ہندوستان۔مسئلہ قوم پرستی کا یا مذہبی فاشسزم؟

گردوپیش: آصف جیلانی

modi-rss
پچانوے سال قبل ہندوستان کے ممتاز مفکر، ادیب اور موسیقار رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا تھا کہ قوم پرستی ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور خاص طور پر ہندوستان کے لئے کیونکہ اس کے تمام مصائب کی جڑ یہی قوم پرستی ہے۔ آج جب کہ ہندوستان لبرل سیکولر قوم پرستی کا دور ترک کر کے کٹر ہندو قوم پرستی کی جانب بڑھ رہا ہے ، ٹیگور کی یہ بات سچ ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔

یورپ میں قوم پرستی نے قوموں کی ریاستوں سے جنم لیا لیکن ہندوستان میں نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کے نتیجے میں قوم پرستی کا جذبہ ابھرا ۔ اسی جدو جہد کے دوران ہندوستان کے عوام ایک دوسرے کے قریب آئے ۔ ماضی میں ہندوستان میں قوم پرستی کے دو دھارے تھے ایک سیکولر اور دوسرا مذہبی۔ نو آبادیاتی نظام کے خلاف معرکہ آرا قوم پرستی نے وجدان سیکولر روایات سے حاصل کیا تھا اور اس قوم پرستی کی بنیاد ہندوستان کے معاشرہ میں ثقافتی اور مذہبی امتزاج اور بقائے باہمی کا نظریہ تھا ۔

آزادی کے بعد ایک طرف علاقائی امنگیں ، مفادات کے تضادات کی کشمکش، اور اہل مذاہب اور ثقافت کے اپنے اپنے جدا مستقبل سنوارنے کی جدو جہد نے ایسی ہل چل مچائی کہ قومی دھارا کئی دھاروں میں تقسیم ہوگیا۔ویسے بھی ہندووں اور مسلمانوں میں انیسویں صدی میں مذہبی اصلاحی تحریکوں نے قوم پرستی کو متزلزل کر دیا تھا۔ ہندووں میں برہموسماج اور آریہ سماج کی تحریکوں اور مسلمانوں میں وہابی تحریک اور علی گڑھ کی تحریک نے مذہبی جذبہ اور تشخص کو بیدار کیا۔جس کے نتیجہ میں ایک طرف مسلمانوں میں1905 میں مسلم لیگ ابھری اور دوسری طرف1914 میں ہندو مہا سبھا معرض وجود میں آئی ۔

نتیجہ یہ کہ نوآبادیاتی دور کے خلاف نبرد آزما قوم پرست تحریک دو لخت ہوگئی، لیکن اس کے باوجود ہندوستان میں مذہبی بنیاد پرستی کو بڑھاوا نہیں ملا تھا۔ 

صحیح معنوں میں ہندوستان میں کٹر ہندوقوم پرستی کو عروج 1975 میں اندرا گاندھی کے دور میں ایمرجنسی کے نفاذ کی بدولت حاصل ہوا۔ اس زمانے میں کٹر ہندو قوم پرستی کے لئے اقتدار کے ایوانوں میں ایسے دروازے کھلے کہ لبر ل قوتیں بے بس ہو کر رہ گئیں ۔ بلا شبہ ایمرجنسی کے خلاف تحریک کا آر ایس ایس نے بھر پور فائدہ اٹھایا اور اس کے گھرانے کی جماعت جن سنگھ ، اپنا چولا اتار کر حزب مخالف جنتا پارٹی میں ضم ہو گئی۔

ایمرجنسی سے قبل ، پارلیمنٹ میں جن سنگھ کے صرف دو رکن ہوا کرتے تھے ایک اٹل بہاری واجبپائی اور دوسرے برہم پرکاش ۔لیکن جنتا پارٹی میں شامل ہوتے ہی جن سنگھ کی تقدیر پلٹ گئی۔ اور 1998 میںیہ ہندو قوم پرست جماعت ، اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں بر سر اقتدار آگئی، اس کے بعد نام نہاد لبرل کانگریس پارٹی اور حتی کہ کمیونسٹ پارٹی کا ایسا زوال شروع ہوا کہ اسے کوئی نہ روک سکا اور نہ کوئی بھارتیہ جنتا پارٹی کی پیش قدمی کے آگے کھڑا ہو کر اسے روک سکا۔

اس دوران ، لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا، بابری مسجد کی مسماری ، نریندر مودی کے دور میں گجرات میں دو ہزار سے زیادہ مسلمانوں کے قتل عام نے ہندووں میں ایسی جارحانہ قوم پرستی کی آگ بھڑکائی کہ اس کو ٹھنڈا کر نا محال ہوگیاہے۔

مشہور فلسفی اور تاریخ دان، ارنسٹ گیلنر کا کہنا تھا کہ قومیں قوم پرستی کو جنم نہیں دیتیں بلکہ اس کے برعکس ، قوم پرستی ، قوموں کو جنم دیتی ہے۔ لیکن ہندوتا کا نعرہ لگانے والے ہندو قوم پرست ویدوں کے دور کو ہندو قوم پرستی کا آغاز قرار دیتے ہیں حالانکہ اس زمانے میں قوم کا اور نہ قوم پرستی کا کوئی تصور تھا۔ ہندوستان میں ماضی میں موریہ ، اشوک ، گپتا، کیرالا پترا، پانڈو، چلوکیا، اور پھر مغل اور بہمنی سلطنتیں رہی ہیں لیکن اس دور میں نہ تو کوئی ایک واضح قوم تھی اور نہ قوم پرستی۔ اس زمانہ میں موروثی شاہی وفاداری، علاقائی حب الوطنی ، ثقافتی شناخت اورمفادات کی روایات تھیں ۔

لیکن اب نریندر مودی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد جارحانہ ہندوتا کا دور شروع ہوا ہے جس میں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گاو کشی کا الزام لگا کر مسلمانوں کو زدو کوب اور ہلاک کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ وہ بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگائیں اور آر ایس ایس کے رہنماوں اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ یہ نعرہ نہیں لگا سکتے توپاکستان چلے جائیں۔ 

نریندر مودی کے قریبی ساتھی یوگا گرو رام دیو کہتے ہیں کہ اگر قانون راہ میں نہ آئے تو ہم تو بھارت ماتا کی جے نہ کہنے والے لاکھوں کی گردن کاٹ کر رکھ دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مذہب کہتا ہے کہ مادر وطن کا احترام نہ کرو تو یہ مذہب اس ملک کے مفاو میں نہیں ہے۔

یہ سب باتیں ، ثابت کرتی ہیں کہ ہندوستان استبدادی قوم پرستی اور مذہبی فاشسزم کی سمت جا رہا ہے،البتہ مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء اور اساتذہ اور روشن خیال دانشور اس مذہبی فاشسزم کو للکار رہے ہیں اور اس کا مقابلہ کررہے ہیں لیکن اس وقت ہندوتا کا نعرہ لگانے والی آر ایس ایس ملک کے معاشرہ اور ریاست پر اس بری طرح سے مسلط ہے کہ اس کا مقابلہ مشکل نظر آتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *