سکینڈے نیوین ممالک کی سوشل ڈیموکریسی

anbارشد نذیر

سکینڈے نیوین ممالک جنہیں نارڈک ممالک بھی کہا جاتا ہے میں نیولبرل معاشی ، سماجی اور سیاسی ماڈل متعارف کرایا گیا جس میں نجی ملکیت، انفرادی اور سماجی آزادیوں کی یقین دہانی فلاحی ریاست کے ذریعے کرانے کی کوشش کی گئی۔

نارڈک ممالک جن میں ڈنمارک۔ فن لینڈ۔آئس لینڈ۔ ناروے اورسویڈن شامل ہیں نے 80ء کی دہائی میں اپنا ایک سیاسی ماڈل متعارف کرایا جس کو نارڈک ماڈل یا نارڈک سرمایہ داری یا نارڈک سوشل ڈیموکریسی کا نام دیا جاتا ہے۔ کسی قدر آئس لینڈ کے استثنا ء کے ساتھ اس معاشی اور سماجی ماڈل میں ان ممالک نے کچھ مشترکہ خصوصیات متعارف کرائیں جن میں آزاد منڈی کی معیشت اور آجر اور اجیر کے مابین اجتماعی سودابازی ، عالمگیریت اور افراد کی سماجی اور معاشی ترقی کے لئے ان ممالک کے درمیان آزادانہ نقل و حمل جیسی خصوصیات شامل ہیں۔

انفرادیت اور نجی ملکیت کا تحفظ بھی ان خصوصیات میں شامل ہیں۔ کارپوریٹ کلچر کو بھی مشترکہ طور پر قبول کیا گیا ہے۔ایسا کارپوریٹ کلچر جس میں تین فریق یعنی آجر اور اجیر اور باہمی سودابازی کے لئے مزدوروں کے نمائندگان اور حکومت معاملات طے کریں کو بھی رواج دینے کی کوشش کی گئی۔ ان اہداف کے حصول کے لئے فلاحی ریاست کا وجود ضروری خیال کیا گیا۔

ظاہر ہے کہ یہ سیاسی ماڈل مکمل طور پر آزادانہ معیشت پر نہیں کھڑا کیا گیا تھا کیونکہ آزادانہ معیشت کا مطلب ہوتا ہے کہ مارکیٹ کو اپنے کاروباری فیصلے کرنے کے لئے اس کے خود کار نظام طلب اور رسد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے ۔ یہ ماڈل سوشلزم کے معاشی نظام کے مطابق بھی نہیں تھا جس میں ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت پر پابندی ہوتی ہے ۔ لہٰذا یہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر نظام تھا۔ اگرچہ یہ بات موضوع کا حصہ نہیں ہے لیکن برسبیلِ تذکرہ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ سرمایہ داری نے ابھی تک جو ظلم ڈھائے ہیں اس نے اپنے اس پابند اور غیر آزادانہ ڈھانچے کے تحت ہی ڈھائے ہیں اگر اس نظام کو وہ نظریاتی آزادی جو کتابوں میں لکھی ہوئی ہے حاصل ہو جاتی تو یہ نظام سماجوں کی جو ایسی تیسی کرتا اُس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

خیر پابند سرمایہ داری نظام کے اس ماڈل نے محنت کشوں اور صنعت کاروں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی جو کوششیں کی، اس میں مزدوروں کی یونین سازی، ان کی اجرتوں کا منصفانہ تعین اور اُن کے اوقاتِ کار، تعلیم اور صحت کی مفت فراہمی کے علاوہ آزادانہ سماجی نقل و حمل بھی شامل تھے۔ فلاحی ریاست ہونے کے ناطے سے یہاں ٹیکسوں کی خاصی بھاری شرح کو متعارف کرایا گیا ۔ اس ماڈل کے متعارف ہو جانے کے بعد بورژوا معاشیات دانوں اور نام نہاد لبرل دانشوروں اور سیاست دانوں نے یہ یقین کرنا شروع کر دیا کہ اب سوشلزم کی حقیقی موت واقع ہو چکی ہے کیونکہ اس ماڈل کے ذریعے طبقاتی کشمکش کے مسئلے کا ہمیشہ کے لئے حل نکال لیا گیا ہے۔

یہ بات بھی دل میں بٹھا لی گئی کہ سرمایہ داری اب اپنے بامِ عروج کو پہنچ چکی ہے ۔ اب اگر کوئی بحران آئے بھی سہی، تو وہ اتنے معمولی نوعیت کے ہوں گے کہ چھوٹی سی اصلاحات کے ذریعے ان پر قابو پالیا جائے گا۔وقت نے ثابت کیا کہ یہ ان لوگوں کی محض خوش گمانیا ں تھیں۔وقت نے یہ بھی ثابت کیا کہ ایسی کاسمیٹکس تبدیلیوں سے نہ کبھی معاشی اور مالی بحران رکے ہیں اور نہ کبھی رکیں گے۔ سرمایہ داری میں جتنی بھی اصلاحات متعارف کرائی جائیں جب تک قدرِ زائد اور زائد پیداوار کی حقیقی اور غیر متعصب تفہیم اور تشریح نہیں کی جاتی ، معاشی اور مالیاتی بحرانوں کا پیدا ہونا ناگزیر ہے ۔

یہی ایک معاشی سچ ہے جس کو مارکس نے دریافت کیا تھا اور ہمارے لبرل جو مارکس سے اللہ واسطے کا بیر رکھتے ہیں اس حقیقت کا تجزیہ کئے بغیر لنگر لنگوٹ کس کے مکالمے کے لئے میدان میں اتر آتے ہیں۔ پھر وہ عجیب و غریب استدلال ، جو اخلاقیات، سرمایہ دارانہ اصلاحات اور پتا نہیں کون کون سی الا بلا چیزوں کا ملغوبہ بنا کر سرمایہ داری کے دفاعی چورن مارکیٹ میں لے آتے ہیں۔

بڑے بڑے معاشی بحران ماضی میں بھی آتے رہے ہیں اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں 2008 ء میں پوری دنیا پھر ایک گہرے ترین مالیاتی بحران کی زد میں آئی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے دنیا نے 1929 ء میں شدید معاشی بحران کا سامنا کیا تھا۔ پھر دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا معاشی بحران کی گرفت میں آگئی۔ لیکن اس دفعہ کے معاشی اور مالیاتی بحران کو خود بورژوا معیشت دان اور نیولبرلز بھی گزشتہ تمام بحرانوں سے زیادہ بڑا اور گہرا بحران کہہ رہے ہیں۔بورژوا معیشت دان اس بحران کے ٹلنے کی مختلف تاریخیں دے رہے ہیں لیکن بحران ہے کہ سنبھلنے میں نہیں آرہا۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ معاشی مند 2020 ء تک چلے گا لیکن بحران کی نئی نئی شکلوں کے سامنے آنے کے بعد نئی نئی تاریخیں دے دی جاتی ہیں۔

سابق سوویت یونین کے انہدام کے بعد دنیا میں تن تنہا سرمایہ داری کا ہی راج قائم ہو گیا لیکن سرمایہ داری ملکوں کے سامراجی اور استحصالی کردار کا کوئی حل پیش نہ کر سکی۔ طبقاتی کشمکش بھی جاری رہی۔ کچھ عرصے کے لئے یہ تضادات سطحِ آب سے نیچے ضرور چلے گئے لیکن یہ کبھی ختم نہیں ہوئے۔ سرمایہ داری نظام کے اندر رہتے ہوئے ان غیر معمولی تضادات کو معمولی اہمیت دیتے ہوئے مختلف قسم اصلاحات اور ترامیم کا سلسلہ جاری رہا۔ سکینڈے نیوین سوشل ڈیموکریسی کا ماڈل بھی اسی طرح کا ایک اصلاحی ماڈل ہے۔

اب ذرا اس سکینڈی نیوین سوشل ڈیموکریسی کے بارے میں برطانوی جریدے اکانومسٹ کی 2007 ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بارے میں سُن لیجیئے :۔

’’یہ خیال بہت وسیع پیمانے پر پایا جا رہا ہے کہ نارڈک ممالک نے تیز ترین شرحِ نمو، کم تربے روزگاری ، ٹیکسز کی بھاری شرح اور ایک پُر تعیش فلاحی ریاست جیسے تصورات کو یکجا کرکے کوئی جادوائی طریقہ تلاش کر لیا ہے جس سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن اس سپیشل نارڈک

ماڈل یا’’ تیسرے طریقے‘‘ پر لوگوں کا اعتماد 2007 ء میں مزید شکت خوردہ ہوگا ‘‘۔

The Economist, The World in 2007, Edition, 2006,
44

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ 2008ء میں ایک مالیاتی بحران جس کو دوسری عالمی جنگ کے بعد کا سب سے بڑامالیاتی بحران کہا جارہا ہے نے سرمایہ داری ممالک کو پھر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس بحران کے اثرات پوری دنیا میں مختلف طریقوں سے محسوس کئے گئے اور آج تک کئے جا رہے ہیں۔ نارڈک ممالک بھی ان کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکے۔
سن 1990 ء سے ہی پوری دنیا میں بلبلہ معیشتیں ابھر رہی تھیں۔ نارڈک ممالک میں بھی ہاؤسنگ ببل اکانومی 1990 ء ہی ابھرنے لگی۔ جب گروی پر شرحِ سود کم ہو، قلیل مدتی قرضوں پر شرحِ سود کم ہو، گروی کے لئے قرض کی شرائط آسان ہوں اور مہنگائی بہت زیادہ ہو تو مکانوں کی خریداری کا رحجان بڑھ جاتا ہے۔ڈھیلی ڈھالی مالیاتی شرائط کے ساتھ مکانات کی خریداری کی خریداری کا یہ رحجان انویسٹمنٹ کی غرض سے بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

جس سے کچھ عرصے کے لئے معیشت میں ایک مصنوعی بڑھوتری نظر آنے لگتی ہے لیکن اس میں کوئی حقیقی معاشی سرگرمی نہیں ہو رہی ہوتی اس لئے ایسی معیشتوں میں بلبلے کی طرح ابھار آتا ہے ۔بالآخر وہ پھٹ ہی جاتا ہے۔ یہ یورپی یونین ، برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک کے ہی کی بلبلہ معیشتیں کا تسلسل تھا۔ بلآخر یہ بلبلہ 2008ء میں پھٹ گیا۔

سویڈن کی شرحِ نمو کا تخمینہ جو 2014 ء میں 1.8 فیصد کی کم تر سطح پر پہنچ چکا تھا2015 ء میں صرف 2.5% تک آگیا۔ اسی طرح ڈنمارک کی 2014 ء کی شرحِ نمو کا تخمینہ 0.8% تھا جو کہ 2015 ء میں 1.5% ہے۔ ہزاروں لوگ اپنے روزگار سے گئے۔ کام کے گھنٹوں میں تخفیف کردی گئی۔ وہ مراعات جو کبھی اس نظام کے لئے فخر کا باعث تھیں پر کٹوتیا ں لگانا شروع ہو گئیں۔ اس صورتحال نے نوجوان طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ بحالی کی آج تک کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔

بورژو امعیشت دان جس بحالی کی خبریں سنارہے ہیں وہ اتنی سست رو ہے کہ بحران اُس کو پھر نگل جاتا ہے۔ سروس سیکٹر جو ان ممالک کے روزگار کے انجن کے طور پر دیکھا جاتا تھا کو شدید دھچکا لگا۔ سروس سیکٹر نئے روزگار کے مواقع کیا پیدا کرتا اس نے پہلے سے موجود ملازمین کو بھی نکالنا شروع کر دیا۔

سب سے زیادہ خراب صورتحال کا سامنا یورپی یونین کے ممالک کو کرنا پڑا۔ یونان، اٹلی اور جرمنی کا سوشل ڈیموکریسی کا تصور منہدم ہو کر رہ گیا۔ وہ مراعات جو ان ممالک نے اپنے عوام کو فراہم کئے تھے واپس لینے پڑ رہے ہیں۔ یونان دیوالیہ ہو گیا۔ سرمایہ داروں نے مصنوعی طورپر اس کو کھڑا کیا ۔ یہاں بھی بے روزگار ی اپنی انتہاؤں کو چھورہی ہے۔ جون کے بعد برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا نہ رہنے کے ریفرنڈم کا فیصلہ بھی اپنے اثرات مرتب کرنے جا رہا ہے۔جو یقیناًسرمایہ داری کے لئے کوئی اچھی نوید نہیں ہیں۔ اس دفعہ امکان یہی نظر آتا ہے کہ برطانیہ اب یورپی یونین سے علیحدہ ہو جائے گا ۔ لیکن اگر برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہو بھی جائے تو اس سے بحران میں کوئی کمی واقع نہیں ہونے والی بلکہ اس سے بحران کے مزید گہرا ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

ان ممالک نے اپنی معیشتوں کو عددی آسانی یا کینیشئین ازم جیسے معاشی فارمولوں کے تحت سہارنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے۔ جس سے بحران پر عارضی طور پر تو قابو پایا جاسکتا ہے لیکن یہ حقیقی حل نہیں ہے۔ اس سے کوئی حقیقی معاشی پیداوار اور محنت کشوں کی حقیقی اجرتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ بحران پھر زیادہ گہرے طورپر اور بڑی شدت کے ساتھ سراُٹھاتا ہے۔ کسی مستقل حل کا نہ ہونا سب سے زیادہ نوجوانوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

مستقل بے روزگاری اپنا اظہار جرائم ، نفسیاتی بیماریوں، نشہ، تشدد، عدم رواداری اور سماجی بیگانگی جیسی سماجی بیماریوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ ان بیماریوں کا مطلب سماجی ڈھانچے کی مکمل شکست و ریخت ہوتا ہے۔ مایوسی کے عالم میں ہونے والی شکست و ریخت کبھی بھی بامعنی نہیں ہوا کرتی۔ لبرلز اور نیولبرلز یہ بتانے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں کہ اب پرانے ڈھانچے جس میں فلاحی ریاستوں کا تصور موجود تھا کے منہدم ہوجانے کے بعد اُن کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے کہ وہ نوجوانوں میں پھیلی اس بے چینی کا علاج نکال لیں گے جبکہ حقیقی معاشی نمومیں بڑھوتری آنے کے کوئی امکان موجود نہ ہوں۔

لطف کی بات تو یہ ہے کہ چین نے سرمایہ داری کی طرف قدم بڑھا اور اصلاح پسندی کے ماڈل پر کمپرومائز کر لیا۔ لیکن چین نے اس قسم کے اصلاحاتی ایجنڈاکے منفی پہلوؤں جن میں سکینڈی نیوین ممالک گھرچکے ہیں سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اپنی معیشت کو بھی اسی ماڈل پر تعمیرکرنا شروع کر دیا۔

ابھی یہ ممالک اس بحران سے نکل نہیں پارہے کہ مستقبل قریب میں چین کی باری لگنے جا رہی ہے کیونکہ چین پچھلے کئی عرصہ سے جس طرح اپنی معیشت کو سہارنے کی کوشش کررہا ہے وہ حقیقی معاشی نمو نہیں ہے بلکہ بلبلہ معیشت ہی ہے ۔ بلبلہ معیشتوں کے بارے میں خود بورژوا معیشت دانوں کا خیال ہے کہ ہر بارہ تیرہ سال کے بعد یہ بلبلہ معیشتیں ابھرآتی ہیں لیکن پھر یہ بلبلے پھٹتے ہیں اورپورا معاشی نظام شدیدبحران میں گھر جاتا ہے۔ اس دفعہ چین کا کریش کوئی معمولی کریش نہیں ہو گا اس کے سب سے پہلے اثرات امریکی معیشتون پر براہِ راست مرتب ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *