گرم ہواؤں میں جھلستا فنکار : بلراج ساہنی

ذوالفقار علی زلفی

image3366

ٹیگور نے مجھے صحت مند ادب سے روشناس کیا ، گاندھی نے زندگی گزارنا سکھایا ، کارل مارکس و لینن سے زندگی کو سمجھنے میں مدد ملی جبکہ لاوسکی سے میں نے اداکاری سیکھی۔

یہ الفاظ ہیں ہندی سینما کے حساس ترین فنکاروں میں سے ایک بلراج ساہنی کے۔

بلراج ساہنی کو اپنے ہم عصر اداکاروں مثلاً راج کپور،دلیپ کمار،دیو آنند اور اشوک کمار کی صف میں شمار نہیں کیا جاتا کیونکہ ان کی اداکاری ، مزاج اور کردار مروجہ پیمانوں اور روایات سے یکسر مختلف ہے….جیسے آج عرفان خان جیسے اداکاروں کو شاہ رخ خان ، عامر خان ، سلمان خان وغیرہ کی صف میں شمار نہیں کیا جاتا…..اس قسم کے فنکاروں کی اپنی ایک مخصوص دنیا اور یکسر مختلف فین ہوتے ہیں۔

بلراج ساہنی کی اداکاری کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ وہ سطح کے نیچے اداکاری کرتے ہیں…… ان کی اداکاری میں مصنوعیت کا ڈھونڈھے سے بھی شائبہ نہیں ملتا وہ کردار میں ڈھل کر اس کا اس طرح حصہ بن جاتے ہیں کہ کردار اور فنکار کو الگ الگ دیکھنا ممکن ہی نہیں رہتا….ایسا اس لیے ہے کہ وہ فلم کی شوٹنگ سے قبل کردار کا اچھی طرح مطالعہ کرتے ،اس کی عادات ، حرکات اور سکنات کا مکمل مشاہدہ کرتے بلکہ بعض اوقات تو کردار کی طرح زندگی بھی گزارتے….مثلاً فلم دو بیگھہ زمینکیلئے انہوں نے مہینوں کلکتہ کی سڑکوں پر نہ صرف سائیکل رکشہ چلایا بلکہ رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ رہ کر ان کی زندگی کو بھی قریب سے دیکھا…..اسی طرح فلم کابلی والاکے کردار کو ادا کرنے سے پہلے انہوں نے ایک مدت تک افغان مزدوروں کے ساتھ زندگی گزاری تانکہ ان کے لب و لہجے اور زندگی گزارنے کے ڈھنگ کو پاسکیں …. سخت محنت اور اپنے کام سے عشق کی بدولت ان کی اداکاری فطری اور حقیقت محسوس ہوتی ہے۔

balraj-limg1

کمیونسٹ نظریات کے حامل بلراج ساہنی نے پیدا ہونے کیلئے بھی مزدوروں کا عالمی دن چنا ،یعنی یکم مئیوہ یکم مئی 1913 کو ایک کاروباری گھرانے میں پیدا ہوئے….بعض افراد ان کی جائے پیدائش راولپنڈی قرار دیتے ہیں مگر درحقیقت ان کی جائے پیدائش سرگودھا کے قریب بھیرہ ہے۔ البتہ بچپن سے جوانی تک کا سفر انہوں نے راولپنڈی میں ہی طے کیاپنڈی سے ان کا یہ تعلق کافی گہرا اور اٹوٹ رہا غالباً اسی لیے جب مارچ 1947 کو فرقہ وارانہ سیاست نے پنڈی کے گلی کوچوں کو لہو رنگ کیا تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر شہر میں امن و محبت کے دیپ جلانے آئے ،سائیکل جلوس نکال کر پیار محبت کے گیت گائے مگر مذہبی شدت پسندی کے جس جن کو بعض بونے سیاستدانوں نے بوتل سے نکالا تھا وہ اسے دوبارہ بند کرنے میں کلّی طور پر ناکام رہے ، بس خالی آنکھوں سے یہ دلدوز مناظر دیکھتے رہے۔

ان کے والد چونکہ ایک کٹر ہندو تھے اس لیے ان کا نام بھی ہندو اساطیری کردار کی مناسبت سے یدھشٹررکھاگیا مگر ان کی ایک پھوپھی اس نام کو بولنے سے معذور تھی سو رجسٹربول دیتی….. یدھشٹر کی یہ درگت بنتے دیکھ کر انہیں بلراجکا نیا نام دے دیا گیا اور یہ نیا نام تاریخ کے افق پر ایسا چمکا کہ اس کی چمک آج تک قائم ہے۔

گورڈن کالج راولپنڈی سے انٹر کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ کالج لاہور بھیج دیے گئے جہاں فیض احمد فیض جیسے انقلابی شاعر ان کے ہم مکتب اور پطرس بخاری جیسے باعلم ادیب استاد بنے….جس بلراج ساہنی کو آج ہم جانتے ہیں وہ لاہور کے اسی کالج کی پیداوار ہے۔

انہوں نے کالج کی ڈرامیٹک سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے مختلف ڈراموں اور تھیٹروں میں حصہ لیا….. اس زمانے میں طالبات کا اس قسم کی سرگرمیوں میں حصہ لینا معیوب سمجھا جاتا تھا گوکہ یہ پدرشاہانہ رویہ ہنوز برقرار ہے لیکن اس زمانے میں اس کی شدت و حدت کا سامنا کرنے کا یارا کسی میں نہ تھا۔ اس لیے ڈراموں کے زنانہ کردار بھی مرد ہی ادا کرتے تھے ۔ایک دفعہ یہ زنانہ کردار بلراج ساہنی کے حصے میں بھی آیا۔

انگریزی ادب میں ایم اے کرنے کے بعد 1936 کو وہ شادی کے بندھن میں بندھ گئےان کی اچھی قسمت اہلیہ دمینتی بھی انتہائی قابل اور علم دوست ثابت ہوئیںوالد کی خواہش تھی کہ بیٹا ان کا ذاتی کاروبار سنبھالے مگر وہ اپنا راستہ اس وقت متعین کرچکے تھے۔ والد کی خواہش کے برعکس انہوں نے اقتصادیات کی بجائے انگریزی ادب پڑھنے کا فیصلہ کیا ۔اس لیے انہوں نے کاروبار کی بجائے ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔

سنہ1937 کو انہوں نے پنڈی کو خیرباد کہہ کر لاہور کے ادبی سرکل میں اپنی عملی زندگی کا آغاز کردیاایک بار پھر قسمت نے یاوری کی ، شانتی نکیتن سے دعوت نامہ موصول ہوا….رابندر ناتھ ٹیگور کے سائے میں رہ کر درس دینا ان کی علمی و فنکارانہ زندگی کا ایک اور اہم موڑ ثابت ہوابنگالی ادب کے اس نابغہ روزگار ادیب سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا جس کا وہ تاعمر بڑے جوش و جذبے سے اعتراف کرتے رہے۔

شانتی نکیتن میں ایک سال گزارنے کے بعد وہ گاندھی جی سے ملنے سیواگرام آشرم چلے گئے پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے….دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ گاندھی سے اجازت لے کر لندن چلے گئے….لندن کی زندگی نے ان کے فکر و نظر پر کافی گہرے اثرات مرتب کئے….لندن میں گزارے چار سالوں نے ان کی کایا پلٹ دی….جہاں اس دوران وہ بی بی سی ھندی سروس سے منسلک ہوکر انسانی معاملات کی پیچیدہ گھتیوں کو سلجھانے یا مزید الجھانے کے کھیل کو قریب سے دیکھتے رہے وہاں انہوں نے کارل مارکس ، اینگلز اور لینن کی تحریروں کو بھی دریافت کیامارکسزم سے ان کا یہ عشق تادم مرگ قائم رہا اور بعد ازاں ان کی اداکارانہ زندگی پر بھی مارکسزم چھایا رہا…..لاوسکی کی کتاب بھی انہیں لندن میں ہی ملی جس کے ذریعے انہوں نے اداکاری کی باریکیوں کو سمجھا.۔

جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد وہ پھر ہندوستان لوٹ آئے….ممبئی میں اپٹا یعنی انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن اور کمیونسٹ رائٹر کا حصہ بن گئے.۔

بلراج ساہنی کی ذاتی زندگی گوکہ کافی دلچسپ اور متلاطم ہے مگر چونکہ ہمارا موضوع ان کی فلمی زندگی ہے اسلیے اس مختصر تعارف کے بعد ان کی اداکارانہ زندگی پر نظر دوڑاتے ہیں۔

ان کی پہلی فلم دھرتی کے لالہے جو 1946 کو ریلیز ہوئی….اس فلم کی ہدایات خواجہ احمد عباس نے دیں….یہ فلم بنگال میں ہونے والے قحط پر بنائی گئی تھی جس میں انہوں نے ایک نادار اور فاقوں پر مجبور کسان کا کردار ادا کیا….کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے انہوں نے فلم مکمل ہونے تک ایک وقت کا کھانا کھایا تانکہ وہ ایک کمزور کسان دکھائی دیں….کہانی کے اعتبار سے یہ ایک بہترین فلم ہے مگر دیگر تکنیکی شعبوں میں کافی کمزور ہے تاہم بلراج ساہنی کی مخصوص اداکاری  کو ہر فورم پر سراہا گیا….دھرتی کے لال نے ایک جانب ان کو نئی پہچان دی وہاں دوسری جانب ان کو ایک بہت بڑا ذاتی صدمہ بھی پہنچایا…..ان کی شریک حیات شوٹنگ کے دوران نہر کا گندہ پانی پینے کے باعث پہلے بیمار اور بعد ازاں موت کی آغوش میں چلی گئیں۔

دھرتی کے لال کے بعد انہوں نے دیگر فلمیں بھی کیں جیسے دور چلیں،  بدنامی، بدنام،ہلچلوغیرہ اور 1951 کو وہ اپنے سوشلسٹ خیالات کے باعث پس زنداں بھی دھکیلے گئے مگر ان کے نام اور کام کو اوج ثریا تک پہنچایا بمل رائے کی دوبیگھ زمیننے جو 1953 کو اپنی ریلیز کے ساتھ ہی کلاسیک کا درجہ حاصل کرگئی۔

Inspired_by_Balraj_2347687g

دوبیگھ زمین نے بلراج ساہنی کی صلاحیتوں کو صحیح معنوں میں آشکار کیا…. ستا ہوا مرجھایا چہرہ , خالی اور بے رنگ آنکھیں , دل سے نکلتے مکالمے اور محنت کی بے قدری سے نالاں جسم…..بلراج ساہنی نے ہندی سینما میں ایک نئی روایت قائم کردی…..اس روایت کو بعد میں متوازی سینما کے اداکاروں بالخصوص نصیرالدین شاہ ، اوم پوری اور کلبوشن نے بخوبی آگے بڑھایا۔

بمل رائے کی ساتھ 1954 کو انہوں نے فلم نوکریمیں ایک بار پھر ٹریجڈی اداکاری کے گر دکھائے۔

فلمیں تو انہوں نے بہت ساری کیں اور اپنی اداکاری کا لوہا بھی منوایا مگر ان کی چند فلمیں ایسی ہیں جنہیں لازوال قرار دیا جاسکتا ہے….ان فلموں میں سے ایک ہے ہمین گپتا کی کابلی والاجو رابندر ناتھ ٹیگور کے اسی نام کے ناول پر فلمائی گئی ہے…..اس میں انہوں نے افغان محنت کش کا کردار ادا کیا….1961 کو بننے والی اس فلم میں انہوں نے انسانی جذبات کے دریا بہادیے ہیں…..باپ بیٹی کے رشتے کی گہرائی کو انہوں نے کمال مہارت سے سینما کے پردے پر پیش کیا۔

ایسی ہی ایک فلم 1962 کی ان پڑھہے….یہ فلم خواتین کی تعلیم کے موضوع سے متعلق ہے جس میں وہ ان پڑھ مالا سنہا کے بڑے بھائی کے روپ میں نظر آتے ہیں….بھائی سے یاد آیا 1967 کی فلم نیل کملکا وہ گانا جو آج بھی دولہن کے گھروالوں کو رلاتا ہے…”بابل کی دعائیں لیتی جا“…اس گیت میں اگر محمد رفیع کی آواز کا سوز شامل ہے تو بلراج ساہنی کی روتی آنکھیں اور وحیدہ رحمان سے لپٹنے کے مناظر بھی فلم بین کو متاثر کیے بنا نہیں رہتے۔

گیتوں کی بات ہورہی ہے تو 1965 کی فلم وقتکا تذکرہ بھی کرلیا جائے…”او میری زہرہ جبیں , تجھے معلوم نہیںآج تک بھلائے نہیں بھولتا۔

بلراج ساہنی کی اداکاری صرف چہرے پر مشتمل ہے….وہ ہونٹ ہلانے ، آنکھ جھپکانے یا ہاتھوں کے اشاروں کی بجائے زیادہ تر چہرے کی کھال سے کام لیتے ہیں…..یہی ہنر ان کا ٹریڈ مارک ہے۔

فلموں کے ساتھ ساتھ انہوں نے پنجابی زبان بالخصوص نثر کی ترقی و ترویج میں بھی بھرپور حصہ لیا چین و پاکستان کے سفر ناموں کے ساتھ ساتھ انہوں نے دیگر کتابیں بھی تصنیف کیں۔

ان کی آخری فلم 1973 کی گرم ہواثابت ہوئی….شاید وہ خود بھی گرم ہوا کے تھپیڑوں سے جھلس جھلس کر نڈھال ہوچکے تھے….یہ ایک ایسے مسلمان دوکاندار کی کہانی ہے جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان جانے کی بجائے بھارت میں رہنے کا فیصلہ کرتا ہے اور یہ فیصلہ اسے کافی مہنگا پڑتا ہے…..امتیازی سلوک کے باعث اس کی زندگی عذاب بن کر رہ جاتی ہے اور وہ تڑپ کر کہتا ہے آخر انسان کب تک اکیلا جی سکتا ہے۔

کہا جاتا ہے یہ بلراج ساہنی کی زندگی کا آخری مکالمہ تھا یا شاید ان کی آخری وصیت…..وہ یہ فلم دیکھنے کیلئے زندہ نہ رہے۔

تیرہ13 اپریل 1970، ہندی سینما کا یہ چراغ ہمیشہ کیلئے ممبئی کی فضاؤں میں گل ہوا مگر ان کا یہ مکالمہ آج بھی پوچھتا ہے آخر انسان کب تک اکیلا جی سکتا ہے“.۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *