امجد صابریؔ ، اور ولایتِ عسکری

12695990_10206729873699704_2066619818_n

منیر سامیؔ۔ٹورنٹو

گزشتہ دنوں پاکستان کے ممتاز فنکار اور قوال امجدصابریؔ کے بہیمانہ قتل پر ایک طرف تو غم اور بے بسی کی لہریں پھیلیں، اور دوسری جانب حسب معمول مختلف آرا کا طوفان اٹھا۔ کوئی کہتا تھاکہ یہ ایم کیو ایم کا کام ہے، کوئی کہتاتھا کہ اس میں طالبان کا ہاتھ ہے، کسی نے یہ خبر بھی اڑائی کہ طالبان نے تو اس کی ذمہ داری بھی قبول کر لی۔ کوئی اسے لینڈ مافیا کا سلسلہ قرار دے رہا تھا، اور بعض لوگ ڈھکے چھپے لفظوں میں ڈرتے ڈرتے خفیہ ہاتھوں کا نام بھی لے رہے تھے۔

یہ خفیہ ہاتھ کون ہوتے ہیں ، کوئی نہیں جانتا۔ کوئی انہیں ہندوستانی ایجنٹ سمجھتا ہے۔ اور کوئی انہیں خو د اپنے ہی ملک کے خفیہ ادارے کہتا ہے، جو شاید اپنی بالا دستی قائم رکھنے کے لیے جب جی چاہیں معروف لوگوں ، خصوصا ً معصوم لوگوں کے قتل کے ذریعہ خوف و ہراس پھیلانے کے بعد خود ہی عوام کی حفاظت کرنے والے نورانی دھاروں کی صورت اختیا ر کر لیتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں پاکستان کے معروف مصنف اور صحافی محمد حنیفؔ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں سمجھنا چاہیئے کہ کراچی (جہاں امجد صابریؔ کا قتل ہوا) کادرد اصل میں کیا ہے۔ ان کی اس بات نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کراچی سے بھی کہیں زیادہ پاکستان کا مسئلہ کیا ہے۔

پاکستان کے مسائل پر بات کرتے وقت عموماً وہاں سیاست دانوں کی بد عنوانیوں کی بات ہوتی ہے، جن میں ذرا کچھ ہمت ہوتی ہے وہ پاکستان میں فوجی آمریتوں کا ذکر کرتے ہیں ، کبھی جنرل ضیاؔ کا رونا روتے ہیں، کبھی جنرل مشرف کا مذاق اڑاتے ہیں، اور کبھی کبھار انہیں ایوب خان بھی یاد آجاتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ فوج کے پاکستانی نظام ِ حکومت، معیشت، اور سیاست پر غلبہ کے بارے میں پاکستان کے بہترین مفکرین بارہا لکھ چکے ہیں۔جن میں عائشہؔ صدیقہ، عاقل ؔ شاہ، اور شجاع ؔنواز کی بہترین مدلل کتابیں ہمارے پیشِ نظر رہتی ہیں۔

بہت غور کرنے کے بعدہم اس نظریہ پر پہنچے ہیں کہ پاکستان اپنے اوائل ہی سے خفیہ یا اعلانیہ، ایک ’بالائے آئین‘ نظام ِ حکومت کا طابع رہا ہے۔ اس حقیقت سے ہمارے سارے دانشور بخوبی واقف ہیں لیکن اپنے تجزیوں میں اس کا مربوط ذکر نہیں کرتے۔ ایسے نظام کو انگریزی میں Supra Constitutional Systemکہا جاتا ہے۔ ایسے نظام کی بالکل سامنے کی مثال ایران میں ’’ولایتِ فقیہ ‘‘ کی ہے۔ اور اس کی دیگر مثالوں میں برما، مصر، ترکی، وینزویلا، اور دیگر ممالک میں مختلف تجربات ہیں۔ آپ نے اکثر پاکستانیوں کو ’ترکی کے ماڈل ‘ یا Turkish Modelکی تجویزیں دیتے سنا ہو گا ، جس میں ترکی کی افواج کو وہاں کے نظامِ سیاست میں ایک بالائے سیاست کردار دیا گیا تھا۔

ہم نے پاکستان میں اس بالائے آئین، خفیہ یا اعلانیہ نظام کو ’’ولایتِ عسکریؔ ‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ نظام قیامِ پاکستان ہی سے چل رہا ہے۔ کبھی یہ باقاعدہ فوجی آمریتوں کی صورت میں نازل ہوتا ہے جس میں ذوالفقار بھٹوؔ جیسے سیاست دان ایوبؔ خان کو فیلڈ مارشل بنواتے تھے، اور کبھی اس صورت میں کہ جب پاکستان کے حکمرانوں کو ’امیر المومنین ‘ کے خطاب عطا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اور تقریباً ہر زمانے میں یہ نظام خفیہ طور پر عمل پذیر ہوتا ہے جس میں عسکری عناصر نیشنل سیکورٹی کونسل National Security Council جیسے اداروں پر غلبہ کرتے ہیں، یا آئین کی مضحکہ خیز ترمیمات کے ذریعہ ملک میں ایک متوازی فوجی عدالتی نظام نافذکروانے کے بعد رضاؔ ربانی جیسے سیاستدان عوام میں زار و قطار روتے نظر آتے ہیں۔

ہماری تجویز کردہ ’’ولایتِ عسکری ‘‘ کا مطلب صرف کوئی ظاہری فوجی آمریت نہیں ہے۔اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں دراصل پاکستانی اشرافیہ کو سمجھنا ہوگا۔ دراصل یہی اشرافیہ پاکستان کا اصل حکمران طبقہ ہے۔ دانشور عائشہؔ صدیقہ نے اب سے چند سال پہلے اشرافیہ پر اظہارِ خیال کیا تھا اور یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ اشرافیہ میں ارتقا ہوتا رہتا ہے۔

ہماری دانست میں پاکستان میں ’ولایتِ عسکریؔ‘ پاکستان کے غالب اور اصل حکمراں طبقہ کی نمائندہ یا اس کا پرتو ہے۔ روزِ اول سے پاکستان کا حکمراں طبقہ مندرجہ ذیل اکایئوں پر مشتمل ہے:

۔١۔ جاگیر دار، وڈیرے، اور بڑے زمیندار

۔٢۔ بڑے سرمایہ دار

۔٣۔ پاکستانی بیورو کریسی

۔٤۔ مذہبی ادارے

۔٥۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے

۔٦۔عدلیہ

۔٧۔ افواجِ پاکستان

آپ نے غور کیا ہوگا کہ ہم نے اس فہرست میں افواجِ پاکستان کو سب سے آخر میں رکھا ہے ، اس کی وجہ ابھی بیان کرتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ باور کروانا بہت ضروری ہے کہ یہ سارے گروہ باہمی گٹھ جوڑ سے نظامِ حکومت پر قابض ہیں۔ اور یہی پاکستان کی اشرافیہ ہے۔ جس ارتقا کی طرف عائشہ صدیقہ نے دلائی ہے وہ اس طرح ہے کہ ان میں سے ایک طبقہ کبھی ان میں سے کسی اور کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور کبھی اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ، یا نچلے طبقوں کے کچھ افراد بھی عارضی طور پر داخل یا خارج ہوتے رہتے ہیں۔

یہ طبقات آپس میں شادیوں یا دوسرے تعلقات کے ذریعہ ملک کے وسائل کو اپنے قبضہ میں رکھتے ہیں ۔ ان کے لیے عوام کی حیثیت سوائے ایک ماجور یا مزدور کے اور کچھ نہیں ہوتی۔اشرافیہ اور عوام کے تعلق کو اقبالؔ نے کیا خوب بیان کیا تھا، ’’دستِ دولت آفریں کو مُزد یوں ملتی رہی۔۔۔اہلِ ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکواۃ۔‘‘ ان سارے طبقات کو اپنے تحفظ کے لیے امن اور قانون نافذ کرنے کے لیے اپنوں ہی میں شامل فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ خدمت کسی بھی ملک کی افواج سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا ۔

یہی وجہ ہے کہ باقی سارے طبقات اس طبقہ کو اپنا محافظ جان کر نہ صرف سارے معاملات ان پر چھوڑ دیتے ہیں بلکہ اس کے عوض ملکی وسائل میں انہیں زیادہ سے زیادہ حصہ بھی دینے پر بھی رضا مند رہتے ہیں۔ اور یوں ’ولایتِ عسکری‘ نافذ ہوتی ہے اور مسلط کی جاتی ہے جس کا ظاہر ی نمائندہ افواج یا عساکر ہوتی ہیں۔

یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری کے اس ’عسکری ولایت‘ کے بنیادی عناصر میں آپس میں بھی ایک قدرتی تناو یا کشمکش رہتی ہے، کیونکہ ان میں سے ہر عنصر اپنے حصہ کے وسائل پر قابض ہونے کے باوجود ، ہل من مزید، کی کیفیت میں زیادہ چھیننے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ جب یہ ہوتا ہے تو کبھی سیاست دانوں کو مطعون کیا جاتا ہے، کبھی فوجی آمریت پر تنقید ہوتی ہے، کبھی پانامہ اسکینڈل کا شور اٹھتا ہے۔ کبھی بد امنی کا الزام ایم کیوایم ، طالبان، بلوچ حق پرستوں ، سندھی حق پرستوں ، یا اوکاڑہ کے کسانوں پر لگایا جاتا ہے، کبھی نا دید ہ خفیہ ہاتھوں پر۔ اس ساری گڑبڑ اور بند ر بانٹ میں عوام بنیادی سہولتوں اور حقوق سے محروم رہتے ہیں، اور ان الزام تراشیوں میں الجھ کر ’ولایتِ عسکری ‘ ہی کو اپنے مسائل کا حل جان کر اس کو دعائیں دیتے ہیں ، اور اس کی بقا کے لیے خدا کو بھی راضی کرتے رہتے ہیں۔

جب تک ہم سب مل کر ’ولایتِ عسکری‘ کو خوب اچھی طرح نہ سمجھ لیں ، ہم تا حیات الجھاووں میں پڑے رہیں گے، اور اس سے چھٹکارا بھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اس ساری مصیبت سے چھٹکار ا صرف ایک بنیادی انقلاب کی صورت ہی میں ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسی صورت میں، کہ جب ’ولایتِ عسکری‘ کا شکنجہ مضبوط ہو، عوام کے مظلوم طبقات میں کوئی رابطہ نہ ہو، اور نہ ان کو ان کے مسائل کا حل سمجھانے کا کوئی ذریعہ ہی ہو ، تو انقلاب صرف ایک خام خیالی اور میٹھا خواب ہی رہ جاتا ہے۔

دانشور Theda Skopolکے خیال میں کسی بھی معاشرہ میں انقلاب سے پہلے وہاں کے ریاستی اداروں میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے، اور اشرافیہ میں داخلی تناو اور جھگڑا بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح قبلِ انقلاب عوام امید کی کوئی جھلک بھی دیکھتے ہیں۔ و لایتِ عسکری ‘ نے اس حقیقت کا تدارک کرنے کے ، اور ادارہ جاتی شکست و ریخت کو موخر کرنے کےلیے عوام کو بنیادی سہولتیں خیراتی اداروں کے ذریعہ پہنچانے کا بندو بست کیا ہے ۔ جس میں ایدھی صاحب ، اور دیگر خیراتی ادارے بھی شامل ہیں جو انسانی مجبوریوں کے تحت اپنے لوگوں کوبھوکامرتا نہیں دیکھ سکتے۔ اسی طرح پاکستان میں تعلیم اور کچھ طبی سہولتیں بھی خیراتی اداروں نے سنبھال لی ہیں۔ یوں ملکی ریاستی وسائل کے بجائے عوام کو زکوٰۃ اور خیرات پر زندہ رہنے کا پابند کیا گیا ہے۔

یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان جیسا ملک اپنی ’ولایتِ عسکری‘ کو قائم رکھنے کے لیئے غیر ملکی امداد پر بھی انحصار کرتا ہے۔ اس امداد سے بیشتر حصہ تو ’ولایتِ عسکری‘ کے بنیادی عناصر اپنی افواج کو دینے پر مجبور ہوتے ہیںِ اور انہیں کچھ حصہ عوام کو دینا پڑتا ہے۔ دنیا کے سرمایہ دار اور استعماری عنصر جن میں امریکہ سرِ فہرست ہے، ان ملکوں میں جہاں ’ولایتِ عسکری‘ جیسے نظام قائم ہوتے ہیں ، Kerry Lugar جیسے قوانین کا بندو بست کرتے ہیں تاکہ ، ان ممالک میں جہاں ان کی ترجیہات ہیں ، عوام انقلاب کو بھلائے رکھیں۔

لیکن سب جانتے ہیں کہ استعماری ترجیہات بدلتی رہتی ہیں، جب امریکہ، لیبیا، عراق، اور دیگر سے اپنی ترجیہات ہٹنے پر اپنی توجہہ ہٹا سکتاہے، تو اس کے لیئے پاکستان جیسے ملک میں جو معاشی طور اور بھی کمزور ہو زیادہ دلچسپی نہیں رہتی۔ایسی صورتِ حال میں پاکستان کی’ ولایتِ عسکری ‘ کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے وسائل میں پاکستان کے عوام کو زیادہ سے زیادہ شریک کرنے اور ان کی حقیقی فلاح کے لیے کیا مخلص اور سنجیدہ تدابیر کرے۔اورسماجی تخریب کے نتیجہ میں تاریخ کے لکھے میں تاخیر تو ہوسکتی ہے لیکن انقلاب آکر رہتے ہیں ، خواہ اندر سے اٹھیں یا باہر سے نافذ کیے جائیں۔

3 Comments

  1. نذیر احمد says:

    ولایت عسکری۔۔۔۔ واہ بھئی واہ کیا خوب اصطلاح ہے۔ زبردست

  2. Excellent … One of the best analyses on this subject. Kudos to coining the term “Vilayat-e-Askari”.wah wah. Its the first one ever in the Urdu lexicon and conceptually the most revealing.

  3. Saami Sb’s column certainly probs the structural reasons for state dysfunction in Pakistan. I applaud the intellectual courage with which he has forwarded the argument. More importantly, the argument is socio-historic, which is really difficult to fit in a small space that a column affords and yet, to the authors credit, job well done.

    On the subject of revolution (s), lots of people think of it in romantic terms. The author’s reference to Prof. Theda Skocpol is very instructive for all students of social change. It is a must read column! And with this column, I feel Niazamana has set a new standard for column writing. Thank you.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *