میں شام اور عراق پر امریکی بمباری کا بدلہ لے رہا ہوں ۔ عمر متین

6bce8492e91bc42f815fb71d04882d4b
ایف بی آئی نے عمر متین کی پولیس (911پر) سے ہونے والی گفتگو کا متن جاری کیا ہے جو اس نے کلب پر حملے کے بعد تقریباً 2.35 پر پولیس سے کی۔اس حملے میں 49افراد ہلاک اور 53 زخمی ہوئے تھے۔

ایف بی آئی اور ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس نے ابتداء میں اس گفتگو کے چند حصے ہی جاری کیے تھے جس پر ریپبلکن پارٹی اور کانگریس کے سپیکر پال ریان نے سخت تنقید کی اور کہا کہ حکومت اس مسئلے کو بہت نرم انداز میں پیش کر رہی ہے جس کے بعد ایف بی آئی اور ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس نے گفتگو کا مکمل متن جاری کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس گورنمنٹ کی کوشش کی تھی کہ اس واقعے کو نرم سے نرم انداز میں پیش کیا جائے تاکہ مسلمانوں کے خلاف ردعمل میں شدت نہ پیدا ہو مگر ریپبلکن کے احتجاج کے بعد وہ تمام حقائق کو سامنے لےآئی ہے۔

ایف بی آئی اور ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کا کہنا ہے کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ قاتل کی نفرت انگیز گفتگو ظاہر کرکے دہشت گرد تنظیموں کو پراپیگنڈے کا موقع دیں۔ 

پولیس سے ہونے والی گفتگو میں عمر متین نے پہلے اللہ کی تعریف کی پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر دورود بھیجااور کہا میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں میں اس وقت اورلنیڈو میں ہوں اور میں لوگوں کو شوٹ کر رہا ہوں۔ 911 پر موجود شخص نے متین سے پوچھا کہ تم اس وقت اورلینڈو میں کہاں ہو جس پر اس نے فون ہولڈ کر دیا۔

911 پر کال کرنے کے دس منٹ بعد پولیس کی طرف سے مذاکرات کی کال موصول ہوئی جس میں اس نے کہا کہ میں اسلام کا سپاہی ہو ں اور امریکہ کو شام اور عراق پر بمباری بند کرنی چاہیے ۔

متین نے کہا کہ امریکہ کی ان دو ملکوں پر حملے کی وجہ سے میں اس وقت یہاں ہوں۔ اس نے پولیس کو یہ بھی کہا کہ کلب کے باہر ایک کار میں بم پڑا ہے اور میں اسے کسی بھی وقت اڑا سکتا ہوں۔اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے خود کش حملہ آور کی جیکٹ پہن رکھی ہے جسے وہ کسی بھی وقت اڑا سکتا ہے۔

متین نے اپنے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگلے چند دنوں میں آپ اس طرح کے کئی حملے دیکھیں گے ۔

لیکن متین کا یہ دعویٰ کہ باہر ایک کار میں بم ہے جو میں ریموٹ کنٹرول سے اڑا سکتا ہوں اور خود کش جیکٹ پہن رکھی ہے غلط ثابت ہوا۔ ایک دوکاندار نے پولیس کو بتایا کہ متین میرے پاس ایک بھاری بھرکم ملٹری جیکٹ( جس پر مختلف ہتھیار لٹکائے جاتے ہیں) خریدنے آیا تھا جسے میں نے اسے دینے سے انکار کر دیا تھا۔

متین نے پولیس کے مذاکرات کاروں سے تین دفعہ گفتگو کی اور ہر دفعہ یہ گفتگو چند منٹ کی ہوتی۔پہلی کال 2.48پر ہوئی جو نو منٹ جاری رہی۔ دوسری کال 3.03 بجے کی جوسولہ منٹ جاری رہی اور آخری کال 3.24 پر کی جو تین منٹ تک جاری رہی۔آخری کال کے بعد پولیس نے کلب کے اندر متین تک پہنچنے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی ۔

آخر کار 4.21 پر پولیس نے کلب کے ڈریسنگ روم میں موجود کھڑکی میں لگے ایک ائیر کنڈیشنر کو باہر نکالا اور متین کی طرف سے فائرنگ کے تین گھنٹوں بعد آہستہ آہستہ لوگوں کو بحفاظت باہر نکالنا شروع کیا۔ متین نے لوگوں کو یہ کہہ کر یرغمال بنائے رکھا کہ وہ کسی بھی وقت خود کش جیکٹ کو پھاڑ سکتا ہے ۔5.02 پر پولیس اور سپیشل فورسز نے کلب پر باہر سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک مخصوص آرمرڈ کار کو کلب کی عمارت سے ٹکرایا ۔ دس منٹ بعد پتہ چلا کہ پولیس اور عمر متین کے درمیان فائرنگ ہو رہی ہے اور 5.15 پر عمر متین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

متین نے کلب کے اندر پہلا فائر 2.08پر شرو ع کیا اور اگلے تین گھنٹے تک وہ وقفے وقفے سے فائرنگ کرتا رہا ۔ ایف بی آئی کے مطابق متین کے پاس اے آر 15 طرز کی گن تھی ۔ یہ ایک بڑی ایم سی سائر سیمی آٹو میٹک رائفل ہے جو سپیشل فورسز کے زیر استعمال ہے اورایک تجربہ کار شوٹر اس سے ایک منٹ میں پچاس راؤنڈ فائر کرتا ہے۔فائرنگ کے دوران متین کے پاس ایک گلاک 17 ، نائن ایم ایم کا سیمی آٹو میٹک پستول بھی تھا۔

ڈیلی میل آن لائن 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *