالوں میں جو چند ایک مرگئے تھے تو وہ چٹانوں سے بھی پرے جاگرے تھے، لیکن سمندر پر سکون او رفیاض تھا اور تمام آدمی اپنی سات کشتیوں کے ساتھ مگن تھے اسی لئے جب انہوں نے اس ڈوب جانے والے آدمی کو پایا تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا کہ آیا وہ تمام کے تمام یہاں موجود تھے۔

اس رات وہ سمندر میں اپنے کام پر نہیں نکلے۔ جب مرد دوسرے قریبی گاؤں میں یہ پتہ کرنے کے لئے نکلے کہ کہیں وہاں کا کوئی آدمی تو گم نہیں ہوا، تب عورتیں اس ڈوب جانے والے آدمی کی حفاظت کے لئے وہاں رہ گئیں۔ انہوں نے گھاس کی کوچی کے ساتھ اس پر سے کیچڑ کو صاف کیا اور انہوں نے اس کے بالوں میں اٹک جانے والی سمندری کنکروں کو ہٹایا اور انہوں نے مچھلی صاف کرنے کے آلات کے ساتھ اس پر جمی تمام آلائش کو صاف کیا۔ جب وہ یہ سب کچھ کررہی تھیں تو انہیں محسوس ہوا کہ اس سے برآمد ہوتی باس دور دراز کے گہرے سمندروں کی تھی اور اس کے جسم پر کپڑے کی جو دھجیاں تھیں ان سے پتہ چلتا تھا کہ جیسے یہ مونگے کی بھول بھلیوں میں سے گزرکر آیا ہو او رپھر انہیں یہ بھی پتہ چلا کہ اس نے موت کو فخر کے ساتھ گلے لگایا تھا کیونکہ اس کے چہرے پر دریاؤں میں ڈوب جانے والے پتلے دبلے اپنی ضرورتوں کے مارے ہوئے لوگوں کی طرح یا سمندر میں سے برآمد ہونے والے دوسرے ڈوبے ہوئے لوگوں کی طرح کے اکیلے پن کا کوئی پر تو نہیں ملتا تھا لیکن جب انہوں نے اس کے جسم کو صاف کرنے کے کام کو ختم کرلیا تو تب ہی ان پر کھلا کہ وہ کس قسم کا آدمی تھا اور اسی بات پر وہ حیران وششدررہ گئیں۔

انہوں نے اب تک جن طاقتور مردوں کو دیکھا تھا۔ یہ ان میں سب سے زیادہ لمبا، مضبوط اور مردانگی سے بھرپور تھا مگر پھر بھی وہ جب اس کی طرف دیکھ رہی تھیں تو وہ ان کے تصورات میں آنے والی کسی بھی چیز سے مختلف تھے۔ اس گاؤں میں وہ اس کے لئے ایسا بستر نہ تلاش کرسکیں جو اس کے بڑے وجود سے مطابقت رکھتا ہو او رنہ ہی انہیں کوئی ایسی مضبوط میز ملی جس پر اس کا جثہ سما سکے۔ نہ تو اسے چھٹی کے دن پہنی جانے والی لمبے ترین آدمیوں کی پتلونیں ہی پوری آئیں اور نہ ہی سب سے موٹے آدمیوں کی پھولدار قمیضیں او رنہ ہی سب سے بڑے پاؤں والوں کے جوتے اس کو فٹ آئے۔ اس کی خوبصورتی او ربہت بڑے جثے سے متاثر ہوکر عورتوں نے فیصلہ کیا کہ اس کے لئے بادبانی کپڑے سے ایک پتلون تیار کی جائے، اور شادی والے لینن کے کپڑے سے اس کے لئے قمیض بنائی جائے تاکہ مرنے کے بعد بھی اس کی شان برقرار رہ سکے۔ 

جب وہ ایک دائرے کی شکل میں بیٹھ کر اس کی لاش کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے لباس کو سی رہی تھیں اور ٹانکے لگارہی تھیں تو انہیں محسوس ہوا کہ آج کی رات ہوا جس یکساں رفتار سے چل رہی تھیں اور سمندر جس طرح سے بے قرار تھا تو یہ تبدیلی مرنے والے شخص کے ساتھ کچھ کرنے والی تھی۔ وہ سوچنے لگیں کہ اگر یہ شاندار آدمی اس گاؤں میں رہتا ہوتا تو اس کے گھر کے دروازے سب سے زیادہ چوڑائی والے ہوتے۔ چھت سب سے اونچی ہوتی۔ اس کے گھر کا فرش سب سے زیادہ مضبوط ہوتا۔ اس کی چارپائی جہازی تختوں سے بنی ہوتی جنہیں کہ لوہے کے کابلوں سے جوڑا گیا ہوتا اور یوں اس کی عورت سب سے زیادہ خوش باش عورت ہوتی۔ انہوں نے سوچا کہ وہ ایک ایسا بااختیار شخص ہوتا کہ محض وہ مچھلیوں کو ان کے ناموں سے پکارتا تو وہ اس کی طرف لپکی چلی آتیں اور وہ اتنا محنتی ، اور دھن کا پکا شخص ہوتا کہ چٹانوں سے چشمے پھوٹ نکلتے او راس طرح وہ ان چٹانوں کی چوٹیوں پر پھول اُگانے کے قابل ہوجاتا۔

انہوں نے نہایت راز دارانہ انداز میں اسی شخص کا موازنہ اپنے آدمیوں سے کیا تو انہوں نے جانا کہ ان کے مرد اپنی ساری زندگی میں وہ کچھ نہیں کرسکتے تھے جو وہ ان کے لئے ایک رات میں کرنے کا اہل تھا او رپھر انہوں نے اپنے مردوں کے بارے میں فیصلہ دیا کہ وہ اس زمین پر رہنے والی مخلوق میں سب سے زیادہ کمزور، نہایت کمینے اور بے حد بے کارمرد تھے۔ وہ اپنی ان تصوراتی بھول بھلیوں میں بھٹک رہی تھیں کہ سب سے زیادہ عمر رسیدہ عورت نے، جس نے کہ سب سے زیادہ بوڑھی ہونے کے ناطے سے اس ڈوب جانے والی آدمی کی طرف جذباتی ہونے سے زیادہ ترس کے ساتھ دیکھا اور ٹھنڈی آہ بھری۔

’’اس کا چہرہ کچھ اس جیسا ہے کہ ایستیبان کہا جاتا ہے۔‘‘

یہ سچ تھا۔ ان میں سے زیادہ تر نے اس کی طرف یہ دیکھنے کے لئے دوبارہ نگاہ ڈالی تھی کہ اس کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا نام ہوہی نہیں سکتا تھا۔ ان میں سے جو زیادہ سرکش تھیں اورجو کہ نوجوان تھیں وہ کچھ دیر تک اسی سرابی کیفیت کا شکاررہیں کہ جب اسے کپڑے پہنادئیے جائیں گے او روہ اپنے مخصوص چمڑے کے بوٹوں کے ساتھ پھولوں کے درمیان لیٹا ہوگا تو اس کا نام ’’لتارو‘‘ ہی ہوسکتا ہے لیکن یہ محض ایک مفروضہ تھا۔ ان کے پاس وافرکینوس نہیں تھا۔ غیر ماہرانہ انداز میں کاٹی گئی اور پھوہڑپن کے ساتھ سی گئی پتلون بہت تنگ تھی۔ اور اس کے دل کی غیر مرئی طاقت اس کی قمیض کے بٹنوں کو توڑدینے پر تلی نظر آتی تھی۔ آدھی رات کے بعد ہوا کازور تھم گیا اور سمندر بھی اپنی پہلے والی حالت میں آگیا۔ اس خاموشی نے رہے سہے شکوک کو بھی ختم کردیا۔ وہ یقینی طور پر ایستیبان تھا۔ جن عورتوں نے اسے لباس پہنایا، اس کے بالوں میں کنگھی کی اس کے ناخن تراشے اور اس کی شیو بنائی تو وہ اسے زمین پر لٹاتے ہوئے دکھ کے ساتھ جھرجھری لئے بغیر نہ رہ سکیں۔ 

یہ وہی لمحہ تھا جب یہ بات ان کی سمجھ میں آئی کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے اس بڑے حبثے سے کس قدر ناخوش رہا ہوگا کیونکہ یہ اس کے مرنے کے بعد بھی تکلیف دے رہا تھا۔ وہ تصور کی آنکھ سے دیکھ سکتی تھیں کہ وہ اپنی زندگی میں دروازوں میں سے گزرتے ہوئے دائیں بائیں جھولتے ہوئے چوکھٹ سے اپنا سرپھوڑ بیٹھتا ہوگا او رملاقاتوں کے وقت اپنے پاؤں پر قائم رہتے ہوئے او ریہ نہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنے ان نرم بھورے سمندری بچھڑے جیسے ہاتھوں کا کیا کرے، پریشان ہوتا ہوگا جبکہ گھر کی مالکن اس کے لئے مضبوط ترین کرسی تلاش کرنے کے بعد نہایت خوفزدہ حالت میں اسے کہتی ہوگی’’ایستیبان، پلیز یہاں بیٹھو۔‘‘ اور وہ دیوار کے ساتھ لگتے ہوئے مسکراتے چہرے کے ساتھ کہتا ہوگا۔’’مادام تکلیف نہ کریں میں یہیں ٹھیک ہوں۔‘‘ ہر ملاقات پر یہ سب کچھ دہراتے ہوئے اس کی ایڑیاں دکھتی ہوں گی اور اس کی پیٹھ اینٹھ جاتی ہوگی۔ اسے ایک بار پھر کہنا پڑتا ہوگا۔’’میں یہیں ٹھیک ہوں مادام۔‘‘ محض اس ڈر سے کہ کہیں اس کے بیٹھنے سے کرسی نہ ٹوٹ جائے اور شاید اسے یہ بھی پتہ نہ چل سکا ہوگا کہ جس کسی نے اسے کہا ہوگا۔’’ایستیبان نہ جاؤ۔ کم ازکم کافی تیار ہونے تک تو رُکے رہو۔‘‘ وہ ان میں سے ایک ہوگی جس نے اس کے جانے کے بعد اپنے آپ سے کہا ہو گا۔’’اچھا ہی ہوا کہ اس سے جان چھوٹ گئی۔ اچھا ہی ہوا کہ یہ خوبصورت احمق چلا گیا۔‘‘ وہ عورتیں یہ سب کچھ اس کی لاش کے قریب رہ کر صبح ہونے سے تھوڑی دیر پہلے تک سوچتی رہیں۔

بعد میں جب انہوں نے اس کے چہرے کو ایک رومال سے ڈھانپ دیا تاکہ روشنی اسے تکلیف نہ دے، تب وہ انہیں بالکل اپنے مردوں کی طرح ہمیشہ کے لئے مرچکا اور غیر محفوظ مرد لگا۔ اور اس وقت ان کے دل غم کے آنسوؤں سے بھرگئے۔ نوجوان عورتوں میں سے ایک رونے لگی۔ جو دوسری تھیں انہوں نے پہلے آہیں بھریں پھر وہ بھی گریہ زاری کرنے لگیں۔ جوں جوں وہ سسکیاں بھرتیں یوں لگتا کہ وہ رورہی ہیں۔ کیونکہ اب ڈوب جانے والا مردان کے نزدیک اور بھی’’ایستیبان‘‘ کی مانند ہوگیا تھا۔ وہ اس طرح بے اختیار روتی چلی گئیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ بدنصیب، سب سے زیادہ صلح جو اور نہایت بامروت تھا۔ بے چارہ’’ایستیبان‘‘ بے چارہ’’ایستیبان‘‘ پھر جب مرداس خبر کے ساتھ واپس آئے کہ ڈوب جانے والا آدمی کسی بھی قریبی گاؤں سے تعلق نہیں رکھتا تھا تو عورتوں نے روتی آنکھوں کے ساتھ ایک طرح کی خوشی محسوس کی۔
’’
خدا کا شکر ہے۔‘‘ انہوں نے آہ بھری۔’’وہ ہمارا ہے۔‘‘

مردوں کے خیال میں یہ شور وغل محض نسوانی بے ہودگی تھی۔ رات گئے کئے جانے والے عجیب وغریب سوالات سے تنگ آکر مرداب یہ چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ اگلے خشک او رحبس آلودہ دن کا سورج شدت پکڑے انہیں اس اجنبی سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا حاصل کرلینا چاہئے۔ انہوں نے مستول کے اگلے حصوں کے ساتھ چیزوں کونئی شکل دے کر رسیوں کے ساتھ اس طرح باندھ دیا کہ چٹانوں تک لے جانے کے لئے اس کا جسم سہارا جاسکے۔ وہ اس کے جسم کے ساتھ کسی سامان ڈھونے والے جہاز کا لنگر باندھنا چاہتے تھے تاکہ وہ نہایت آسانی کے ساتھ گہرے پانیوں میں چلا جائے جہاں پر کچھ مچھلیاں اندھی ہوتی ہیں او رجہاں غوطہ لگانے والے ناسٹلجیا کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں۔ وہ اسے گہرے پانیوں میں اس لئے ڈبونا چاہتے تھے کہ تیز لہریں اسے دوبارہ اُوپر نہ لے آئیں جیسا کہ اس سے پہلے کئی لاشوں کے ساتھ ہوچکا تھا۔ 

لیکن وہ جتنا جلدی فارغ ہونا چاہتے تھے عورتیں اتنا ہی وقت ضائع کرنے کے طریقے سوچ رہی تھیں۔ وہ اپنی چھاتیوں پر سمندری ٹونے ٹوٹکوں کو سجا کر بدحواس مرغیوں کی طرح چل پھر رہی تھیں۔ ان میں سے کچھ ایک طرف سے ڈوب جانے والے آدمی پر نہایت عمدہ قسم کی ہوا والے پر ڈال رہی تھیں اورکچھ دوسری طرف سے اس کی کلائی پر کمپاس (سمت نما) باندھ رہی تھیں او ریہ سب کچھ کامیابی کے ساتھ سرانجام دے کر عورتیں وہاں بلا جواز کھڑی تھیں لیکن اس مبالغے کے ساتھ کہ جیسے کسی نے انہیں مردہ شخص کے اوپر دھکیل دیا ہو۔ تمام مرد اندرونی خلفشار کا شکار ہو گئے۔ وہ بڑبڑانے لگے کہ آخر ایک اجنبی کے لئے اتنی اہم رسومات کیوں۔ ان کی سمجھ سے یہ باہر تھا کہ اس اجنبی کے لئے اتنی بہت سی مقدس پانی کی بوتلیں او رکیلیں کیوں اکٹھی کی گئی ہیں، جبکہ شارکوں نے اسے سالم نگل جاناتھا۔ لیکن عورتیں آگے پیچھے دوڑتی، لڑکھڑاتی ہوئی ہر قسم کے کباڑ کا ڈھیر لگاتی چلی جارہی تھیں اور پھر جب وہ اپنی آہوں کے ذریعے اس چیز کا اظہار کرنے لگیں جو کہ وہ اپنے آنسوؤں سے نہ کرسکتے تھیں تو مردوں کا پیمانہ، صبرلبریز ہوگیا کیونکہ آج تک ایسا ہنگامہ ایک ٹھنڈے بدھ واری گوشت کے ٹکڑے، ایک ڈوب جانے والے بے نام و نشان آدمی او رایک لاوارث لاش کے اُوپر برپا نہیں ہوا تھا۔ عورتوں میں سے ایک نے جذباتی انداز میں اردگرد سے لاپرواہ ہوکر جب مردہ شخص کے چہرے پر سے رومال ہٹایا تو مرد حضرات بھی دم بخودرہ گئے۔

وہ’’ایستیبان‘‘ تھا۔ اس کی پہچان کے لئے اب ان کے لئے ضروری نہیں رہا تھا کہ وہ اس نام کو دہرائیں۔ اگر انہیں اس کانام سروالٹرریلے بتایا جاتا تب وہ اس کے گرینگولہجے، کندھوں پر موجود میکاؤ(طوطے) اور اس کی آدم خوروں کو مارنے والی پرانی وضع کی بندوق سے متاثر تو ضرور ہو سکتے تھے لیکن’’ایستیبان‘‘ تو دنیا میں صرف ایک ہی ہوسکتا تھا او روہ یہی تھا۔ جو ایک سپرم دھیل کی طرح وہاں پھیلا پڑا تھا جس کے پاؤں میں جوتے نہ تھے، جس نے کسی بچے کے سائز کی پتلون چڑھا رکھی تھی جس کے پتھر کی طرح سخت ناخنوں کو کسی چاقوسے ابھی کاٹاجانا تھا۔۔۔ وہ اس کے چہرے سے رومال ہٹا کر صرف یہ دیکھ رہے تھے کہ وہ شرمندہ تھا اس لئے کہ اس میں اس کا کوئی قصور نہ تھا کہ وہ اتنا لمبا چوڑا، اتنا بھاری اور اتنا خوبصورت تھا او راگر یہ وہ یہ جانتا ہوتا کہ یہ سب کچھ پیش آئے گا تو اس نے ڈوبنے کے لئے کوئی اور دورافتادہ جگہ تلاش کی ہوتی(یقین کیجئے۔ میں نے اپنی گردن کے گرد کسی قدیم ہسپانوی جہاز کا لنگر باندھ لیا ہوتا او رکسی چٹان پر سے ایسے شخص کی طرح چھلانگ لگادی ہوتی جو لوگوں کو اس بدھ والے دن کے مردہ جسم سے پریشان نہ کرنا چاہتا ہو۔ جیسے کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ اس جیسے ٹھنڈے گوشت کے گندے ٹکڑے سے دوسرے لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔ ٹھنڈے گوشت کا گندا ٹکڑا جس کا کہ میرے لئے بھی کوئی مصرف نہیں رہا۔)۔

اس کے چہرے پر اتنا اعتماد تھا کہ بہت زیادہ بے اعتماد لوگ بھی خوفزدہ ہوکر طویل سمندر راتوں کی تلخی کو محسوس کرتے ہوئے جان گئے تھے کہ اب ان کی عورتیں ان کی بجائے ڈوب جانے والے آدمیوں کے خواب دیکھا کریں گی۔ وہ بھی اور دوسرے بھی، جو کہ ان سے زیادہ مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ ایستیبان کے خلوص سے متاثر ہوکر اپنی ہڈیوں کے گودے کی گہرائی تک کپکپااٹھے۔

تو اس طرح وہ سب اس متروک شدہ ڈوب جانے والے آدمی کے شاندار جنازے کے انتظامات کرنے کے قابل ہوئے۔ کچھ عورتیں جو دوسرے قریبی گاؤں سے پھول لینے کے لئے گئی تھیں جب وہ لوٹیں تو ان کے ساتھ او ربہت سی عورتیں بھی تھیں جنہوں نے اس واقعہ کا جو کہ انہیں سنایا گیا تھا یقین نہیں کیا تھا اور جب انہوں نے اس مردہ شخص کو اپنی آنکھیں سے دیکھ لیا تو وہ مزید پھول لینے کے لئے واپس گئیں۔۔۔ او روہ مزید اور پھر مزید پھول لاتی چلی گئیں حتیٰ کہ وہاں اتنے پھول او راتنے لوگ جمع ہوگئے تھے کہ چلنا پھرنا مشکل ہوگیا۔ آخری لمحے میں اُسے ایک لاوارث کی طرح اپنے پانیوں کے سپرد کرتے ہوئے انہوں نے دکھ محسوس کیا اور تبھی انہوں نے اچھے لوگوں میں سے ایک باپ او رایک ماں کو چنا، پھر خالائیں، چچا اور بھائی بہن چنے گئے تاکہ گاؤں کے تمام لوگ اس کے حوالے سے اس کے قریبی رشتہ دار کہلائیں۔ 

کچھ ملاح جنہوں نے کہ کسی کے رونے کی آواز سنی وہ اس طرف گئے تو انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا، جس نے اپنے آپ کو بڑے مستول سے باندھ رکھا تھا اور وہ سائرن کی پرانی حکایات دہرارہاتھا۔ جب وہ چٹان کے ڈھلوانی راستے پر اسے اپنے کندھوں پر اٹھاکر لے جانے کی کوشش کررہے تھے، تب انہیں پہلی بار اس ڈوب جانے والے آدمی کی خوبصورتی اور شان وشوکت کے مقابلے میں اپنی گلیوں کے اجاڑپن، صحنوں کی بے کیفی او راپنے خوابوں کے بنجر ہونے کا احساس ہوا۔ انہوں نے اسے سمندر کے سپرد کرنے کے لئے لنگر کو استعمال نہ کیا تاکہ اگر وہ چاہے تو واپس آسکے خواہ کسی بھی وقت اس کی یہ خواہش پوری ہو اور انہوں نے صدیوں کے سے قلیل عرصے کے لئے اپنے سانس روک کر اس کے جسم کو اتھاہ گہرائیوں کے سپرد ہوتے دیکھا۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر یہ محسوس کرنے کی کوشش نہیں کی کہ وہ سب یہاں موجود نہیں تھے اور شاید کبھی بھی نہ ہوں گے، لیکن وہ اتنا ضرور جانتے تھے کہ اس لمحے کے بعد سب کچھ بہت مختلف ہوجائے گا یعنی ان کے گھروں کے دروازے فراخ ہوں گے چھتیں اُونچی ہوں گی اور فرش بھی مضبوط ہوں گے تاکہ ایستیبان کی روح چوکھٹوں سے ٹکرائے بغیر ہر جگہ گھوم پھر سکے۔ 

اسی لئے مستقبل میں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکے گا کہ آخر کار بڑے حبثے والا گاؤدی مرگیا ہے، احمق خوبصورت آدمی مرچکا ہے۔ کیونکہ اب وہ ایستیبان کی روح کو زندہ وجاوید بنانے کے لئے اپنے گھروں کے ماتھوں کو خوبصورت رنگوں سے مزین کرنے جارہے تھے اوراب وہ اپنے گھروں کے پچھلے حصوں کی پتھریلی جگہ کی کھدائی کرکے بہار کے موسم میں چٹانوں کے اوپر پھول اُگانا چاہتے تھے تاکہ مستقبل میں سمندر سے گزرنے والے جہازوں کے مسافر صبح کے وقت فضا میں رچی پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو سونگھتے ہوئے بیدارہوں اور انہی جہازوں کے کپتان اپنی پوری وردی میں، اپنے اصطرلاب، اپنے سمت نما اور سینے پہ سجے تمغوں کے ساتھ اپنے پلیٹ فارم سے نیچے اُتر کر اُفق پر بہت دور تک نظر آنے والے گلابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختلف زبانوں میں کہہ اُٹھیں گے۔۔۔

’’ادھر دیکھو جہاں ہوا اتنی پرسکون ہے کہ لگتا ہے کہ وہ گہری نیند کے مزے لوٹ رہی ہے۔۔۔ وہاں دیکھو جہاں سورج اتنا روشن ہے کہ سورج مکھی کے پھول اس مخمصے میں مبتلا ہیں کہ اب وہ کس کس طرف اپنا چہرہ کریں۔۔۔ ہاں! اس طرف نگاہ کرو کہ وہ ایستیبان کا گاؤں ہے۔۔۔!!۔

(کتھا نگر، لاطینی امریکی کہانیاں،ترجمہ: محمود احمد قاضی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *