ماں بولی کا عالمی دن

1653412_632839866789832_795813157_nپروفیسراکرم میرانی


انسان کی زندگی میں ماں بولی کی اہمیت کلیدی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہی وہ زبان ہے کہ جس کی مدد سے سب سے پہلے وہ اپنے ماحول سے متعلق واقفیت حاصل کرنا شروع کرتا ہے یا انسان کا اور اُس کے ماحول کا تعلق قائم ہونا شروع ہوتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ابتدائی عمر کے پہلے تین چار سال میں یا سکول جانے سے پہلے ہر بچہ اڑھائی سے تین ہزار الفاظ سے واقفیت حاصل کر چکا ہوتا ہے یعنی جب وہ سکول میں داخل ہوتا ہے اور اُس کا واسطہ اساتذہ اور کتابوں سے پڑتا ہے وہ پہلے سے ہی ماں سے بہت کچھ سیکھ چکا ہوتا ہے۔ سکول کی دنیا اور کتابوں کو پڑھنے کیلئے وہ اُس ابتدائی ذخیرہ سے بہت کچھ مدد لیتا ہے جو اُس کے پاس ماں بولی کے ذریعہ موجودہوتا ہے۔

وہ ممالک جہاں بچوں کو ابتدائی تعلیم ماں بولی میں دی جاتی ہے دراصل بچوں کے ماں بولی میں حاصل شدہ علم کو سکول کی تعلیم کا حصہ بنا لیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ سکول میں اجنبیت محسوس نہیں کرتا اور کتابیں اُسے اپنی اپنی لگتی ہیں اورپڑھائی اُس کیلئے روز کا معمول اور کھیل بن جاتی ہے جن ممالک میں ابتدائی تعلیم ماں بولی میں نہیں دی جاتی وہاں کے بچوں کو ابتدا ہی میں اڑھائی سے تین ہزار الفاظ کی اہلیت ترک کرنا پڑتی ہے جو کہ بچے کیلئے بڑا نقصان ہے۔ پھر دوسری زبان میں کتابیں اُسے اجنبی لگتی ہیں جن کے ساتھ اُس کا قلبی تعلق قائم ہونے میں مشکلات حائل رہتی ہیں اور بہت وقت لگتا ہے اور بہت سے بچے اِس اجنبیت کی وجہ سے سکول سے بھاگ جاتے ہیں۔ 

اکیس(21) فروری کا مادری زبان کا دن بنگال کی سیاسی جدوجہد کی یاد گار ہے بنگالیوں کو اپنی زبان اور کلچر پر ہمیشہ بڑا فخر رہا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے بڑی جدوجہد کی ہے ۔ عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اور آج یہ دن ساری دنیا میں منایا جانے لگا ہے۔

پاکستان کے قیام کے وقت سے ہی زبانوں اور اُن کی اہمیت کے حوالے سے گمراہ کن پالیسی اختیار کی گئی۔ ہندو مسلم تضاد کے حوالے سے سنٹرل ہندوستان کے مسلمانوں نے اردو کو اپنی پہچان بنا لینے کا سیاسی فیصلہ پاکستان بننے سے پہلے لے لیا تھا، پاکستان بننے کے بعد پاکستان کی سیاسی قیادت نے پاکستان میں اسلام اور اردو نافظ کرنے کا عمل شروع کر دیا جس کا شدید ردِعمل ہوا جس میں بنگال نے نمایاں کردار ادا کیا اور آخر کار بنگلہ دیش بن گیا کیونکہ بنگالیوں نے اردو کے نفاظ میں چھپے سیاسی کنڑول کو قبول کرنے سے مکمل انکار کر دیا۔

پاکستان میں وقت تیزی سے گزر رہا ہے جبکہ پالیسی ساز اس طرف توجہ دینے میں ناکام رہے ہیں کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جائے اور بچے کو اس کی ابتدا میں حاصل شدہ اہلیت سے محروم نہ کیا جائے جو اُس نے ماں سے حاصل کرلی تھی۔ مادری زبان میں تعلیم کا ایک اہم سیاسی پہلو ہے کیونکہ ہمارے ملک میں ریاستی سطح پر اس بات کو پالیسی سطح پر قبول نہیں کیا گیا کہ یہ ملک ایک کثیر القومی اور کثیر اللسانی ملک ہے۔ 

ریاستی سطح پر ہمیشہ یہ راگ الاپا جاتا ہے کہ مسلمان ایک قوم ہے اور یہاں کی اکثریت مسلمان ہیں اور ہندوستان کے مسلمانوں کی اصل زبان اردو ہے اس غلط مفروضے سے باہر آنے کی ضرورت ہے اور مان لینا چاہیے کہ پاکستان میں کئی قومیں (مثلاً سندھی، سرائیکی ، پنجابی ، پشتون اور بلوچی) بستی ہیں جن کی الگ شناخت اور زبانیں ہیں وہی ہماری اپنی اور قومی زبانیں ہیں انہیں میں ابتدائی تعلیم دینا چاہیے۔ اُس کے بعد بچہ چاہے جتنی زبانیں سیکھے اُس میں اردو بھی رابطے کی زبان کے طور پر قائم رہے جبکہ انگریزی بھی ضرور سیکھنی چاہیے کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہم زبانوں میں سے ایک ہے۔ 

اردو پر غیر ضروری زور کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان 100 فیصد لٹر یسی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہور ہا ہے کیونکہ ابتدائی تعلیم اردو میں دی جاتی ہے اس لئے تعلیم بالغان اور لٹریسی کے ادارے مکمل طور پر ناکام ثابت ہو رہے ہیں ۔ تمام تر سرمایہ کاری کے باوجود اردو ایک تخلیقی زبان کے طور پر مسلسل سکڑرہی ہے کیونکہ مقامی علاقائی زبانوں میں تخلیقی لٹریچر اب تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ مقامی شاعر اور ادیب حضرات عوام سے مکالمہ چاہتے ہیں اس لئے اردو کے مقابلے میں اردو کے مقابلے میں اپنی ماں بولی کی اہمیت کو مانتے ہوئے اُسی میں اظہارِ خیال کو زیادہ مناسب سمجھنے لگے ہیں ۔

اس لئے اردو سرکاری موقف اور خبروں کی زبان بنتی چلی جار ہی ہے۔ یہ غلطی ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں نے بھی کی کہ دربار کی زبان فارسی قرار دے دی جس کی وجہ سے وہ مقامی آبادی سے اپنا رشتہ مضبوط کرنے میں ناکام رہے اور آج غالب اور اقبال کی فارسی شاعری پڑھنے والا ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملتا۔ اس تجربہ سے سیکھنا چاہیے اور موجودہ سیاسی حکومتوں کو قومی لینگویج پالیسی نئے سرے سے مرتب کرنا چاہیے کہ جس سے اس ملک کی تمام مادری زبانوں کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں قومی زبانیں مان لینا چاہیے۔

اس کی سب سے زیادہ مخالف ہمیشہ مذہبی حلقوں اور پنجاب سے ہوتی رہی ہے۔ مذہبی حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی قومی زبان عربی ہونی چاہیے اور عید بھی سعودی عرب کے ساتھ کرنی چاہیے کیونکہ ہم سب مسلمان ہیں اور ایک قوم ہیں اس لئے ہماری ایک زبان (عربی) ایک کتاب ، ایک خدا ، ایک رسول اور ایک قبلہ سب کچھ ایک ہونا اور دکھنا چاہیے۔

پنجاب کا حکمران طبقہ اردو کو سیاسی کنٹرول کو جاری رکھنے کیلئے پنجابی کی جگہ اردو کی وکالت کرتا ہے اس میں خود پنجابیوں کی بھی جزوی نقصان ہے مگر انہیں فائدہ زیادہ مل رہا ہے پھر اُن کی مادری زبان مشرقی پنجاب میں مکمل طور پر محفوظ کی جاررہی ہے جبکہ پاکستان کی دوسری زبانوں مثلاً سرائیکی ، سندھی اور بلوچی کو یہ سہولت حاصل نہیں۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو اپنی پالیسیاں جذبات اور خوش فہمیوں کی بجائے حقائق کی بنیاد پر مرتب کرنی چاہئیں ۔ 

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم سارک ممالک کا حصہ ہیں اس لئے علاقائی تجارت ایک حقیقت ہے اس کے بغیر اقتصادی ترقی ممکن نہیں ۔ علاقائی تعاون سے مسلسل انکار نے پاکستان کیلئے آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کی محتاجی کو جنم دیا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان مختلف قوموں پر مشتمل ایک ملک ہے جسے نہ ماننے کے نتیجہ میں بنگال علیٰحدہ ہوا۔ بلوچ اور پشتون ہتھیار اُٹھائے ہوئے ہیں ۔ 

پاکستان میں اردو کے نفاذ اور شدت پسندی پر مبنی سیکورٹی پالیسی اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ غربت اور جہالت سے چھٹکارہ نہیں مل رہا اور تصادم نے جہادی رنگ لے لیا ہے ۔ شدت پسندی نے اتنی طاقت پکڑلی ہے کہ ملک میں علم، امن ، علاقائی تعاون اور معقولیت کی ہر آواز کو دبانے کی روش چل نکلی ہے۔ آج جبکہ مسلمان اکثریت آبادی والے ملکوں میں جمہوری خواہشات کے حامل عوام اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں شدت پسندوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جانے لگا ہے ۔ اس کا نتیجہ سماجی اور علاقائی تقسیم کی شکل میں سامنے آنے لگا ہے ۔

دریائے سندھ سے ایک طرف کی سوچ صوفیانہ اور دوسری طرف کی شدت پسندانہ ہوتی جارہی ہے۔ سرائیکی لوگ توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں ہیں اُن کی آواز کو سننا ضروری ہے ورنہ ایک مرتبہ پھر اقتصادی بحران اور سماجی ٹکراؤ جنم لے سکتا ہے اور اس کے ذمہ دار صرف اور صرف پالیسی ساز اداروں میں اکثریت کی حامل قومیت او ر اشخاص ہوں گے۔

اکیس(21 )فروری 1952 ء کی یاد میں منایا جانے والا عالمی ماں بولی کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ڈھاکہ میں کی جانے والی غلطی کو جاری رکھنا غیر ضروری ہے ۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو جان لینا چاہیے کہ آج تک کسی بھی ملک نے ماں بولی کے علاوہ زبان میں 100 فیصد لٹریسی کا ٹارگٹ حاصل نہیں کیا ۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسانہیں جس نے علم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں بڑا مقام حاصل کیا ہو اور وہاں ابتدائی تعلیم ماں بولی میں نہ ہو اس لئے اگر پاکستان کو آگے بڑھنا ہے تو زمینی حقیقتوں کو مان کر چلنا ہوگا ورنہ غلطی پر غلطی اور ناکامی کے بعد ناکامی مقدر بن جائے گی۔

♣ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *