ریفرنڈم کا فیصلہ برطانیہ کے لئے تباہ کن سیاسی زلزلہ

asaf jilani

آصف جیلانی

چار مہینوں تک نہایت تند و تیز ، تلخ الزام تراشیوں اور سنگین خطرات کی پیشگوئیوں سے بھر پور مہم کے بعد آخر کار برطانیہ کے عوام نے ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنے کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔43 سال تک ، یورپ سے محبت اور نفرت کے ملے جلے رشتہ کے بعد طلاق کا یہ تاریخی فیصلہ بلا شبہ ایک تباہ کن سیاسی زلزلہ ہے جس کا ملبہ صاف کرتے کرتے برسوں لگ جائیں گے۔ طلاق کے معاملات طے کرنے میں بھی کئی برس درکار ہوں گے ۔

جیسے کہ عام خیال تھا کہ ریفرنڈم میں علیحدگی کا فیصلہ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے لئے سب سی زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے جنہوں نے یورپی یونین میں شمولیت کے حق میں مہم چلائی تھی ۔نتیجہ کے فورا بعد انہوں نے عوام کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے اپنے عہدہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ برطانیہ کے یورپی یونین کے اخراج کے معاملات طے کرنے کے لئے ایک مضبوط قیادت کی ضرورت ہے اور مذاکرات کی ذمہ داری ایک نئے وزیر اعظم کو سنبھالنی چاہئے اس لئے وہ چاہیں گے کہ اگلے اکتوبر تک نیا وزیر اعظم منتخب کر لیا جائے۔

اس کے علاوہ ڈیوڈ کیمرون کے سامنے اور کوئی راہ بھی نہیں تھی کیونکہ ریفرنڈم کی مہم کے دوران ان کی ٹوری پارٹی میں اس قدر پھوٹ پڑ چکی ہے کہ ایک شکست خوردہ وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کے لئے پارٹی کی قیادت مشکل اور نا ممکن ہو گئی ہے۔ ویسے بھی لندن کے سابق مئیر بورس جانسن اور وزیر انصاف مایکل گو ان کی جگہ لینے کے لئے بے قرار ہیں۔

پچھلے چالیس سال میں یورپی یونین میں شمولیت کے سوال پر برطانیہ میں یہ دوسرا ریفرنڈم تھا۔ 1973میں ریفرنڈم یورپ کی مشترکہ منڈی میں شمولیت کے بارے میں تھا جس میں معیشت سب سے بڑا مسئلہ تھا لیکن اس ریفرنڈم میں امیگریشن کا مسئلہ چھایا رہا جس کے پیچھے نسل پرستی واضح طور پر نظر آتی تھی۔ پچھلے ریفرنڈم کے وقت لیبر پارٹی کے قائدہیرلڈ ولسن وزیر اعظم تھے ۔ان کا سیاسی مستقبل داو پر نہیں تھا اور نہ حکمران لیبر پارٹی منقسم تھی جیسے کہ اس ریفرنڈم میں ڈیوڈ کیمرون کا سیاسی مستقبل داؤ پر تھا اور ان کی ٹوری پارٹی دو لخت تھی۔

ٹوری پارٹی کی طرح ریفرنڈم کی مہم میں ملک بھی بری طرح سے بٹ گیا ہے۔ ریفرنڈم میں 72فی صد ووٹروں نے ووٹ ڈالے جن میں سے ، ایک کروڑ 74لاکھ ووٹروں نے علیحدگی کے حق میں اور ایک
کروڑ 16لاکھ نے یورپی یونین میں شمولیت کی حمایت میں ووٹ ڈالے۔ایک طرف 52 فی صد اور دوسری طرف 48 فی صد ووٹ۔ لندن ، اسکاٹ لینڈ اور شمالی آیرلینڈ نے بھاری اکثریت سے شمولیت کے حق میں فیصلہ کیا لیکن ویلز اور انگلستان نے علیحدگی کی حمایت کی۔ مبصروں کو اس پر سخت تعجب ہوا ہے کہ برمنگھم اور برطانیہ کے شمال مشرقی شہروں میں جہاں محنت کشوں کی اکثریت ہے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا۔ ان شہروں میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد آباد ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ میں امیگریشن کے مسئلہ پر نسل پرستوں کے دلائلسے پاکستانی کافی متاثر نظرآتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے بے حد تعجب خیز بات ہے کہ خود پاکستانی اس ملک میں تارکین وطن کے طور پر آباد ہوئے ہیں ، یورپ سے برطانیہ آنے والوں سے انہیں کیا خطرہ؟

ریفرنڈم میں جیسے ہی علیحدگی کے حق میں بڑھتا ہوارجحان نمایاں ہوا ، سب سے پہلے پونڈ اسٹرلنگ نشانہ بنا اور اس کی قیمت میں دس فی صد کمی ہوئی ۔ مہم کے دوران اقتصادی ماہرین نے خبر دار کیا تھا کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے معیشت پر نہایت خطرناک نتائجبرآمد ہوں گے ۔ پونڈ جس تیزی سے گر ا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماہرین کے اندیشے صحیح تھے لیکن عوام کی اکثریت نے ماہرین کی رائے پر کان نہیں دھرا۔

ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ تو ہو گیا لیکن فی الفور علیحدگی ممکن نہیں ہوگی۔ اس مقصد کے لئے برطانوی حکومت کو یورپی یونین سے مذاکرات کرنے ہوں گے جس میں کم سے کم دو سال سے لے کر پانچ سال تک لگ سکتے ہیں۔ اس کے بعد یونین کے ۲۷ ملکوں سے الگ الگ تجارتی معاہدے کرنے ہوں گے ۔ اس میں کتنا وقت لگے گا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اس صورت حال کے پیش نظر مبصرین کی رائے ہے کہ ریفرنڈم کے اس فیصلہ کے ساتھ برطانیہ نے علیحدگی کے نامعلوم سمندر میں چھلانگ لگا دی ہے جس سے نکلنے میں کتنا وقت لگتا ہے یہ واضح نہیں۔ نسل پرست جماعت UKIPکے رہنما نایجل فراج نے ریفرنڈم کے فیصلہ کے دن کو برطانیہ کا یوم آزادی قرار دیا ہے لیکن علیحدگی کے مخالفین نے ریفرنڈم کے فیصلہ کو اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

بلا شبہ اس ریفرنڈم کے بعد برطانیہ متحد رہتا نظر نہیں آتا کیونکہ اسکاٹ لینڈ نے جو یورپ کا زبردست حامی ہے ، شمولیت کے حق میں یک آواز فیصلہ دیا ہے۔ علیحدگی کے فیصلہ کے بعد اسکاٹ لینڈ کی حکمران جماعت اسکاٹش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت نے صاف صاف کہا ہے کہ وہ اب آزادی کے لئے نئے ریفرنڈم کا مطالبہ کرے گی۔ ادھر شمالی آئر لینڈ کی قوم پرست جماعت شین فین نے بھی جمہوریہ آئرلینڈ سے دوبارہ اتحاد کے لئے ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے ۔ شین فین نصف صدی سے اتحاد کے لئے مسلح جدوجہد کرتی رہی ہے ۔ اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ کی علیحدگی کے بعد تنہا انگلستان ، اپنے آپ کونہ تو یونائیٹڈکنگڈم کہلاسکے گا اور نہ گریٹ برٹن۔

♦ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *