طالبان قیادت پاکستان میں موجود ہے

160304110949_taliban_pakistan__624x351__nocredit

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے عوامی سطح پر قبول کیا ہے کہ طالبان کی قیادت پاکستان میں موجود ہے۔ ان کے بقول اسلام آباد حکومت اس طرح اس گروپ پر دباؤ ڈالتی ہے تاکہ طالبان کابل حکام کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لے۔

واشنگٹن میں وزارت خارجہ کی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا،’’ہم ان پر کچھ اثر و رسوخ رکھتے ہیں کیونکہ ان کی قیادت پاکستان میں ہے۔ انہیں طبی سہولیات حاصل ہیں اور ان کے اہل خانہ بھی یہیں موجود ہیں‘‘۔ اس تھنک ٹینک کی ویب سائٹ پر موجود دستاویز کے مطابق سرتاج نے مزید کہا، ’’اس طرح ہم ان پر مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں‘‘۔

طالبان قیادت کی پاکستان میں موجودگی اس سے قبل سفارتی حلقوں میں ایک کھلے راز کی حیثیت سے رکھتی تھی تاہم سرتاج عزیز نے ان افواہوں کی تصدیق کر دی ہے۔ اس طرح کی خبروں نے خاص طور پر اس وقت زیادہ جنم لینا شروع کیا تھا، جب گزشتہ برس موسم گرما میں پاکستان نے طالبان اور کابل حکومت کے مابین مذاکرات شروع کرانے کے سلسلے میں اپنی خدمات پیش کرنا شروع کی تھیں۔

پاکستان ایک ایسا ملک رہا ہے جہاں خارجہ پالیسی، دفاع اور داخلی سلامتی کے تمام مسائل پر ہمیشہ سے فوج کے خصوصی اثرات رہے ہیں۔ طالبان اور دیگر شدت پسند نیٹ ورک جو خطے میں سرگرمِ عمل ہیں اس اثر میں آتے ہیں۔

افغان خفیہ اداروں کی جانب سے اس وقت طالبان قائد ملا عمر کے انتقال کی خبر جاری کیے جانے کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا تھا۔ مُلا عمر کی پاکستان میں علاج اور موت کی خبر سے پاکستانی حکومت کوکافی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ کیونکہ پاکستان مُلا عمر کے پردے میں طالبان کے ذریعے اپنی مانی شرائط منوانا چاہتا تھا۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستانی حکومت کے کسی اعلٰی اہلکار نے اس قسم کا بیان دیا ہے۔ اسلام آباد حکومت کئی سالوں سے طالبان کی قیادت کی پاکستان کی موجودگی سے انکار کرتی رہی ہے۔

اندازہ ہے کہ افغان طالبان کے زیادہ تر قائدین جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں اور پھر کراچی میں موجود ہیں جبکہ کچھ پشاور میں بھی رہائش پذیر ہیں۔ سرتاج عزیز کے بقول اسلام آباد حکومت نے انہیں ملک بدر کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے بات چیت کے پہلے دور میں شرکت کرنے پر مجبور کیا تھا۔’’ گزشتہ برس سات جولائی کی ملاقات سے قبل ہم نے ان کی نقل و حمل محدود کر دی تھی، اسی طرح ہسپتال اور دیگر سہولیات کو بھی محدود بنا دیا تھا اور انہیں دھمکی دی تھی کہ اگر تم آگے نہیں بڑھے تو ظاہر ہے ہم تمہیں ملک سے نکال دیں گے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے اور ان مذاکرات کو کامیاب بنانا کابل حکومت کا کام ہے۔’’ ہم اصل میں کوئی مذاکرات کار نہیں ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس معاملے میں ہماری نیک نیتی کو تسلیم کیا جائے گا اور مجھے یقین ہے کہ افغان حکومت بات چیت کو نتیجہ خیز بنانے میں فعال کردار ادا کرے گی‘‘۔

پاکستان، افغانستان، امریکا اور چین کے نمائندوں نے ابھی گزشتہ مہینے ہی کابل میں ملاقات کی تھی، جس کا مقصد کابل اور طالبان کے مابین امن بات چیت کے سلسلے کو بحال کرانا تھا۔ ان چاروں ممالک کے بقول طالبان نمائندوں کو مارچ کے پہلے ہفتے میں مذاکرات کی دعوت بھی دی گئی ہے۔ تاہم طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ انہیں اس تناظر میں کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا ہے۔

One Comment

  1. Raja Muzaffar says:

    طالبان کے اس تازہ بیان سے یقینی طور پاکستان کیلیے مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان کیلیے بہتر یہ ہے کہ وہ افغانستان میں کھیل کی الٹتی بساط کو سمجھے ، اپنی حکمت عملی میں وسیع بنیادوں پر تبدیلی لاے۔ افغانستان میں طاقت کے مختلف مراکز کے اندرونی کھیل سے اپنے آپ کو الگ کرے اور اپنے آپ کو افغانستان میں قیام امن کی بین الاقوامی کوششوں کا حصہ بناے رکھے ۔ اور واشنگٹن میں کیے گے وعدہ کے مطابق اپنے زیر اثر طالبان کو مذاکرات کی میز پر لا کر ان متحارب طاقت کے مراکز کو واضح پیغام دے جو چار مملکتی مذاکرات عمل کو ناکام بنانے پر تلے ہوے ہیں۔
    آفغان امن کونسل کے سربراہ سید احمد گیلانی نے گذشتہ روز بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوے کہا تھا کہ ” وہ طالبان کے بہت سے اہم ارکان کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اس لیے ان کی کوششیں بار آور ثابت ہو سکتی ہیں۔ پیر گیلانی نے مزید کہا تھا کہ افغانستان امن شوریٰ کی بین الاقوامی طور پر جو مالی معاونت کی جا رہی تھی وہ فی الوقت بند ہے ۔۔۔ افغان امن کونسل کے سربراہ کے اس بیان کی روشنی میں یہ بات عیاں ہوتی نظر آتی ہے کہ گزشتہ ماہ کابل میں جب چہار فریقی مذاکرات جن میں امریکہ، چین، افغانستان اور پاکستان کے نمائندے شامل تھے جن میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جلد سے جلد براہ راست بات چیت کا عمل شروع کیا جانا چاہیے۔ تو امن کونسل کو اعتماد میں نہیں لیا گیا یا پھر اسے اب غیر اہم یا غیر متعلقہ سمجھا جا رہا ہے۔ ممکن ہے افغان امن کونسل کے وجود کی اہمیت تسلیم کیے جانے کی طرف توجہ مبذول کرانے کیلیے طالبان نے یہ نیا بیان دیا ہو۔ طالبان کے بات چیت کے احیا کے بارے شرایط پر مبنی اس بیان سے پاکستان کے کردار پر سوالیہ نشان اٹھ سکتا ہے یا پاکستان کی وہ سٹریٹجک اہمیت جو امریکہ نے اسے واپس لوٹای جب جنرل راحیل شریو صدر اوبامہ سے ملے۔ اس ملاقات کے بعد پاکستان کو سفارتی و عسکری حوصلہ ملا اور اس نے اپنی روایتی پالیسی میں تبدیلی لای اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں دلچسپی دکھانا شروع کی ۔ گذشتہ روز ہی جب واشنگٹن میں مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز سے پوچھا گیا کہ پاکستان کس حد تک طالبان کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے یا اُن پر دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ کابل سے امن مذاکرات کریں؟ اس پر انھوں نے کہا: ’ہمارا اُن پر کچھ اثر ہے کیوں کہ اُن کی قیادت پاکستان میں ہے اور وہ کچھ طبی سہولیات حاصل کر رہے ہیں اُن کے خاندان یہاں ہیں۔ اس لیے ہم اُنھیں یہ کہلوانے پر زور ڈال سکتے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔‘۔۔۔
    اس بیان کے بعد آج طالبان کا بیان پاکستان کیلیے مشکلات کھڑی کرتا نظر آتا ہے۔ پاکستان میں جو ریاستی و غیر ریاستی حلقے طالبان کی پشت پناہی یا انہیں اثاثہ سمجھ کر انہیں ریاستی سہولیات فراہم کر رہے ہیں کو اپنے طرز فکر و طرز عمل میں تبدیلی لانی چاہیے ؟ کیا ریاست ایسا کر سکے گی؟ ۔۔۔۔ آنے والے وقت میں کشمیر میں بھی ایسی صورتحال بن سکتی ہے کشمیر سے وابستہ کرداروں کو اس سے سیکھنے اور پیش بندی کا موقع نکالنا چاہیے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *