توہین اسلام کے الزام میں اساتذہ کو سزا

political-deadlock

بنگلہ دیش میں جہاں ایک جانب حکومتی سطح پر انتہا پسندی کے خلاف اقدامات اٹھائے جارہے ہیں وہیں دوسری طرف اس کے ردعمل میں مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پچھلے چندسالوں سے روشن خیال فکر رکھنے والے افراد مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہورہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں مذہبی کشمکش اور بے چینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔حسینہ واجد حکومت کی انتہا پسندی کے خلاف اقدامات سے مذہبی جماعتیں مشتعل ہو چکی ہیں ۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑرہی ہیں تو کچھ غلط نہ ہو گا۔یہی وجہ ہے کہ دو اساتذہ کی جانب سے اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے مبینہ طور پر سخت الفاظ استعمال کرنے پر مشتعل ہجوم انہیں مارنے کے لیے اکٹھا ہوگیا۔

جنوبی بنگلہ دیش کے علاقے باگیراہٹ کے حجلہ ہائی اسکول کے دو طلبا نے انتظامیہ کو شکایت درج کروائی کے اُن کی سائنس کلاس میں اسسٹنٹ ٹیچر نے اِس کی نفی کی ہے کہ قرآن کے الفاظ اصل میں اللہ کے الفاظ ہیں اور جنت کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹد پریس کو اِس شکایت بابت مقامی ضلعی مجسٹریٹ انور پرویز نے بتایا۔ مجسٹریٹ کے مطابق بعد میں اسکول کے ایک سینیئر ٹیچر نے بھی اپنے نائب ساتھی استاد کے الفاظ کی تائید کی۔

اِس شکایت کی گُن سُن جب قریبی اسلامی مدرسے کے طلبا کو ملی تو وہ مشتعل ہو گئے۔ سترہ اور اٹھارہ برس کے کئی طلبا نے ان کلمات پر شور شرابہ شروع کر دیا۔ اِس پر قریبی بستی کے لوگ بھی بھڑک اٹھے۔ مدرسے کے طلبا، اُن کے والدین اور دوسرے دیہاتی انتہائی زیادہ اشتعال میں آ نے کے بعد ڈنڈے اٹھا کر دونوں ٹیچروں سے مبینہ توہین کا بدلہ لینے نکل پڑے۔

مجسٹریٹ انور پرویز کے مطابق صورت حال اتنی خراب ہو گئی کہ پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔ پولیس کی مدد اِس لیے بھی ضروری ہو گئی تھی کہ لوگ ان دونوں ٹیچروں کو مذہب کے بارے میں توہین آمیز الفاظ ادا کرنے کی خود سزا دینا چاہتے تھے۔

انور پرویز نے بتایا کہ جب ٹیچروں کو مشتعل ہجوم کی خبر ہوئی تو انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے ایک اندرونی کمرے میں پناہ لے لی۔ وہ اُس کمرے سے باہر تب نکلے جب پولیس نے انہیں یقین دلا دیا کہ مشتعل ہجوم کو منتشر کر دیا گیا ہے اور پولیس اُن کی حفاظت کرے گی۔

بعدازاں ناراض لوگوں کے غصے کو رفع کرنے کے لیے ایمرجنسی مقدمات کی فوری طور پر فیصلہ کرنے والی عدالت نے حجلہ ہائی اسکول کے طلبا کی شکایت پر کارروائی مکمل کرتے ہوئے نائب اور سینیئر ٹیچروں کو چھ چھ ماہ کی قید سزا سنا دی۔

ان ٹیچروں کو سزا اُس قانون کے تحت دی گئی جو برسوں قبل برصغیر پاک و ہند پر حکومت کرنے والی انگریز سرکار نے ضابطہٴ فوجداری میں شامل کیا تھا۔ اس قانون میں کسی بھی مذہب کی توہین کرنے والے کے لیے چھ ماہ کی سزا مقرر کی گئی تھی۔

مبصرین کے مطابق برسوں کے بعد اِس قانون کو حرکت میں لایا گیا ہے وگرنہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں اکثریتی آبادی کے مذہب بارے کوئی ایسا جملہ جو اُن کو پسند نہ آئے تو وہ عام لوگ اُسے توہینِ مذہب کے زمرے میں لے آتے ہیں اور پھر سخت عقیدے کے مذہبی لوگ ایسے الفاظ ادا کرنے والے کو مار مار کر موت کے اندھیری دنیا میں ہمیشہ کے لیے دھکیل دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیا کی حکومت نے توہین مذہب کی سزا چھ ماہ سے بڑھا کر موت قرار دے دی تھی۔

DW/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *