پرسکون پاکستانی میڈیا

meher
بی بی سی اردونے عاشق رسول ممتاز قادری کی پھانسی دینے اور اس سے پیدا ہونے والے صورتحال پر پاکستانی میڈیا کی کوریج کو سراہتے ہوئے لکھا ہے کہ ایسا ’پرامن اور پرسکون‘ میڈیا شاید پہلی مرتبہ پاکستانی ناظرین کو دیکھنے کو ملا جس کی تعریف کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔

وہ چینل جو چند افراد کے مجمعے کو گھنٹوں کوریج دینے سے نہیں تھکتے تھے اس مرتبہ بالغ نظری کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ اگر لاہور اور اسلام آباد کی چند شاہراہیں احتجاج کرنے والوں نے بند بھی کیں تو اسے ہرگز بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا گیا۔

کسی بھی چینل پر بریکنگ نیوز اور دھاڑتے ہوئے نیو ز کاسٹر اور اینکر پرسنز کی بجائے اس خبر کی اوقات محض ٹکرز تک ہی کی تھی۔ لہذا چینلز نے اسے وہیں تک محدود رکھا ۔ لاہور اور اسلام آباد کی چند شاہراہیں احتجاج کرنے والوں نے بند بھی کیں تو اسے میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا گیا۔کل سے لے کر آج تک ممتاز قادری کی پھانسی اور اس کے بعد کی کوریج سے صاف ظاہر اور ثابت ہوا ہے کہ پاکستان میں میڈیا کا کردار کتنا اہم ہے۔اخباری اطلاعات کے مطابق اس طرح کی کوریج کا سہرا وفاقی وزارت اطلاعات اپنے سر لے رہی ہے۔

میڈیا کوریج ایک منہ زور گھوڑے کی مانند ہے لیکن اسی گھوڑے کی بھرپور طاقت سے فائدہ اٹھانے کے بھی طریقے ہیں۔کاش ہمارے یہی چینلز یہ رویہ سلمان تاثیر کی جانب سے آسیہ بی بی کی حمایت کرنے پر بھی اپناتے تو اس صورتحال کی شاید نوبت ہی نہ آتی ۔نہ تو سلمان تاثیر جان سے ہاتھ دھوتے اور توہین رسالت کے قانون میں کسی تبدیلی کے امکانا ت کے ساتھ ساتھ آسیہ بی بی کی رہائی کی امید بھی ہوجاتی۔ 

سلمان تاثیر کے قتل کے اکسانے میں ہمارے میڈیا کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔ نہ اس کے نیوز کاسٹر اور اینکر چیختے چھنگاڑتے اورنہ ہی ہمارے مُلا کوغصہ چڑھتا۔ سلمان تاثیر کو قتل پر اکسانے والوں میں راولپنڈی کی مسجد کے امام کے ساتھ ساتھ ایک نجی ٹی وی چینل کی خاتون اینکر پرسن مہربخاری کا کردار بھی انتہائی شرمناک ہے۔

اطلاعات کے مطابق ممتاز قادری کا جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی لیکن معاشرے میں مذہبی انتہا پسندی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی چینل کے ٹاک شو میں پھانسی دینے کے درست فیصلے کو سراہنے کی جرات نہیں کر سکا۔پاکستان میں صرف مذہبی انتہا پسندوں کو اپنی بات کہنے کی آزادی ہے۔

انتہا پسند وکلاء نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے جوڈیشل قتل قرار دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جج اس کا نوٹس لیں گے۔پاکستانی میڈیا کی مشق ستم کا نشانہ صرف سیاستدان ہی بنتے ہیں جبکہ مُلا، ملٹری اور جج مقدس گائیں ہیں جن کے بارے میں تنقید نہیں ہو سکتی۔یہ گروہ ایک دوسرے پر تنقید کر سکتے ہیں، عوام کے نمائندوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ ان کی کارگردگی پر سوال بھی اٹھا سکیں جو عوام کے ٹیکسوں پر پل رہے ہیں۔

One Comment

  1. Iftikhar Bhutta says:

    Media is afraid of religious extremist group as such does dare to say clear verdict of truth .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *