ہیوی ویٹ موسیقار۔۔ استاد بڑے غلام علی خان

آصف جیلانی 
0, 12345

استاد بڑے غلام علی خان اس لحاظ سے انقلابی موسیقار مانے جاتے ہیں کہ انہوں نے کلاسیکی موسیقی کو اشرافیت کے بند محلات سے نکال کر عوام تک پہنچایا اور اسے نئی صنفوں اور ادائیگی کے نئے اندازوں سے مالا مال کیا۔ 

پنجابی کے ممتاز صوفی شاعر بلھے شاہ کے شہر قصور میں مشہور موسیقار گھرانے میں ایک سو چودہ سال پہلے آنکھ کھولنے والے بڑے غلام علی خان نے اپنے والد استاد علی بخش اور بعد میں اپنے چچا استاد کالے خان پٹیالہ والے سے کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل کی ۔ اسی مناسبت سے ان کا نام پٹیالہ گھرانے سے منسوب ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہی کے نام سے موسیقی کی دنیا میں پٹیالہ گھرانہ مشہور ہے جس طرح استاد عبدالکریم خان کے نام سے کیرانہ گھرانہ اور استاد علاوء الدین خان سے جے پور اترولی گھرانہ مشہور ہے۔

بڑے غلام علی خان کلاسیکی گائیکی کے افق پر نمودا ر ہونے سے پہلے ماہر سارنگی نواز تھے اور ان کا کہنا تھا کہ سارنگی نے انہیں کلاسیکی میں دریا ایسی روانی اور مشکل سے مشکل تانوں پر قدرت بخشی کیونکہ موسیقی کا کوئی ساز انسانی آواز سے اتنا قریب نہیں جتنی کہ سارنگی۔

u 3

بڑے غلام علی خان نے پہلی بار اپنے فن موسیقی کا منظر عام پر مظاہرہ 1920 میں تاریخی دلی دربار میں کیا جو برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ ویلز کے ہندوستان آمد پر منعقد ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ 1939 میں کلکتہ کی آل انڈیا میوزک کانفرنس میں بے حد مقبول ہوئے اور1944میں بمبئی کی وکرما دتیہ سنگیت پریشد میں ان کے فن کے مظاہرہ کے بعد پورے ہندوستان میں ان کا ڈنکا بج گیا۔

نہایت سریلی آواز کے ساتھ انہیں پیچیدہ تانو ں کے اتارچڑھاؤ پر اس قدر قدرت حاصل تھی اور وہ اپنے دل کی گہرائیوں کے جذبات کو اپنی گائیکی میں ایسی بالیدگی بخشتے تھے کہ سننے والے سرور سے جھوم جھو م اٹھتے تھے۔

استاد آزادی کے وقت لاہور میں تھے ۔ سن 57 میں وہ ہندوستان گئے اور انہوں نے وہیں مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ان کے چھوٹے بیٹے منور کے علاوہ ان کا تمام خاندان پاکستان ہی میں مقیم رہا۔

مجھے سن 61میں دلی میں خان صاحب سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا۔ مجھ سے یہ سوال پوچھے بغیر نہ رہا گیا کہا انہوں نے پاکستان کے مقابلہ میں ہندوستا ن میں مستقل سکونت کو کیوں ترجیح دی۔ انہوں نے یہ تو نہیں کہا کہ پاکستان میں ان کے فن کی اتنی پذیرائی نہیں ہوئی جتنی ہندوستان میں ہوئی البتہ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ بمبئی میں تھے تو اس زمانے میں بمبئی کے وزیر اعلی مرار جی ڈیسائی ان کے فن پر فریفتہ تھے خاص طور پر ان کو ان کے بھجن بے حد پسند تھے اور ان کو ہندوستان کا سب سے بڑا کلاسیکی فن کار مانتے تھے ۔

خان صاحب نے بتایا کہ مرار جی ڈیسائی ہی نے انہیں ہندوستان میں مستقل سکونت کی اجازت دلوائی اور انہوں نے ہی بمبئی کے نہایت قیمتی علاقہ ملابار ہل میں سمندر کے کنارے ایک خوبصورت بنگلہ رہنے کے لئے دیا تھا۔ یہ کہتے ہوئے خان صاحب کی آنکھیں نم ہو گئیں ، مرارجی ڈیسائی کے احسانات پر یا ہندوستان میں اپنے فن کی قدر دانی پر۔یہ پوچھنا میں نے مناسب نہیں سمجھا۔

میں نے استاد بڑے غلام علی خان سے پوچھا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کلاسیکی موسیقی میں قوت اظہار نہیں بلکہ یہ محض فن کاری سے عبارت ہے۔ استاد اس پر بھڑک اٹھے ۔ کہنے لگے یہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری موسیقی کی اصل روح جذبہ اور احساس ہے اور اس میں اتنی قوت ہے کہ اس کی بدولت انسان کے جذبات کی لطافت و نزہت کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا جا سکتا ہے۔

u 1


استاد کے نکتہ چینوں کا ان پر یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے سستی مقبولیت حاصل کرنے کے لئے کلاسیکی راگوں کی پاکیزگی کو زک پہنچائی ہے لیکن استاد کا کہنا تھا کہ یہ صحیح ہے کہ کلاسیکی موسیقی کی دلکشی اسی میں ہے کہ اسے آہستہ آہستہ فرصت اور دھیرج کے ساتھ سننے والوں کے سامنے پیش کیا جائے لیکن وہ زمانہ ختم ہوا جب بادشاہوں راجہ مہاراجاوں اور نوابوں کے دربار تھے اور لوگوں کے پاس وقت ہی وقت تھا کہ وہ گھنٹوں بیٹھے موسیقاروں کو سنتے تھے اور موسیقار بھی ان کی تفریح طبع کے لئے تانوں کو دہراتے رہتے تھے۔ ان کا کہنا تھاکہ ہم ان لوگوں کے لئے گاتے ہیں جن کے پاس وقت بہت کم ہے اسی لئے ان کا کہنا تھاانہوں نے راگوں میں دلمبت مختصر کردیا ہے ۔

ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کو ان کی سب سے بڑ ی دین ٹھمری میں ان کی گائیکی کا نیا انداز ہے۔ ٹھمری صنف نے نواب واجد علی شاہ کے دربار میں جنم لیا تھا۔ ان کے بعد ٹھمری دو صنفوں میں بٹ گئی ایک بنارس کا پوربہ انگ دوسرا لکھنو کا پچھمی انگ ۔ استاد بڑے غلام علی خان نے ٹھمری کو ایک نیا انگ دیا جو پنجابی انگ کہلاتا ہے جس میں لوگ گیتوں کا رنگ غالب ہے۔ ان کی ٹھمریوں میں’’آئے نہ بالم کیا کروں سجنی ‘‘۔۔کنکر مار گیا بمنا کا چھورا اور ، یاد پیا کی آئے ۔ بہت مقبول ہیں ۔ انہوں نے سب رنگ کے فرضی نام سے بہت سے راگ مرتب کئے اور بھجن لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔

استاد بڑے غلام علی خان اپنے تن و توش سے موسیقار سے زیادہ پہلوان لگتے تھے اور بڑے خوش خوراک تھا۔ ان کے دوست انہیں موسیقی کے استاد کے ساتھ کھانے کا بھی استاد کہتے تھے۔

سن 62میں استاد بڑے غلام علی خان اپنے ایک پرانے مداح نواب زہیر یرا جنگ کے کہنے پر حیدرآباد دکن میں بشیر باغ کے محل منتقل ہوگئے جہاں وہ 25 اپریل سن68میں اپنے انتقال تک مقیم رہے۔

ِ♠

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *