ایک سیاہ فام کی کہانی۔ایک امریکی ادیب

سبط حسن

150727131247-12-cnnphotos-nigerian-identity-restricted-super-169

یہ واقعہ امریکہ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ہوا۔ اس واقعے کو گزرے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ بڑے بڑے پتھروں سے بنی ایک کوٹھڑی کے سامنے ایک برآمدہ تھا۔ اس برآمدے میں بھٹی دہک رہی تھی۔ بھٹی کے سامنے ڈیوس بیٹھا تھا۔ ڈیوس لوہار تھا او روہ گھوڑوں کے ٹاپوں پر لگانے والے لوہے کے نعل بناتا تھا۔ ڈیوس سیاہ فام تھا۔ سیاہ فام وہ لوگ تھے جنہیں کئی سوسال کے دوران افریقہ سے امریکہ میں لایا گیا تھا۔ ان کو غلام بناکر یہاں رکھا جاتا تھا اور یہ کھیتوں اور کارخانوں کے علاوہ ہرطرح کے محنت والے کام کرتے تھے۔ یہ سفید جلد والے انگریزوں کے لئے کام کرتے تھے۔
ڈیوس ایک خوبصورت گھوڑے کے ٹاپوں پر نعل لگارہا تھا اور اس کی دکان میں بہت سے سیاہ فام نوجوان بیٹھے گپیں لگارہے تھے۔
دکان سے چند میٹر آگے ایک شاندار بگھی کھڑی تھی۔ بگھی ایک درخت کے سائے میں تھی اور اس پر ایک سفید فام شخص بیٹھا بڑے غورسے ڈیوس کو نعل لگاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس شخص کا نام تھارٹن تھا او ریہ فوج میں کرنل تھا۔ اسے اچھی نسل کے گھوڑے پالنے کا بہت شوق تھا۔ وہ اپنے گھوڑوں کی دیکھ بھال خود کرتا تھا۔ آج اس کے ایک گھوڑے کا نعل کچھ ڈھیلا ہوگیا تھا او رفوراً اسے ٹھیک کروانے ڈیوس کی دکان پر لے آیا تھا۔
’’
لیجئے کرنل صاحب، کام ہوگیا۔۔۔‘‘ ڈیوس نے اونچی آواز میں پکار کر کرنل کو اطلاع دی او رساتھ ہی اپنے شاگرد سے کہنے لگا:’’ٹام، ادھر آؤ، گھوڑا بگھی میں جوت دیں۔۔۔‘‘
کرنل تھارٹن بگھی سے اترا، نعل کا معائنہ کیا اور پھر اطمینان ظاہر کرنے کے لئے اپنا سرہلایا۔ لوہار او راس کا شاگرد، دونوں گھوڑے کو بگھی میں جوتنے لگے۔ کرنل ایک طرف کھڑا ہوکر انہیں دیکھ رہا تھا۔ 
’’
کرنل صاحب، آپ کایہ چابک بہت خوبصورت ہے۔‘‘ ڈیوس نے گھوڑے کی طنابیں درست کرتے ہوئے کہا۔’’میرا بھی دل چاہتا ہے کہ ایسا ہی چابک میرے پاس بھی ہو۔ آپ نے اسے کہاں سے خریدا ہے؟‘‘
’’
اسے میرا بھائی نیویارک سے لایا تھا۔‘‘ کرنل نے بڑے تکبر سے کہا۔’’تمہیں یہ کہیں سے بھی نہیں ملے گا۔‘‘
’’
یہ واقعی بہت خوبصورت ہے۔ دیکھیں، اس کی دستی پر کیسی مہارت سے خوبصورت ڈیزائن بنائے گئے ہیں۔‘‘ ڈیوس نے کافی مرعوب لہجے میں جواب دیا۔’’کاش ایسا چابک مجھے بھی مل جاتا۔۔۔‘‘ وہ بڑی حسرت سے چابک کو دیکھ رہا تھا کہ کرنل نے بگھی آگے بڑھادی؟
’’
کیوں، اس میں کیا برائی ہے؟ کیا میں اچھے گھوڑے، خوبصورت بگھی او رڈیزائن والے چابک کو لینے کی خواہش نہیں کرسکتا؟‘‘
’’
ہم سیاہ فام، نیگرولوگوں کی قسمت میں صرف ذلت ہی نہیں، وہ اگر پیسے جمع کرلیں تو جو چاہیں خرید سکتے ہیں۔۔۔‘‘ ڈیوس نے ایک دہکتے ہوئے نعل پر ہتھوڑے کی چھوٹیں لگاتے ہوئے کہا۔
وہ ان باتوں اور کام میں اس قدر محوتھا کہ اس کی پشت کی جانب سے دوسفید فام وہاں آئے اور اسے اسی کی خبر ہی نہ ہوئی۔
’’
اگر تم نیگرولوگ‘‘ ڈیوس نے بھٹی میں مزید کوئلے ڈالتے ہوئے کہا،’’اپنی رقم کھیل تماشے میں ضائع نہ کرو، اور فضول کاموں پر نہ گنواؤں تو ہم بہت جلد ترقی کرسکتے ہو۔ کھیل تماشے کا سارا روپیہ گوروں کی جیب میں چلا جاتا ہے۔‘‘
’’
ڈیوس تم ٹھیک کہتے ہو،‘‘ ایک سفید فام نے کہا۔’’جب تک تم جائیدادوں کے مالک نہیں بنتے، تمہاری کوئی عزت نہیں۔‘‘
پھر گفتگو کا موضوع بدل گیا۔ سفید فام آدمیوں نے ڈیوس کو کسی کام کے بارے میں پوچھا اور دکان سے رخصت ہوگئے۔
دکان کے قریب ہی ایک کارخانے سے دوپہر کے کھانے کا بگل بجا۔ دکان پر بیٹھے بے کار نوجوان بھی دکان سے رخصت ہوگئے۔
’’
ٹام اب تم کھانا کھانے چلے جاؤ۔‘‘ ڈیوس نے اپنے شاگرد سے کہا۔’’او رسنو جب میرے گھر کے سامنے سے گزروتو دستک دے کر میری بیوی نینسی کو بتادینا کہ میں ابھی آدھ گھنٹے میں آتا ہوں، میں اس ہل کا پھل ٹھیک کرلوں۔‘‘
ڈیوس نے کھانے کے وقفے کے لئے دکان کو بند کیا او رگھر کی طرف چل پڑا۔ گرمی زوروں پر تھی۔ اس نے اپنا تنکوں والا ہیٹ سرسے اٹھایا او رجیب سے ایک سرخ رومال نکال کر اپنا ماتھے اور گردن کو پسینے سے صاف کیا۔ گھر پہنچا او ردروازے پر دستک دی۔ کچھ دیر کے بعد اس کی پرُکشش مگر کمزور بیوی نے دروازہ کھولا۔ دروازہ کھلتے ہی گھر میں پھیلی کھانے کی خوشبو اس کے ناک میں گئی۔
’’
واہ لگتا ہے آج آلو او رچاول پکے ہیں!‘‘ ڈیوس نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔ ڈیوس کھانے کی میز پر جابیٹھا۔
’’
نینسی، جلدی کرو، مجھے سخت بھوک لگی ہوئی ہے۔ ابھی میں نے دکان سے مہینے بھر کا سودا لینا ہے۔ آج میں دکاندار کو ایک سو ڈالر زیادہ دے دوں گا۔ باقی رقم الگے مہینے دے کر حساب بے باق ہوجائے گا۔ پھر ہم پر کوئی قرض نہ رہے گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی بیوی کی طرف بڑے پیارسے دیکھا اور کہنے لگا:
’’
کیا بات ہے نینسی، تم کچھ گھبرائی سی لگ رہی ہو؟‘‘
نینسی واقعی گھبرائی ہوئی تھی۔ اس کا دل برُی طرح دھک دھک کررہا تھا او رسانس الجھ رہی تھی۔ اس نے اکھڑے اکھڑے لفظوں میں کہنا شروع کیا:
’’
وہ۔۔۔ میں نے۔۔۔ ابھی ابھی باغیچے میں ایک بڑاسانپ دیکھا ہے۔۔۔‘‘
ڈیوس ایک دم کرسی سے اٹھا اور باغیچے کی طرف لپکا۔ باغیچہ ان کے چھوٹے سے گھر کے پچھواڑے میں تھا اور اس کا راستہ باورچی خانے میں سے گزرتا تھا۔ ڈیوس نے باورچی خانے کے باغیچے کی طرف کھلنے والے دروازے میں پڑے بیلچے کو اٹھایا او رباغیچے کی طرف بھاگا۔
ڈیوس نے باغیچے میں جھاڑیوں او رباڑ کے نیچے جھانکا۔ بیلچے کو ان پر مارا۔ ٹماٹروں او رمرچوں کے پودوں کو ہلایا مگر سانپ کہیں نظر نہ آیا اور نہ ہی اس کی پھنکارسنائی دی۔
’’
میرا خیال ہے، سانپ بھاگ گیا ہے۔‘‘ ڈیوس نے بیوی کو تسلی دیتے ہوئے کہا اور پھر پوچھنے لگا:۔
’’
بچے کدھر ہیں؟ کہیں وہ باہر جھاڑیوں میں تو نہیں کھیل رہے، انہیں کئی دفعہ منع کیا ہے مگر ان پر اثر ہی نہیں ہوتا۔۔۔!‘‘
’’
نہیں‘‘ اس کی بیوی نے جواب دیا۔’’وہ چشمے سے پانی لینے گئے ہیں۔‘‘
ڈیوس کو اطمینان ہوا او روہ دوبارہ میز کے پاس کرسی پر آبیٹھا۔ اس کی بیوی نے کھانا پروسا اور وہ کھانے میں مصروف ہوگیا۔ اسی اثنا ڈیوس کے بچے گھر میں داخل ہوئے۔ ایک گیارہ سال کا لڑکا او راس سے دوسال چھوٹی لڑکی۔ لڑکا اپنی ماں کی طرح زرد چہرے والا تھا جبکہ لڑکی کا رنگ اپنے والد کی طرح گہرا سیاہ تھا۔ دونوں بڑے ذہین اور صاف ستھرے تھے۔ دونوں سکول جاتے تھے اور پڑھائی میں بھی بہت اچھے تھے۔
’’
ٹام چچا بھی چشمے پر آئے تھے‘‘۔ لڑکی نے پانی کا ڈول ایک کونے میں رکھتے ہوئے کہا۔’’میں نے کہا کہ یہ ڈول اٹھالیں تو بولے’’مجھے کام ہے، اپنی امی سے کہہ دینا کہ تمہارے ابو ابھی کھانے کے لئے گھر آنے والے ہیں۔۔۔‘‘ لڑکی نے شکایتی لہجے میں باپ کی طرف دیکھا۔ ڈیوس ہنسنے لگا اور بیوی سے مخاطب ہوکر بولا:۔
’’
یہ لڑکا پتہ نہیں کن چکروں میں رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ایک دن میں بہت سا روپیہ کمالے ۔۔۔ اسے لوہے کے کام سے چھٹکارا مل جائے۔ محنت سے کتراتا ہے او راِدھر اُدھر ہاتھ مارتا رہتا ہے۔۔۔!‘‘ 
ڈیوس کھانے سے فارغ ہوکر دکان پر پہنچا۔ وہاں کرنل تھارٹن کا ملازم پھر بگھی لئے کھڑا تھا۔
’’
کیا ہوا؟ ابھی تو نعل لگوا کر تمہارا صاحب گیا ہے، تم پھر بگھی کو لے آئے‘‘۔ ڈیوس نے کرنل تھارٹن کے ملازم سے پوچھا۔
’’
ہاں ہاں، کرنل تھارٹن کو تمہارا کام بہت پسند آیا ہے۔ اس گھوڑے کے باقی کے تین نعل بھی بدلوانے کے لئے بھیجا ہے۔۔۔‘‘
’’
دیکھا،اچھے کام کی یہ عزت ہوتی ہے۔‘‘ ڈیوس نے اپنے شاگرد ٹام کو مخاطب کرکے کہا۔’’تم تو بغیر کام کے پیسہ کمانا چاہتے ہو، اچھا کام کرکے عزت حاصل کرنا بھی سیکھو۔۔۔‘‘
’’
کتنی دیر لگے لگی؟‘‘ کرنل کے ملازم نے پوچھا۔
’’
ڈیڑھ گھنٹہ تو لگے گا ہی، میں کرنل کاکام بڑے اطمیان سے کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ ڈیوس نے بھٹی میں سے دہکتے ہوئے نعل کو نکالتے ہوئے کہا۔
اس وقت سہہ پہر ہوچکی تھی او رسورج ڈیوس کی دکان کے قریب جنگل کے اونچے اونچے درختوں کے پیچھے جاچکا تھا۔ گرمی کم ہوگئی تھی۔ کرنل کے نوکر نے لمحہ بھر کے لئے سوچا او رپھر ڈیوس سے کہنے لگا:
’’
مجھے ابھی کرنل کا ایک ضروری کام نمٹانا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مجھے کافی دیر ہوجائے۔۔۔‘‘
نوکر نے ابھی بات ختم بھی نہ کی تھی کہ ڈیوس اس کا مطلب سمجھ گیا۔ کہنے لگا:
’’
تم فکر نہ کرو، تم اپنا کام کرلو۔ جو نہی گھوڑے کے نعل لگے، میں اسے بگھی سمیت کرنل کے گھر پہنچادوں گا۔۔۔‘‘
’’
تم نے تو میرا مسئلہ ہی حل کردیا۔ بات دراصل یہ ہے کہ کرنل غصے کا بہت بُرا ہے۔ کام میں دیری ہوجائے یا کام اس کی مرضی کے مطابق نہ ہو تو وہ ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔۔۔‘‘ کرنل کے نوکر نے کہا۔
’’
چلو، اب تم بے فکر ہوجاؤ، تم اپنا کام نمٹاؤ، بگھی پہنچ جائے گی۔‘‘ ڈیوس نے ہمدردی سے کہا اور بھٹی سے نعل نکال کر اسے ایک بڑے ہتھوڑے کے ساتھ پیٹنے لگا۔
(2)
ڈیوس امریکہ کی ریاست کیرولینا میں رہتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی عدالت کی عمارت بہت بڑی تھی۔ اس پر تازہ تازہ سفیدی کی گئی تھی۔ اس پر صبح کی نرم دھوپ پڑتی تو یہ چاند کی طرح چمک اٹھتی۔ اس عمارت کے پیچھے جنگل تھا اور اس کے گھنے سیاہی مائل سبزدرخت، عمارت کی سفیدی کو مزید اجاگر کررہے تھے۔ درختوں پر لمبی لمبی گردنوں والے بگلے ڈاروں کی شکل میں آجارہے تھے۔ آسمان کا رنگ گہرا نیلا تھا۔ اس پر چیلیں او رگدھ تیررہے تھے۔
ڈیوس کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں تھیں۔ وہ سخت پریشان، اس عمارت کے صحن میں بیٹھا، عدالت میں حاضری کا انتظار کررہا تھا۔ وہ باربار آسمان کی طرف دیکھتا او ردل ہی دل میں کہا:
’’
ارے میرے مولا، رحم کر، تجھے تو معلوم ہے کہ میں بے گناہ ہوں۔ میں نے اپنی ساری زندگی محنت کرکے کمایا ہے۔ کم کھالیا ہے، ادھار لے لیا ہے مگر چوری کبھی نہیں کی۔ میں نے کرنل تھارٹن کا چابک نہیں چرایا۔ تجھے تو معلوم ہے، اب تو ہی میری مدد فرما۔۔۔‘‘
پولیس کے سپاہی بھی ڈیوس کی طرح سیاہ فام تھے۔ انہوں نے جب ڈیوس کو آنکھیں بند کئے، منہ میں کچھ بولتے دیکھا تو ان کا دل بھی نرم پڑگیا۔ انہیں بھی معلوم تھا کہ ڈیوس ایسا آدمی نہ تھا۔
عدالت کا وقت شروع ہوا تو عدالت کے ہر کارے نے آواز لگائی:
’’
ملزم ڈیوس، جس پر چوری کاالزام ہے، عدالت میں حاضر ہو!‘‘ ڈیوس کی ہتھکڑیاں ایک سپاہی کی پیٹی کے ساتھ بندھی تھیں۔ اس کا چہر اتر ہوا او رہلدی کی طرح زرد تھا۔ اس کی چال سے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کسی شدید بیماری سے اٹھا ہوں۔
عدالت کے کمرے میں خاصا ہجوم تھا۔ بستی کے کئی سیاہ فام، کرنل تھارٹن او راس کے نوکر، ڈیوس کی بیوی اور بچے، اس کے ہمسائے، اس کا شاگرد ٹام او رکئی سفید فام کمرے میں موجود تھے۔ جونہی ڈیوس عدالت میں داخل ہوا، سب لوگوں نے نظریں اس کی طرف پھیردیں۔ ڈیوس کو محسوس ہورہاتھا کہ جیسے سب کی نظریں اس کے جسم میں پیوست ہورہی ہے۔ اس کا دل چاہا کہ اس کے اردگرد کوئی دیوار ابھر آئے یا پھر وہ کوئی چادر اوڑھ لے۔ وہ سب لوگوں سے چھپ جانا چاہتا تھا۔
جج، کمرہ عدالت میں داخل ہوا۔ سب لوگ اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ وہ ادھیڑ عمر کا سفید فام تھا۔ وہ کرسی پر بیٹھا اور عدالت کی کارروائی شروع ہوگئی۔ عدالت کے ایک کلرک نے پوچھا:
’’
کیا تم ڈیوس ہو جو بستی میں لوہار کاکام کرتے ہو؟‘‘
’’
جی۔۔۔‘‘ ڈیوس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا۔
’’
تم پر الزام ہے کہ تم نے کرنل تھارٹن کے اصطبل سے ایک خوبصورت چابک چرایا ہے، جس کی مالیت پندرہ ڈالر ہے۔‘‘
’’
میں بے گناہ ہوں۔۔۔ میں نے اپنی ساری زندگی ایسا کام نہیں کیا۔۔۔‘‘ ڈیوس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
اس دوران جج ایک فائل کو پڑھ رہا تھا او راپنا سرہلا تا جارہا تھا۔ اس کے پہلو میں کچھ لوگ بیٹھے تھے جو تمام کے تمام سفید فام تھے۔ یہ لوگ جیوری کے ممبر تھے او ران کاکام فیصلہ کرنے میں جج کی مدد کرنا تھا۔ کرنل تھارٹن کا وکیل کھڑا ہوا او رجج کی اجازت لے کر بولنے لگا:
’’
جناب، ملزم ایک خطرناک آدمی ہے او ریہ سفید فام لوگوں کے خلاف باتیں کرتا رہتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ ہم سفید لوگ، کالے لوگوں پر ظلم کرتے ہیں او رہم نے انہیں اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ اگر گورے اس ملک میں نہ ہوتے تو کالے لوگوں کی زندگی کے تمام دکھ ختم ہوجاتے۔‘‘
’’
اس کے خیالات سے سیاہ فام لوگوں کو غصہ آتا ہے او روہ سفید فام لوگوں کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ اس سے امن وامان کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ میں عدالت سے استدعا کروں گا کہ مجرم کو سخت سے سخت سے سزادی جائے۔‘‘
’’
جناب، ان تمام باتوں کا مقدمے سے کوئی تعلق نہیں، مقدمے کا فیصلہ شہادتوں پر ہونا چاہئے۔‘‘ڈیوس کے وکیل نے کہا۔
’’
کرنل صاحب کے وکیل صرف مقدمے پر بات کریں او رشہادتوں پر زور دیں۔۔۔!‘‘ جج نے نرمی سے کہا۔
کرنل کے وکیل نے اپنی بات پھر سے شروع کی۔
’’
میں عدالت کے سامنے یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ ملزم نے کرنل تھارٹن کے گھوڑے کا نعل درست کیا‘‘۔
جب وہ نعل درست کررہا تھا تو اس نے کرنل کے چابک کے بارے میں طرح طرح کے سوال کئے۔ وہ دیر تک اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا رہا۔ اس نے اسے حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ جب کرنل تھارٹن نے اپنے گھوڑے کے باقی تین نعل ٹھیک کروانے کے لئے اپنے ملازم کو اس ملزم(وکیل نے ڈیوس کی طرف اشارہ کیا) کے پاس بھیجا تو اس نے بہانہ کرکے ملازم کو روانہ کر دیا اور خود بگھی چھوڑ نے کرنل صاحب کے گھر چلا آیا۔ اس وقت سورج غروب ہورہا تھا۔ اگلی صبح معلوم ہوا کہ بگھی سے چابک غائب تھا۔ چابک کی چوری کا شک ملزم کی طرف گیا۔ جب اس سے اس چوری کے بارے میں پوچھا گیا تو ملزم نے کرنل تھارٹن کے ملازم اور پولیس کانسٹیبل کے ساتھ سخت بدتمیزی کا سلوک کیا۔ تلاشی لی گئی تو اس کی دکان کے ایک کونے میں پڑے کاٹھ کباڑ کے نیچے سے چابک برآمد ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ یہ اسی نے چرایا تھا۔۔۔‘‘
ڈیوس پھٹی پھٹی نگاہوں سے کرنل کے وکیل کو دیکھ رہا تھا او رنفی میں سر ہلاتا جارہا تھا۔ وکیل صفائی، ڈیوس کے بچاؤ میں دلائل دینے کے لئے کھڑا ہوا۔ اس نے بہت مختصر او ربے جان بیان دیا۔ اس نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزم کو اس کے اچھے کردار کی وجہ سے معاف کردیا جائے۔
کرنل تھارٹن نے ملزم سے برآمدہونے والے چابک کی شناخت کی۔ اس نے ڈیوس کی دکان پر، ڈیوس کی چابک کے بارے میں گفتگو کی تصدیق کی۔ پولیس سپاہی، جس نے ڈیوس کی دکان کی تلاشی لے کر چابک برآمد کیا تھا، نے عدالت کے سامنے گواہی دی۔ مقدمے پر بحث ہوئی۔ اس تمام کارروائی کے دوران سب لوگ ڈیوس کے لئے پریشان تھے۔ صرف چند سفید فام او رڈیوس کا شاگرد، ٹام کسی او رطریقے سے سوچ رہے تھے۔ ٹام بار بار کرنل کی طرف دیکھتا اور کرنل ہلکی سی مسکراہٹ سے اس کو جواب دیتا۔ دونوں کے چہروں پر خونخوارجانوروں جیسی سختی نظر آرہی تھی۔
عدالت میں بھنبھناہٹ شروع ہوگئی۔ لوگ آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے۔ جیوری کے ممبر عدالت سے اٹھ کر ایک ساتھ والے کمرے میں چلے گئے۔ جج، کرنل تھارٹن کے پاس کھڑا تھا او روہ آپس میں بات چیت کررہے تھے۔
’’
کرنل صاحب، کیا آپ کیس کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں؟‘‘
’’
ہاں، میرے خیال میں سزا ذراکم رکھیے گا، یہ اس علاقے کا سب سے اچھا لوہارہے۔۔۔!‘‘ کرنل نے کہا۔
کچھ ہی دیر میں جیوری کے ممبران دوبارہ کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔ کمرے میں ایک دم مکمل خاموشی چھاگئی۔ ڈیوس ان تمام ممبروں کے چہروں کو دیکھ کر اندازہ لگارہا تھا کہ ان کے دِل میں کیا ہے۔ وہ ان سے رحم کا طلب گار تھا مگر وہ سب اس کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے۔
’’
معزز اراکین جیوری، کیا آپ کسی فیصلے پر پہنچ گئے ہیں؟‘‘ جج نے پوچھا۔
’’
جی ہاں‘‘ سب سے بڑے ممبر جیوری نے کہا۔
عدالت کے کلرک نے آگے بڑھ کر اس ممبر کے ہاتھ سے ایک کاغذ لے لیا او راس پر لکھی ہوئی عبارت کو بلند آواز میں پڑھنا شروع کیا:
’’
ہم تمام ارکان جیوری نے مقدمے کے تمام پہلوؤں پر غور کیا۔ عدالت میں جو شہادتیں اور بیان ہوئے ان پر بھی سوچ بچار کی۔ ہم نہایت ذمے داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ ملزم نے اس جرم کا یقیناًارتکاب کیا۔۔۔‘‘
کمرہ عدالت میں مکمل خاموشی تھی۔ اس خاموشی کو اچانک ایک عورت کی چیخ سے توڑ ڈالا۔ یہ ڈیوس کی بیوی تھی جو غم کے مارے اونچی آواز میں رونے اور اپنے آپ کو پیٹنے لگی تھی۔ ماں کو روتے دیکھا تو اس کے بچے بھی رونے لگے۔ وہ حیرت او ربے بسی والی نگاہوں سے اپنے باپ کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں مقدمے سے پیدا ہونے والی صورت حال کا کچھ اندازہ نہ تھا۔ اس صورت حال کو ڈیوس او راس کی بیوی بہت بہتر طور پر جانتے تھے۔۔۔ بچوں کو بس اتنا اندازہ تھا کہ ایسا پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔۔۔ان کا باپ نہ اس قدر آزردہ تھا او رنہ ہی ان کی ماں اس قدر غمگین اور دُکھی تھی۔
ڈیوس عدالت کے کٹہرے میں کھڑا تھا۔ اس نے جب جیوری کا فیصلہ سنا تو وہ بے جان سا ہو کر وہاں رکھی ایک کرسی پر ڈھے سا گیا۔ جیسے زیادہ گیلی مٹی کا کھلونا، بنتے ہی، اپنے وزن کے ساتھ گرجاتا ہے۔
جج نے عدالت اگلے دن کے لئے برخاست کردی۔ ڈیوس کا وکیل، ڈیوس کے پاس آیا او راسے دلاسہ دینے لگا:۔’’حوصلہ کرو، ڈیوس! میں تمہارے لئے جو کچھ کرسکتا تھا، میں نے کیا۔ میں کل جج سے مل کر تمہاری سزا کم کروانے کی سفارش کروں گا۔معمولی سے جرم پر، تھوڑا سا جرمانہ ہوجائے گا۔۔۔ اور کیا؟‘‘
ڈیوس نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ اسے تھوڑا سا حوصلہ ہوا مگر فوراً ہی اس کے دماغ پر پہلی سی اداسی پھیلنے لگی۔ پولیس والے اسے عدالت سے باہر لائے ۔ برآمدے میں اس کی بیوی او ربچے پاگلوں کی طرح اس سے لپٹ کررونے لگے۔ ڈیوس کی حالت بُری ہورہی تھی مگر وہ بالکل ایک فوجی سپاہی کی طرح تنا ہوا کھڑا رہا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر اس نے اپنے آپ کو کمزور ہونے دیا تو پھر آنسوؤں کا طوفان بہہ نکلے گا۔ اس نے صرف اپنے بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پولیس سپاہیوں کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔
(3)
اگلے دن ڈیوس کو ہتھکڑیاں او ربیڑیاں پہنا کر عدالت میں لایا گیا۔ اس کے کندھے جھکے ہوئے تھے، نگاہیں زمین پر تھی او رچہرے سے لگ رہا تھا جیسے وہ کئی دنوں سے سو یا نہ ہو۔ اسے عدالت میں لائے گئے دیگر ملزموں کے ساتھ قطار میں کھڑا کر دیا گیا۔ یہ سب اپنے اپنے جرم کی سزا سننے کے لئے عدالت میں حاضر ہوئے تھے۔ ڈیوس کے دل میں گھبراہٹ اور بے چینی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ جو بھی فیصلہ ہونا ہے جلد ازجلد ہوجائے۔ عدالت میں اس کی بیوی، بچے او رچند دوست موجود تھے۔ وہ کسی کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔ ویسے عام حالات میں تو ان لوگوں کی موجودگی سے اسے خوشی ہوتی تھی، مگر آج وہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ رہا تھا۔ اس کا دِل چاہتا تھا کہ یہ لوگ عدالت میں موجود نہ ہوتے تو اچھا تھا۔
پہلا مجرم عدالت کے کٹہرے میں آیا۔ یہ ایک سفید فام نوجوان تھا۔ اس نے ایک سیاہ فام نوجوان کو قتل کیا تھا۔ جج نے اسے سمجھایا کہ کچھ بھی ہوجائے، انسان کو قتل سے گریز کرناچاہئے۔ اسے بطور سزا ایک سال کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔
اس کے بعد ایک سفید فام نوجوان کلرک کی باری تھی۔ اس کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ اس نے سرکاری رقم میں خوردبرد کی تھی۔ جج نے اس سے مخاطب ہوکر کہا:
’’
تم ابھی جوان ہو، ابھی ساری زندگی تمہارے سامنے پڑی ہے۔ اگر تم نے ابھی سے اپنے آپ کو بے ایمانی او رلالچ کے راستے پر ڈال لیا تو تم ساری زندگی جیل میں گزاروگے۔ تمہارے خاندان والے معزز ہیں او رلوگ انہیں اچھا سمجھتے ہیں۔ تم ان کے لئے پریشانی کی وجہ بن رہے ہو۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ تم آئندہ ایسا نہیں کرو گے۔ میں تمہیں چھے ماہ کی قید اور سوڈالر جرمانہ کی سزا دیتا ہوں۔ جرمانے کی رقم خوردبرد کی ہوئی رقم سے ادا کی جائے گی۔‘‘
’’
ڈیوس، اب تم کٹہرے میں آؤ۔۔۔‘‘ جج نے کہا:
ڈیوس ایک دم چونکا۔ اس کی آنکھوں میں بے بسی او رخوف تھا۔ اس ہرنی کی طرح جس کو چاروں طرف سے شکاری کتوں نے گھیر لیا ہو۔
’’
ڈیوس، تم پر جو مقدمہ چلا، اس میں چوری کا جرم ثابت ہوگیا ہے۔ تم نے اپنی غربت کی وجہ سے چابک کو چوری کیا۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں، تم سیاہ فام لوگ ایسے ہی کرتے ہو۔ تم سفید فام لوگوں کے خلاف زہر اگلتے ہو، انہیں بُرا بھلا کہتے ہو، یہ اچھی بات نہیں۔ اس سے نفرت بڑھتی ہے او رتم اس کے ذمے دار ہو۔ میں تمہیں ایسی سزادوں گا کہ تمہاری نسل میں کوئی اور شخص سفید فام لوگوں کو تنگ کرنے کے بارے میں کبھی سوچنے کی جرأت بھی نہ کرے گا۔ مجھے تمہاری بیوی او ربچوں کا بھی خیال ہے، اس لئے میں رحم کرتے ہوئے تمہیں پانچ سال قید بامشقت کی سزاد یتا ہوں۔۔۔‘‘ جج نے فیصلہ سنایا۔
’’
میں نے چوری نہیں کی۔۔۔‘‘ ڈیوس نے چلاّتے ہوئے کہا۔
’’
اوہ میرے مالک، ہم بربادہوگئے، میرے خاوند کو ان لوگوں نے بلاوجہ ماردیا۔۔۔!‘‘ ڈیوس کی بیوی رو رہی تھی اور ساتھ ہی چلاّرہی تھی۔ وہ بھاگی او راپنے خاوند سے جالپٹی۔
’’
بیچاری بیوی۔۔۔ اصل ظلم تو اس عورت پر ہوا۔۔۔‘‘ ایک سیاہ فام عورت کہنے لگی۔
’’
پیچھے ہٹو، نینسی، اب تم ڈیوس سے جیل میں مل لینا۔‘‘ ایک سپاہی نے نینسی کو ڈیوس سے الگ کرتے ہوئے کہا۔
(4)
پانچ سال کے بعد، جون کی ایک صبح، ایک سیاہ فام آدمی لنگڑاتا ہوا، بستی کی سڑک پر چلا جارہا تھا۔ یہ لمبے قد والا آدمی تھا مگر اس کے کندھے آگے کی طرف جھکے ہوئے تھے۔ لگتا تھا جیسے وہ بہت سال بہت سا بھاری سامان اپنے کندھوں پر اٹھائے کھڑا رہا ہو اور اس کے کندھے مستقل طور پر جھک گئے۔ اس کا چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں ، جیسے شدید آگ میں جل رہی ہوں۔
’’
پتہ نہیں نینسی، اچانک مجھے دیکھ کر کیا کہے گی؟ ان پانچ برسوں میں اس نے بچوں کو کیسے پالا ہو گا؟ شاید وہ لوگوں کے گھروں میں کپڑے دھونے یا صفائی کرنے کاکام کرتی ہوگی۔ پتہ نہیں، بچے میری جیل سے واپسی پر خوش ہوں گے کہ نہیں۔۔۔؟ کہیں وہ یہ نہ سوچتے ہوں کہ میں نے واقعی چابک چرایا تھا؟ دونوں کافی بڑے ہوگئے ہوں گے۔۔۔ معلوم نہیں اب وہ کیسے لگتے ہوں گے؟۔۔۔‘‘
پانچ منٹ کے بعد یہ شخص ایک مکان کے باہر کھڑا تھا اور کھڑکی سے اندر جھانکنے کی کوشش کررہا تھا۔ یہ گھر بھی ڈیوس کا اپنا گھر تھا۔ کھڑکی سے جھانکتے ہوئے، پہلے تو اس کے چہرے پر اُمید کی خوشی تھی، پھر بے چینی کا زردرنگ ابھرا۔ وہ جلدی سے دروازے کی طرف لپکا او راسے دھڑدھڑ پیٹنے لگا۔
’’
کون ہے؟‘‘ اندرسے ایک عورت کی آواز آئی۔
’’
کیا ڈیوس کی بیوی نینسی گھر پر ہے؟‘‘ اس نے دروازہ کھولنے والی اجنبی سفید فام عورت سے پوچھا۔
’’
نینسی اب یہاں نہیں رہتی۔‘‘
’’
یہ گھر کس کا ہے؟‘‘
’’
یہ میرے شوہر سمتھ کی ملکیت ہے۔۔۔!‘‘
’’
میں معذرت چاہتا ہوں۔ کچھ برس پہلے یہاں ڈیوس رہتا تھا۔ وہ اس بستی میں لوہار کاکام کرتا تھا ۔ یہ مکان اس کی ملکیت تھا۔۔۔ میں اس سے ملنے یہاں آیا تھا۔۔۔‘‘
’’
ہاں ہاں، مجھے یاد آیا۔ ڈیوس۔۔۔ لوہار۔۔۔ یہ وہی آدمی ہے جسے چوری کے الزام میں جیل ہوگئی تھی۔۔۔ اس نے شاید بکری یا بھیڑ چرائی تھی یا اس طرح کی کوئی چیز۔۔۔‘‘
وہ شخص اگلے دروازے پر جاکھڑا ہوا۔ ایک عورت اس کی دستک کے جواب میں گھر کے دروازے پر نمودار ہوئی۔ وہ اس شخص کو آنکھیں سکیڑ کر دیکھ رہی تھی۔
’’
کیا بات ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’
مہربانی فرماکرکیا آپ مجھے بتاسکتی ہے کہ آپ کے پڑوس میں کبھی ڈیوس نام کا لوہار رہتا تھا؟‘‘
’’
ہاں ، وہ ساتھ والے گھر میں رہتا تھا۔ اسے قتل کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔۔۔‘‘
’’
کیا آپ بتاسکتی ہیں کہ اس کی بیوی او ربچوں کا کیا ہوا؟وہ کہاں ہیں؟‘‘
’’
وہ یہ جگہ چھوڑ کر کہیں چلی گئی۔ سنا ہے کہ اس نے اپنے خاوند کے جیل میں جانے کے بعد کسی اورکے ساتھ شادی کرلی اور بچوں کو اللہ کے سہارے چھوڑگئی۔۔۔‘‘
ڈیوس کو لگا، جیسے اس کی ٹانگیں اس کو اٹھانے سے انکار کررہی ہیں۔ اس نے دیوار کا سہارا لے لیا۔ 
’’
اوربچے۔۔۔؟‘‘
’’
لڑکی تو مرگئی۔۔۔ شاید دریا میں ڈوب گئی تھی۔ کسی نے دھکادے دیا تھا۔۔۔‘‘
ڈیوس کاسارا جسم جیسے بے جان ساہوگیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی بیٹی کی تصویر آگئی۔
’’
ان کی جائیداد کا کیا ہوا۔۔۔؟‘‘
’’
لڑکا، اپنے باپ کے نقش قدم پر چلنے لگا۔ اس نے لوگوں سے ادھار لے کر کھانا شروع کردیا۔ وہ ہر طرح کے جُرم کرتا، پولیس اس کے پیچھے رہتی۔۔۔ پھر وہی عدالتوں کا چکر او روکیلوں کی فیس۔۔۔ آخر گھر بک گیا، اسے ایک سفید فام نے خرید لیا۔‘‘
’’
لڑکے نے ایک سفید فام کو قتل کردیا۔۔۔‘‘
اب پوچھنے کے لئے کچھ بھی نہ بچا تھا۔ ڈیوس نے پوٹلی کمر میں دبائی او ردریا کے کنارے جابیٹھا۔
(5)
ڈیوس نے دریاکے کنارے ایک درخت کی موٹی ٹہنی، ایک لمبے چاقو سے کاٹی۔ اس کی تراش خراش کرکے ایک لمبا ڈنڈا بنایا۔
وہ ہاتھوں میں ڈنڈا اٹھائے، تیز تیز قدموں کے ساتھ ایک سفید بنگلے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ بنگلے کے ساتھ ایک وسیع لان تھا او ران میں آدھے دائرے کی شکل میں سڑک بنی ہوئی تھی۔ سڑک کے دونوں کناروں پر گھنی جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں۔ ڈیوس نے اپنے آپ کو ان جھاڑیوں میں چھپا لیا۔ ایک بچی گھر سے نکلی اور سڑک پر کھیلنے لگی۔ ڈیوس کو خیال آیا کہ وہ اس بچی کو نقصان پہنچا کر، اس کے باپ کو بہت بڑی سزا دے سکتا تھا۔ اس نے اس خیال کو جھٹک دیا۔ بچی پھول توڑ کر اپنے بالوں میں سجارہی تھی۔ اتنے میں ایک بگھی بنگلے میں داخل ہوئی۔ ڈیوس کو اس کاانتظار تھا۔ ڈیوس وار کرنے کے لئے اٹھا مگر اس سے وارنہ ہوسکا۔ اس نے سوچا، اگر اس خبیث کرنل کو کچھ ہوگیا تو اس بچی کا کیا ہوگا۔ وہ فوراً واپس جھاڑی میں چھپ گیا۔ مگر کرنل تھاڑٹن ایک گندے سیاہ فام کو جھاڑی میں چھپتا ہوا دیکھا چکا تھا۔ خوف کی لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑنے لگی۔ اس نے پھرتی سے اپنا پستول نکالا۔ فائر ہوا، کرنل کا نشانہ خطانہ ہوا۔ گولی ڈیوس کے سر میں لگی، وہ لڑکھڑا کر زمین پر گرگیا۔ وہ عین اس جگہ پر گرا جہاں کرنل کی بیٹی پھول چن رہی تھی۔فائر ہوا تو وہ ڈرکے مارے بھاگ گئی۔ پھول اس کے ہاتھ سے زمین پر گر پڑے۔ ڈیوس گرا او راس نے دم توڑدیا۔ بچی کے چُنے ہوئے سفید گلاب ، ڈیوس کے خون سے سرخ ہوگئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *