تسلیمہ نسرین اور بھارت کی کمیونسٹ پارٹیاں

پریاماودا گوپال

010، 4356

تسلیمہ نسرین کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے ، ان کے بنگلہ زبان میں کئی ناول شائع ہو چکے ہیں ۔ ان کا موضوع معاشرے میں خواتین سے ہونے والی زیادتیاں اور فضول مذہبی رسوم و رواج ہیں۔ تسلیمہ بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کانشانہ بنیں اور توہین مذہب کے الزام میں ان پر قتل کا فتویٰ جاری ہوا جس پر وہ یورپ سدھار گئیں اور پھر بنگال(انڈیا) آگئیں۔جب بھارتی حکومت نے ان کے ویزے میں توسیع کرنی تھی کہ بنگال میں مسلمانوں کی تنظیموں نے ان کے خلا ف احتجاج شروع کر دیا جس پر بنگال حکومت نے انھیں اپنے ہاں ٹھہرانے پر معذرت کر لی اور وہ دہلی چلی گئیں ۔ انڈیامیں صرف مولانا وحید الدین خان نے مسلمان تنظیموں کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو اپنی بات کہنے کی آزادی ہے اگر تسلیمہ نے مضمون لکھا ہے تو اس کا جواب مضمون لکھ کر دینا چاہیے اوراگر اس نے کتاب لکھی ہے تو اس کا جواب کتاب لکھ کر دینا چاہیے۔پریا ماودا گوپال ، کیمبرج یونیورسٹی میں انگریزی ادب کی استادہیں وہ ایک کتاب
Literary Radicalism in India 
کی مصنفہ ہیں۔ درج ذیل مضمون ہفت روزہ آؤٹ لک، انڈیا کے 5 دسمبر کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔

یہ 1932کی بات ہے جب ایک نوجوان خاتون رشید جہاں کو کچھ مُلاؤں کی طرف سے سنگین نتائج اور قتل کی دھمکیاں دی گئیں ۔ اس پرالزام تھا کہ اس کے لکھے ہوئے افسانے’’انگارے‘‘ نامی مجموعے میں چھپے تھے ۔ انگار ے کو سجاد ظہیر اور محمود الظفر نے مرتب کیا تھا۔ان افسانوں میں جاگیرداروں اور مُلا کے منافقانہ اور دوغلے کردار اور فضول معاشرتی رسوم و رواج کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔

اس وقت کی انگریز حکومت نے ،جو دیگر سماجی گروہوں کے مقابلے میں ہمیشہ مذہبی شاونسٹ قوتوں کی حمایت کرتی تھی ، فوری طور پر انڈین پینل کوڈ 295 اے کے تحت یہ کہہ کر پابندی لگا دی کہ اس سے مذہبی قوتوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔رشید جہاں ایک خاتون ہونے کے ناطے عوامی غیض و غضب کا خصوصی طور پر نشانہ بنی۔ رشید جہاں ، جو تسلیمہ نسرین کی طرح ایک ڈاکٹر بھی تھیں، کواس دور کے مردانہ برتری والے معاشرے میں جنسی محرومیوں ا ور زیادتیوں کا شکار عورتوں کے بارے میں لکھا تھا۔

آج 2007میں تقریباً پون صدی بعد کیا ہمارے معاشرے میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ اس تمام دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر حکومت نے معاشرے میں ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے مقابلے میں مذہبی گروہوں کی ان کے جذبات مجروح ہونے کی آڑ میں سرپرستی جاری رکھی ہے۔

آج تسلیمہ نسرین کے خلاف جس غم و غصہ کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اس سے ہمیں ’’انگارے‘‘کی بازگشت سنائی دیتی ہے ۔ رشید جہاں اور ان کے دو ساتھی افسانہ نگار محمود الظفراور سجاد ظہیر، جو کہ کمیونسٹ پارٹی انڈیا کے رکن تھے ، نے مل1936 میں انجمن ترقی پسند مصنفین بنائی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین پارٹی کے ارکان اور دوسرے ادیبوں کا ڈھیلا ڈھالا اتحاد تھا جو معاشرے میں موجود معاشی و سماجی ناہمواریوں کو چیلنج کرتا اور معاشرتی تبدیلی کی بات کرتا تھا۔

یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ انجمن سے تعلق رکھنے والے تمام ادیبوں پر اس وقت فحش نگاری، توہین مذہب اور امن و امان خراب کرنے کے الزامات لگتے رہے۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے ان تمام الزامات کا نہ صرف سامنا کیا بلکہ بڑی بہادری و ثابت قدمی سے سنسر شپ ،مقدمات اور پابندیوں کا مقابلہ کیا۔

کمیونسٹ پارٹی انڈیا کے موجودہ وارثان جو کہ بنگال میں کئی دہائیوں سے حکمران چلے آرہے ہیں ، آج مذہبی انتہا پسندی اوران کے حمایتیوں کا ساتھ دے رہے ہیں جن کو ماضی میں انھوں نے خود چیلنج کیا تھا۔ ان کے اقدامات چاہے وہ ملٹی نیشنلز کارپوریشنز کی طرف سے زمین پر قبضہ کرنے کے ہوں یا کسی احتجاج کو بے دردی سے کچل دینا ہو یا مذہبی شاؤنزم کی حمایت ، غیر جمہوری اور آمرانہ ہیں۔

ترقی پسند حلقوں کی طرف سے ان پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کہا گیا کہ ’’بائیں بازوکے اتحاد‘‘کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ تنقید نہ کی جائے اس سے مخالفین کو خوامخواہ تنقید کاموقع ملتا ہے۔ سی پی آئی (ایم) کی حمایت میں نوم چومسکی اور طارق علی (جن کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کے بہترین دانشور بھی غیر محتاط بیان دے سکتے ہیں)کے پیروکاروں نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اس سے بایاں بازو تقسیم ہو سکتا ہے ۔ پارٹی کی حمایت میں جاری کردہ ایک پمفلٹ میں کہا گیا کہ نندی گرام میں سب کچھ ٹھیک ہے اور متاثرہ افراد سے معاملات خوش اسلوبی سے طے پارہے ہیں (انھیں کیسے علم ہوا؟)

بھاری بھرکم دلائل کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ریاست میں بائیں بازو کی حکومت کے معاملات کو درست نہیں کہا جا سکتابلکہ پرولتاریوں کے یہ رہنما ترقی کے نام پر سنگور اور نندی گرام میں غریب کسانوں سے زمین ہتھیا رہے ہیں۔ غریب کسان احتجاج کر رہے ہیں اور ریاست انھیں گولیوں سے بھون رہی ہے۔ 

دوسری طرف سی پی آئی کے رہنما مسلسل یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ اگر تسلیمہ کو بھارت میں رہنا ہے تو اسے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانی چاہیے۔ لیکن عورتوں اور دلتوں کے جذبات کا کون خیال رکھے گا جن کے جذبات کو مذہبی پیشوا مجروح کرتے چلے آرہے ہیں؟

انجمن ترقی پسند مصنفین کی تحریک جیسے جیسے آگے بڑھتی گئی تو اس میں سجاد ظہیر کے آمرانہ رویے کی بدولت انجمن کے کچھ دوسرے لکھاریوں خاص کر عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کے درمیان خلیج بڑھتی گئی۔ دونوں لکھاری پارٹی کی دی ہوئی لائن سے متفق نہیں ہوتے تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ ایک ادیب کو سوچنے، سمجھنے اور لکھنے کی آزادی ہونی چاہیے ۔ چاہے وہ عورتوں کے مسائل ہوں یا جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات ۔ پارٹی کو ان موضوعات یا ان کی کسی تخلیق میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ۔ 

لیکن انجمن کے سخت گیر ارکان نے اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہوئے ان دونو ں پر فحش نگاری کا الزام لگایا۔سعادت حسن منٹو کو ’’فحش نگاری‘‘ کی وجہ سے پانچ مقدمات کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ انھوں نے ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا’’ترقی پسند سوچا نہیں کرتے‘‘۔ اس مضمون میں منٹو نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے ارکان کے رویوں پر تنقید کی تھی جو انھیں انفرادیت پسند اور فحش نگار قرار دے رہے تھے۔ عصمت چغتائی نے فحش نگاری کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ادیب اپنے آپ سے فحش واقعات نہیں لکھتا وہ وہی کچھ لکھتا ہے جو اپنے معاشرے میں دیکھتا ہے۔ ہم اپنے معاشرے میں ہونے والے واقعات کو الفاظ کا روپ دے دیتے ہیں۔ 

آج یہی رویہ بنگال کی کمیونسٹ حکمران جماعت کا ہے جس کا کہنا ہے کہ تسلیمہ نسرین یہاں ’’کچھ شرائط ‘‘کے ساتھ رہ سکتی ہیں ۔ انھیں ’’ہمارے عوام‘‘ کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔آخر ’’ہمارے عوام‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ ایک معاشرے میں مختلف النوع اور مذاہب کے افراد رہتے ہیں جن کے سوچنے سمجھنے کا اپنا اپنا انداز ہے اور یہ ان کا حق ہے اور یہی ہمارے معاشرے کی خوبی ہے۔ ہمیں اس پر معذرت خوانہ انداز کی بجائے فخر کرنا چاہیے ۔

کئی ترقی پسند حلقے سی پی آئی (ایم ) پر تنقید کر ہی رہے ہیں مگر بی جے پی بھی اپنی موقع پرستی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کر رہی ہے جس سے ملک میں بائیں بازو کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے ۔ اس صورتحال کو ’’اینٹی کمیونسٹ تعصب‘‘ کہہ کر جان نہیں چھڑائی جا سکتی جیسا کہ ’’اینٹی امریکہ‘‘ کہہ کر سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہنکا دیا جاتا ہے۔ سی پی آئی (ایم) کی طرف سے بنگال میں حالیہ اقدامات جیسے کہ کسانوں کو زبردستی ان کی زمینوں سے بے دخلی اور احتجاج کی صورت میں گولی چلانا سراسر انصافی ہے۔ ڈاکٹر رشید جہاں نے اپنی تحریروں میں انہی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ چاہے وہ جاگیرداروں کے مظالم کے خلاف ہو یا پھر مذہبی پیشوائیت کی طرف سے زیادتیاں ہوں۔

یہ درست ہے کہ بی جے پی اپنی موقع پرستی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کمیونسٹ پارٹیوں کی مذمت کررہی ہے مگر ہمیں ان کی تنقید کی آڑ میں ترقی پسند حلقوں کی تنقید کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو ایک حقیقی سیکولر ریاست کی بات کرتے ہیں۔

ترقی پسند لوگوں کے لیے یہ ایک مشکل دورہے جہاں اسلام اور مسلمان ایک طرف ہندوتا اور دوسری طرف بش کی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے درمیان جکڑے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر رشید جہاں کوبھی ایسے ہی حالات کا سامنا تھا جہاں ایک طرف انگریز کی حکومت تھی اور دوسری طرف مسلمان ان کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کر رہے تھے۔رشید جہاں اور ان کے کامریڈز کا کہنا تھا کہ اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو یہ کہہ کر نہیں رد کرنا چاہیے کہ ہم ایک بڑے دشمن کے ساتھ لڑ رہے ہیں ۔ یہ دونوں لازم ملزوم نہیں۔ انگریز سے آزادی بھی ضروری ہے اور معاشرے میں جاری ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانا بھی ضروری ہے۔

’’انگارے‘‘ میں رشید جہاں کے دوسرے ساتھی لکھاری محمود الظفر تھے ۔ انھوں نے اپنے لکھے افسانوں پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی لکھاری ، جو کہ مسلمان تھے، اسلام کا انتخاب اس لیے نہیں کیا کہ اس میں برائیاں تلاش کی جائیں بلکہ ہم تو ایک خاص معاشرے اور ماحول میں پیدا ہو ئے ہیں جس میں ناانصافیوں پر ہم آواز اٹھاتے ہیں ۔ اب تسلیمہ نسرین بھی یہی کچھ کر رہی ہے۔

یہ بہت عجیب بات ہے کہ کسی خاص فرقہ یا گروہ کے جذبات دوسروں کے مقابلے میں بہت نازک ہیں اور ان پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔ تنقید اور اختلاف بہت ضروری ہے خا ص کر جب وہ مذہبی اور سیاسی طور پر نافذ العمل ہوں۔ جب سی پی آئی (ایم) کے رہنماؤں نے تسلیمہ نسرین سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اپنی کتاب سے چند مخصوص پراگراف حذف کر دے تو انھیں اس کے مغربی بنگال میں قیام پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا ، انتہائی بچگانہ اور غیر منطقی ہے۔ کیونکہ دنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جن کے نزدیک کمیونسٹ ہونا انتہائی قابل اعتراض ہے حتیٰ کہ کمیونزم بھی ان کے جذبات مجروح کرتا ہے۔تنقید اور مزاحمت کا حق بائیں بازو نے طویل جدوجہد کے بعد حاصل کیا ہے ۔اب بھی اس حق کو بہت سے ممالک میں شدید خطرات درپیش ہیں۔

بھارت کو اس وقت ایک حقیقی اور مضبوط بائیں بازو کی ضرورت ہے لیکن اس کے لیے ماضی کے حقائق کو مسخ کرنے کی بجائے اس پر گفتگو کی جانی چاہیے۔ دوسرے چومسکی اینڈ کمپنی کا یہ کہنا کہ آپس میں لڑنے کی بجائے ہماری توجہ بنیادی مسائل پر رہنی چاہیے جن کا بائیں بازو کو سامنا ہے، درست ہے لیکن ہمیں اپنی غلطیوں پر بھی خاموش رہنے کی بجائے بات کرنی چاہیے۔میں یہاں ایک مشہور دانشور ایڈورڈ سعید کی بات دہراؤں گی، انھوں نے کہا تھا کہ’’ تنقید سے قبل یک جہتی (افراد یا تحریک کے ساتھ) کا اظہار نہ کریں‘‘۔
(
ہفت روزہ آؤٹ لک، انڈیا)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *