ڈئيرعليشاء ! تم بهی کیا یاد کرو گی کہ خدا رکهتے تهے؟

خان زمان کاکڑ

0,,19281728_303,00

ڈئير علیشا

تمہاری جان پستول کی چھ گولیوں نےلی ليکن تمہارے لیے ہسپتال ميں وارڈ کی عدم موجودگی نے تمہاری جان کچھ بہت ہی زياده لے لی ۔ تمہارے لیے فوری طور پر کوئی نيا وارڈ تو نہیں بنایا جاسکتا تها۔ اس سنگین تاريخی مسئلے کا کوئی حل نکالنے کيلئے تين چار گهنٹے تو لگنے ہی تهے۔

تمہارے لیے کہيں بیڈ رکهنے کی جگہ بنانے ميں اس سے بهی زياده وقت لگ سکتا تها اگر تبديلی والی سرکار نہ ہوتی۔ تمہیں جب مردوں کے وارڈ میں ٹائلٹ کے سامنے بيڈ ديا گيا تو اس وقت تمہیں مردوں کی بدبو اگر لگی بهی ہو تو يہ تمہارے لیے کوئی نااآشنا کيفیت اس لئے بهی نہیں رہی ہوئی ہوگی کہ تمہارا اس بد بو کے ساتھ بڑا لمبا تعلق رہا تها۔ ستائیس سال کا تعلق۔

ليکن پهر بهی کيا تم ہميں بتانا پسند کر و گی کہ تمہیں ان چھ گولياں سے زياده تکليف پہنچی يا مردوں کی بدبو سے؟

ہسپتال بنيادی طور پرمرد اور ايک حد تک عورتوں کيلئے بنے ہوئے ہوتے ہيں۔تم جو مخلوق تھی يا نہیں بھی تھی، اس کا ہمیں پتہ نہیں ۔ ہمیں صرف ان مخلوقات کا توڑا بہت يا ذره بهر يا ايک حد تک پتہ ہوتا ہے جن کو تاريخ نے پہچان دی ہو يا ماں جیسی رياست نے۔تم جس ماں کی ا ولاد تھی اس کوکسی بلوچ سیاسی کارکن کی طرح لاپتہ کيا گيا ہے۔

عورت کی حیثيت کو اس حد تک ضرور تسليم کيا گيا ہے کہ وه ناقص العقل، کمتر اور گناه کی جڑ ہے۔ وه بهی ساری عورتيں نہيں۔ اشرافیہ کی عورتيں نہيں ۔ تمہیں تو ناقص العقل، کمتر اور گناه کی جڑ عورتوں کی حیثيت سے بهی کسی نے نہيں نوازا۔ مسئلہ يہ ہے کہ تمہاری حیثيت ہسپتال ميں تمہارے لیے شروع سے ہی ايک وارڈ کی طرح لاپتہ رہی ہے ۔

محمدبن قاسم کا برصغیر کی سرزمين پہ قدم رکهنے سے يا اس سے بهی پہلے سے تمہاری حیثيت لاپتہ ہے۔مرد تمہیں کبهی بهی قتل نہیں کرسکتے تهے۔ تمہیں تو مردانگی نے قتل کيا۔ وه مردانگی جس سے تاريخ بنی ہے، جس سے سماج کا وقار برقرار ہے، جس سے ریاست کی بنياد پڑی ہے او ر جس سے مذہبی بيانیے اوردانشورانہ روايت کا معيار بلند رہا ہے۔

تمہارے جسم سے مردوں کا تعلق کافی گہرا ہے، مردانگی کے سرمائے و بدمعاشی کے بل بوتے پر صرف تم سے نہيں مردوں کا اس بل بوتے کس چيز سے تعلق نہيں پڑا ہے؟ ان کا تعلق تو پاکستان تحريک انصاف سے بهی ہے جس نے صوبہ خیبر پختونخوا ميں سب سے بڑی تبديلی ہسپتالوں ميں لائی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کے علاوه شوکت خانم ميموريل کينسر ہسپتال کا نام ہی کافی ہے۔

ايک ضمنی سا سوال يہ کردوں کہ علیشا کيا تمہاری کميونٹی کو کینسر کا مرض بهی لگتا ہے؟ مير ی معلومات کے مطابق کینسر کا مرض صرف مردوں اور عورتوں کو لگتا ہے۔ يہ پتہ ڈاکٹروں کو بهی نہيں ہوگا اس لئے کہ ہسپتالوں ميں ایسی کوئی ليبارٹری تو نہيں ہوتی جس ميں تمہاری کميونٹی (کيا خواجہ سراؤں کيلئے کميونٹی کا لفظ استعمال کرنا جائز بهی ہوگا؟) کے امراض کا ٹیسٹ ليا جاتا ہو۔

اخلاقيات کا معاملہ ميرے لئے ہميشہ بڑا فضول رہا ہے. آج تمہیں اس حوالے تو اس بحث میں پڑنا اپنے آپ کو اس سے بهی بڑا فضول دکهانے کا مترادف ہوگا جو فضول ہم آج نظر آئے، جو فضول ہم انسانی وقار کے معنی و مفہوم کے لحاظ سے ہميشہ رہے ہيں ۔

ان مردوں کو ميں داد دیے بغير نہیں ره سکتا جو تمہارے ساتھ وارڈ کی عدم موجودگی ميں بهی موجود رہے اور جو تمہارے جنازے ميں بهی شامل رہے ليکن اتنے قابلِ قدر مظاہرے کے باوجود بهی ان کے دامن پہ يہ داغ قيامت تک موجود رہے گا کہ ان کا تعلق مردوں کی کميونٹی سے ہے۔ مجهے يہ ديکھ کر بهی تعجب ہوا کہ تمہارا جنازه بهی ہوسکتا ہے۔ بڑے بڑے شاندار جنازے تو مردوں کے ہوتے رہے ہيں اور عورتوں کے بهی جنازے ہوتے رہے ہيں۔

بڑے مردوں کی ملکیت عورتوں کے جنازے تھوڑے بڑے بهی ہوتے رہے ہيں۔ تمہارا جنازه کس کهاتے ميں آتا ہے؟ اس سوال کا جواب پانے کيلئے کس مولوی صاحب سے رجوع کرنا پڑے گا ۔ مولو‏يوں کو تم مجھ سے زياده اچهی طرح جانتی ہو گی۔

تم سے بهتہ لینے ، زیادتی کرنے اور گولياں مارنے والے وه نامعلوم افرادٗ ہیں جن تک ڈرون کی بهی پہنچ نہیں۔.

اس بحث ميں پڑنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ رياست کی ذمہ داری ہے۔ اس رياست نے عوام کو جو تحفظ فراہم کیا ہے اس کا پتہ ساری عوام کو ہے۔ تم تو عوام ميں بهی نہيں آتی۔

تم نہ سوات کی تھی نہ پشاورکی۔ سوات اور پشاور تو اب عام مردوں اور عورتوں کے بهی نہیں، تمہارے تو کبهی بهی نہيں تهے۔آخر تم کہاں کی تھی؟ تم کہيں کے بهی نہیں تھی۔ تمہاری نہ کوئی قوميت تهی نہ کوئی مذہب اور نہ کوئی علاقہ تمہاراتو ايک جسم تها جس کو ہم نے تباه و برباد کيا۔ تمہارے احساسات کا ہميں کوئی پتہ نہيں اس لئے کہ تم نہ شاعری کرسکتی تھی تھی اور نہ فوج کے حق میں تقرير کرسکتی تھی۔

Twitter: @khanzamankakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *