‘چہروں پر ذلت’ بن جانے والی موت

098,12300nmk

مقبول احمد ۔بون، جرمنی

خیبر پختونخوا میں علیشا کی موت ایک المناک واقعہ ہے۔ لیکن اس میں انوکھی بات کیا ہے؟ کوئی بھی موت خوش کن نہیں ہوتی اور قتل سارے ہی قابل مذمت ہوتے ہیں۔

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ کون سی علیشا کی موت، تو آپ کو یہ تحریر اس سے آگے نہیں پڑھنی چاہیے۔ یہ چند لفظ ایسے انسانوں اور خاص کر ایسے پاکستانیوں کے لیے ہیں جن کے ضمیر کے جاگتے رہنے کا ان کے امیر غریب ہونے، شیعہ سنی ہونے، مسلم یا غیر مسلم ہونے، ان کی مالی حالت یا پھر ان کے مرد یا عورت ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ جن کے لیے باہر کی تمام آوازوں سے زیادہ گونج دار اندر سے سنائی دینے والی آواز ہوتی ہے۔

علیشا کی موت کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ جو کسی گھر میں نئی زندگی کی آمد پر رقص کر کے، خوشیاں منا کر کسی نہ کسی طرح اپنا گزارہ کرتے ہیں، اور اس سماجی دھتکار کو برداشت بھی کر لیتے ہیں، انہی میں سے ایک اس طرح موت کے منہ میں چلا گیا کہ پورے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو شرم سے پانی پانی کر گیا۔

ہیجڑا، خواجہ سرا یا ٹرانس جینڈر، ہمارا آپ کا گالی کی طرح دیا ہوا یہ نام کوئی بھی ہو، ایک انسانی جان تھی، ایک شہری تھا پاکستان کا یہ انسان، جو زخمی ہونے کے بعد ایسے مسیحاؤں کے ہاتھوں بھی مارا گیا، جو اس بات پر بحث کرتے رہے کہ علیشا کو زنانہ وارڈ میں رکھا جائے یا مردانہ وارڈ میں۔ نتیجہ یہ کہ علیشا کو ان دونوں طرح کے وارڈز میں سے کسی میں بھی جگہ نہ ملی؛ حقارت کی نظر اور سماجی تعصب جیت گئے، زندگی ہار گئی اور نئے پرانے پاکستان کی لفظی جنگ لڑنے والے دکانداروں کے ووٹ بینک میں سے ایک ووٹ کم ہو گیا۔

لیکن اس ایک زندگی، اس ایک ووٹ سے بھلا کیا فرق پڑتا ہے؟ اس وقت پوری دنیا میں سات ارب سے زیادہ انسان ہیں اور پاکستان کی قریب بیس کروڑ کی آبادی میں یقینی طور پر دس کروڑ سے زائد ووٹر۔ پھر یہ بات صدیوں پہلے بھلا آج کے پاکستان کے لیے تھوڑے کہی گئی تھی کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

ویسے بھی یہ کوئی سزائے موت یا عمر قید کی وجہ بننے والا قتل تھوڑے تھا۔ یہ تو محض ایک انسان کا ملا جلا قتل تھا، جو حملہ آور اور ڈاکٹروں نے مل کر کیا۔ علیشا کی کفن میں لپٹی لاش یوں تو بڑی پرسکون تھی کہ علیشا کو اس کے جسمانی زخموں کی تکلیف سے نجات مل گئی تھی، لیکن اگر دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والا دل ہو تو پاکستان کا یہ شہری اپنی موت سے پہلے پاکستانی معاشرے کے ضمیر کے منہ پر تھوک کر گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم میں سے کتنوں نے محسوس کیا ہے کہ یہ ذلت ہمارے چہروں پر آن گری ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *