!کیا فرق پڑتا ہے

11090944_100750340256913_4314071617144341197_o (1)رزاق کھٹی

پاکستان کا عام آدمی، جسے ہماری سیاست کی دنیا میں خلق خدا کہا جاتا ہے۔ اس کے سامنے پرویز مشرف کی پاکستان سے روانگی کوئی حیرت کی بات کی نہیں۔ جس دن سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ بحال کیا ۔ اس دن نیوز چینلز پر کچھ اینکرس نے ہائے ہائے کی ۔ جبکہ باقی زندگی یوں ہی تھی جس طرح وہ معمول کے مطابق ہوتی ہے۔ مشرف ملک سے روانہ ہوئے تو پیپلزپارٹی کو بھی جھٹکا لگا۔ یوں محسوس کرایا گیا کہ جیسے پرویز مشرف کی روانگی کا فیصلہ اچانک ہوگیا تھا۔ وہ بغیر بتائے اندھیری رات میں کس طرح ملک سے نکل گئے! پیپلزپارٹی نے چھٹی کے دن صرف دکھاوے کی خاطر سندھ بھر میں مظاہرے کیے۔ چند وزارء نے پریس کانفرنسیں کیں۔ زرداری صاحب نے بھی قرارداد لاہور کے دن ایک بیان جاری کیا۔ جس میں مشرف کا نام ای سی ایل میں سے نکالنے پراعلیٰ عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا تبصرہ جائز لگتا ہے۔
’’
ہم نے پرویز مشرف پر سنگین غداری کا مقدمہ اس لیئے داخل نہیں کیا ، کیونکہ ہم نے پرویز مشرف سے وزارتوں کے حلف لیے تھے( ان کا اشارہ ن لیگ کی طرف بھی تھا) جبکہ ہم نے تین نومبر کی ایمرجنسی سے نہیں بلکہ بارہ اکتوبر1999 سے سنگین غداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن حکومت نے ایسا اس لیے نہیں کیا ، کیونکہ وہ اگر بارہ اکتوبر سے سے مقدمے کا آغاز کرتی تو افتخار چوہدری بھی گرفت میں آتے، جس نے پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کرنے کی اجازت دی تھی‘‘۔

خورشید شاہ کا یہ موقف اپنی جگہ پر لیکن ان کے پاس اس بات کا جواب نہیں کہ پیپلزپارٹی نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں حکم امتناع کے خلاف داخل اپیل میں فریق کیوں نہیں بنی۔
کہا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ اپیلوں میں فریق بننے والی درخواست اکثر مسترد کرتی رہی ہے، لیکن پیپلزپارٹی کے پاس موقع تھا اور وہ دکھاوے اور فیس سیونگ کیلئے ہی جاسکتی تھی۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ سندھ ہائی کورٹ میں تو اس وقت بھی فریق بن سکتی تھی، جب پرویز مشرف کی جانب سے اپنی والدہ کی بیماری کو بنیاد بناکر درخواست داخل کی گئی تھی۔ پیپلزپارٹی نے اس وقت بھی ایسا نہیں کیا۔ اب حکومت نے پرویز مشرف کے معاملے پر موقعہ دیا تو وہ اس کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ بے نظیر بھٹو کے قتل میں نامزد ملزم کیلئے صرف چند شہروں میں مظاہرے، باقی خیر، تھوڑا بہت جو کچھ ردعمل ہے وہ سندھ میں ہی ہے، باقی ملک میں تو پیپلزپارٹی مظاہروں کی صورت میں کہیں نظر نہیں آئی۔
سچ یہ ہے کہ پرویز مشرف کو اکیلے حکومت نے نہیں پورے سسٹم نے انہیں بچاکر ملک سے باعزت روانہ کردیا۔ جس کا جتنا اثر تھا، اس نے اتنا کردار ادا کیا۔ عدلیہ سے لیکر ہمارے ان تمام اداروں ،جن میں عسکری و سیاسی قوتیں شامل ہیں سب نے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کیا۔ اور ملک کے سابق صدر کیلئے محفوظ راستہ تیار کیا۔ اب لکیر پیٹنی ہے۔ اس لیئے بحیثیت مجموعی پرویز مشرف کو اس ملک کی عسکری و سیاسی قیادت ، انصافی اداروں اور ہر اس کا احسان مند ہونا چاہیئے ، جس نے آئین کی پاسداری کا حلف بھی اٹھایا اور ایک آئین شکن کو محفوظ راستہ بھی فراہم کیا۔ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود آپ ایمانداری سے بتائیں کہ کہیں کوئی ردعمل سامنے آیا؟ جس نے دوسرے علاقوں کے لوگوں کو مجبور کیا ہو کہ وہ ان کے عمل کی تقلید کریں۔ چاروں طرف خاموشی ہے۔ 
پرویز مشرف کو اس ملک سے جانا تھا ، سو وہ چلاگیا۔ اس نے عدلیہ کو بتایا کہ وہ شدید بیمار ہے ۔ ڈاکٹروں کی جانب سے دیئے گئے سرٹیفکیٹ پیش کیئے گئے، ان سرٹیفکیٹ میں کہا گیا تھا کہ اگر مشرف کو بروقت علاج کیلئے نہیں بھیجا گیا تو انہیں فالج ہوجائے گا۔ منہ پر آکسیجن لگے ماسک والے فوٹوز بھی میڈیا پر آگئے۔ اور یہ تاثر دیا گیا کہ وہ سخت بیمار ہیں۔ ٹی وی چینلز پر یہ ٹکرز چلائے گئے کہ انہیں اجازت ملتے ہی ایئر ایمولینس کے ذریعے دبئی بھیج دیا جائے گا۔ اور ایئر ایمولینس کیلئے تیاریاں بھی شروع کردی گئی ہیں۔

لیکن جب دوسرے روز وزارت داخلہ نے ان کا نام ای سی ایل سے خارج کیا تو وہ گجرے پہن کر روانہ ہوئے اور دبئی پہنچ کر سگار سلگایا۔خوب کش لگائے ۔ مبارکبادیں وصول کیں۔وہ ابھی تک کسی ہسپتال بھی نہیں پہنچے ہیں۔ پہلے خبر چلوائی گئی کہ وہ چھ ہفتوں میں علاج کرواکر وطن واپس آجائیں گے۔ انہوں نے ایسی ضمانت حکومت کو دی ہے۔ لیکن وزیر داخلہ نے ان باتوں کی تردید کی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بتایا کہ حکومت نے اس طرح کی کوئی ضمانت نہیں لی ہے۔ ان کے بقول کہ عدالت عظمیٰ نے یہ ضرور کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف وقت پر و طن واپس نہ آئے تو انہیں انٹر پول کے ذریعے واپس لایا جائے گا۔لیکن اس کے برعکس سپریم کورٹ کے مختصر حکم نامے میں ایسا کچھ نہیں ہے۔
کچھ ماہ قبل پرویزمشرف کی والدہ کی بیماری کی خبریں بھی ایسے ہی میڈیا میں آئی تھیں۔ جس کے نتیجے میں سندھ ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا ۔ لیکن وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے حکم امتناع حاصل کرلیا ، جس کے نتیجے میں مشرف والدہ کی عیادت کیلئے دبئی نہیں جاسکے۔ اب خیر سے دونوں ماں بیٹے خوش ہیں۔ حکومت نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے۔ حکومت کی بھی جان چھوٹ گئی ہے۔ اقتدار میں آتے ہی حکومت سے جو غلطی ہوگئی تھی اب وہ دھرانا نہیں چاہےگی۔ کیا حکومت کے اکابرین ماضی میں مشرف کے حوالے سے دیئے گئے دلیرانہ بیانات پر دلیری سے معافی بھی مانگیں گے؟
خبر ہے کہ اس بار بھی سعودی عرب کی معرفت یہ این آار او عمل میں آیا ہے۔ نواز شریف نے سعودیز اور فوج کی بات مان کر ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں۔ یہ ابھی کل ہی کی بات ہے، جب سعودیز نے مشرف کو کہہ کر نواز شریف کی جان بخشی کرائی تھی۔ اورمیاں صاحبان ایک این آر او کے ذریعے جیل سے جدہ چلے گئے۔ اور اب مشرف بھی بذریعہ این آر او دبئی چلے گئے ہیں۔ ان کے واپس آنے یا نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، فرق تو تب پڑتا جب ان پر دائر مقدمے میں کوئی مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچتا۔

پاکستان کے عوام کو پہلے ہی معلوم تھا کہ جس مشرف پر سنگین غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اس لیئے عوام کو معلوم تھا کہ پرویز مشرف کے ملک میں رہنے یاچلے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ ہم ہی تھے کہ جو سمجھ رہے تھے کہ پاکستان تبدیل ہورہا ہے۔ خصوصی عدالت قائم ہوئی ۔ ملک پر بلا شرکت غیرے آٹھ سال تک سیاہ و سفید کے مالک رہنے والے ، سیاسی جماعتوں کو توڑنے اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے والا کٹھڑے میں کھڑا ہوگا۔ ملک کے آئین کی تکریم میں اضافہ ہوگا۔ عوام کو احساس ہوگا کہ جس ملک میں وہ رہتے ہیں وہ ایک آئین کے تحت چلتا ہے، اور جس کتاب کے تحت یہ ملک چلتا ہے اسے تقدس کا درجہ حاصل ہے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، باتیں آئی گئی ہوگئیں ۔ لیکن کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔
پاکستان کا عام آدمی واقعی ٹھیک سوچتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کون کہاں کیا کرتا ہے۔ اس لیئے وہ ان معاملات پر نہیں سوچتا ۔ بے حس اور لاتعلق بھی ہوچکا ہے، کیونکہ پاکستان کے منتخب ایوانوں اور اس کے درمیان فاصلے بڑہ گئے ہیں۔ اسے بتایا گیا تھا کہ وہ ہی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ لیکن اسے معلوم ہے کہ طاقت کا سرچشمہ وہ نہیں کوئی اور ہے۔ اس لئے وہ اب ان گورکھ دھندوں میں پڑنے کیلئےتیار نہیں!!۔

رزاق کھٹی ،سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ہیں، اسلام آباد میں اب تک ٹی وی چینل پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

One Comment

  1. Nice article.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *