آزاد کشمیر: نئی دستاویز کی ضرورت ہے

4212_109624585991_3851843_nبیرسٹر حمید باشانی


آزاد کشمیر کاآئینی ارتقا ایک اہم اور دلچسپ موضوع ہے۔اس موضوع پر موجودہ انتخابی مہم کے دوران بھی گفتگوہو رہی ہے۔اس حوالے سے کچھ سنجیدہ آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ اب اس موضوع پر بات کرنے والوں کو غیر محب وطن یا غدار نہیں قرار دیا جاتا۔

اس بات کا کریڈٹ تو بہرحال پاکستان پیپلز پارٹی کو ہی جاتا ہے جس نے پاکستان میں صوبائی خود مختاری کے مطالبے کو محب وطنی کے جھوٹے تصورات سے الگ کیا۔اٹھارویں ترمیم کے ذریعے وہ سارے مطالبات تسلیم کر لیے جو تاریخی اعتبار سے پاکستان کے قوم پرست اور ترقی پسند لوگوں کے مطالبات تھے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک بڑا اور انتہائی اہم قدم تھا۔اس سے آزاد کشمیر کے سیاست کاروں کو بھی حو صلہ ہوا اور اس بات پر یقین کرنے میں مدد ملی کہ اپنے آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق کی بات کرنا غداری نہیں بلکہ حقیقی محب وطنی ہے۔

اور دھرتی کے وسائل کے قانونی اور اخلاقی طور پر وہی وارث ہوتے ہیں جو اس دھرتی کے مالک ہوتے ہیں۔اگرچہ یہ بات آزاد کشمیر کے قوم پرست اور ترقی پسند حلقے برسہا برس سے کرتے آئے ہیں، لیکن مین سٹریم سیاست کاروں میں یہ بات کرنے کا کریڈٹ تاریخی طور پر سردار ابرہیم اور کے۔ایچ خورشید یا پھر موجودہ دور میں ذرا مختلف طریقے سے راجہ فاروق حیدر اور کسی حد تک خالد ابراہیم کو بھی دیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ ان دونوں رہنماوں کو یہ بات کرتے ہوئے بار بار یہ بات بھی دہرانی پڑتی ہے کہ وہ پاکستانیوں سے بھی بڑے پاکستانی ہیں، اگر انہیں پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ پاکستان کو ترجیح دیں گے۔اور اگرچہ پاکستان کا آئین ان کو پاکستانی نہیں مانتا مگر وہ رضا کارانہ طور پر پہلے پاکستانی ہیں پھر کشمیری۔یہ بات جو ان کو بار بار دہرانی پڑتی ہے اس کے پیچھے ایک لمبی تاریخ اور نفسیاتی تشکیل ہے۔ان لوگوں نے ایسے ماحول میں سیاست کی ہے یا حکومتوں کا حصہ رہے ہیں جس میں یہاں تک کہ منگلا ڈیم کی رائلٹی کا مطالبہ کرنے والوں کو بھی سرکاری سطح پر غدار سمجھا جا تا تھا۔

چنانچہ یہ ایک خوش کن پیش رفت ہے۔اب آزاد کشمیر کی مین سٹریم سیاسی پارٹیاں آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت پر بھی بات کر رہی ہیں۔اس حوالے سے ایکٹ 1970 یا پھر ایکٹ 1974کی بحالی کی بات بھی ہو رہی ہے۔اگرچہ ان دستاویزوں میں بہت ساری اچھی باتیں بھی ہیں لیکن یہ ایک خاص تاریخی تنا ظرکی پیداوار ہیں۔ستر کا ایکٹ اس وقت بنایا گیا تھا جب پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا تھا۔ملک مکمل طور پر فوجی آمریتوں کی گرفت میں تھا۔ پاکستان کے وفاق کا اپنے صوبوں اور عوام کے ساتھ تعلق اور سلوک مختلف تھا۔آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان تعلق اور رشتہ بھی بالکل مختلف تھا۔

اس وقت پاکستان اورآزاد کشمیر میں طاقت کا سر چشمہ عوام کو نہیں سمجھا جا تا تھا۔اس ماحول میں طاقت کا سر چشمہ فوجی امر اور نوکر شاہی تھی۔ ایسے ماحول میں اقتدار میں آنے یا اقتدار میں رہنے کا میرٹ کسی کی عوامی مقبولیت نہیں بلکہ ایسٹیبلشمنٹ سے وفاداری تھی۔چنانچہ اس ماحول میں آزاد کشمیر کے لیڈر وفاداری کی دوڑ میں رہتے تھے۔اپنے آپ کو اصل اور دوسرے سے بڑا پاکستانی ثابت کر نے میں لگے رہتے تھے۔اور ایک دوسرے کے خلاف کسی ایسی بات کی تلاش میں رہتے تھے جس سے وہ دوسرے کی وفاداری یا حب الوطنی کو مشکوک بنا سکیں۔

ایسے ماحول میں یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اس وقت کے سیاست کار ایکٹ پر کوئی کھلا اور آزادانہ بحث و مبا حثہ کر سکیں۔ یا اپنے لیے سیاسی اور انتظامی اختیارات کا مطالبہ کر سکیں۔اس کے بر عکس عام تاثر یہ پایا جاتا تھا کہ آپ جتنے زیادہ اختیارات حکومت پاکستان کو منتقل کرنے کی بات کریں گے اتنے زیادہ محب وطن اور پاکستان دوست تصور کیے جائیں گے۔ایکٹ بنانے یا اس میں کسی قسم کی ترمیم کرنے کے لیے پاکستان کی پیشگی منطوری ضرورری تھی، اور یہ جاننے کے لیے کوئی بہت زیادہ عقلمند ہونا ضروری نہیں کہ اس پیشگی منظوری کا اصل مجاز کون ہوتا تھا۔

اب مگر یہ تناظر مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ اور جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ پاکستان کے آئین میں تبدیلی اور صوبوں کی خود مختاری کے بعد اب ایکٹ ستر یا چوہتر کی بات کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہے۔اب ایک نئے آئینی ڈھانچے اور ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت ہے۔آزاد کشمیر کی مین سٹریم پارٹیاں کوئی علیحدگی پسند نہیں ہیں۔اور ظاہر ہے کوئی ان سے یہ توقع نہیں رکھتا کہ وہ پاکستان سے آزادی کی بات کریں مگر ان سے بجا طور پر یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ آزاد کشمیر کی اندرونی خود مختاری کی بات کریں اور ایسا وہ پاکستان کے آئین میں صوبائی خود مختاری کے حوالے سے ہونے والی ترامیم کی روشنی میں کر سکتے ہیں۔ایسا کرتے ہوئے ان کی پاکستان سے وفاداری بھی مشکوک نہیں ہو گی اور آزاد کشمیر کے لوگوں کو ان کے کچھ سیاسی، معاشی اور انتظامی اختیارات بھی مل جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *