’پنجابی طالبان کو گُڈ طالبان سمجھا جاتا ہے‘

asmat ullah
پاکستان کے سابق سینیئر پولیس افسر اور تجزیہ کار حسن عباس کا کہنا ہے پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی وجوہات وجہ نااہلی اور سیاسی عزم کی کمی ہے۔

پنجاب کے دارالحکومت میں دہشت گردی کی بڑی کارروائی کے تناظر میں بات کرتے ہوئے حسن عباس کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی وجہ پاکستان کی حکمران جماعت، مسلم لیگ نواز، کے مذہبی جماعتوں سے تعلقات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ کے مذہبی جماعتوں کے سیاسی دھڑوں سے روابط رہے ہیں اور جھنگ اور فیصل آباد میں تو بعض مسلم لیگی رہمناؤں کے حلقہ اثر اور ووٹ بینک کا انحصار انہی مذہبی جماعتوں پر رہا ہے۔

حسن عباس نے کہا کہ مسلم لیگ کی قیادت کا یہ بھی خیال رہا ہے کہ وہ مذہبی تنظیموں کے ساتھ کسی جوڑ توڑ کے ذریعے یا انھیں سیاسی فواہد مہیا کر کے شدت پسندی کے مسئلے کا حل نکال لیں گے۔

انھوں نے کہا جنوبی پنجاب ایسے شدت پسندوں کا گڑھ رہا ہے جو کشمیر میں مصروف عمل ہیں اور جیش محمد جیسے شدت پسند گروہ کو پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کسی حد تک سرپرستی رہی ہے، جس کی وجہ ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ایک اعلی پولیس اہلکار نے انھیں بتایا کہ جنوبی پنجاب میں 20 ہزار مدرسے ہیں جن میں صرف 300 کی نگرانی ہو رہی ہے اور ان 300 میں سے صرف بارہ ایسے ہیں جو درحقیقت دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

جنوبی پنجاب میں 20 ہزار مدرسے ہیں جن میں صرف 300 کی نگرانی ہو رہی ہے‘

انھوں نے کہا کہ ’حکمران اس سے بھی ڈرتے ہیں کہ اگر چار دہشتگردوں کو پکڑ لیا تو جو باقی دس ہیں اور وہ جب لاہور میں دھماکے کریں گے تو ہماری سیاسی ساکھ مجروع ہو گی۔‘

ایک سوال کے جواب حسن عباس نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی پالیسی رہی ہے اور لشکر طیبہ اور جیش محمد کو گڈ طالبان تصور کیا جاتا رہا ہے ۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے اہل اقتدار کو جو چیز سمجھ نہیں آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ہر’گڈ طالبان‘ ایک دن ’بیڈ طالبان‘ میں بدل جاتا ہے اور یہ شدت پسند تنظمیں بدلتے رہے ہیں۔ حسن عباس کے بقول ’یہ بڑی حققیت جو پاکستان کے لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی اہلیت کو بڑھانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی اس پر کوئی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

BBC

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *