شرمین تجھے سلام

12491863_939910766100245_4230327276596795234_oعظمیٰ اوشو 

شرمین عبید چنائے نے پاکستان کا بد نما چہر ہ پوری دنیا کے سامنے دکھا کر ملک کو بد نام کیا اور اس کے بدلے میں آسکر ایوارڈ کی حقدار ٹھہری ۔

کچھ لوگ مسلسل یہ نوحہ پڑھ پڑھ کے ہلکان ہوئے جاتے ہیں ،ان کی نظر میں پاکستان میں غیرت کے نام پر عورت کاقتل عالمی سازش ہے۔ظاہر ہے بھائی عالمی لابی ڈھونڈتے ڈھونڈتے پاکستان کے دور دراز علاقوں میں جاتی ہے کبھی باپ اور بھائیوں کو تو کبھی شوھر کو اکساتی ہے کہ جب غیرت کا ایوارڈلینے کا من چاہے بہن،بیٹی یابیوی کو قتل کر دو۔

کوہستان میں بھی یا تو امریکہ نے سازش کی تھی یا دیگر مغربی لا بی نے کہ محض تالی بجانے پر قیمتی جا نیں لے لی جائیں اور پھر اسمبلیوں میں بیٹھے کچھ غیرت مند اس کا دفاع یوں کریں کہ یہ ہماری روایت میں نہیں کہ عورت تالی بجائے اور کو ھستان میں جوہوا ٹھیک ہوا ۔

میرا تعلق پنجاب کے ضلع ساھیوال سے جسے پنجاب کا ڈویلپ اور ہائی لیٹریسی ریٹ رکھنے والا علاقہ سمجھا جاتا ہے مگر وہاں بھی آئے دن غیرت مند باپ،بھائی،یا شوھر کسی نہتی عو رت کی جان لیتے ہیں اور بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ہم نے ان بے غیرت عورتوں کے لیے الگ قبرستان بنا رکھا ہے ان میں سے صرف اکا دکا کیس ہی رپورٹ ہوتے ہیں ورنہ رات کے اندھیرے میں قتل ہونے والی سورج نکلنے سے پہلے ہی دفنا دی جاتی ہے ۔

تو کیا شرمین نے اگر ان نہتی عورتوں کے دکھوں اور اذیت کو ساری دنیا کے سامنے پیش کر کے غلط کیا اور کیا اس غیر انسانی رویے پر بات کرنے والوں کو مغربی ایجنٹ کہہ کر اس بھیانک سچائی سے دامن چرایا جا سکتا ہے ۔شرمین عبید نے اس سے پہلے سیونگ فیس کے نا م سے ایک فلم بنا کر پاکستان کو پہلا آسکر ایوارڑ کا حق دار بنایا تھا۔ اس وقت بھی بہت سے محب وطن شرمین پر تنقید کے نشتر چلا رہے تھے ۔سیونگ فیس میں شرمین نے ان عورتوں کہ موضوع بنایا تھا جن کے چہرے ان کے شوہروں نے تیزاب پھینک کر مسخ کر دئیے تھے ۔

وہ کس کرب اور اذیت سے دوچار ہوئیں اور کن بھیانک سماجی رویوں کا انھیں سامنا کرنا پڑا جو انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ کیااس کرب کو محسوس کرنا مغربی ایجنڈا ہے ۔مگر کیا کہا جائے یہاں تو آئے دن انتہا پسندوں کی طرف سے جاری کردہ وہ فلمیں جن میں وہ انسانوں کے سروں کے ساتھ فٹ بال کھیلتے نظر آتے ہیں دیکھنے کہ ملتی ہیں مگر نہ تو ان فلموں کو غیر ملکی ایجنڈا کہا جاتا ہے اور نہ ان درندوں سے نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے ۔

بھیانک سچ تو یہ ہے کہ اس انتہا پسندی کے حمایتی ہر جگہ نظرآتے ہیں۔ اگر کوئی سسکتی انسانیت کی ترجمانی کرے تو وہ مغربی ایجنٹ کہلاتا ہے اور ہر ایسی چیز سے مغربی سازش ڈھونڈنے کی کو شش کی جاتی ہے جس سے جینا سب کا حق ہے کا پیغام دیا ملتا ہو ۔شرمین عبید کی نئی فلم کے ساتھ یہی ہوا اس فلم میں شرمین نے ایک نہتی لڑکی صبا کی کہانی کو اپنا موضوع بنایا ہے جسے غیرت کے نام پر قتل کر کے دریا میں پھینک دیا جاتا ہے جس پر انسانوں کو تو رحم نہیں آتا مگر اس پر دریا کی لہریں رحم کھا جاتی ہیں اور اس کے زخموں پر دریا کا پانی مرہم پٹی کرتا ہے اور صبا زندگی کی بازی ہارتے ہارتے جیت جاتی ہے۔

اور پھر قسطوں میں موت اس کا مقدر ٹھہرتی ہے اس فلم میں نہ صرف عدالتی اور پولیس کی عورت کے ساتھ بد سلوکیوں کودکھایا گیا ہے بلکہ بے رحم سماجی رویوں کو بھی فلم کا حصہ بنایا گیا ہے جو صبا کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اس کی جان لینے والوں کہ معاف کر دے ۔اس جنگ میں صبا اپناسب کچھ ہار جاتی ہے ،تو کیا صبا کا دکھ بیان کرنا اور اسے محسوس کرنا مغربی ایجنڈا ہے ؟کیا ہمارے ارد گرد ہمیں ہر روز بہت سی صبا نہیں ملتی جنہیں یہ معاشرہ انسان ماننے کو تیار نہیں ۔ وہ کبھی باپ کی جائیداد ہوتی ہیں جس کہ دل چاہا دے دیا تو کبھی شوھر کی ملکیت اور غلام ۔

غیرت کے نام پر قتل کی رسم ہمارے سماج میں بہت پرانی ہے یہ ایسا معاملہ ہے جس میں نہ پولیس ہاتھ ڈالتی ہے نہ عدالت ،قوانین ہونے کے باوجود ان پر عمل نہیں کیا جاتا۔ پسند کی شادی کرنے پر عورت کو قتل کرنے سے خود ساختہ عزت اور غیرت کو بحال کیا جاتا ہے۔ پسند کی شادی اتنا بڑا جرم ہے کہ یہ جرم کرنے والی کی جان لیے بغیر خاندان کی خود ساختہ عزت کا بچنا مشکل ہوتا ہے ۔ہم ہر روز ایسے واقعات دیکھتے اور سنتے ہیں مگر آگے بڑھ کر روکتے نہیں ۔ طرح طرح کے جواز ہمیں ایسا کرنے سے روکتے ہیں کبھی ہم یہ کہہ کے دامن بچاتے ہیں یہ کسی کے ذاتی معاملے میں ہم مداخلت کیوں کریں تو کبھی عورت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں کہ یقیناًعورت ہی غلط ہو گی۔

مگر اس مفلوج سوچ رکھنے والے سماج میں کچھ شرمین،کچھ راشد رحمن،کچھ شہبازبھٹی،کچھ سلمان تاثیر موجود ہیں جو ان بھیانک سچائیوں کو بے نقاب کرتے ہیں کبھی قلم تو کبھی کیمرہ اٹھا کر ،وہ صبا کے دکھوں کی داستان کو گرل ان دی ریور کا نام دے کر ساری دنیا کی توجہ اس مسئلے پر مرکوز کردی ۔ یقیناًاگر آسکر سے بھی بڑا کوئی ایوارڈ ہے توشرمین کو ملنا چاہیے جس نے سیدھا ، سچا اور کھرا سچ ساری دنیا کو دکھا دیا۔

شرمین نے فلم کو ہیجان خیز رقص گنڈاسہ اور بڑھک سے نکال کر سچائی بیان کرنے کا ذریعہ بنا دیا شرمین یہ بتانے میں بھی کا میاب رہی کہ پاکستان میں غیرت کے معیار مرد طے کرتے ہیں جن میں اکثر کے پاس خوداس کا فقدان ہوتا ہے ۔ اگر غیرت کو معیار بنا کر فیصلہ ہی کرنا ہو تو غیرت مند کہلانے والے مرد کئی کئی بار واجب والقتل ٹھہریں مگر یہ غیرت کا نہیں ملکیت کا جھگڑا ہے ۔

One Comment

  1. Sarwar Sukhera says:

    This is a beautiful piece of writing that touches the heart and yet makes the reader smile.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *