خواب۔۔ایک عربی کہانی سے ماخوذ

سبطِ حسن

Muslim-Praying-PPT-Backgrounds

ادریس کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ تھی۔ وہ ایک ایسے گھر میں پیدا ہوا، جس میں سادہ سی روٹی تو مل جاتی ہے مگر زندگی کی چھوٹی چھوٹی سی خواہشیں، اوّل تو پوری ہی نہیں ہوتیں، اگر ہوبھی جائیں تو ان کی قیمت اورانتظار کا بوجھ برداشت سے باہر ہوتا ہے۔ ایسے گھرانوں کے افراد کی صورتوں پر ایک مستقل بیچارگی کا عکس نقش ہوتا ہے۔ جیسے سخت اذیت کی صورتحال میں کسی کی تصویر اتارلی جائے اور اس تصویر کو مستقل طور پر اس کے چہرے پر لگادیا ہو۔

ادریس کے والد سکول میں استاد تھے۔ ان کی بندھی ٹکی تنخواہ سے بس سادہ روٹی ہی چلتی تھی۔ وہ بڑی منڈی سے سستی سبزی، سیروں میں لے آتے یا سبزی خریدنے کے لئے شام ہونے کا انتظار کرتے۔ شام کوسبزیاں پھینکنے کی بجائے، دکاندار نہایت سستے داموں میں باسی سبزیاں ان کو فروخت کردیتا تھا۔ یہ سبزیاں ایک دو وقت کے لئے نہیں، دِنوں کے لئے پکتی تھیں۔ اگر پالک آجاتی تو اس میں آلو ڈال دیے جاتے اور اس سالن کو صبح شام کئی دِنوں تک کھایا جاتا۔ اسی طرح اگر سستے شلجم مل جاتے تو ان کا کورس مسلسل چلتا رہتا۔ ایسے سالن کو مسلسل کھانے سے زبان پر ان کا ذائقہ ختم ہوجاتا۔

ادریس تازہ سالن سے لے کر مکمل طور پر سالن باسی ہونے کی درجہ وار صورتحال بہت اچھی طرح محسوس کرسکتا تھا۔ جن دنوں ایک ہی کھانے سے گھر والوں کا دِل اچاٹ ہوجاتا، سب کی زبان پر لاتعداد کھانوں کے ذائقے مچلتے۔ ان ذائقوں میں سب سے زور دار ذائقہ گوشت کا ہوتا تھا۔ گوشت کھانے کے لئے بے قراری اس قدر بڑھ جاتی کہ وہ تکے کبابوں کے دکان پر چلا جاتا اور وہاں بکھری گوشت کی مہک میں لمبے لمبے سانس لینا شروع کردیتا۔ ایک دفعہ بچپن میں، ایک پنسل لینے کے لئے اسے چھ ماہ کا انتظار کرنا پڑا تھا۔ ہوا یہ کہ اس کے ہم جماعت کے پاس ایک پھولدارپنسل تھی، جس کے ایک سرے پر لفظ مٹانے والا ربڑبھی لگاہوا تھا۔

اس کے ہم جماعت نے دوسرے بچوں کو جلانے کے لئے یہ پنسل بڑے فخر سے دکھانا شروع کردی۔ سب بچے اسے انگلیوں میں تھام کر اس کے سڈول جسم محسوس کرتے۔ ادریس نے بھی اسے چھُوکر دیکھا۔ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ جاتے جاتے دھینگامشتی بڑھتی گئی اورآخر ایک بچے نے اسے پاؤں کے نیچے دبا کر توڑدیا۔ سب بچوں کا دبادباخیال تھا کہ ایسی خوبصورت پنسل صرف ایک بچے کے پاس کیونکر ہوسکتی ہے۔ اسی لئے اس کے ٹوٹنے پر کسی کو ملال نہ ہوا۔ البتہ ایسی پنسل کو حاصل کرنے کی خواہش سب کے دِلوں میں بہت نیچے تک اترگئی۔ ادریس کو یہ پنسل حاصل کرنے کے لئے عید تک کا انتظار کرنا پڑا۔جب عید آئی تو اس کی پھوپھی نے اسے چند سکّے عیدی کے طور پر دیے۔ سکّے دیکھتے ہی، ادریس کو پنسل کا خیال آیا اوروہ سکّے مٹھی میں دبائے بازار کی طرف بھاگ گیا۔
ادریس کا باپ اورخود ادریس بھی استاد نہیں بننا چاہتا تھا۔ اس نے گرتے پڑتے میٹرک تو کرلیا، مگر اس کے آگے جانے کی ہمت نہ ہوئی۔ کالج کی پڑھائی کرنے کا مطلب،سستی سبزیوں کے سالن کے کورس کا دورانیہ بڑھانا یا کھانے میں کسی چیز کی کمی تھی۔ اس لئے ادریس نے آگے پڑھنے کی بجائے ایک دکان پر حساب کتاب رکھنے کی نوکری شروع کردی۔ اس نوکری سے معمولی تنخواہ ملتی تھی اوراس کی جمع جوڑکرکے ادریس نے نوکری کے ساتھ ساتھ ایف۔اے، بی۔اے اورپھر ایم۔ اے ایک پرائیویٹ طالب علم کے طور پر مکمل کیا۔ وہ اعلیٰ ملازمتوں کے امتحان میں بیٹھنا چاہتا تھا۔ امتحان میں بیٹھا مگر کامیابی نہ مل سکی۔ آخر کار اسے پڑھانے کا کورس کرکے استاد ہی بننا پڑا۔

ادریس درمیانے قد کا منحنی سا انسان تھا۔ اس کا اوپر والا دھڑ، سر سے شانوں تک، آگے کی طرف جھکارہتا تھا۔ جیسے اس کے شانوں پر ایک ان دیکھا بھاری بوجھ پڑا ہو۔وہ وقت سے پہلے گنجاہوچکا تھا۔ اس کے چہرے کے نقش اگرچہ اچھے تھے مگر وہ دیکھنے میں بالکل پرکشش نہ تھا۔ خوراک کی کمی اورحالات کی ذلت نے اس کے چہرے پر مستقل بسیرا کرلیا تھا۔ اس کا چہرہ بالکل ان لوگوں جیسا تھا، جن کو دیکھ کر آسودہ حال لوگوں کو خواہ مخواہ غصہ آجاتا ہے اور وہ انہیں، ثبوت ہویانہ ہو، چوریابھکاری سمجھنے لگتے ہیں۔ استاد بننے کے بعد، ادریس کے مزاج میں مزید تلخی آگئی تھی۔ وہ اکثر شکایتی لہجے میں بات کرنے لگا۔ اسے سکول جانا بالکل اچھا نہ لگتا تھا۔ صرف تنخواہ کی کشش اسے سکول جانے پر مجبور کرتی۔ اسے بچوں کو پڑھانے میں بھی کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ ہیڈماسٹر کے خوف سے کلاس میں تو ضرور چلا جاتا مگر کلاس میں جاتے ہی پریڈ کے گزرجانے کا انتظار کرتا رہتا۔ بچوں کو سخت اذیت ناک سزائیں دیتا، بلکہ نئی نئی سزائیں ایجاد کرتا۔

زندگی کی تلخی شادی کے بعد اوربھی بڑھ گئی۔ادریس اپنی پھوپھی زاد سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ وہ گڑیا سی، چھوئی موئی لڑکی تھی۔ اس لڑکی سے شادی کرنے کی خواہش، اس کے دِل میں ایک فوارے کی طرح پھوٹی مگر اس کا علم کسی اورکوہونے سے پہلے، ادریس کی شادی اس کی خالہ زاد سے کردی گئی۔ جب یہ دلہن بن کر اس کے گھر آئی تو محلے کی عورتوں نے اسے دیکھ کر، اس کی بجائے جہیز کی تعریف ہی پر اکتفا کیا تھا:۔
’’
ماں باپ نے بہت کچھ دیا ہے، اللہ لڑکی کے نصیب اچھے کرے۔۔۔!‘‘

شادی ہوگئی۔ بچے پیدا ہونے لگے۔ ادریس کے والد کی پنشن ہوگئی۔ اب سستی سبزیاں خریدنے کی ذمے داری ادریس کی ہوگئی۔ ان دنوں ادریس کو یہ خیال ہر وقت ڈسنے لگا کہ اس کی زندگی میں کوئی بھی لذت باقی نہیں رہی۔ کوئی کام بھی ایسا نہیں، جس کو کرکے دل میں خوشی بھرجائے۔ زندگی سستی روٹی مہیاکرنے کے دائرے سے باہر نکلتی ہی نہیں۔ وہ سب سوچتا تو گھبرا جاتا۔ گھبراہٹ کا یہ احساس ہر وقت اس کے دماغ پر چھایا رہتا۔۔۔ جیسے اس کی کوئی قیمتی چیز گم ہوگئی ہو۔ اس نے کسی سے کچھ کہنا، تو قع کرنا اور آخر کسی قسم کی خواہش کرنا، سب چھوڑ چھاڑ دیا۔ خواہش کرنا، اس کی زندگی سے اس طرح غائب ہوگیا، جیسے بھکاری کی زندگی سے اختیار ختم ہوجاتا ہے۔ اس نے ہنسنا تو کیا بولنا بھی ترک کردیا۔ وہ صرف ہوں، ہاں پر ہی گزارہ کرنے لگا۔
انہی دنوں کی بات ہے، ادریس نے ایک خواب دیکھا:۔


’’
اس کے ہاتھوں میں ایک سفید کبوتر ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں میں کبوتر کے جسم کی گرمائش اور دِل کی دھڑکن محسوس کررہا ہے۔ اچانک آسمان پر دوج کا چاند نظر آتا ہے۔ کبوتر پر پھڑ پھڑاتا اس کے ہاتھوں میں سے پھسل کر اڑجاتا ہے۔۔۔‘‘۔

ادریس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ اس کے آس پاس اس کے بچے اوربیوی سوئے ہوتے ہیں۔ بر آمد ے میں روشن بلب کی روشنی کمرے میں جھانک رہی ہوتی ہے۔ ادریس کو، ایک دوسرے میں الجھے، سوئے پڑے بچے، مدھم روشنی میں عجیب سے محسوس ہوتے ہیں۔۔۔ جیسے کیچووں کا ڈھیر۔ ایسی حالت میں لیٹے اپنے بچوں کو وہ بے بس محسوس کرتا ہے۔ اس کے دِل میں ان کے لئے ترس کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ اسی دوران اسے دور سے مرغ کی اذان سنائی دیتی ہے۔ ادریس خواب کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ہے کہ فجر کی اذانیں شروع ہوجاتی ہیں۔

(2)

ادریس کے محلے کو شہر سے ملانے والی بڑی سڑک پر ایک’’آستانہ عالیہ‘‘ تھا۔ اس آستانے کو لمبی سفید داڑھی والے ایک بزرگ چلاتے تھے۔ ان کے پاس آنے والے عقید تمندوں میں عورتوں اورخاص طور پر ان لڑکیوں کا ہجوم رہتا تھا جو اپنی شادی کی عمر سے آگے نکل چکی تھیں۔ اس بزرگ کو لوگ’’حضرت صاحب‘‘ کے نام سے بلاتے تھے۔ حضرت صاحب ہمیشہ سفید کُرتا، سفید تہمد اورسر پر سفید عمامہ باندھتے تھے۔ ان کی آنکھوں میں ہمیشہ سرمے کی گہری دھاررہتی تھی۔ آنکھوں میں لالی سی رہتی اوربے باکی کی جھلک نمایاں نظر آتی تھی۔

حضرت صاحب اگرچہ بڑی نرمی اور ہمدردی سے بات کرتے اوراکثر فقیرانہ بے نیازی کاتأثر دینے کی کوشش کرتے۔ مگر تھوڑا ساسیا نا آدمی بھی ان کے ساتھ چند منٹ کی گفتگو کے بعد ان کی باتوں کے پیچھے ایک چالاک دکاندار کو محسوس کرسکتا تھا۔ حضرت صاحب اپنے علاقے میں ہر اس سرگرمی میں نمایاں نظر آتے جس کا تعلق مذہبی رسموں سے ہوتا تھا۔ مہینے میں ایک بار آستانے پر قوالی کا اہتمام کیا جاتا اورحضرت صاحب سبز عمامہ پہنے قوالوں کے سامنے ، عقیدتمندوں کے عین درمیان بیٹھے نظر آتے۔ عقید تمندان کا ہاتھ نوٹوں پرلگواکر یا ان کے سر کے اوپر نوٹوں کا چکر دے کر قوالوں کے سامنے پھینکتے رہے۔ اس دِن لنگر کا خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا۔

حضرت صاحب جس توجہ سے ان تمام رسموں کا اہتمام کرتے تھے، انسانوں کے ذاتی دکھوں یا تکالیف کے بارے میں ان کا رویہ بالکل مختلف تھا۔ ایسے معاملات میں وہ صرف’’دعا‘‘ کو ہی کافی سمجھتے تھے۔ اکثر لوگوں، خاص طور پر محلے کے مردوں کا خیال تھا کہ حضرت صاحب ایک نہ ایک دن سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کردیں گے۔ اگر یہ نہ بھی ہوا تو وہ کسی بااثر آدمی کے لئے ووٹ مانگنے ضرور آئیں گے۔

ادریس صبح سویرے حضرت صاحب سے ملنے، ان کے آستانے پر چلا آیا۔ حضرت صاحب اس وقت آستانے کی بجائے، آستانے کے پیچھے اپنے گھر میں تھے۔ آستانے کے صحن میں بہت سے نوجوان سرپر گول ہری ٹوپیاں پہنے مختلف کاموں میں مصروف تھے۔ کوئی پودوں کو پانی دے رہا تھا تو کوئی بڑے زور شور سے آستانے کے فرش کو دھورہا تھا۔ ادریس نے جھینپتے ہوئے، بڑی دھیمی آواز میں حضرت صاحب کے بارے میں پوچھا۔ یہ پکی بات تھی کہ پاس ہی پانی نکالنے والے پمپ کی آواز میں ادریس کی آواز دب گئی تھی اورہری ٹوپی والے لڑکے نے اسے صاف طور پر نہیں سنا تھا۔ پھر بھی اس نے تنک کرکہا:۔

’’اس وقت جاؤ، حضرت صاحب، نوبجے سے پہلے کبھی نہیں ملتے۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر ہری ٹوپی والا نوجوان، حضرت صاحب کے گھر کی طرف بھاگا۔ دروازے میں حضرت صاحب کھڑے تھے۔ حضرت صاحب نے اس نوجوان سے کچھ کہا اوراس دوران وہ نوجوان پیٹ پر اپنے دونوں ہاتھ باندھے، آنکھیں جھکائے، ہولے ہولے اپنا سر اوپر نیچے ہلاتا رہا۔ ادریس نے یہ سب دیکھا اورپھر واپس مڑگیا۔ اتنے میں وہی نوجوان، ادریس کے پاس آیا اور اسے حضرت صاحب کے گھر کی طرف جانے کا کہا۔ ادریس نے حضرت صاحب کو سلام کیا۔ حضرت صاحب نے ادریس کو گھر کے دروازے کے ساتھ ایک بیٹھک میں بٹھایا اورخود گھر میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر لوٹے اور ادریس کے روبرو آکر بیٹھ گئے۔
’’
میں ماسٹر اویس کا بیٹا ہوں۔۔۔ ادریس۔۔۔ میں۔۔۔‘‘
’’
میں آپ کو پہچانتا ہوں۔۔۔ کہیے کیسے تکلیف کی۔۔۔؟‘‘
’’
رات کو میں نے ایک خواب دیکھا۔۔۔ اس کی تعبیر۔۔۔‘‘
’’
رات کو آپ نے کیا کھایا تھا۔۔۔؟‘‘
’’
آلو بیگن اور روٹی۔۔۔‘‘
’’
خواب رات کے کس پہر میں آیا تھا۔۔۔‘‘
’’
صبح، فجر کی اذانوں سے کچھ دیر پہلے۔۔۔‘‘
اس کے بعد حضرت صاحب نے خواب سنا۔ اس دوران وہ منہ سے ہلکی ہلکی ہونہہ، ہونہہ کی آوازیں نکالتے ہے۔ پھر کہنے لگے:۔
’’
تہجد اورفجر کے درمیانی وقت میں آنے والے خواب سچے ہوتے ہیں۔۔۔ کیا آپ کو پکا یادہے کہ خواب میں آسمان پر دوسری تاریخ کا چاند ابھرا تھا۔۔۔؟‘‘
’’
جی، لگتا تو دوسری تاریخ کا ہی تھا۔۔۔‘‘
حضرت صاحب نے آنکھیں بند کرلیں اورکچھ دیر اسی حالت میں رہے۔ اس دوران ادریس خاموشی سے ان کا منہ تکتا رہا۔ اس نے حضرت صاحب کے چہرے کی ایک ایک شکن، داڑھی اور سر کے بالوں کو بہت غور سے دیکھا۔ اسے ایک دم احساس ہونے لگا کہ حضرت صاحب گوشت پوست کے انسان نہیں کوئی اورہی مخلوق بن گئے ہیں۔ حضرت صاحب نے آنکھیں کھولیں۔ اپنی لمبی داڑھی کو مٹھی میں دبایا اورپھر ہولے ہولے اس میں انگلیاں پھیرنے لگے۔ پھر کہنے لگے:
’’
غائب کا علم تو خدا کو ہی ہے مگر تمہاری خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تمہارا وقت آگیا ہے۔۔۔ ہاتھوں سے سفید کبوتر کا اڑ جانا اسی بات کو ظاہر کرتا ہے۔ آج چاند کی تیرہ تاریخ ہے، لگتا ہے کہ یہ سب کچھ اگلے مہینے کی دوسری تاریخ کے لگ بھگ ہوگا۔۔۔ اب تم تو بہ استغفارکرو، بے شک اللہ معاف کرنے والا ہے۔۔۔‘‘
ادریس نے یہ سب کچھ سنا۔ وہ تو پہلے ہی سے گم سم تھا، یہ سن کر سر سے پیر تک لرز گیا۔ وہ بولا سا گیا۔ اس کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ اسے اپنی ریڑھ کی ہڈی میں کپکپاہٹ سی محسوس ہورہی تھی۔اس کے پاؤں سُن ہوگئے اوران پر بوجھ سا محسوس ہونے لگا۔ حضرت صاحب نے ادریس کی صورتحال کو فوراً بھانپ لیا۔ کہنے لگے:۔

’’اللہ کرے کہ میری تعبیر درست نہ ہو۔۔۔ مگر خواب میں جو کچھ نظر آیا، اس کا مطلب وہی ہے جو میں نے بیان کیا۔۔۔ موت تو سب کو آنی ہی ہے۔۔۔ جلد یا بدیر۔۔۔ ایسی خواب دیکھ کر، میں نے کسی کو جیتے نہیں دیکھا۔۔۔‘‘
یہ کہہ کر حضرت صاحب اٹھے اورکہنے لگے:۔
’’
نماز کا وقت نکلا جارہا ہے۔۔۔ مجھے اشراق پڑھنی ہے۔۔۔‘‘
حضرت صاحب بیٹھک سے باہر نکل گئے۔ ادریس موت کی دہشت میں گم، وہیں بیٹھا رہا۔ اس کے پاؤں میں، اسے سہارا دینے کی قوت ختم ہوچکی تھی۔ بیٹھے بیٹھے، اچانک ادریس کے دِل میں اطمینان کی ایک لہرسی اٹھی۔ اسے لگا کہ عنقریب وہ زندگی کی ذلتّوں سے نجات حاصل کرلے گا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا اور گھر کی طرف چل دیا۔

(3)

اس دِن شام ہونے تک، پورے محلے میں ادریس کے خواب اورحضرت صاحب کی تعبیر کی خبر پھیل چکی تھی۔ لوگوں نے حساب بھی لگالیا کہ ادریس اب صرف اٹھارہ، اُنیس دِن کا مہمان ہے۔ پہلے فرد اً فرداً اور پھر ٹولیوں میں لوگ، ادریس کے گھر آنے لگے۔ ادریس کو سکول سے چھٹیاں لینا پڑیں کیونکہ اسے ان لوگوں کی خاطر گھر پہ ہی رہنا تھا۔ یہ لوگ اس کے مرنے سے پہلے ، تعزیت کے لئے آرہے تھے۔ محلے کی عورتیں چہرے پر چادریں لپیٹے، آنکھوں ہی آنکھوں میں ادریس کا جائزہ لیتیں۔ کمزور تو وہ پہلے ہی سے تھا اورگم سم بھی۔ صرف یہ سوچ کر کہ وہ عنقریب مرنے والا ہے، عورتیں، اسے جیتا جاگتا ہوتے ہوئے بھی، مرا ہوا دیکھتی تھیں۔ اسی خیال سے وہ ٹھسکنے لگتیں، کچھ بین کرنا شروع کردیتیں اورکچھ بلند آواز میں اللہ سے فریاد کرنے لگتیں کہ وہ موت کے فرشتے کو ادریس کے پاس آنے سے روک دے۔ آنے والی عورتوں میں ادریس کی پسندیدہ پھوپھی زاد بھی تھی۔ ادریس نے اسے چوری چوری دیکھا۔ وہ بہت موٹی ہوچکی تھی اوراس کے پانچ بچے تھے۔ اسے دیکھ کر ادریس کے دِل میں خون کا بہاؤ کچھ لمحوں کے لئے بڑھا مگر اسے اس خاتون کا اس قدر موٹا ہوجانا بالکل پسند نہ آیا۔

چھے سات روز میں لوگوں کی تعزیت اورموت کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سُن سُن کر، ادریس کا دماغ برف کی طرح ٹھنڈاہوگیا۔ اس میں کسی بات کے بارے میں سوچنے کی صلاحیت ختم ہوگئی۔ اب اس کے ذہن پر صرف اور صرف موت کی دہشت کا غلبہ تھا۔ اس کے دِل میں زندگی سے چھٹکارے کی جو تسلی پہلے دن پیدا ہوئی تھی، اب ختم ہوگئی۔ وہ ان چھے سات دنوں میں بستر پر لگ گیا۔ اس نے داڑھی بڑھانا شروع کردی۔ کپڑے بدلنے کا تکلف سرے سے ہی ختم کردیا۔ وہ سارا دن عبادت میں مشغول رہنے لگا۔ گھر والے اس سے بہت کم بات چیت کرنے لگے۔ وہ اسے اس طرح دیکھتے، جیسے وہ ان میں سے نہ رہا ہو۔۔۔ ایک ایسا مسافر جو لمبے سفر پر جارہا ہو، سب کو پیچھے چھوڑ کر۔۔۔ ایک ایسی سواری میں بیٹھا ہو، جو جانے کے لئے تیار ہو۔۔۔ اسے اس سواری میں بیٹھے دیکھا تو جاسکتا ہومگر اس سے بات کرنا ممکن نہ ہو۔ اس کی بیوی نے چند روز رونے پیٹنے کے بعد، ادریس کی موت کو اللہ کا حکم سمجھ کر قبول کرلیا۔ اس نے ادریس کو مرنے سے پہلے ہی مرا ہوا تصور کرنا شروع کردیا تھا۔ ادریس نے کھانا پینا تقریبا ترک کردیا۔ کھانے کی پلیٹیں اس کے بستر کے اردگردان چھوئی پڑی رہتیں۔ اس میں کھانے پینے کی خواہش، سرے سے ہی ختم ہوگئی تھی۔

ادریس اِن دِنوں، ہر وقت ایک خاص کیفیت میں رہ رہا تھا۔ اسے موت کے آنے کا خوف تھا اور نہ ہی زندگی ختم ہو جانے کا غم۔۔۔ وہ ان سزاؤں کی ہیبت سے ڈرا ہوا تھا، جو قبر اور اس سے آگے آنے والی منزلوں پر اس کا انتظار کررہی تھیں۔ایک دِن عبادت کرتے کرتے اسے اونگھ آگئی۔ اس نے خواب میں کئی بچوں کے چہرے دیکھے۔ چہروں پر زخموں کے نشان تھے۔ کسی پر تھپڑسے بنے انگلیوں کے نشان۔ کوئی اپنی کمر دکھارہا تھا، اس پر بید کی ضرب سے بنے لمبے لمبے نشان۔ ادریس گھبرا کر اٹھ بیٹھا اوراللہ سے معافی مانگنے لگا۔

جوں جوں دِن گزرتے گئے، ادریس کے جسم پر رہی سہی چربی اورماس گھلتا گیا۔ دس روز میں وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا۔ اس کے چہرے کے سارے خدوخال ختم ہوگئے، اب یہاں آنکھوں کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ آنکھیں جگراتے اور موت کے خوف سے بے جان پتھر کی طرح ہوگئی تھیں۔ لوگوں نے اب اس سے ملنا ترک کردیا تھا۔وہ اسے کھڑکی سے صرف دیکھتے۔۔۔ جیسے پنجرے میں دو دھڑوں والی عجیب مخلوق بیٹھی ہو۔ لوگوں کے لئے، ادریس ایک تماشا بن گیا تھا۔ دُور دُور سے لوگ اسے ایک نظر دیکھنے آتے۔واپسی پر بڑے جوش سے اس کی حالت پر گفتگو کرتے۔ سب لوگ دِل ہی دِل میں خوش ہوتے کہ ادریس مررہا ہے اوروہ ابھی تک زندہ سلامت ہیں۔ دس بارہ دِنوں میں لوگ ادریس کے چہرے پر نور آنے کا ذکر کرنے لگے۔ ادریس کی دماغی حالت اب اوربھی دگرگوں ہوگئی تھی۔ وہ عبادت کے دوران عجیب عجیب سی باتیں کرنے لگا تھا۔ لوگ ان پر اسرار باتوں سے طرح طرح کے مطلب نکالنے لگے تھے۔

(4)

چاند کی انتیس تاریخ آگئی۔ سب لوگ دعا مانگ رہے تھے کہ یہ مہینہ تیس دِنوں کا ہوجائے۔ اس طرح ادریس کو زندگی کا ایک دِن مزید مل جائے گا۔
اسی دِن،ادریس کے سکول میں کام کرنے والا ایک استاد، قمر پہاڑوں کی سیر کرکے لوٹا۔ اس نے ادریس کی خواب اور اس کی تعبیر کے بارے میں سنا۔ اس نے یہ سنتے ہی سوچا کہ وہ اپنا سر پیٹے یا بلند آواز میں قہقہے لگائے۔ وہ فوراً ادریس کی خبر لینے، اس کے گھر آیا۔ گھر کے باہر دو بکرے بندھے تھے۔ گھر میں ادریس کے رشتے داروں کا ہجوم تھا۔ یہ بکرے ادریس کی موت کے بعد، ان لوگوں کے کھانے کے لئے ذبح کئے جانے تھے۔ سب لوگ، اب ادریس کے مرنے اوربکروں کے ذبح ہونے کا انتظار کررہے تھے۔ قمر، ادریس کے کمرے کے پاس چلا آیا۔ اس نے کھڑکی سے اندر جھانکا۔ ادریس ایک جائے نماز پر جُھکا عبادت میں مصروف تھا۔ اس کے پاس ایک شخص، ادریس کی بخشش کے لئے قرآن شریف کی تلاوت کررہا تھا۔ قمر نے ادریس کو دیکھا۔ اسے ایک دھکا سا لگا۔ پہلے وہ جب بھی ادریس سے ملتا، ادریس کے چہرے پر آنکھوں کے نیچے ہلکی سی مسکراہٹ اورآنکھوں میں مدھم سی لو ٹمٹماتی نظر آتی تھی۔ اب اس کی آنکھیں، برف کی طرح ٹھنڈی اور پلاسٹک کی طرح بے جان تھیں۔ ڈھیلے ڈھالے سفید لباس میں ادریس کا چہرہ کچھ زیادہ ہی ہلدی جیسا لگ رہا تھا۔

(5)

چاند کی پہلی تاریخ تھی۔ قمر نے دو خوبصورت سیب لفافے میں ڈٖالے۔ یہ سیب وہ پہاڑوں سے لے کر آیا تھا۔۔۔ بالکل تازہ اور رسیلے۔ وہ ادریس کے گھر پہنچا۔ گھر کے باہر بدستور دو بکرے بندھے ہوئے تھے۔ دونوں عجیب سی منحوس آوازیں نکال رہے تھے۔ رات میں، ان آوازوں سے عجیب طرح کی دہشت پھیل رہی تھی۔ ادریس کی آنے والی موت کا سوچ کر، یہ دہشت ریڑھ کی ہڈی میں گھس کر کپکپی پیدا کررہی تھی۔
ادریس کا کمرہ بندتھا۔ قمر نے کھڑکی سے جھانکا۔ کمرے میں بلب کی بہت دھیمی مگر پیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ادریس ایک کروٹ پر، اپنے گھٹنوں کو پیٹ میں دبائے لیٹا ہوا تھا۔ شاید عبادت کرتے کرتے تھک جانے کے بعد اسے اونگھ سی آگئی تھی۔ قمر نے کھڑکی کا کواڑ بجایا۔ ادریس پر اس آواز کا ذرا برابر بھی اثر نہ ہوا۔ اس نے کئی مرتبہ کھڑکی کی پٹ کو اپنے ہاتھ سے پیٹا، ادریس بدستور اسی حالت میں لیٹا رہا۔ قمر کا دِل ایک دم ڈوبنے لگا۔ اسے لگا شاید ادریس ختم ہوچکا ہے۔
اس نے چیختے ہوئے کہا:۔
’’
ادریس، ادریس۔۔۔!!‘‘
ادریس کے جسم میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔ وہ کمر پر سیدھا ہوگیا۔ پھر جھٹکے کے ساتھ، ٹانگوں کو اکٹھا کرکے بیٹھ گیا۔ ادریس ڈرگیا تھا۔ اسے ہر آہٹ اورہر آواز، موت کی آمد کا اعلان محسوس ہوتی تھی۔ وہ بے جان آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ وہ کھڑکی میں نظر آنے والے سائے کو دیکھ رہا تھا مگر اسے پہچاننے کی بجائے اس سے خوف زدہ ہوگیا تھا۔ قمر، اسے موت کا فرشتہ لگ رہا تھا۔ جب قمر نے دیکھا کہ ادریس اٹھ بیٹھا ہے اوراسے پہچان نہیں رہا، تو اس نے ایک جست میں دروازے کو کھولا اورادریس کے پاس آبیٹھا۔
’’
میں ہوں، قمر۔۔۔!‘‘
ادریس نے قمر کو اپنے اس قدر قریب دیکھا۔ ایک جیتے جاگتے انسان کو اپنے اتنا قریب دیکھ کر اسے زندگی کا احساس ہوا۔ قمر نے بڑی توجہ اور پیار سے ادریس کاہاتھ تھام لیا۔ یہ سخت ٹھنڈا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں ادریس کا منہ تھام لیا اوراسے کہا:
’’
میں ہوں، قمر۔۔۔!!‘‘
قمر کے پیار اور ہاتھوں کی گرمائش سے ادریس کو بھرپور طور پر محسوس ہوا کہ وہ زندہ ہے۔ اس نے دھیرے سے اپنا سر، قمر کے کندھے پر رکھا اوربچوں کی طرح سسکیاں لے کر رونے لگا۔ ادریس نے اپنے آپ کو، اپنے جسم کو بالکل ڈھیلا چھوڑ دیا۔ قمر نے ادریس کو اپنی گود میں سمیٹ لیا، بالکل ایک گٹھڑی کی طرح۔۔۔ جب آنسوؤں کے تھپیڑے تھم گئے تو ادریس چپ چاپ قمر کے بازوؤں پر سر رکھے، آنکھیں موندے لیٹا رہا۔ قمر نے سرگوشی کے انداز میں بات شروع کی۔

’’میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کیونکہ میں نے بھی خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں تمہارے پاس آؤ۔ بزرگ نے بتایا کہ اللہ نے تمہاری آزمائش کو نہ صرف قبول کرلیاہے بلکہ تمہیں ایک طویل عمر بھی عطا کردی ہے۔‘‘
ادریس سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ وہ بہت زیادہ کھلی آنکھوں سے قمر کی بات سن رہا تھا۔ ادریس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
’’
بزرگ نے حکم دیا کہ تم یہ دونوں سیب کھالو۔ عشاء کی نماز کے بعد دورکعت نفل ادا کرو۔ پہلی رکعت میں سورۃ نصر اور دوسری میں سورۃ العصر پڑھنا۔۔۔ اللہ تمہاری عمر دراز کرے گا اورتم نہ صرف اپنے بچوں بلکہ ان کے بچوں کی بھی خوشیاں دیکھو گے۔۔۔‘‘
ادریس کی آنکھوں میں زندگی کا ننھا سا دیا جل اٹھا مگر وہ بدستور قمر کو، بے یقینی سے دیکھ رہا تھا۔ قمر نے اسے یقین دلانے کے لئے کہا:۔
’’
تمہیں پتہ ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے ہوں۔۔۔!‘‘
ادریس سیبوں کو گھوررہا تھا۔ اس نے زندگی میں شاید ایک آدھ بارکسی کے چہلم پر ہی سیب کی ایک آدھ پھانک کھائی تھی۔ قمر نے چھری منگوائی۔ سیبوں کو کاٹا اور بیجوں سمیت بغیر چھیلے، انہیں ادریس کو کھلادیا۔
’’
مجھے لگتا ہے، عشاء کی نماز ہوچکی ہوگی، جلدی کرو اور دو رکعت نفل پڑھ لو۔۔۔‘‘ قمر نے کہا۔
’’
مگر، میں نے تو ابھی وضوکرنا ہے۔۔۔‘‘
’’
کوئی بات نہیں، تیمم کرلو۔۔۔ جلدی کرو، ماروہاتھ زمین پر۔۔۔‘‘
قمر نے ادریس کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھی۔ انہوں نے پہلی رکعت میں سورۃ النصر اور دوسری میں سورۃ العصر پڑھی۔ یہ سب کرنے کے بعد قمر، ہلکے دل اوردماغ کے ساتھ گھر لوٹ گیا۔

(6)

اگلی صبح پورے شہر میں، ادریس کو ملنے والی نئی بشارت کا چرچا تھا۔ بہت سے لوگ قمر کے گھر کے سامنے جمع ہوچکے تھے۔ وہ دریافت کرنا چاہتے تھے کہ کیا واقعی اس کو خواب میں ملنے والی بشارت سچ تھی۔ گھر کے باہر ادریس اپنی بیوی بچوں اوردو بکروں کے ساتھ کھڑا تھا۔ ادریس کے نہ مرنے کی وجہ سے یہ دونوں بکرے ذبح ہونے سے بچ گئے تھے۔ اب انہیں قمر کی نذر کرنے کے لئے لایا گیا تھا۔
ادریس سوچ رہا تھا کہ اب پھر اسے زندہ رہنے کے جھنجٹ میں پڑنا ہوگا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *