عورتوں کی چھاتیاں ، ثقافت اور اوریا مقبول جان

سالار کوکب

Hands with Pink Breast Cancer Awareness Ribbon


افریقی ملک مالی میں ایک امریکی انتھروپولوجسٹ نے جگہ جگہ عورتوں کو سرعام اپنے بچوں کو چھاتی سے دودھ پلاتے دیکھا ۔ ایک دن اس نے کچھ عورتوں کو بتایا کہ امریکی مرد عورتوں کی چھاتیوں میں بڑی کشش محسوس کرتے ہیں ۔ عورتوں نے ہنسنا شروع کر دیا ۔ ہنسی تھمی تو پوچھا تمہارا مطلب ہے کہ امریکی مرد بچوں کی طرح سوچتے ہیں ۔ یہ اس ثقافت کی بات ہے جہاں عورت کی چھاتی کے صرف ایک معنی ہیں کہ یہ بچوں کو دودھ پلانے کے لیے ہوتی ہے ۔

آپ یو ٹیوب پر جائیں آپ کو بہت سی وڈیوز ملیں گی جن میں افریقہ ، لاطینی امریکہ اور ایشیا کے کچھ قبیلوں کی عورتیں ننگی چھاتیوں کے ساتھ مختلف کام کرتی نظر آئینگی –ان وڈیوز میں موجود مردوں میں سے کوئی آپ کو نظر بچا کر عورتوں کی چھاتیوں کو دیکھتا ہوا نہیں ملے گا اور پھر آپ کو انہی وڈیوز پر رائے دینے والوں کی تعداد لاکھوں میں نظر آئے گی ۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان وڈیوز کو اکثر لوگ دوسری ثقافتوں کو جاننے کے لیے نہیں بلکہ عورتوں کی چھاتیوں کے نظارے کے لیے ہی دیکھتے ہیں ۔

کیا عورتوں کی چھاتیاں فطری طورپر مردوں کے لیے شہوت انگیز ہوتی ہیں ؟ اس کا جواب انتھروپلوجسٹ نفی میں دیتے ہیں ۔ ان کے نزدیک مختلف ثقافتوں میں چھاتیوں کے ثقافتی معنی مختلف ہیں ۔ ایک سروے میں ایک سو نوے ثقافتوں کا جائزہ لیا گیا پتہ چلا کہ صرف تیرہ ثقافتوں میں مردوں نے عورتوں کی چھاتیوں کو جنسی لحاظ سے پر کشش قرار دیا ۔ مالی ،جس کا ذکر اوپر ہوا ہے ، کے ان علاقوں میں جہاں بیرونی ثقافتوں کے اثرات ابھی تک نہیں پہنچے لوگوں کے لیے یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ چھاتیوں کا دودھ پلانے کے علاوہ کوئی اور کام ہو سکتا ہے یا مرد اور عورت عورت کی چھاتی سے جنسی لذت حاصل کر سکتے ہیں ، عورتیں گھر کے اندرعموما چھاتیوں کو ننگا رکھتی ہیں اور گھر سے باہر جہاں ضرورت محسوس ہو بچے کو دودھ پلانا شروع کر دیتی ہیں ۔ افریقہ میں روایتی طورپرعورت کی چھاتیوں کو فخر کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔

مغرب خصوصاً امریکہ میں صورتحال اس کے برعکس ہے ۔ عورت کی چھاتی بنیادی طور پر توجہ حاصل کرنے اور جنسی عمل کے دوران عورت اور مرد کو لذت فراہم کرنے والے عضو کی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔ امریکہ میں انیس سو پچاس کے لگ بھگ دو اہم تبدیلیاں آئیں ۔ وسیع پیمانے پر بوتل کے دودھ کی تشہیر کی گئی جس کے نتیجے میں بہت سی عورتوں کی چھاتیاں دودھ پلانے کی ذمہ داری سے آزاد ہوئیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکی سپاہیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے انہیں لاکھوں کی تعداد میں عورتوں کی تصویروں والے میگزین بھیجے گئے جن سے پوسٹر کاٹ کر وہ اپنے مورچوں اور بیرکوں کو سجا سکتے تھے۔ لمبی ٹانگوں اور نمایاں چھاتیوں والی عورتوں کے یہ خاکے اور تصویریں سپاہیوں کو یاد دلاتے تھے کہ وطن میں کوئی ان کا انتظار کر رہا ہے۔ اس دوران ان کی عورتیں کارخانوں اور دفتروں میں کام کر رہی تھیں ۔

جنگ سے واپسی پر جب سپاہیوں نے دفتروں ، کارخانوں اور کاروبار میں اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالیں تو ان کی عورتیں جان چکی تھیں کہ ان کے مردوں کو کس طرح کا جسم پسند ہے ؟اس وقت سے چھاتیاں امریکی عورت کے جسم کا ایک نمایاں حصّہ اور نسوانیت کا اظہار بن گئیں۔ چھوٹی چھاتیاں گھٹیا پن اور بیماری کی علامت بنیں اور بیماری کے علاج کے لیے کاسمیٹک سرجری کے ذریعے چھاتیوں کو خوبصورت اور بڑا بنانے کی صنعت نے فروغ پایا ۔ یوں ثقافت میں مردوں کی طرف سے متعارف کرائی گئی توقعات کو پورا کرنے کے لیے عورت اپنےجسم کی ملکیت کے باقی ماندہ دعوے سے بھی دست بردار ہو گئی ۔اپنی ثقافت کے یہی پہلو امریکہ نے سرمایہ دارنہ نظام سے جڑے دوسرے ملکوں کو برآمد کیے ۔ عورت کی چھاتی کیسی ہونی چاہئیے دنیا بھر میں اب اس کا معیار مغرب کی گارمنٹس ، میڈیکل ، پورن اور دوسری صنعتیں طے کرتی ہیں ۔

پاکستانی ثقافت اس علاقے کی قدیم ثقافت میں مسلم حکمرانوں کے ادوارسے لے کر اب تک ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں تشکیل پائی ہیں ۔ بالائی تن کو ننگا رکھنا یا اسے بہت کم حد تک ڈھانپنا یہاں کی ثقافت کا حصّہ رہا ہے ۔مسلمانوں کی آمد کے بعد عورتوں کی اکثریت نے جسم کا بالائی حصّہ بھی ڈھانپنا شروع کر دیا ۔ شہری متوسط طبقے اور محدود دیہاتی خاندانوں کے استثنیٰ کے ساتھ آج بھی عورتوں کی اکثریت سینے کو بہت زیادہ ڈ ھکے بغیرگھر ، کھیت ، اور دوسری جگہوں پر مختلف طرح کے کام سرانجام دیتی ہے ۔

تاہم کئی علاقوں خصوصا ًشہروں کی ثقافت میں کئی اہم تبدیلیاں آ رہی ہیں ۔ میڈیا اور دوسرے ذرائع سے امریکی ثقافت کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے نسوانی جسم کا امریکی تصور خواتین میں مقبول ہو رہا ہے ۔ نتیجتاً چھاتیوں سمیت جسم کی شکل عورتوں کی بنیادی پریشانیوں کا موضوع ہے – پاکستانی نوجوان انٹرنیٹ کے ذریعے نسوانی جسم کے امریکی معیار خصوصا پورن انڈسٹری کے متعارف کردہ معیار سے واقف ہو رہے ہیں عورت کی چھاتیوں کے متعلق ان کا امریکی نوعیت کی دلچسپی بڑھ رہی ہے جس کا اظہار مختلف ویب سائٹس پر ان کے کمنٹس خصوصا خاتون ٹی وی اینکرز پر ان کے تبصروں سے بھی ہوتا ہے ۔

مذہبی رہنما ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کی بہت بڑی تعداد تک رسائی حاصل کر چکے ہیں – ان میں سے کچھ مردوں کے سامنے دوسری دنیا کی عورتوں کا خاکہ رکھتے ہیں جو ایک مکمل جنسی کھلونا ہوں گی۔یوں نسوانی جسم کو اس کی جنسیت تک محدود کرتے ہوئے یہ مذہبی رہنما اس دنیا کی نا مکمل عورت سے اپنا جسم ڈھانپنے اور گھر کے اندر رہنے جیسی پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ جب عورت گھر سے نکلتی ہے تو اس کا جسم جدید اور مذہبی دونوں گروہوں کے جائزے کی زد میں ہوتا ہے ۔اس جسم میں سب سے نمایاں پرائیویٹ چیز چھاتی ہوتی ہے ۔ نیو لبرل پالیسیوں کے پیدا کردہ مسائل اورتعلیم اور دوسرے مقاصد عورت میں گھر سے باہر نکلنے کی خواہش پیدا کرتے ہیں لیکن مندرجہ بالا دونوں گروہ اس کے لیے گنجائش کو محدود کرتے ہیں ۔

ایک مصنف کا کہنا ہے کہ عورت کی چھاتی ایک سپنج کی طرح ہوتی ہے جو ماحولیاتی آلودگی سمیت دوسری بہت سی تبدیلیوں کا بہت زیادہ اثر لیتی ہے ۔ نتیجہ سامنے ہے ، پاکستان میں ہر سال چالیس ہزار عورتیں چھاتی کے کینسر کی وجہ سے مر رہی ہیں – کوئی اندازہ نہیں کہ ان میں سے کتنی عورتیں خوف سے باہر نکل کر اپنی ماں ، باپ یا خاوند کو وقت پر بتا سکتی ہیں کہ ان کی چھاتیوں میں کوئی غیر معمولی چیز ہو رہی ہے ۔ کتنی عورتوں کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جایا گیا ہوگا ۔ کتنی عورتیں علاج کا خرچہ برداشت کر سکتی ہوں گی ؟ کتنی غریب عورتیں کسی ایسے ہسپتال تک پہنچ سکی ہوں گی جہاں حکومت یا کوئی خیراتی ادارہ صرف علاج کا پچاس ہزار روپے ماہانہ خرچہ برداشت کرتا ہو۔ کتنی عورتوں کی چھاتیاں کاٹنی پڑیں ؟ ان میں سے کتنی تھیں جو چھاتی کی بحالی کا خرچہ برداشت کر سکی تھیں ؟

آنے والے دنوں میں چھاتی کے کینسر کی شرح بڑھے گی ۔ لیکن شرم اورخوف میں گھری ہوئی عورت نہ تو وقت پر اس کی علامات جان پائے گی اور نہ ہی بروقت ڈاکٹر تک پہنچ پائے گی۔ اگلا مرحلہ چھاتی کے کینسر کے علاج کو حکومتی ترجیحات میں شامل کرانا ہے۔ لیکن ایسا تب ہوگا جب عورت کا جسم اس کا اپنا ہو گا۔ اس کا کنٹرول کارپوریشن اور مذہبی راہنما کے ہاتھ میں نہیں ہو گا۔ جب ہم لفظ بریسٹ (چھاتی )کو جنس کے تصور سے آزاد کر سکیں گے ۔ جب اس موضوع پر کھل کر بات کرنا ممکن ہو گی اور جب اوریا مقبول جانوں کو عورت کی ہلتی ہوئی چھاتیوں میں اشتہا انگیزی محسوس نہیں ہو گی۔

10 Comments

  1. بہت اہم اور عمدہ مضمون

  2. you are sick!!!

  3. Muhammad Yamin says:

    حقائق سے اخذ کردہ ایک اہم مضمون.

  4. Himayat Ullah Dostain says:

    Impressive You have Explained Everything in Detail where majority of us are unaware about these facts

  5. Tariq mairaj says:

    Impressive

  6. shamless and so called mazhabee rehnumaoon. kuch to haqiqat pasand bano. kab tak yeh chaatiaan unhee khamooshi sy kat ti rahain gee.

  7. گندی سوچ گندی نظر کا طعنہ اور لبرل و سیکولر امریکہ و یورپ کی حقیقت
    چشم کشا حقائق پر ایک نظر

    پاکستان میں جب بھی شرم و حیا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی بات کی جاتی ہے تو لبرل و سیکولر لابی کی جانب سے بالعموم اعتراض نما طعنہ دیا جاتا ہے کہ مسئلہ شرم و حیا یا لباس کا نہیں، گندی نظر اور گندی سوچ کا ہے جو عورت کو دیکھتے ہی ابنارمل ہوجاتی ہے۔ اگلی ہی سانس میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اصلا یہ معاشرے کی جکڑبندی کی وجہ سے ہے، پابندیاں ختم ہوں گی، آزادانہ میل جول میں اضافہ ہوگا تو پیمانے بدلتے جائیں گے اور نظر کی ہوس کیا جنس کی کشش بھی ختم ہوتی چلی جائے گی۔ سوچا کہ کیوں نہ یورپ اور امریکہ و برطانیہ کے معاشروں کا جائزہ لیا جائے جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ لبرل ہیں، سیکولر ہیں، خواتین کا احترام ہے، بچوں کے حقوق ہیں، سیکس کی آزادی کیا، فراوانی ہے۔ اور کسی پابندی کے نہ ہونے کی وجہ سے سے گندی سوچ اور گندی نظر کا گزر کیا، وہاں تو آنکھ ایسی پاکباز ہوئی ہے کہ اسکرٹ کیا کسی کو بکنی میں بھی دیکھ لے تو بھی جذبات مشتعل نہیں ہوتے، جنس کی ارزانی سے وہاں کی نظر اور سوچ فرشتوں کو بھی شرمانے لگے ہیں۔ سوچا کہ کیوں اس جکڑبندی و تنگ نظری کا شکار رہا جائے، سائیڈ بدل کر کیوں نہ کسی این جی او کے ذریعے معاشرے کو بدلنے کی فرشتانہ جدوجہد کا ساتھ دیا جائے۔

    اور پھر سوچا کہ جائزے کے لیے جسارت یا اسلام جیسے اسلامی طبقے کے اخبارات سے رجوع نہ کیا جائے کہ اسلامی طبقے نے روایتی تنگ نظری اور مغرب سے نفرت کے جذبے سے مغلوب ہو کر کچھ غلط سلط ہی لکھا ہوگا، پھر سوچا کہ سیکولر لابی کے ہاں ڈان اور ٹربیون معتبر ہیں مگر خیال آیا کہ ہیں تو پاکستانی نا، کسی اندر سے چھپے اسلامسٹ نے ہی بازیگری نہ دکھائی ہو، اور بات اگر یورپ کی ہونی ہے تو پاکستانی ماخذ تو ویسے ہی ناقابل قبول ٹھہرے گا۔ بی بی سی برطانوی ادارہ ہے مگر امریکہ و یورپ میں اس کی ساکھ مسلم ہے، پاکستان میں بھی معتبر سمجھا جاتا ہے، مسلمانوں کے حوالے سے ڈنڈی اگرچہ مار لیتا ہے مگر اپنے بارے میں تو سچ ہی لکھتا ہے اور لکھے گا۔ تو آئیے بی بی سی پر آنے والی رپورٹس میں سے چند جھلکیاں ملاحظہ کرتے ہیں۔

    تو سب سے پہلے یورپ کا مجموعی ذکر؛ 2014 میں یورپی یونین کے بنیادی حقوق کے ادارے کے سروے نتائج کے مطابق یونین میں شامل ممالک کی تقریباً ایک تہائی خواتین 15 برس کی عمر سے جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار رہی ہیں۔ یہ تعداد چھ کروڑ 20 لاکھ کے لگ بھگ بنتی ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ یہ اس موضوع پر لیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا جائزہ ہے اور اس کے لیے 42 ہزار خواتین کے انٹرویو کیے گئے۔ رواروی میں آپ نے اعداد و شمار پڑھ لیے ہوں گے اور گزر رہے ہوں گے، مگر ذرا رکیے اور پھر پڑھیے گا کہ یہ کل آبادی کی ایک تہائی خواتین کی بات ہو رہی ہے، جی ہاں ایک تہائی، مبلغ 6 کروڑ 20 لاکھ۔ اور یہ وہاں ہو رہا ہے جہاں شراب شباب کباب سب ارزاں ہیں، اس کے باوجود بھی یہ ‘ فرشتہ صفت’ باز نہیں آئے۔ اور یہ پہلو بھی ذہن میں رہے کہ ایک تہائی تو وہ جو زبردستی نشانہ بنتی ہیں، باہمی رضامندی والے اعداد و شمار ابھی دستیاب نہیں ہیں 🙂
    رپورٹ کا لنک
    http://www.bbc.com/urdu/world/2014/03/140305_eu_women_violence_report_zs

    اور اب امریکہ پر ایک نظر؛ 2010 کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ایک منٹ کے دوران 25 لوگ جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس سروے کے نتائج کے مطابق 12 ماہ کے عرصے کے دوران 10 لاکھ عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آئے، 60 لاکھ سے زائد مرد اور خواتین کا تعاقب کیا گیا جبکہ 1 لاکھ 20 ہزار مرد و خواتین نے اپنے ہی ساتھی کی جانب سے جنسی زیادتی، جسمانی تشدد یا تعاقب کیے جانے کی شکایت کی۔ ایک اور سروے کے مطابق ہر 5 میں سے ایک عورت زندگی میں کبھی نہ کبھی جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔ ایک دوسرے سروے کے مطابق یونیورسٹی کی تعلیم دوران بھی ہر 5 میں سے ایک طالبہ جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ ایک بات دلچسپ ہے اور جس کا پاکستان کے تناظر میں شکوہ کیا جاتا ہے کہ خوف کے ماحول کی وجہ سے کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے مگر یہ بات امریکہ کی ہے اور رپورٹ کے مطابق اب بھی جنسی تشدد کے واقعات کو وہاں بہت کم رپورٹ کیا جاتا ہے۔ کالج اور یونیورسٹی میں جنسی تشدد کا شکار ہونے والی صرف 12 فیصد خواتین کا مقدمہ پولیس تک پہنچ پاتا ہے۔

    طرفہ تماشا یہ ہے کہ جس معاشرے کی اس حوالے سے مثال دی جاتی ہے کہ عورت کو کوئی نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا وہاں کی عورت کی مثال تو رپورٹس میں آ ہی گئی مگر ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر 7 میں سے 1 مرد بھی اپنے ساتھی کے ہاتھوں شدید نوعیت کے جنسی و جسمانی تشدد کا شکار ہوتا ہے۔ اور 25 فیصد مردوں کو تو 10 سال سے کم کی عمر میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
    رپورٹ کا لنک
    http://www.bbc.com/urdu/world/2011/12/111215_us_women_rape_tk

    فوج کو ہر جگہ ڈسپلنڈ ادارہ سمجھا جاتا ہے مگر اس کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ سنہ 2006 سے امریکی فوج میں جنسی جرائم میں 30 فیصد اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2003 میں ریٹائرڈ فوجی عورتوں سے انٹرویو پر مبنی سروے میں انکشاف کیا گیا کہ 500 میں سے کوئی 30 فیصد عورتوں کا دوران ملازمت ریپ ہوا۔ جی ریپ ہوا، رضامندی والا معاملہ تو الگ رہا۔ وزارتِ دفاع کے سال 2009 میں ہونے والے سروے کے مطابق فوج کے اندر ہونے والے جنسی زیادتی کے کوئی 90 فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔ جی یہ 90 فیصد واقعات رپورٹ نہ ہونے کی بات امریکہ سے متعلق ہے، پاکستان کی نہیں ۔
    رپورٹ کا لنک
    http://www.bbc.com/urdu/world/2010/02/100218_usmilitary_sex_mah

    اب برطانیہ کی صورتحال ملاحظہ کیجیے۔ 2009 میں برطانوی خیراتی ادارے چائلڈ لائن کے مطابق ان کے پاس ایسی شکایات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جن میں بچوں نے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ چائلڈ لائن کے مطابق 2004 سے 2009 کے درمیان موصول ہونے والی ایسی شکایات کی تعداد میں مردوں کی جانب سے بچوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کے مقابلے میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2008 میں 16 ہزار سے زائد بچوں نے ادارے کی ہیلپ لائن پر فون کیا، ان میں سے 2 ہزار 142 نے کسی خاتون کو اس عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا اور یہ تعداد سنہ 2004 کے مقابلے میں 132 فیصد زیادہ ہے۔ ملاحظہ کیجیے گا کہ ایسی آزادی ملی ہے کہ مرد ایک طرف خواتین بھی بچوں کو اپنی مشق ستم کا نشانہ بناتی ہیں۔ 2013 میں آکسفورڈ میں ایک جنسی سیکنڈل منظر عام پر آیا اور انکشاف ہوا کہ شہر میں سرگرم جنسی گروہ نے 16 برس میں کم از کم 273 لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا۔
    رپورٹ کا لنک
    http://www.bbc.com/urdu/world/2009/11/091109_child_abuse_women_zs

    ایک طعنہ یہاں یہ دیا جاتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ اس طرح کے واقعات کی مذمت میں ناکام ہے مگر صدر براک اوباما نے سٹینفورڈ یونیورسٹی میں نشے میں مدہوش طالبہ کا ریپ ہونے پر کہا کہ کیمپسز کے اندر کسی کو جنسی طور پر ہراساں کرنا دراصل انسانیت کی توہین ہے، اور امریکہ معاشرہ اب بھی جنسی زیادتی کی اتنی شدت سے مذمت نہیں کرتا جتنی کرنی چاہیے۔ وجہ اس کی ایک اور رپورٹ میں بیان کی گئی ہے۔ امریکی وزارتِ دفاع کے جنسی حملوں سے روک تھام کی شعبے کی ڈائریکٹر ڈاکٹر کے وائیٹ لی کا کہنا ہے کہ کسی بھی عورت کے لیے ریپ رپورٹ کرنا انسانی اور جذباتی سطح پر انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ مطلب انسانی و جذباتی سطح یکساں ہوتی ہے اور اس میں امریکہ و پاکستان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بنیادی طور یہ بھی شرم والا معاملہ ہی ہے جسے سیکولر لابی کی طرف سے طعن و تشنیع میں اڑا دیا جاتا ہے۔

    امریکہ و برطانیہ اور یورپ کی تصویر تو سامنے آ گئی ہے، اس پر مزید کیا کہا جائے کہ الفاظ بھی شرما رہے ہیں، یہ اور بات ہے کہ دیسی لبرلز کے ذہنوں کو کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی اور شرم تم کو مگر نہیں آتی کا مصرع بھی ان کے سامنے اپنے معنی کھو چکا ہے۔ جب ہماری طرف سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ اصلا سیکولر لابی یورپی طرز کا معاشرہ چاہتی ہے جس میں عورت تک پہنچنے کی آزادی ہو، اسے عورت کی آزادی نہیں بلکہ اس کے جسم تک پہنچنے کی آزادی مطلوب ہے تو ان رپورٹس کی روشنی میں آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کہنا کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہے۔ اور ہاں، اب آپ مشورہ دیجیے کہ کسی این جی او کا حصہ بن کر اس جدوجہد کا حصہ بنا جائے کہ پاکستانی معاشرہ بھی یورپ کی نظیر پیش کرنے لگے یا تنگ نظری کا طعنہ قبول کرکے معاشرے کو اسلامی تعلیمات کے مطابق شرم و حیا کا گہوارہ بنانے کی جدوجہد جاری رکھی جائے؟

  8. Gulzar Hussain Shahid Baig says:

    Yes people think so but it is reality breasts are to feed babies.

  9. مسعودالرحمن says:

    سیکولر ھرپھر کے اسلام کو نشانه بنانے کے بھانے تلاش کرتے ھیں،یه بھی ایسی ھی کوشش ھے…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *