ایک قدیم مخطوطہ

کافکا

0,2345

ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے دفاعی نظام میں بہت سی کوتاہیاں رہنے دی گئی ہیں اب تک ہم نے اس معاملے سے کوئی سروکار نہیں رکھا تھا اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں لگے رہتے تھے لیکن حال میں جو باتیں ہونے لگتی ہیں انھوں نے ہمیں تنگ کرنا شروع کردیا ہے۔

شاہی محل کے سامنے والے چوک میں میری جوتے بنانے کی دکان سے ہے۔ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ جوں ہی میں دکان کھولتا ہوں مجھے چوک کو آنے والی ہر سڑک کے ناکے پر مسلح سپاہی تعینات نظر آتے ہیں لیکن یہ ہمارے سپاہی نہیں ہیں۔ بظاہر یہ شمال کے صحرا نشین ہیں ۔ کسی ایسے طریقے سے جو میری سمجھ سے باہر ہے یہ صحرانشین دارلسلطنت کے اندر گھس آئے ہیں حالانکہ دارالسلطنت سرحد سے بہت فاصلے پر ہے کچھ بھی ہو یہ سپاہی یہاں موجود ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر صبح ان کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

جیسی کہ ان کی سرشت ہے، یہ کھلے آسمان کے نیچے پڑاؤ ڈالتے ہیں اس لیے کہ انہیں مکانوں سے نفرت ہے یہ سپاہی ہی تلواروں پر باڑھ رکھنے ، تیروں کی نوکیں بنانے اور گھڑ سواری کی مشقیں کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔ یہ پرامن چوک جس کی صفائی ستھرائی کا ہمیشہ خاص خیال رکھا جاتاتھا اس کو ان صحرائیوں نے صحیح معنوں میں اصطبل بنا کر رکھ دیا ہے ۔ کچھ کچھ وقفے کے بعد ہم لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اپنی دکانوں سے جھپٹ کر باہر نکلیں اور کم ازکم بدترین ہی غلاظتوں کو ہٹا دیں لیکن ایسا بھی کم ہو پاتا ہے اس لیے کہ ہماری محنت کا کچھ حاصل نہیں ہوتااور اس کے علاوہ اس کوشش میں اس کا بھی اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں ہم گھوڑوں کی ٹاپوں تلے نہ آجائیں یا کوڑوں کی مار سے اپاہج نہ ہوجائیں۔

ان صحرائیوں سے گفتگو ناممکن نہیں ہے ۔ ہو ہماری زبان نہیں جانتے ۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کی اپنی زبان بھی برائے نام ہی ہے۔ ان کا آپس میں بولنے کا انداز بہت کچھ کووّں سے ملتا ہوا ہے۔ کووّں کی تیز کریہہ چیخ کی سی کوئی نہ کوئی آواز برابر ہمارے کانوں میں آتی رہتی ہے۔ہمارا رہن سہن اور ہمارے رسم ورواج ان کی سمجھ میں نہیں آتے اور ان کو انہیں سمجھنے کی فکر بھی نہیں ہے اس لیے اگر ہم ان سے اشاروں میں بات کرتے ہیں تو ہو اسے بھی سمجھنے پر تیار نہیں ہوتے۔ 

آپ ان کے سامنے اشارے کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ کے جبڑے بیٹھ جائیں اور کلائیوں کی ہڈیاں اتر جائیں پھر بھی وہ آپ کی بات نہیں سمجھیں گے کبھی نہیں سمجھیں گے۔ اکثر وہ طرح طرح کے منہ بنانے لگتے ہیں اس وقت ان کی پتلیاں پھر جاتی ہیں اور ان کے ہونٹوں پر جھاگ آجاتا ہے لیکن اس سے بھی ان کو مراد کچھ نہیں ہوت دھمکی بھی نہیں۔ وہ ایسا بس اس لیے کرتے ہیں کہ یہی ان کی فطرت ہے ۔ ان کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے لے لیتے ہیں ۔ آپ اس کو استحصال یا جبر بھی نہیں کہہ سکتے ۔ بس وہ کسی چیز پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں اور آپ چپ چاپ وہ چیز ان کے لیے الگ چھوڑ کر الگ ہو جاتے ہیں۔

میرے یہاں سے بھی وہ بہت بڑھیامال لے چکے ہیں لیکن میں اس کی شکایت بھی نہیں کر سکتا اس لیے کہ میں دیکھتا ہوں کہ مثلاً قصاب بے چارے پر کیا گذرتی ہے ۔ جیسے ہی وہ گوشت لے کر آتا ہے، وحشی سارے کا سارا گوشت کھاجاتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گھوڑا اور سوار دونوں برابر لیٹے رہیں اور گوشت کا ایک ہی لوتھڑا ایک اس سرے سے ، ایک اس سرے سے بھنھوڑ رہے ہوتے ہیں ۔ قصاب کے اوسان گم ہیں لیکن اس کی اتنی ہمت نہیں پڑتی کہ گوشت لانابند کردے۔ ہم لوگ بہرحال اس کی مشکل کو سمجھتے ہیں اور اس کے لیے کام چلانے بھر روپے کا بندوبست کردیتے ہیں۔ اگر ان وحشیوں کو گوشت نہ ملے تو نہ جانے وہ کیا سوچیں ۔ یوں بھی جب کہ ان کو روزانہ گوشت مل رہا ہے معلوم نہیں وہ کیا سوچتے ہیں۔

ابھی کچھ دن ہوئے قصاب کو خیال آیا کہ اور کچھ نہیں تو جانور کاٹنے ہی کے جھنجھٹ سے چھٹکارا پا لیا جائے ۔ چنانچہ ایک صبح وہ ایک زندہ بیل لے آیا۔ لیکن ایسا کرنے کی جرات وہ پھر کبھی نہ کرے گا۔ میں اپنے سارے کپڑوں، کمبلوں ، گدوں میں سردیے دکان کے اندر فرش پر پورے ایک گھنٹے تک پڑا رہا تھا۔ محض اس لیے کہ مجھے مرتے ہوئے بیل کا ڈکرانا نہ سنائی دے جس پر وحشی ہر طرف سے ٹوٹے پڑرہے تھے اور اس کا جیتا گوشت دانتوں سے نوچ نوچ کر کھارہے تھے۔ خاموشی ہو جانے کے بعد بہت دیر بعد میں باہر آنے کی ہمت کر سکا۔ وہ سب کے سب جھک کر بیل کے ڈھانچے کے ارد گرد پڑے ہوئے تھے۔ جیسے شراب کے پیپے کے گر د شرابی۔

یہی وہ موقع تھا جب مجھے خیال سا ہوا کہ میں نے حقیقتاً بادشاہ سلامت کو محل کے ایک دریچے میں کھڑے دیکھا ہے ۔ عام طور پر محل کے اندر والے باغ میں گذارتے ہیں لیکن اس موقع پر وہ ایک دریچے میں کھڑے ہوئے تھے یا کم ازکم مجھ کو ایسا ہی لگا اور سرجھکائے دیکھ رہے تھے کہ ان کے محل کے سامنے کیا ہو رہا ہے۔

’’آخر ہونا کیا ہے ؟‘‘ ہم سب خود سے پوچھتے ہیں ’’ ہم کب تک یہ بوجھ اور اذیت اٹھا سکتے ہیں ؟ شہنشاہ کے محل نے ان وحشیوں کو یہاں کھینچ بلایا ہے لیکن اب اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ان کو واپس کیونکر بھگایا جائے ۔ پھاٹک بند پڑا ہے ۔ فوجی محافظ جو ہمیشہ اوپچی بن کر باہر نکلا کرتے تھے اب سلاخ دار کھڑکیوں کے پیچھے رہتے ہیں۔ ملک کی حفاظت ہم کاریگروں اور بیو پاریوں پر چھوڑ دی گئی ہے۔ لیکن یہ کام ہمارے بس کا نہیں ہے ، نہ کبھی ہم نے اس کی اہلیت کا دعویٰ کی۔ یہ کوئی نہ کوئی غلط فہمی ہے اور یہی ہم کو تباہ کر کے رہے گی‘‘۔

ترجمہ:نئیر مسعود

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *