ذوالفقار مرزا کے بعد اب مصطفی کمال

0,,16916166_303,00
کراچی کے سابق ناظم مصطفیٰ کمال نے ایک دھواں دھار پریس کانفرنس میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا بھی اعلان کر دیا۔

پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی کے سابق ناظم اعلیٰ مصطفیٰ کمال طویل عرصے تک سیاسی منظر نامے سے غائب رہنے کے بعد واپس کراچی پہنچے اور ایک دھواں دھار پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم چھوڑ کر ملک سے باہر چلے جانے کی وجوہات بیان کیں۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے سابق رکن انیس قائم خوانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے۔ ان کا کہنا تھا، ’’کراچی شہر کا بیڑا غرق ایک دن میں نہیں ہوا، حکومتیں، ادارے، اسٹیبلشمنٹ سب یہ بات جانتے ہیں کہ الطاف حسین کے ’را’ کے ساتھ تعلقات ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ عمران فاروق کے قتل کیس میں اسکاٹ لینڈ یارڈ الطاف صاحب کے گھر سے ٹرک بھر کر سامان لے گئی، اسکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف صاحب کے تین دن تک مسلسل انٹرویوز کیے۔‘‘ مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف حسین، انور اور طارق میر سے بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را’ کے ساتھ روابط ہونے کا پوچھا، انہوں نے پہلے اس بات کی نفی کی لیکن جب اسکاٹ لینڈ یارڈ نے دستاویزی ثبوت فراہم کیے تو پھر الطاف حسین نے ’را’ سے مدد لینے کا اعتراف کر لیا۔ پریس کانفرنس کے دوران ایک موقع پر مصطفیٰ کمال آبدیدہ بھی ہو گئے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد الطاف حسین نے پارٹی کارکنان کو خطاب کے لیے اکٹھا کیا، اس وقت وہ نشے کی حالت میں تھے۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کے مشوروں پر عمل نہیں کیا۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میڈیا کو بھی یاد نہیں ہو گا کہ الطاف حسین نے کتنی مرتبہ استعفیٰ دیا، جتنی مرتبہ بھی ایم کیو ایم حکومت سے الگ ہو کر واپس حکومت میں آئی، اس کی ساکھ متاثر ہوئی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا، ’’ہم نے الطاف حسین کے لیے سب کچھ قربان کر دیا لیکن الطاف کو اپنے کارکنان کی کوئی فکر نہیں تھی۔ پارٹی کارکنان کی ہلاکتیں پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔‘‘ انہوں نے کراچی میں اس پریس کانفرنس میں ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کا بھی اعلان کر دیا تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی اس پارٹی کا کوئی نام نہیں رکھا گیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مصطفی کمال کی پریس کانفرنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی ایسٹیبلشمنٹ مائنس الطاف حسین فارمولہ لاگو کرنے کی جو سرتوڑ کوشش کر رہی ہے اس میں وہ ابھی تک ناکام ہورہی ہے۔ پاکستان کی فوجی ایسٹیبشلمنٹ نے کچھ اسی قسم کا ڈرامہ چند سال پہلے بھی رچایا تھا جب سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے قرآن پاک سر پر اٹھا کر ایم کیو ایم کو ایک دہشت گرد جماعت قرار دیا تھا۔ 

بھارت کے ایجنٹ ہونے کا الزام پاکستان کی فوجی ایسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ الزام ہے جو وہ اپنے ہر مخالف پر لگاتی چلی آرہی ہے۔ولی خان ہوں یا غفار خان، جی ایم سید ہو یا بلوچ رہنما یا بنگالی رہنما جو بھی فوجی ایسٹیبشلمنٹ کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے اس پر بھارتی ایجنٹ کا الزام لگادیا جاتا ہے۔

ایسٹیبلشمنٹ کی سر توڑ کوششوں کے بعد بھی ایم کیو ایم کے ووٹ بینک میں کوئی کمی نہیں آرہی جس کا واضح مثالیں ضمنی انتخابات ہوں یا بلدیاتی، ان انتخابات میں ایم کیو ایم نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔حالیہ بلدیاتی انتخابات کے بعد ایسٹیبلشمنٹ نے انہیں مقامی حکومت بنانے نہیں دے رہی بلکہ الٹا ایم کیو ایم کے جیتنے والے اراکین کے خلاف مقدمات قائم کردیے۔

پاکستان میں عوام کے نمائندوں کا اقتدار منتقل نہ کرنے کی شروع سے روایت رہی ہے جس کے نتیجے میں ہمیشہ ملک کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ڈاکٹر عمران فاروق کا قاتل کون؟

One Comment

  1. ایم کیو ایم اور دوسری تمام ایسی پارٹیوں میں واضح فرق ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے “را ” کی ایجنٹس بتائی جاتی ہیں اور وہ یہ ہے کہ یہ جماعت اسٹیبلشمنٹ نے خود بنائی اسکے مسلح ونگ کو شہر میں کھل کر کھیلنے کی اجازت اور طاقت بھی خود دی اسکا ثبوت ضیا بچاؤ تحریک کا پہلے مہاجر رابطہ کونسل اور پھر مہاجر رابطہ کمیٹی میں تبدیل ہوجانا ہے اور مشرف کا 12 مئی ٢٠٠٧ کو ایم کیو ایم کے وزیر داخلہ اور مئیر کے ہوتے ہوۓ شہر کو خون میں ڈبونا شامل ہے18 اکتوبر2008 کو ایک بار پھر کنٹونمنٹ کے کرتا دھرتا اور مئیر نے ملکر کارساز پر سٹریٹ لایٹس آف کر کے بینظیر بھٹو پر قاتلانہ حملہ کروایا اور پھر اسی طرح مئیر کے حکم پر خون سڑکوں سے دھو دیا گیا جیسے اسٹیبلشمنٹ نے ٢٧ دسمبر کی شام لیاقت باغ میں دھو دیا
    را کی ایجنٹ کہی جانے والی دوسری پارٹیوں یعنی اے این پی ، جیۓ سندھ ، بلوچ علیحدگی پسندوں اور پی پی پی وغیرہ کو کبھی یہ ساری سہولتیں اپنے مخالفوں کو ختم کرنے کے لیے نہیں دی گیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *