موت سے لڑائی۔ موپساں کی ایک کہانی سے ماخوذ

سبطِ حسن

fight
محلے کی چھوٹی چھوٹی گلیوں کے درمیان، ایک گھر کے دورازے کے سامنے بہت بڑا چبوترہ تھا۔ محلے کے اکثر بزرگ اس چبوترے پر اپنا سارا دن گزارتے تھے۔ وہ ناشتہ کرکے، چبوترے کی طرف چلے آتے۔ پہلے اخبار پڑھتے یا ان میں سے کوئی بلند آواز میں چٹ پٹی خبر سناتا۔ خبروں پر خوب گرما گرم بحث ہوتی۔ کچھ بزرگ شطرنج کھیلنے میں مصروف ہوجاتے، اور کچھ آنکھیں بند کئے سستا لیتے۔ سب بزرگ اپنی ذمے داریوں کو نبھاچکے تھے۔ اب ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ وقت گزارنا تھا۔ کچھ تو بڑے حوصلے کے ساتھ ہر وقت مر نے کے لئے تیار بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنے کفن سلوارکھے تھے اور قبروں کو کھدوا کرتیار رکھ چھوڑا تھا۔ کچھ اگرچہ ظاہر تو نہ کرتے تھے، البتہ جی ہی جی میں مرنے سے بہت ڈرتے تھے۔ انہیں یہ خیال کہ وہ ٹھنڈی مٹی میں دبے ہوئے ہیں، ہرگز قبول نہ تھا۔ کچھ کا خیال تھا کہ انہیں لٹھے میں لپیٹ کر دفن کرنے کی بجائے لکڑی کے کفن میں دفن کیا جائے۔ ان بزرگوں میں ایک میاں لطیف تھا۔پرانے وقتوں میں، جب بادشاہوں کی حکومتیں ہوا کرتی تھیں، ان کے بزرگوں کو شہر کے اردگرد سیکڑوں ایکڑزمین الاٹ ہوئی تھی۔ آہستہ آہستہ شہر بڑھتا گیا۔ میاں لطیف کے بزرگوں نے زمینیں بیچنا شروع کردیں۔ شہر بڑھتا گیا اور میاں لطیف کے خاندان کی زمینیں سکڑتی گئیں۔ مگر انہوں نے پیسے کو ضائع نہ ہونے دیا۔ کروڑوں کی شہری جائیدادیں خرید لیں۔ میاں لطیف کی زندگی میں دریا کے پارسو‘ ڈیڑھ سوایکڑ کے باغ کے علاوہ ساری زمینیں بک گئیں۔ میاں لطیف نے ساری زندگی بڑی آسائش سے گزاری۔ لاکھوں روپے کا ماہانہ کرایہ آتا تھا۔ شہر میں ان کی شاندار حویلی تھی جو اس چبوترے کے کچھ ہی فاصلے پر تھی۔ انہوں نے شہر کی نئی بستی میں ایک بڑا بنگلہ بنایا۔ بچوں کی پیدائش، جوان ہونے اور ان کے کام سنبھالنے تک وہ اسی بنگلے میں رہے۔ بعد میں واپس اپنے بچپن کے دوستوں کے پاس حویلی میں چلے آئے۔

میاں لطیف، چبوترے کے تمام بزرگوں میں سب سے زیادہ امیر تھے۔ وہ صبح بڑے اہتمام سے تیار ہوتے۔ گرمیوں میں کلف لگا سفید کرتا پائجامہ پہنتے، پاؤں میں انگوٹھے والی چبلی ہوتی۔سردیوں میں سوٹ پہنتے، گلے میں رنگین سکارف ہوتا۔ ان کے بوٹوں کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ ہمیشہ چمکتے رہتے ہیں۔ جب وہ چبوترے پر آتے تو ان کے لئے ایک آرام وہ کرسی بچھادی جاتی۔ باقی بزرگ، اگرچہ ان کے دوست تھے مگر انہوں نے اپنی زندگیاں بس روزی روٹی پوری کرنے میں نبھادی تھیں۔ ایک بزرگ ساری زندگی نانبائی کاکام کرتے رہے۔ ان کے بنائے کلچوں کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ منہ میں رکھتے ہی گل جاتے تھے۔ تازہ کلچوں کی خوشبو تو کمال تھی۔ ان کو لینے کے لئے صبح سویرے ہی لوگوں کی لائنیں لگ جاتی تھیں۔ اتنی بکری کے باوجود بھی، انہوں نے محدود تعداد سے زیادہ کلچوں کے لئے اہتمام نہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ لالچ کرنے سے روزی سے برکت اڑ جاتی ہے۔ اب، ان کے بیٹے یہی کام کرتے تھے۔ وہ اپنے بیٹوں کے کام سے مطمئن نہ تھے۔ ان کا خیال تھا کہ لذت اور سلیقے کو برقرار رکھنے کی بجائے، انہوں نے زیادہ سے زیادہ کمانے کو اپنا مقصد بنالیا ہے۔ کبھی کبھار، جب میاں لطیف کے گھر سے سالن آتا تو سب دوست، اپنے نانبائی دوست سے فرمائش کرتے تو وہ خود دکان پر جاکر نان لگاتے۔ نان لگاتے وقت مسلسل بولتے رہتے:
’’
خمیر صحیح نہیں۔۔۔ دودھ کم ڈالا ہے۔۔۔ سوئی گیس کم کرو۔۔۔‘‘
وہ موٹے شیشوں کی عینک پہنے، بڑی استادانہ مہارت سے نان لگاتے۔

بزرگوں میں سے ایک وکیل تھے۔ وہ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ وکالت کرتے رہے۔ چبوترے پر سب سے زیادہ وہی بولتے تھے۔ ہر معاملے کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں پر نئے نئے نکتے اٹھاتے۔ اگر ان کی بات پر مناسب غور نہ کیا جاتا تو وہ غصے میں آجاتے۔ کبھی کبھار اسی گرما گرمی میں وہ روٹھ کر چبوترے سے اٹھ بھی جاتے۔ سب، ان کی باتوں پر ہنستے مگر دوپہر کے بعد کی بیٹھک سے پہلے، سب بزرگ چبوترے پر آنے سے پہلے ، ان کے گھر جاتے۔ وہ پہلے ہی سے چبوترے پر آنے کے لئے تیار ملتے۔ ان کے گھر بزرگوں کا جانا ایک روٹھے دوست کو منانے کی ایک خاموش رسم تھی۔ اس پر کوئی بات نہ ہوتی تھی۔ دیگر بزرگوں میں ایک، دکانداری کرتے رہے تھے اورایک سنار تھے۔
ایک دن اخبار میں بڑھاپے پر ایک مضمون چھپا۔ اس مضمون میں بزرگوں کو تندرست رہنے اورلمبی عمر پانے کے سلیقے بتائے گئے تھے۔ میاں لطیف نے ایک دوسرے بزرگ کے بلند آواز میں پڑھنے اورسننے پراکتفانہ کیا۔ وہ دوپہر کو سونے کے لئے جب گھر کے لئے اٹھے تو اس مضمون کو بھی ساتھ لے گئے۔ انہوں نے سونے سے پہلے اپنی پڑھنے والی عینک کو کپڑے سے خوب ملا اور پھر مضمون کو بڑے غور سے پڑھا۔ مضمون میں خوراک، چہل قدمی، باقاعدہ طبی معائنے کے ساتھ ساتھ یہ مشورہ بھی دیا گیا تھا کہ سال میں خاص طور پر گرمیوں میں ایک دو ماہ کے لئے کسی سرد مقام پر رہنا چاہیے۔
اس وقت مئی کا مہینہ تھا۔ میاں لطیف نے فوراً، دل ہی دل میں کسی پہاڑی مقام پر جانے کا ارادہ کرلیا۔ مگر وہ اس کو ظاہر کرنے میں ہچکچارہے تھے۔ وہ چبوترے پر آتے تو اِدھر اُدھر کی بات کو کھینچ کر پہاڑی علاقوں اور ان کی سیر کی طرف لے آتے۔ جن بزرگوں کو سانس یا دل کا عارضہ تھا، وہ تو اس گفتگو میں حصہ ہی نہ لیتے۔ کچھ دنوں کی کوشش کے بعد میاں لطیف نے فیصلہ کیا کہ وہ جھوٹ موٹ کی کہانی گھڑ کر کسی دوسرے شہر جانے کا ارادہ ظاہر کریں گے مگر حقیقت میں کسی پہاڑی مقام کی طرف چلے جائیں گے۔
یہی ہوا۔ میاں لطیف نے کہانی گھڑی کہ وہ اپنی بیٹی کو ملنے چندماہ کے لئے کسی دوسرے شہر جارہے ہیں۔ سب بزرگوں نے، میاں لطیف کے سامنے یہی ظاہر کیا کہ وہ اس کی بات پر شک نہیں کررہے۔ بلکہ اصرار کیا کہ اسے اپنی بیٹی اور نواسے نواسیوں کو ملنے ضرور جانا چاہیے۔ بعد میں، جب میاں لطیف سفر پر روانہ ہوگئے تو سب نے ایک زبان ہوکر کہا کہ میاں لطیف سراسرجھوٹ بولتا ہے۔۔۔ اصل میں وہ کسی پہاڑی مقام کی سیر پر گیا ہے۔
میاں لطیف جس پہاڑی سرد مقام پر گئے، وہ چھوٹا ساقصبہ تھا۔ اس میں ایک نالے کے کنارے، ایک خوبصورت ہوٹل میں انہوں نے رہنا شروع کردیا۔ کچھ دن وہ اپنے چبوترے والے دوستوں کے لئے خاصے اداس رہے مگر یہاں موسم کی خنکی اورماحول انہیں بہت موافق آیا۔ وہ ہر روز لمبی سیر بھی کرنے لگے۔ انہیں بھوک بھی اچھی لگتی۔ پانی تو ایسا میٹھا اورلذیذ لگا کہ سارا دن اسے پیتے اور تعریفیں کرتے رہتے۔
ایک دن شام کو ہوٹل کے صحن میں بیٹھے، میاں لطیف، اوپر پہاڑوں پر اُگے لمبے لمبے درختوں کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ ان پہاڑوں سے بہت سی قیمتی جڑی بوٹیاں بھی ملتی ہیں۔ اسی بات سے انہیں اخبار کے مضمون میں دی صلاح کا خیال آیا کہ انہیں اپنا باقاعدہ طبی معائنہ کروانا چاہئے۔ انہوں نے ہوٹل کے مینیجر کو بلوایا اور پوچھا کہ کیا اس قصبے میں کوئی اچھا ڈاکٹر ہے۔ مینیجر نے ایک نوجوان ڈاکٹر کے بارے میں بتایا جو باہر سے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرکے آیا تھا۔
اگلے روز ڈاکٹر، میاں لطیف کے پاس کھڑا تھا۔ انہوں نے ڈاکٹر کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ڈاکٹر سمجھ رہا تھا کہ ابھی میاں لطیف کسی بیماری کا تذکرہ کریں گے۔ وہ انہیں دیکھے گا اوردوا تجویز کرکے چلتا بنے گا۔ مگر میاں لطیف نے اپنی بات اسی طرح شروع کی

’’بیٹے، کیا میری صحت اچھی ہے۔۔۔ میں اب چھیاسی کا ہو چلا ہوں۔۔۔ اپنی عمر کے حساب سے میری صحت بہت اچھی ہے۔۔۔ مجھے اب تک کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں۔۔۔ یہاں کا پانی اور موسم مجھے بہت موافق لگا ہے۔۔۔ اس سے مجھے لگتا ہے، میری صحت کو اور بھی فائدہ ملے گا۔۔۔ آپ صرف ہفتے میں ایک بار آنے کی زحمت کریں۔ آپ نے مجھے ان باتوں کے بارے میں بتانا ہے۔۔۔’’اگر زحمت نہ ہو تو آپ مجھے اس قصبے میں تمام بزرگوں کی ایک فہرست بناکردیں، جو اسّی سال سے اوپر ہیں۔ ان کی موجودہ جسمانی صحت، ذہنی کیفیت کے بارے میں تفصیل چاہیے۔ ساتھ یہ بھی کہ وہ اپنی زندگی میں کون سا کام کرتے رہے ہیں؟۔۔۔ ان کی عادات کیا رہیں؟ اگر کوئی بزرگ فوت ہوجائے تو اس کی اطلاع دیں اور اس کی موت کی وجہ بھی بتائیں۔۔۔‘‘
ڈاکٹر پہلے تو ہچکچایا مگر بزرگی کا احترام کرتے ہوئے، میاں لطیف کوان کو کہنے کے مطابق اطلاعات دینے پر راضی ہوگیا۔ میاں لطیف اس پر بہت خوش ہوئے اورکہنے لگے:
’’
بیٹا، میں آپ کے تعاون کے لئے شکر گزار ہوں۔۔۔ امید ہے ہماری دوستی خوب نبھے گی۔۔۔!‘‘
میاں لطیف کو مرنے سے بہت خوف آتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہیں۔ اس کے لئے وہ کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے، غرض ہر معاملے میں احتیاط کرتے تھے۔ وہ کوئی بھی کھانا اس لئے نہیں کھاتے تھے کہ وہ انہیں اچھا لگتا تھا یا انہیں اس کے کھانے میں مزا آتا تھا۔ بلکہ اس لئے کھاتے تھے کہ اس سے ان کا پیٹ ٹھیک رہے۔ جسم میں طاقت آئے۔ اگر کوئی مزیدار کھانا پکاہوتا، اورکوئی اسے کھانے پر اصرار کرتا تو وہ بلا جھجک کہتے
’’
میرے لئے میری صحت سب سے عزیز ہے۔۔۔ ایک پل کے چسکے کے لئے میں اپنی صحت نہیں برباد کرسکتا۔۔۔‘‘

میاں لطیف، اپنے جسم کو ایک خوبصورت گلدان کی طرح سمجھتے تھے۔ ایسا گلدان جوان کی ملکیت ہو اور اسے شوق سے خریدا گیا ہو۔ ان کی ہر وقت خواہش رہتی کہ وہ اس گلدان کو صاف ستھرا رکھیں، اس پر جمی مٹی کو ہر وقت صاف کرتے رہیں۔ یہاں تک کہ اس کے اندر بھی ذرا برابر مٹی نہ جمنے پائے۔ اس کے اوپر بنے نقش ونگار اپنی اصلی حالت میں رہیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے جسم کے لئے بھی ایسے الفاظ بولتے تھے، جن سے ملکیت کا احساس اجاگر ہوتا تھا، جیسے:’’ میرا جسم اگر چھیاسی برس میں ٹھیک رہا ہے تو آئندہ بیس تیس برسوں میں بھی اسے کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔‘‘ جب وہ ایسی بات کرتے تو’’میرا‘‘،’’میں‘‘ کو بڑا زور دے کر اورکھینچ کر ادا کرتے تھے۔ وہ اپنے جسم کے ہر عضو کے ساتھ’’میرا‘‘ لفظ شامل کرتے اور یہ تأثر دیتے کہ ان کا جسم باقی جسموں(انسانوں) سے نہ صرف الگ بلکہ انمول ہے۔ انہوں نے ساری زندگی روپے کی ریل پیل دیکھی تھی۔ زندگی میں مشکل وقت کم ہی آئے تھے۔ اس لئے وہ اپنے جسم سے باہر نکل ہی نہ پائے۔ انہوں نے دوسرے لوگوں جس میں ان کی بیوی اور بچے بھی شامل تھے، سے کبھی رشتہ بنایا ہی نہ تھا۔ ان میں اگر پیار کا احساس امڈتا تھا تو یہ صرف ان کے اپنے جسم سے تھا۔جب یہ پیار امڈتا تو پھر وہ خوب اپنی خاطریں کرتے۔ دوسروں کا ذکر اس طرح کرتے جیسے وہ ان کی ملکیت ہوں۔۔۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ گلدان کو اپنی ملکیت سمجھتے تھے۔۔۔ میری بیوی، میرے بچے، میرا ڈاکٹر وغیرہ وغیرہ۔۔۔!
کھانے کے معاملات کو خالصتاً طبی نقطۂ نظر سے حل کیا جاتا تھا۔ میاں لطیف کوئی پڑھے لکھے آدمی نہ تھے۔ انہوں نے سنی سنائی باتوں پر اپنی صحت کو ٹھیک رکھنے کا ایک نکتہ نظر بنارکھا تھا۔ ناشتے میں دہی نہیں کھانی چاہئے، اس سے بلغم پیدا ہوتی ہے۔ صبح سویرے پانی کے چار پانچ گلاس خالی پیٹ پینے چاہئیں، اس سے خون صاف رہتا ہے۔ پورے دن میں مکھن ایک چھوٹی چمچی سے زیادہ نہیں کھانا چاہیے۔ اگر وقت پر پاخانہ نہ آتا تو میاں لطیف پریشان ہوجاتے۔ وہ گرم پانی میں شہد ملاکر پیتے۔ اس رات نیم گرم دودھ میں اسپغول کا چھلکا ملا کر پیتے۔ چپاتی، دو پرت نہ ہوتی تو گھر میں قیامت برپا ہوجاتی۔۔۔ کھانے کے ساتھ سلاد ہونا لازم تھا۔
گوشت میں ہمیشہ سبزی ڈالی جاتی۔۔۔ ساتھ دال بھی پکتی۔۔۔ ہر دال میں مختلف قسم کا بگھار لگایا جاتا۔ ماش کی دال ہو یا ثابت مسور، ان پر ہینگ کا بگھار لگایا جاتا۔ مختصر یہ کہ میاں لطیف کے کھانے کی ایک ایک چیز کا انتخاب اور کھانے کا وقت طے تھا۔ ان کی بیوی کی ساری زندگی اسی ٹائم ٹیبل کو ہی نبھاتے گزری تھی۔

چند روز کے بعد قصبے کا ڈاکٹر، میاں لطیف سے ملنے آیا۔ اس کے پاس سترہ بزرگوں کی فہرست تھی جو اسّی سال سے اوپر عمروں کے تھے۔ میاں لطیف نے فہرست دیکھتے ہی اپنے اندر ایک جوش سا محسوس کیا۔ ایسا جوش جو ایک کھلاڑی میں کھیل سے پہلے پیدا ہوتا ہے۔ اسی جوش کی بدولت وہ کھیل میں پوری طاقت اور توجہ سے کھیلتا ہے اور پھر دوسرے کو ہرادیتا ہے۔ میاں لطیف کے دل میں یہ جوش پیدا ہوا کہ اب وہ ان سترہ بزرگوں کو اپنے سامنے مرتے دیکھیں گے۔۔۔ اور انہیں کچھ نہیں ہوگا۔ انہیں یہ خواہش ہرگز نہ تھی کہ وہ ان بزرگوں سے کوئی راہ ورسم پیدا کریں۔ وہ اپنے ڈاکٹر کے ذریعے ان بزرگوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ہر جمعرات کو جب ڈاکٹر آتا تو وہ ڈاکٹر کے ساتھ کھانا کھاتے۔ کھانے کے دوران وہ بزرگوں کے بارے میں سوالات کرتے:
’’
سناؤ ڈاکٹر‘‘ اس اکیاسی سالہ بوڑھے، کیا نام تھا اس کا، ہاں ہاں، شہاب الدین کا کیا حال ہے؟ پچھلی جمعرات تم نے بتایا تھا کہ اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہ تھی۔۔۔‘‘
ڈاکٹر انہیں بتاتا کہ اس نے اس کی غذا میں فلاں فلاں تبدیلی کی۔۔۔ فلاں دوادی۔۔۔ اب وہ بالکل ٹھیک ہے۔ میاں لطیف ان تمام باتوں کو بڑے غور سے سنتے اورپھر اسی طرح اپنی غذا میں بھی تبدیلی کرلیتے۔
ایک جمعرات کو ڈاکٹر آیا اورکہنے لگا


’’
جمشید انصاری کا انتقال ہوگیا۔۔۔‘‘
’’
کون سا جمشید انصاری۔۔۔‘‘؟ میاں لطیف نے پوچھا اور خود ہی فہرست نکال کر دیکھنے لگے اورکہا
’’
ہاں ہاں، تیرہ نمبر۔۔۔ پچاسی سال عمر تھی اس کی۔۔۔ کیا ہوا؟‘‘
’’
سردی لگ گئی تھی۔۔۔!‘‘
’’
یقیناًاس کی عمر زیادہ ہوگی۔۔۔ اس عمر میں سردی سے بچنے کا اہتمام تو کرنا چاہیے۔۔۔ شکر ہے میں اس کا خصوصی خیال رکھتا ہوں۔۔۔ اب تو میں روزانہ ایک دیسی انڈہ بھی کھارہا ہوں۔۔۔ بے چارہ جمشید انصاری۔۔۔!‘‘
کچھ دنوں کے بعد ڈاکٹر پھر آیا اور اس نے میاں لطیف کو بتایا’’اماں ریشم کا انتقال ہوگیا۔۔۔‘‘
میاں لطیف نے پھر بزرگوں کی فہرست نکالی اور اماں ریشم کا نمبر پڑھا:
’’
ہاں ہاں نونمبر، یہ تو دبلی پتلی خاتون تھی۔۔۔ اسے کوئی بیماری بھی نہ تھی۔۔۔ یہ کیونکر مر گئی۔۔۔؟‘‘
’’
اسے دو دن دست لگے اورپھر چل بسی۔۔۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔
’’
مگر اس عمر میں کھانے پینے کا خیال تو رکھنا چاہیے۔۔۔ یہ مجھ سے دو سال بڑی تھی۔۔۔‘‘
اماں ریشم کی وفات کے بعد میاں لطیف نے اپنے کھانے کے بارے میں خصوصی نگرانی شروع کردی۔ اس دن وہ ہوٹل کے باورچی خانے میں گئے اورانہوں نے صفائی ستھرائی کے بارے میں سب کو ڈانٹ پلائی۔
ایک روز کے بعد ڈاکٹر پھر آیا۔ کہنے لگا:
’’
ڈاکٹر الطاف انتقال کرگئے۔۔۔!‘‘

میاں لطیف کو ڈاکٹر الطاف کا نمبر یاد تھا۔ کہنے لگے
’’
وہ تو میری ہی عمر کے تھے۔۔۔ اورڈاکٹر تھے۔۔۔ انہیں کیا ہوا۔۔۔؟‘‘
’’
۔۔۔ کوئی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔۔۔ بس فوت ہوگئے۔۔۔ اچانک!‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔
’’
مگر وہ تو بالکل ٹھیک ٹھاک تھے۔۔۔ تم نے بتایا تھا کہ وہ اس عمر میں بھی صبح شام سیر کرتے تھے۔۔۔ ہر قسم کی غذا ہضم کرلیتے تھے۔۔۔ آخر کچھ تو غلطی کی ہوگی۔۔۔؟‘‘
’’
نہیں، ان کے بچے کہہ رہے تھے کہ بس رات کو ہر روز کی طرح سوئے تھے اورصبح جب وہ نہیں اٹھے تو جاکر دیکھا۔ وہ وفات پاچکے تھے۔۔۔!‘‘
میاں لطیف سخت خوفزدہ ہوگئے۔ بغیر وجہ کے مرجانا، انہیں اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ انہیں نے قدرے غصے میں کہا: ’’مگر، برخوردار، آخر کچھ تو وجہ ہوگی۔۔۔ تم کیسے ڈاکٹر ہو۔۔۔؟‘‘
’’
میرا خیال ہے کہ دل چلتے چلتے، ایک دم بند ہوگیا ہوگا۔۔۔ اور بس۔۔۔‘‘
’’
یہ کیا بات ہوئی ہے۔۔۔؟ ہوسکتا ہے کہ اس شام، اسے سردی لگ گئی ہو یا اس نے کوئی ایسا ویسا کھانا کھالیا ہو۔۔۔ اسے اندازہ ہی نہ ہوا ہواور اسی کے سبب رات کو اس کی موت ہوگئی ہو۔۔۔!‘‘ میاں لطیف نے کہا۔
میاں لطیف کچھ دیر چپ رہے اورسوچتے رہے۔ اس دوران وہ بار بار اپنی چھڑی فرش پر مارتے رہے۔ پھر کہنے لگے:
’’
اب جو بزرگ بچے ہیں، وہ تو ٹھیک ٹھاک ہیں ناں۔۔۔؟ اصل بات یہ ہے کہ کمزور شخص ہی پہلے جاتا ہے۔ جو آدمی تیس سال سے اوپر آجاتا ہے، وہ ساٹھ سال تک جی لیتا ہے۔ جو ساٹھ سال سے اوپر آجائے، وہ اسّی سال تک ٹھیک ٹھاک جی لیتا ہے۔ اورجو اسّی سال کی پختہ عمر تک پہنچ جائے، وہ سو سے کم نہیں جیتا۔۔۔ کیونکہ وہ سب سے سخت جان ہوتا ہے۔۔۔‘‘

ڈاکٹر نے میاں لطیف کی بات سنی اور خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا۔ اس کے دل میں، میاں لطیف کے لئے ہمدردی پیدا ہورہی تھی۔
میاں لطیف دو ماہ کے لئے سرد مقام پر آئے تھے مگر اپنی صحت میں بہتری کی وجہ سے انہوں نے اپنا قیام بڑھا دیا۔ تیسرے مہینے کے شروع میں ایک اور بزرگ کا انتقال ہوگیا۔ اسے پیشاب کی تکلیف ہوگئی تھی۔ پیشاب نہ آنے سے ان کے جسم میں تکلیف بڑھ گئی۔ ڈاکٹر نے پیشاب نکالنے کا بندوبست کردیا۔ طبیعت بہتر ہوگئی مگر دوروز میں ہی وہ چل بسے۔ میاں لطیف مرنے کی اس وجہ پر بہت ہنسے۔۔۔ وہ بار بار کہتے کہ بھلا، مرنے کی یہ کیا وجہ ہوئی۔۔۔ یقیناًوہ روزانہ، صبح نہار منہ پانی نہیں پیتے ہوں گے۔
تیسرے ماہ کے وسط میں ایک بزرگ عورت جو بزرگوں کی فہرست میں سب سے ضعیف تھیں اور چند ماہ میں ا نہوں نے سو سال کا ہوجانا تھا۔۔۔ انتقال کرگئیں۔ جب میاں لطیف نے ان کے انتقال کی وجہ پوچھی تو ڈاکٹر نے کہا:
’’
ان کی موت کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔۔۔‘‘
’’
یہ کیا بات ہوئی؟ تم ڈاکٹر ہو۔۔۔ تمہیں نہیں معلوم، تو پھر کس کو معلوم ہوگا۔۔۔؟‘‘ میاں لطیف نے کہا۔
’’
ڈاکٹر کیا، کسی کو بھی وجہ معلوم نہ ہوسکے گی۔۔۔‘‘
’’
ہوسکتا ہے، پھیپھڑوں یا جگر میں خرابی ہو۔۔۔ بیماری اندر ہی اندر چھپی ہو اور اچانک اس نے آلیا۔۔۔‘‘
’’
نہیں، ایسی کوئی بات نہ تھی۔۔۔ میں انہیں دیکھتا رہا ہوں۔۔۔ وہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھیں۔۔۔‘‘
’’
ہوسکتا ہے کہ اچانک فالج کا حملہ ہوگیا ہو۔۔۔‘‘
’’
نہیں ایسی بھی کوئی بات نہ تھی۔۔۔‘‘
میاں لطیف پریشان ہوگئے۔۔۔ وہ سوچ رہے تھے کہ وہ عورت جو سو سال کو چھونے والی تھی، اس لئے مر گئی، کیونکہ اسے مرنا ہی تھا۔ پھر پوچھنے لگے:
’’
اس کی عمر کیا تھی۔۔۔؟‘‘
’’
ننانوے سال اور گیارہ مہینے۔۔۔‘‘
’’
میری تو عمر ابھی چھیاسی سال ہے۔۔۔ وہ مجھ سے بہت بڑی تھی۔۔۔‘‘
میاں لطیف نے کہا۔

One Comment

  1. Rao Shafique Ahmad says:

    کہانی کی بنت نہائت کمزور ہے – موپساں سے اخذشدہ محض الزام ہی لگتا ہے –

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *