جبر واختیار اور انسانی آزادی کا مسئلہ 

Chohanپروفیسرمحمدحسین چوہان 


(
پہلا حصہ)
انسان کبھی اور کہیں بھی ایک مکمل آزاد ماحول میں پیدا نہیں ہوتا،تاریخی و فطری جبر سماجی و معاشی مسائل میں آنکھ کھولتا ہے ۔کسی جگہ ان مسائل کی نوعیت کم ہوتی ہے اور کہیں زیادہ ۔ لیکن سیاسی معاشیات اس کی آزادی کا تعین کرتی ہے اور اسی تعین کے ساتھ اس کے معاشرتی وجود اور شخصیت کا تعین ہوتا ہے۔سیاسی معاشیات کے زیر اثر اس کی صحت،مزاج ،کردار،سماجی شعور،تعلیم وتربیت اور عرفان ذات پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایک پر اعتماد اور آزاد ارادے کی حامل شخصیت کا تعلق نہ صرف شخصی آزادی سے ہوتا ہے بلکہ آزاد سماج سے بھی منسلک ہوتا ہے،جس پر جغرافیا ئی اور جنیاتی و موروثی اثرات کی ثانوی حیثیت ہوتی ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان بقول روسو آزاد پیدا ہوا ہے مگر جہاں کہیں دیکھو وہ معاشرتی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔یہ معا شرتی زنجیریں اس سے ورثے میں ملی ہوئی ہوتی ہیں،جس کو ہم تاریخی جبر سے منسوب کرتے ہیں۔
مگر کوئی بھی انسان کتنا ہی اطاعت گزار کیوں نہ ہو وہ اپنے لئے ہر طرح کی زنجیروں کو توڑنا چاہتا ہے،وہ بچپن سے لے کر موت کے آخری لمحات تک جبر کے خلاف بغاوت کرتا رہتا ہے،وہ اپنے ارادے کی آزادی کی جنگ کے لئے انفرادی و اجتماعی سطحوں پر کو شاں رہتا ہے ۔ سیا سی و سماجی سطح پر اس کے لئے جتنا زیادہ سازگار ماحول میسر ہوتا ہے اتنی ہی اس کو حق خود ارادی کی جنگ لڑنا آسان ہو تی ہے ۔تعلیمی نظام اور سیاسی پلیٹ فار م حق خود ارادیت کی جنگ لڑنے میں اکثر حتمی کردار ادا کرتے ہیں۔جان بوجھ کر کوئی بھی غلام نہیں رہنا چاہتا،ہر فرد ارادے کی آزادی کا طلبگار ہے۔
صرف خوف اور جبر ہی ہے جو اس کو جبر کی حمائیت میں لا کھڑا کرتے ہیں،مگر جنیاتی طور پر انسان آزاد منش واقع ہوا ہے۔صرف ماحول ہی ہے جو اس سے اطاعت اور غلامی پر مجبور کرتا ہے،طباع کی آزادی کی غرض و غائیت یہ ہے کہ انسان روز آفرینش سے ہی فطری جبر،تاریخی جبر،سیاسی و معاشی جبر،عصبی وجنیاتی جبر کے فلسفوں کے خلاف بر سر پیکار چلا آرہا ہے۔مسلسل انکشافات و ایجادات کے سلسلے میں اس نے جتنی بھی جدوجہد کی ہے اتنا ہی زیادہ جبر پر اس کو اختیار حاصل ہوا ہے۔انسان مسلسل فطرت کو تسخیر کئے جا رہا ہے اور اس کے ارادے کی آزادی کے راستے میں حائل رکا وٹیں دور ہوتی جا رہی ہیں۔جبر پر قدریہ کو مسلسل فتح و شادمانی حاصل ہو رہی ہے،جبر اپنی فطرت میں مائل بہ شکست ہے،کیونکہ انسان فطرتٰا صاحب ارادہ ہے،اور اپنی قوت ارادی سے ہر مشکل کو حل کرنے میں مشغول ہے۔
بنیادی طور پر تصور عمل کی غاٗیت اولیٰ ہے۔عمل کے قصر کی بنیاد تصور پر قائم ہوتی ہے۔عمرانی ترقی بھی نظریات کی مرہون منت ہوتی ہے۔کسی بھی سماج کی کلی ترقی کا انحصار اس کے نظریہ و عمل میں پوشیدہ ہو تا ہے۔نظریہ اور عمل میں جتنی بھی مطابقت ہوگی ،معاشرتی ترقی کی سطح اسی حساب سے متعین ہو گی،اگر افکار و نظریات غیر سائنسی اور مثالیت پسندانہ ہوں گے تو سماج کاتشکیلی ڈھانچہ بھی ا تنا ہی کمزور ہو گا۔حقیقی مسائل کو حقیقت کی آنکھ سے دیکھنے کے بر عکس مذہب اور روحانیت کی نظر سے دیکھیں گے تو ترقی کا سفر رک جائے گا۔
اس بنا پر جن اقو ام نے حق خود ارادیت کی جنگ لڑی ہے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر عقلیت اور تجربیت سے مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کی ہیں ،کامیابی نے ان کا استقبال کیا ہے۔کیونکہ ترقی کا انحصار نظریہ علم میں پوشیدہ ہوتا ہے اور نظریہ علم بھی آپنی طبعی عمر کے ساتھ ساتھ بوڑھا ہوکر مر جاتا ہے اور ایک نئے نظریہ کے ساتھ اس ہم آہنگ ہونا پڑتا ہے۔اسی تناظر میں میں دیکھا جائے تو قوموں کے عروج و زوال میں ان کے نظریات کا بڑا عمل دخل رہا ہے،نظریہ و عمل کی مطابقت ارادے کی آزادی کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔جبر کے خلاف جنگ عقیدے سے نہیں عقل سے لڑی جاتی ہے،تجربہ و عقل ہی ہیں جو انسان کو آپنی مرضی کا مالک اور مقدر کا سکندر بناتے ہیں۔
بنیادی طور پر انسان کے اختیار اور مجبوری کے بارے میں تین نقطہ ہا ئے نظربہت اہمیت کے حامل ہیں جن میں جبریت کو اس سلسلے میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔جبری فلسفے کے تحت انسان تقدیر کا قیدی ہے اس کی قسمت روز آفرینش سے متعین کر دی گئی ہے اور اس کے تمام اعمال و سرگرمیوں کا پہلے سے ہی تعین کر دیا گیا ہے اور خدا کو پہلے سے ہی انسان کے مقدر کا علم ہے۔یہ نظریہ مثالیت پسندوں اور مسلمانوں میں اشاعرہ کے ہاں بہت مقبول ہے اور انسان صرف مجبور محض ہے،جس میں صوفیا کی اکثریت نے اس کو قبول کیا ہے۔
دوسرا مکتبہ فکرقدریہ یاارادیت پسندوں کا ہے جس میں انسان انتخاب اور اعمال میں مکمل طور پر آزاد ہے وہ آپنے مقدر کا خود مالک ہے،اس کی کامیابی اور ناکامی میں کسی ماورائی طاقت کا ہاتھ نہیں وہ اپنے ہر عمل کا ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔ارادے کی آزادی کے علمبردار جدو جہد و کوشش،عقلیت و تجربے کو آپنے علمی قضایا میں جگہ دیتے ہیں،جبکہ جبریت پسندتوکل اور عقیدے کے ذ ریعیاپنے مقدر کا تعین کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ تیسرا مطابقت پذیری کا نظریہ بھی قبول عام کا درجہ رکھتا ہے،جس کے تحت آدمی آزاد بھی ہے اور مجبور بھی۔اشیا کے انتخاب میں اس کو آزادی دی گئی ہے جبکہ بعض فطری قوانین کے سامنے انسان بے بس بھی ہے جس کے سامنے یہ اپنی بے بسی کا اظہار کرتا ہے،مطابقت پذیری والے اخلاق وانصاف اور معتدل راستہ اختیار کرتے ہیں،جو زیادہ تر تجزیاتی ہے،مطلقیت یا کلیت کا حامل نہیں۔
اقبال اس حوالے سے حدیث نبوی کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں، چنیں فرمودہء سلطان بدر است، کہ ایمان درمیان جبر و قدر است ، یعنی ایمان جبر وقدر کے درمیان ہے۔
جبر فطری اور سماجی زندگی میں موجود ہوتا ہے۔قوانین فطرت غیر متبدل ہیں۔معاشرے کے سیاسی و سماجی اور معاشی ڈھانچے میں جبریت موجود ہوتی ہے جو مکمل طور پر اختیاری ہوتی ہے جس کو جدوجہد کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ شعور و آگہی اور سخت قوت ارادی سے معاشرتی جبر کا خاتمہ ممکن ہے۔فطری سائنس والے زیادء جبریت پسند واقع ہوئے ہیں،وہ بھی صوفیا کی طرح جبر کی تعلیم دیتے ہیں انہیں کائنات کی ہر شے میں جبر نظر آتا ہے جسے انسان کے اختیار،خلقی اوصاف اور صاحب اختیار ہونے پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
طبیعات دانوں کے نزدیک مظاہر فطرت کی موجودہ شکل ماضی کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے جس میں انسان کا کوئی کردار شامل نہیں ہے۔ان کے نزدیک فری ول یعنی ارادے کی آزادی کوئی اہمیت نہیں رکھتیحتیٰ کہ انسان اپنی ذات پر بھی کنٹرول نہیں رکھتا بلکہ انسان اور اس کا ذہن طبعی اور حیاتیاتی قوانین کے زیر اثر ہے ۔
ماہر طبیعات پروفیسر موسومو اس سلسلے میں رقمطراز ہیں’’ارادے کی آزادی ایک واہمہ ہے۔ہمارا ذ ہن انتہائی ادراک و وقوفی پچیدگیوں کے دائرے میں گرا ہوا ہے،جس میں کئی ایک سائیکل اور سسٹم کام کر رہے ہوتے ہیں اور اسی نظام کے تحت ہمارے خیالات و افکار،شعور،خواہشات،،پسند و ناپسند اور کردار متعین ہوتے ہیں۔ذہن کا یہ سسٹم اور اس پر مرتب اثرات طبعیات کے غیر نامیاتی میکانکی قوانین کا نتیجہ ہے،جس پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے‘‘۔
مزید اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسانی ذ ات کا کوئی وجود نہیں اور نہ ہی شعور اپنا وجود رکھتا ہے،حسیات کے ذریعے پیغامات انسان کے ذ ہن میں پہنچتے ہیں۔ذ ہنی سرگرمی کے عمل سے شعور پیدا ہوتا ہے۔مالیکیول اور ایٹم ہماری کمسٹری بناتے ہیں،نیورو کیمیکل ہارمونز سے رجحانات اور خیالات پیدا ہوتے ہیں۔نیورو فائر کر کے ذہن کو متحرک کرتے ہیں اور بائیو کیمیکل کے ذریعے ایک مخصوص ماحول میں ذ ہن متحرک ہوتا ہے،اور یہ سارے طبعی عمل کے ذریعے عمل کرتے ہیں۔ایک طویل اسباب و علل اور پیچیدگیوں کے عمل سے گزر کر ہماری خواہشات اور دما غی کیفیت مرتب ہوتی ہے اور یہ سارا عمل طبعی میکانکی اصولوں کے تحت ہوتا ہے،اگر عصبی نظام میں ذ را سا بھی تعطل پیدا ہو جائے تو سارا ذ ہن و شعور کا عمل متا ثر ہو جاتا ہے کیونکی ہماری ذ ات سے آزاد میکانکی قوتوں کے تابع ہماری آرزوئیں اور ارادے ہوتے ہیں جس میں انسان کے ذ اتی ارادے کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
پروفیسر مو صوف کے نزدیک انسان کا ذہن اور شعور مکمل طور پر طبعی اور فطری قوتوں کے تابع ہے جس میں انسانی ارادے کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ہے۔اس سارے سائنسی اور فطری عمل کے بعد انسان کے ذہن اور ذات کی تشکیل و تعمیر سماجی عمل کے ذ ریعے ہوتی ہے۔انسانی ذ ات اور شعور اپنے آخری درجے میں سوشل کنسٹرکشن کے زریعے آپنی حیثیت کا تعین کرتے ہیں اس کی وہ نفی کر رہے ہیں جس سے انسان کی خلاق اور صاحب ارادے ہونے پر ضرب کاری لگتی ہے۔ 
اسی فلسفیانہ نقطہ نظر سے آئن سٹائن بھی انسان کی جبریت کے قائل نظر آتے ہیں ،’’میں فلسفیانہ طور پر انسان کی آزادی پر یقین نہیں رکھتا۔ہر شخص نہ صرف خارجی اثرات پر آپنے ردعمل کا اظہار کرتا ہے بلکہ اپنے داخلی ضروریات اور تقاضے بھی اس کو رد عمل کرنے پر اکساتے ہیں‘‘۔یعنی انسان ایک طرف داخلی اور خارجی قوتوں پر آپنے ردعمل کا اظہار کرتا ہے،جس میں اس کی جبلت اور شعور کا عمل دخل ہوتا ہے جبکہ وہ قوتیں اس کے کنٹرول سے باہر ہوتی ہیں مگر ان پر دسترس حاصل کرنے کے لئے اس کی کاوش شعوری اور خود ارادیت کی حامل ہوتی ہے جس کو ہم جبر و قدر کی باہمی کشمکش سے تعبیر کر سکتے ہیں،اس بنا پر فطرت اور سماج میں قائم جبر کے خلاف انسانی شعور مزاحمت کرتا ہے جس کا تعلق سماجی تشکیل سے ہوتا ہے۔
ماہر جنیات رچرڈ ڈاکنز کہتے ہیں کہ انسان جین کو آپنے اوپر سوار کئے ہوئے ہے اور ایک مشین کی طرح اس کو لئے پھر رہا ہے تا کہ وہ زندہ رہ سکے۔ہمارا ہر کام جین کا متعین کیا ہوا ہوتا ہے۔ہماری جبلت ہمارے ہر رو یے اور رد عمل کی رہبری کرتی ہے،ہماری نا آسودہ خواہشات نئے پیداواری عمل کے ساتھ ہ آہنگ ہو کر کامیابی کے زینے طے کرتی ہیں۔ہم آپنے آباؤ اجداد کی جبلی عادات اور خصائص کے تابع رہ کر زندگی گزارتے ہیں،جو ہمیں ورثے میں ملی ہوتی ہیں اسی ہی کے تحت جہد للبقا کا سفر طے ہوتا ہے ہماری ہر کامیابی کے بین ا لسطور میں جنس مخالف کو خوش کرنے کا جذ موجود ہوتا ہے جس سے زندگی کے تمام شعبہ ہائے حیات میں حرکت اور ترقی کا سلسلہ جاری و ساری ہے‘‘۔
رچرڈ ڈاکنز کے نزدیک اراد ے کی آزادی اور انسان کے عمل کا تعلق جنس اور وراثت سے جڑا ہوا ہے جس کے تحت وہ عمل کرتا ہے،جو جہد للبقا کے ساتھ ساتھ جنس اور جمالیات سے ہم آہنگ ہو کر عمل کرتا ہے اور یہ کام وہ ہر پیدا واری عمل کے ساتھ شریک ہو کر سر انجام دیتا ہے،قوت ارادی کو تقویت دینے والا یہ جذ بہ اپنے اندر تسخیر اور تقدیر شکنی کی خصوصیات کا حامل ہے، ان کے نزدیک جین اور توارث کو ذہن کی سماجی تشکیل پر برتری حاصل ہے گرچہ دوسری طرف وہ پیداواری عمل میں بھی برابر کا شریک ہوتا ہے۔
انسانی دماغ اور اعصابی نظام کے معالجین و ماہرین کی تحقیق بتاتی ہے کہ دماغ کے کیمیائی مادے انسان کے مزاج،کردار ،ر خواہشات اور ذ ہنی سرگرمی کی فعالیت کا تعین کرتے ہیں،اگر اعصابی نظام میں بعض کیمیائی مادوں کا توازن بگڑ جائے تو انسان کے دماغ کی کار کردگی متاثر ہوتی ہے،تو اس سلسلے میں قوت فیصلہ متاثر ہوتی ہے اس بنا پر انسان کا شعور اور ذات نیورو سائنس کے مرہون منت ہیں۔ارادے کی آزادی کو جتنے باہر سے خطرات کا سامنا ہے اتنے ہی خطروں کا اس سے داخلی طور پر بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔انسان کے دماغ میں قلمی مادہ(ڈوپا مائن )جو یک خلوی میٹا بولزم کا پروڈکٹ ہے میں کمی آجائے تو انسان کے اندر بے حسی اور مردم بیزاری پیدا ہو جاتی ہے اور دماغ کا حصہ کم فعال ہو جاتا ہے،کیونکہ جین کی صحت کا تعلق کیمیائی مادوں کے تناسب سے ہے۔
دماغ کا وہ حصہ جسے (ہپو کمپس) کہتے ہیں ،جس کاتعلق یاداشت اور وقوف سے ہوتا ہے،عمومی سائز سے کم ہو تو ایسی شخصیت میں ہٹ دھرمی،کٹر پسندی اورحتیٰکہ نسل پرستی کے جذ با ت زیادہ مستحکم ہو جاتے ہیں، ایسے انسان کسی نئی چیز کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔لکیر کے فقیر بنے رہتے ہیں۔اس سلسلے میں برین کمسٹری کا بڑا عمل دخل ہے،گویا ارا د یت پسندی یاا نسان کے فری ول ہونے میں اس کی ذہنی ساخت اور کیمیائی مادوں کے کردار کے عمل دخل سے انکار نہیں کیا جا سکتا،شعور اور ذا ت جو بعد کی پیداوار ہیں سراسر اعصابی نظام کے زیر اثر ہیں۔انسان کی ارادے کی آزادی پر یہاں بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے جس کو حیاتیاتی یا نفسیاتی جبر سے موسوم کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
مسائل کی تشخیص بذات خود جبریت پر قدرت حاصل کرنے کا دوسرا نام ہے جس سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تحقیق و جستجو سے جبریت کے برف کے بھاٹ کو آہستہ آہستہ پگھلایا جا سکتا ہے۔ نیورو پلاسٹی والوں کے نزدیک انسانی ذ ہن اور نظریات مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں،اور انسانی ذہن کبھی بھی کسی ایک حالت میں نہیں رہتا ،یہ لچکدار ہے تبدیلی کو قبول کرتا ہے اور نئے سے نئے سانچوں میں ڈھلتا رہتا ہے،اس کی فطری تشکیل ہارڈ وائرڈ نہیں ہوئی ہے بلکہ سافت وائرڈ ہے۔ اسی طرح (ایپی جینٹی )والے بھی ذ ہن کے لچکدار اور تبدیلی قبول کرنے کے عمل کو جائز قرار دیتے ہیں کہتے ہیں کہ جنیٹک سٹرکچر جو ہمیں والدین کی طرف سے ملتا ہے مشق اور عمل کے ذ ر یعے اس میں مسلسل تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے اور موروثی ا ثرات ختم ہوتے رہتے ہیں۔
تندرست جین کا تعلق صحت،خوراک اور اچھے ماحول سے منسلک ہے۔ اس کے بر عکس ہیومین سائیکالوجی کے نزدیک انسان کچھ خلقی عادات اور خصائص لے کر پیدا ہوتا ہے جس پر خارجی حالات اثر انداز نہیں ہوتے وہ اس کی پرواہ کئے بغیر ان پر قابو پا لیتا ہے اسی طر ح رویوں کے مطابق ارادے کی آزادی ایک واہمہ ہے انسان کے کردار پر ماحول کے گہرے اثر ات مرتب ہوتے ہیں اور اسی کے تحت کردار ردعمل کا اظہار کرتا ہے،جیسے جار حانہ والدین کی اولاد بھی جارحیت پسند ہوتی ہے وہ یہ جارحیت اپنے ماحول سے قبول کرتے ہیں جو ان کے والدین میں پایا جاتا ہے۔ اس لئے انسانی شخصیت و ارادہ خارجی اثرات اور دباؤ سے آزاد نہیں رہ سکتا۔
سماجی و سائنسی ترقی اور انسان دوست فلسفے کے حامل دانشوروں کے نزدیک انسان تاریخی و معاشرتی جبر میں پیدا ہوتا ہے، گذشتہ ماضی کے حالات و واقعات کے مختلف سلسلوں کے نتا ئج کی وہ پیداوار ہوتا ہے،جن کا آغاز اس کی پیدائش سے پہلے ہو جاتا ہے اور وہ آزاد ارادے کا حامل نہیں ہو سکتا،کیونکہ تاریخی طور پر جو سیاسی و معاشی نظام اس کو ورثے میں ملا ہوتا ہے۔اسی کے تحت اس کا مقدر متعین ہوتا ہے،اس بنا پر معاشرے کی ان گنت سماجی بندھنوں میں اس کی شخصیت جکڑی ہوتی ہے،جس میں اس کا شعور،ذات اور شخصیت اضافی ہوتے ہیں،اصل قدر معاشی قدر ہوتی ہے جس پر پیداواری قوتوں کا کنٹرول ہوتا ہے۔فری ول یا ارادے کی آزادی کی صحیح شکل تعلقات پیداوار میں ظاہر ہوتی ہے،جہاں ہر کارکن،ملازم اور اجرت پیشہ مجبور محض ہوتے ہیں۔
ان کی جسمانی اور دماغی صلاحیتوں پر سرمایہ دار جاگیر یا صنعت کار کا قبضہ ہوتا ہے۔پیداواری قوتوں پر جب تک افرا اور گروہوں کا کنٹرول رہے گا انسان شخصی اور اجتماعی طور پر نہ آزاد ہو سکتا ہے اورنہ ہی خود ارادیت کا مالک،اس کے لئے طبقاتی شعور اور نظام میں تبدیلی کے لئے طبقاتی جدوجہد ضروری ہے،کیونکہ تمامتر انسانی تاریخ طبقاتی جدوجہد سے عبارت ہے۔قبائلی سماج ذ رعی سماج میں داخل ہوا اور زرعی سماج ترقی کرتے ہوئے صنعتی سماج میں ،اسی طرح صنعتی ترقی اور استحصال کے رد عمل میں ایک سوشلسٹ سماج میں انسان داخل ہوا اس بنا پر سارے طبقات اپنے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے اس منزل معاشرے پر پہنچے۔
اسی جدوجہد میں فلاحی ریاستیں قائم ہوئیں اور شخصی و اجتماعی آزادی کے لئے انقلابی و ارتقائی سطحوں پر انسان ارادیت پسندی کی جنگ لڑ رہا ہے۔انسان کے پاس وہی کچھ ہوتا ہے جو اس کو تاریخی طور پر ورثے میں ملا ہوتا ہے جہاں اس کے شعور اور ارادے کا عمل و دخل نہیں ہوتا،آپنے حالات اور سماجی وجود کے تعین کے لئے اس کو انفرادی اور اجتماعی سطحوں پر جنگ لڑنی پڑتی ہے تب ہی سماجی و معاشی جبر اور بیرونی دباؤ سے نجات ممکن ہے حقیقی آزادی سیاسی معاشیات میں پوشیدہ ہوتی ہے،جہاں انسان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اس کے تخلیقی جوہر بھی آزادانہ طور پر پنپ سکیں،فرد دوسرے و فرد کا غلام نہ رہے۔کیونکہ انسان پیدا ہی سماجی بندھنوں میں ہوتا ہے،جہاں اس کے شعور اور ارادے کی کارفرمائی نہیں ہوتی۔
بقول پیغمبر انقلاب کارل مارکس249249 انسان ناگزیر اور آزادانہ طور پر’’بوقت پیدائش،، ایسے سماجی تعلقات میں جنم لیتا ہے جو اس کی مرضی سے آزاد ہوتے ہیں‘‘۔انسان اکیلا نہ ہی تاریخ بنا سکتا ہے اور نہ ہی اپنا مقدر سنوار سکتا ہے قومیں اجتماعی طور پر اس کے لئے جدو جہد کرتی ہیں ،اجتماعی جدوجہد کے نتیجے میں نظام تبدیل ہوتا ہے،جس میں آزادی،برابری اور ارادیت پسندی کے گیت گائے جا سکتے ہیں جہاں نوحہ خوانی کا کسی کو موقع نہیں ملتا۔کارل مارکس کے نزدیک’’ حالات انسان کو وہی کچھ بناتے ہیں جس طرح کے حالات اس نے پیدا کئے ہوتے ہیں‘‘۔جس کا مطلب ہے کہ صرف جدوجہد سے ہی انسان انفرادی اور اجتماعی سطح پر حالات تبدیل کر سکتا ہے۔
سماج میں انفرادی اوراجتماعی سطحوں پر بدتر غلامی معاشی غلامی ہوتی ہے،اگر فرد اور اجتماع معاشی غلامی سے نجات حاصل کر لیں تو باقی مجبوری و غلامی کی صورتیں اضافی یا ذاتی ہو جاتی ہیں جن پر فرد قوت ارادی سے قابو پا لیتا ہے۔ کیونکہ شعور، وجود ، ارادیت اور ذات اس وقت تک بے معنی رہتے ہیں جب تک سماج میں فرد کے بہترین اور محفوظ معاشی وجود کا تعین اور تحفظ نہیں ہو جاتا۔ورنہ انسان کی حیثیت کسی بھی ممالیہ جانور سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔بقول مارکس’’یہ انسان کا شعور نہیں جو اس کے معاشرتی وجود کا تعین کرتا ہے بلکہ اس کے برعکس اس کا سماجی وجود ہوتا ہے جو اس کے شعور کا تعین کرتا ہے‘‘۔
انسان اپنے آپ کو کتنا ہی آزاد اور خود مختار کیوں نہ سمجھے وہ خارجی ماحول کے زیر اثر ہوتا ہے۔ماحول کے اس پر گہرے اثرات ہوتے ہیں بیرونی دباؤ اور مداخلت پر وہ صرف آپنے رد عمل کا اظہار کرتا ہے۔اسٹیو ٹیلر اپنے مضمون’’ ری کلیمنگ فریڈم‘‘ میں اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں’’ کرداریت پسند نفسیات میں یہ نقطہ مرکزی اہمیت رکھتا ہے کہ آپ خود کو کتنا ہی آزاد کیوں نہ سمجھیں اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کا دعویٰ کریں لیکن حقیقتاًوہ کچھ آپ کریں گے،سوچیں گے، یا محسوس کریں گے وہ سب کچھ ماحول کے اثرا ت کا نتیجہ ہو گا۔تمہارا کردار صرف رد عمل کا اظہار ہوگا اور تمہارے ذہن کو جو متحرک کرے گا وہی کچھ ہو گا جو اس نے ماحول سے اخذ کیا ہے‘‘۔
اس بنا پرحقیقی ارادے کی آزادی کا تصور نا ممکن ہے کیونکہ علمی اعتبار سے بھی اس سلسلے میں معنی کی تشنگی ، شکستہ آرزوؤں اور رجعت قہقری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔سٹارسن اپنے مضمون ’’آزادی اور عقائد‘‘ میں کچھ یوں رقمطراز ہے۔’’حقیقی معنوں میں ارادیت پسندی کا تصور نا ممکن ہے،کیونکہ خواہشات کی تکمیل کے سلسلے میں لا محدود رکاوٹیں اور صورتحال کا بار بار پلٹ آنے کا معاملہ جو نظر آتا ہے اور خواہشات کے قوانین کی شکستگی عود کر دیکھنے میں آتی ہے سے پتہ چلتا ہے کہ کامل ارادے کی آزادی کا تصور نا ممکن ہے‘‘۔
اس کے بر عکس مثالیت پسندوں کا آذ ادی اور ارادیت پسندی کا جو تصور ہے وہ غیر حقیقی اور سماجی زندگی سے لا تعلقی کا اظہار کرتا ہے۔’’کہ میں ایک روح ہوں جس کی کوئی شکل نہیں اور کون و مکاں سے آزاد ہوں،جو کچھ میں سوچتا ہوں میں وہی ہوں۔،، اس بنا پر میں آپنے ارادے میں آزاد ہوں کے بوگس تصور سے جس کا انسانی زندگی سے کوئی تعلق نہیں،خالصتاًتصوریت پسندی اور روحانی انداز فکر اختیار کرنے سے معاملات الجھتے زیاد ہ اور سنورتے کم ہیں۔جس میں کٹڑ پسندی ،ہٹ دھرمی اور شدت پسندی کی صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔
(
جاری ہے)

One Comment

  1. Nadeem Asad says:

    Hitherto, its been a good descriptive n analytical application of logical skills based on Inductive Reasoning….. without forcing the conclusion,going very well till now, like a nonaligned movement drawing upon all traditions. Its interesting to see where Prof Chohan’s Comparative Analysis will lead him to. I will be waiting for the Continuum to take a shape. Transformation of liquid into solid awaited. Best of luck,Sir.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *