جرمنی کی مسجدوں میں انتہاپسندی فروغ پا رہی ہے

0,,18728714_303,00

جرمنی میں داخلی سلامتی کے ذمے دار خفیہ ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں زیادہ تر عربی زبان بولنے والے مسلمانوں کی کئی مساجد میں انتہا پسندی فروغ پا رہی ہے اور وہاں بنیاد پرستانہ رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

جرمن دارالحکومت برلن سے اتوار دس اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی کے این اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ بات ہنس گیورگ ماسین نے اپنے آج شائع ہونے والے ایک اخباری انٹرویو میں کہی۔ جرمنی میں، جو یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا رکن ملک بھی ہے، داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کا کام ’تحفظ آئین کے وفاقی دفتر‘ کے سپرد ہے۔

اس وفاقی دفتر یا داخلی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ماسین نے ہفت روزہ جریدے ’وَیلٹ ام زونٹاگ‘ کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں کہا، ’’ہم نے دیکھا ہے کہ عربی زبان بولنے والے مسلمانوں کی ایسی مسجدوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جہاں جزوی طور پر بنیاد پرستانہ سوچ پائی جاتی ہے‘‘۔

ہنس گیورگ ماسین کے مطابق، ’’ان میں سے کئی مسلم عبادت گاہیں ایسی ہیں جن کے انتظامی اداروں یا ان کی عہدیدار شخصیات میں شدت پسندانہ سوچ پائی جاتی ہے۔ اسی لیے تقریباً سب ہی واقعات میں سلفی مسلمانوں کی ایسی مساجدتحفظ آئین کے ادارے کے اہلکاروں کی نظروں میں ہیں‘‘۔

بی ایف وی کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ ایسی مساجد میں کئی ایسی مسلم عبادت گاہیں بھی شامل ہیں، جن کے لیے نجی سطح پر مالی عطیات سعودی عرب سے بھیجے گئے تھے۔

اپنے اس انٹرویو میں ہنس گیورگ ماسین نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ جرمنی میں نئی مسجدوں کے قیام کی بھی ضرورت ہے، خاص طور پر جرمن آئین اور قوانین کا احترام کرنے والے ان نوجوان مسلم مہاجرین کے لیے جن میں اس مقصد کے تحت مزید مساجد کی ضرورت کو بری طرح محسوس کیا جا رہا ہے کہ انہیں اپنے ارد گرد کے ماحول میں مذہبی فضا دستیاب ہو سکے۔

ہنس گیورگ ماسین نے واضح طور پر کہا، ’’مسلمانوں کے لیے مذہبی احکامات پر آزادی سے عمل کر سکنے کے بنیادی حق کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ متعلقہ علاقے میں کوئی نہ کوئی مسجد بھی موجود ہو۔‘‘ داخلی سلامتی کے نگران جرمن انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ وہ جرمنی میں کسی نئی مسجد کی تعمیر کے خلاف احتجاج کو درست نہیں سمجھتے، ’’لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لوگوں میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔‘‘

ماسین نے جرمنی میں سیاسی اور سماجی شعبے کی نمائندہ شخصیات سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ ملک میں ’مسلمانوں کی مسجدوں کے ایک فعال اور اعتدال پسندانہ منظر نامے‘ کے حصول کو یقینی بنائیں تاکہ عام جرمن باشندوں میں اس حوالے سے پائی جانے والی تشویش کی کوئی وجہ ہی باقی نہ رہے۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *