نذیر کوچوان۔۔چیخوف کی کہانی

سبط حسن

FSD-Tanga-Sawari-PKG-04-01-RAHEEL

شام ڈھل رہی تھی او رہر طرف اندھیرا بڑھتا جارہا تھا۔ سڑکوں پر تیل کے بڑے بڑے لیمپ جل رہے تھے۔ ہر طرف سکون تھا۔ صرف لیمپوں کے اردگرد برف اڑتی دکھائی دے رہی تھی۔
نذیر اپنے تانگے کی اگلی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ وہ گٹھڑی بنا، بالکل ساکت بیٹھا تھا۔ برف گررہی تھی اور اس کی ہلکی سی باریک تہہ اس کی ٹوپی او رکوٹ کی بانہوں پر جمتی جارہی تھی۔ نذیر اپنے آپ میں کھویا ہوا تھا اور سردی او ربرف گرنے سے لاپرواہ تھا۔
اس کی گھوڑی دبلی تھی۔ اس کا رنگ سفید تھا۔اس کو غور سے دیکھیں تو لگتا تھا کہ جیسے اس کو کوئی سخت پریشانی ہو۔۔۔ وہ ڈری ڈری سی رہتی اور اس کے چلنے کے انداز سے بھی لگتا تھا کہ جیسے اس پر بہت سا بوجھ پڑا ہو۔۔۔ وہ بہت آہستہ آہستہ چلتی تھی۔ کمزوری کے باعث اس کی پسلی او رکمر کی ہڈیاں بہت نمایاں ہوگئی تھیں۔ اس کی ٹانگیں بالکل لکڑی کی معلوم ہوتی تھیں۔ اس کو آتے جاتے، اٹھتے بیٹھتے دیکھ کر دل بیٹھ سا جاتا تھا۔ کوئی بھی شخص اس کے لئے دلی ہمدردی محسوس کرتا اور اس کی خواہش ہوتی کہ وہ گھوڑی سے پوچھے کہ تمہارے دل میں کیا غم چھپاہے۔ مگر گھوڑی تو بول نہیں سکتی۔۔۔
نذیر نے دوپہر سے کچھ دیر پہلے تانگہ جوتا تھا۔ وہ اس وقت سے اس چوک میں کھڑا تھا مگر اسے شام تک کوئی سواری نہ ملی۔
’’
بھائی، کیا تانگہ خالی ہے۔۔۔ کیا چھاؤنی تک جاؤ گے؟‘‘ نذیر کے کان میں آواز پڑی۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔ اسے ہلکی سی اونگھ آگئی تھی۔ اس نے اپنا سر اٹھایا، دیکھا ایک شخص فوجی کوٹ پہنے کھڑا تھا۔ وہ کوئی فوجی آفیسر معلوم ہوتا تھا۔
’’
کیا چھاؤنی تک جاؤگے؟‘‘ فوجی آفیسر نے دوبارہ پوچھا۔
نذیر نے جلدی سے باگوں کو سیدھا کیا۔ برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے باگوں سے اڑکر زمین پر جاگرے۔ آفیسر تانگے میں بیٹھا۔ نذیر نے گھوڑی کو ہانکا۔ گھوڑی سردی کے مارے گردن جھکائے، ڈھیلی ڈھالی کھڑی تھی۔ اس نے اپنی گردن سیدھی کی اور آہستہ آہستہ چلنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد دلکی چال چلنے لگی۔ شاید سردی دور کرنے کا یہی ایک طریقہ تھا۔
وہ ایک سڑک پر آگئے۔ جہاں روشنی کے لئے لیمپ نہ تھے۔ ہر طرف گھپ اندھیرا تھا۔ نذیر کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ تانگہ کیونکر سڑک کے اوپر رکھے۔ اتنے میں تانگہ غیر معمولی طور پر ہلنے لگا۔ ایک زور کا جھٹکا لگا۔ نذیر نے فوراً باگیں کھینچ لیں۔ گھوڑی رک گئی۔ وہ تانگے سے نیچے اتر رہا تھا کہ آفیسر نے چلاتے ہوئے کہا
’’
تمہیں تانگہ چلانا نہیں آتا کیا؟ کیا تم نشہ کرتے ہو؟‘‘
نذیر چپ چاپ تانگے سے اترا اور گھوڑی کے منہ کے قریب باگوں کو پکڑکر اسے سڑک پر لانے لگا۔ تانگہ سڑک سے اتر کر کھڈوں میں چلا گیا تھا۔ آفیسر مسلسل بولے جارہا تھا
’’
تم سب تانگے والے بدمعاش ہوتے ہو۔ تمہاری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ تم مسخری کرو، خواہ کسی کو اس سے چوٹ ہی کیوں نہ لگ جائے۔‘‘
نذیر اپنی گھوڑی کی طرف دیکھتا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر آفیسر اسے بولنے کا موقع ہی نہیں دے رہا تھا۔ نذیر تانگے پر آبیٹھا اور تانگہ آہستہ آہستہ چلنے لگا۔ نذیر کچھ کہنا چاہتا تھا مگر اس کے منہ سے جانوروں سی’’اوں آں‘‘ کے علاوہ کچھ نہیں نکل رہا تھا۔ آفیسر نے اس کی اوں آں سن کرکہا:
’’
کیا کہا۔۔۔؟‘‘ آفیسر نے اس قدر حقارت او ربدتمیزی سے یہ کہا کہ نذیر عجیب طرح سے ہنسا او رچپ ہو رہا۔ اس نے تھوک نگلا اور پیچھے بیٹھے آفیسر کی طرف تھوڑاساترچھا منہ کرکے کہنے لگا:
’’
جناب، میرا بیٹا اس ہفتے فوت ہوگیا تھا۔ معلوم نہیں اسے کیا ہوا؟ اس کی طبیعت خراب ہوئی اور میں اسے ہسپتال لے گیا۔ وہ وہاں تین دن رہا اور پھر۔۔۔ اوپر چلا گیا۔۔۔ اللہ کی مرضی۔۔۔!!‘‘
’’
بے وقوف آدمی، سامنے دیکھو۔۔۔! تانگہ دیکھو، کدھر جارہا ہے۔ اس طرح تو ہم کل تک چھاؤنی پہنچ پائیں گے۔ تیز چلو۔۔۔ تیز۔۔۔‘‘ آفیسر نے بگڑ کر کہا۔
نذیر نے فوراً اپنی گردن سیدھی کی۔وہ تانگے میں کھڑا ہوگیا۔ چابک ہوا میں لہرائی۔ گھوڑی تیز رفتار میں دوڑنے لگی۔ نذیر نے کئی دفعہ آفیسر کی طرف دیکھا۔ وہ آنکھیں بند کئے۔ اپنا سرسینے پر جھکائے اونگھ رہا تھا۔
نذیر نے آفیسر کو چھاؤنی میں اتارا۔ تانگہ ایک چوک میں کھڑا کیا او رپھر تانگے پر سکڑ کر بیٹھ گیا۔
قریباً ایک گھنٹے کے بعد تین نوجوان، ایک دوسرے سے شرارتیں کرتے، تانگے کے پاس آئے۔
’’
تانگے والے ، کیا بڑی مارکیٹ تک چلو گے؟۔۔۔ تینوں کے پچاس روپے دیں گے۔‘‘ایک ٹھنگنے نوجوان نے کہا۔
پیسے خاصے کم تھے مگر نذیر نے سوچا چلو، سواری تو ملی۔ اس نے سرہلایا۔ تینوں نوجوان ایک دوسرے کو دھکیلتے تانگے پر سوار ہوگئے۔ ایک آگے بیٹھ گیا اور دو پچھلی سیٹ پر۔
’’
چلو بھئی!‘‘ اگلی سیٹ پر بیٹھے دراز قدنوجوان نے کہا۔ نذیر نے باگیں کھینچیں او رگھوڑی چل دی۔
’’
یار، کوچوان، تمہاری ٹوپی کیا کوہ قاف سے آئی ہے؟ ایسی ٹوپی تو میں نے کبھی نہیں دیکھی۔۔۔‘‘ پچھلی سیٹ پر بیٹھے گول مٹول موٹے نوجوان نے کہا۔ سب قہقہے لگانے لگے اور اس کی ٹوپی کو دیکھنے لگے۔ نذیر بھی ہنسنے لگا۔
’’
صاحب، بس گزارا کرنا ہے۔۔۔‘‘ نذیر نے کہا۔
’’
اچھا بھائی، ذرا جلدی کرو، ہمیں ڈرامہ دیکھنے جانا ہے‘‘ موٹے نوجوان نے کہا:۔
’’
لگتا ہے، یہ گھوڑی نہیں، آگے کچھوا جتا ہوا ہے۔ یہ کل دوپہر تک ہمیں تھیڑتک پہنچاہی دے گا۔ ہم کل شام کا شودیکھ لیں گے۔۔۔‘‘ اگلی سیٹ پر بیٹھے نوجوان نے کہا۔ سب ہی ہی ہنسنے لگے۔ نذیر بھی ہنسنے لگا اور ساتھ ہی اس نے چابک لہرایا۔ گھوڑی کچھ تیز دوڑنے لگی۔
’’
کوچوان، اس مریل گھوڑی کو چابک مارنے سے کیا ہوگا۔ اس میں جان ہی نہیں تو یہ دوڑے گی کیسے۔۔۔؟‘‘ موٹے نوجوان نے کہا۔
’’
یار، ہم کس مصیبت میں پھنس گئے ہیں، اس سے تو بہتر تھا کہ ہم پیدل ہی چل پڑتے۔۔۔‘‘ لمبے قد والے نوجوان نے کہا۔
اتنے میں ٹھنگنے نوجوان نے ایک عورت کی کہانی شروع کردی۔ نذیر باربار مڑکر اس کی طرف دیکھتا۔ ٹھنگنا نوجوان کچھ لمحوں کے لئے چپ ہوا تو نذیر نے کہا:
’’
اس ہفتے۔۔۔ میرا بیٹا فوت ہوگیا۔۔۔!!‘‘
’’
سب نے ایک دن مرنا ہے‘‘، موٹے نوجوان نے کہا:۔ وہ کھانسا او رکہنے لگا۔’’تانگہ ذرا تیز چلاؤ۔ مجھ سے کچھوے کی یہ رفتار برداشت نہیں ہورہی۔ پتہ نہیں ہم کب تھیٹر پہنچیں گے؟’’ مجھے لگتا ہے، آج کا شو دیکھنا ممکن نہیں۔۔۔ یار تم اس گھوڑی کو ذبح خانے میں بیچ کیوں نہیں دیتے۔۔۔‘‘ لمبے قد والا نوجوان بڑبڑایا۔
’’
تم لوگ خواہ مخواہ اپنا سرکھپارہے ہو۔۔۔ اس کو چوان پر تو کچھ اثر ہی نہیں ہو رہا۔۔۔‘‘ ٹھنگنے نوجوان نے کہا اورپچھلی سیٹ سے ایک دھپ نذیر کی کمر پر ماری۔ نذیر کھسیانا ہوکر ہنسنے لگا۔۔۔‘‘ آپ لوگ تھیٹر جارہے ہو، اس لئے آپ اچھے موڈ میں ہو۔۔۔ اللہ آپ کو خوش رکھے‘‘۔۔۔ نذیر نے کہا:۔
اگلی سیٹ پر بیٹھے نوجوان نے کہا:۔’’ کوچوان، کیا تمہاری شادی ہوگئی ہے؟‘‘’’صاحب، شادی کی کیا بات کرتے ہو۔۔۔ میرے ایک بیٹا بھی ہوا۔ وہ بھلا چنگا تھا۔ پچھلے ہفتے وہ مرگیا۔ موت آئی اوراس معصوم کولے گئی۔ اس کی بجائے مجھے لے جاتی تو اچھا تھا۔‘‘ نذیر نے اپنے بیٹے کی موت کے بارے میں بات شروع کردی۔ اسی وقت پچھلی سیٹ پر بیٹھے ٹھنگنے نے کہا’’لوجی، تھیڑآگیا۔۔۔!!‘‘
ان لڑکوں نے نذیر کو پچاس روپے دیے او رسڑک کے کنارے ایک بڑے تھیٹر میں داخل ہو گئے۔ نذیر پھر اکیلے کااکیلا۔۔۔ اس نے اپنے بیٹے کی موت کی تھوڑی سی بات کی تھی اور اس کا دل بھی تھوڑا ساہلکا ہوگیا تھا۔ مگر وہ اور بھی باتیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اس کا دل پھر بھاری بوجھ کے تلے دبنے لگا۔ تھیٹر کے اردگرد کئی لوگ آجارہے تھے۔ کئی لوگ بیٹھے خوش گپیاں کررہے تھے۔ نذیر نے سوچا اتنے سارے لوگوں میں کوئی بھی ایسانہیں جو اس کے غم کو سنے۔ اس سے ہمدردی کے دو بول کہے۔ اگر اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئیں تو اسے دلاسہ دے۔ اگر اس کا بہت زیادہ رونے کو دل آجائے تو اپنے کندھے سے لگالے۔ نذیر کو محسوس ہورہا تھا کہ اس کے اندر کوئی چیز ٹوٹ ٹوٹ کر دھندسی بنارہی ہے۔
نذیر نے ایک شخص کو تانگے کے پاس آتے دیکھا۔ یہ تھیٹر کا چوکیدار تھا۔ نذیر نے سوچا، وہ اس سے بات کرے۔ اس نے بات شروع کی۔
’’
بھائی کیا وقت ہوا ہے؟‘‘
’’
دس بجے ہیں۔۔۔ لیکن تم اس جگہ کھڑے ہو؟ یہاں سے اپنا تانگہ ہٹا لو۔۔۔‘‘ چوکیدار نے جواب دیا۔
نذیر نے تانگے کو آگے بڑھالیا۔ کچھ فاصلے پر تانگہ روکا۔ وہ اپنے آپ کو اکٹھا کرکے، گردن جھکائے بیٹھ گیا۔ اسے محسوس ہوا، اس کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ اس نے اپنے آپ کو سیدھا کیا۔ باگیں کھینچیں۔اس نے دل میں کہا، اب گھر چلنا چاہئے۔
گھوڑی چلنے لگی۔ نذیر اپنے خیالوں میں گم سوچ رہا تھا:
’’
اتنی جلدی گھر جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اتنے پیسے تو کمالیتاکہ جس سے میرا او رگھوڑی کا پیٹ بھر جاتا۔۔۔‘‘
ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد وہ چھوٹے سے اصطبل تک پہنچا جہاں رات گزارنے کے لئے وہ اپنی گھوڑی کو باندھتا تھا۔ اصطبل میں آگ جل رہی تھی اور اس کے اردگرد بہت سے کوچوان سورہے تھے۔ دوسری طرف کئی ایک گھوڑے بندھے تھے۔ نذیر اصطبل میں داخل ہوا۔ نذیر سوئے ہوئے لوگوں کے پاس کھڑا اپنے چابک سے کمر پر کھجلی کرنے لگا۔ اسے بے چینی ہورہی تھی او روہ سوچ رہا تھا کہ خواہ مخواہ اتنی جلدی واپس آگیا۔ اتنے میں ایک کونے سے ایک کوچوان اٹھا۔ وہ نیند میں ہی پانی کے برتن کی طرف بڑھا۔’’پیاس لگ رہی ہے کیا؟‘‘ نذیر نے پوچھا۔ پھر خود ہی کہنے لگا۔
’’
آگ سے کمرا کافی گرم ہے، پیاس تو لگے گی ہی۔۔۔‘‘ وہ نیند سے اٹھنے والے شخص کے پاس آیا اور کہنے لگا:
’’
باہر تو اس قدر سردی ہے او راندر خاصی گرمی۔۔۔ سردی کا اثر بچوں پر بڑا سنگین ہوتا ہے۔۔۔ میرا بیٹا شاید۔۔۔ اسی سردی سے۔۔۔ بیمار۔۔۔ مرگیا۔۔۔ اسی ہفتے۔۔۔ ہسپتال۔۔۔‘‘
نیند سے اٹھنے والے شخص نے پانی پیا۔ نذیر اسے غور سے دیکھ رہا تھا کہ اس پر اس کی بات کا کچھ اثر ہوا ہے کہ نہیں۔ وہ شخص واپس اپنی جگہ پر آیا اور سوگیا۔
نذیر نے سرد سانس لی۔ وہ چپ چاپ، اسی جگہ کھڑا رہا جیسے وہ برف کی طرح جم گیا ہو۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس کے بیٹے کو مرے ایک ہفتہ ہوگیا۔ اب تک کسی نے اس سے نہ پوچھا کہ اس کے بیٹے کو کیا ہوا؟ وہ کیونکر مرگیا؟ اس نے اس کے علاج کے لئے کیا کیا؟۔ جب اسے لگا کہ اس کے بیٹے کی حالت اچھی نہیں تو کس طرح اس کا سر چکرایا تھا۔ اس کادماغ بالکل خالی ہوگیا تھا۔ چھوٹے سے چھوٹا کام۔۔۔ جو آدمی بغیر سوچے بھی کرسکتا ہے۔۔۔ اس سے نہیں ہورہا تھا۔ وہ ہر روز ہسپتال آتا جاتا رہتا تھا۔ اس دن اسے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کس راستے سے ہسپتال طرف جاتے ہیں۔ وہ آتے جاتے ڈاکٹروں کو سلام کرتا تھا۔ اس دن اسے یہ خیال ہی نہ رہا کہ یہ لوگ کون ہیں۔
جب اس کا بیٹا بیمار ہوا تو وہ اس کے علاج کے لئے اکیلا ہی تھا۔ اس کی بیوی مرچکی تھی اور اس کی ایک بیٹی گاؤں میں رہتی تھی۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ، یہ تمام باتیں کسی کو سنائے۔ سننے والا اس سے اس کے بیٹے کے بارے میں ہرطرح کے سوال کرے۔ نذیر کے ساتھ جو ہوا، اس پر افسوس کرے، ٹھنڈی آہیں بھرے، اس کا دکھ بانٹے۔ اگر عورت مل جائے تو او ربھی اچھا ہے، عورتیں نرم دل ہوتی ہیں۔ وہ اصل میں تو ماں ہی ہوتی ہیں او ربچوں کے دکھ کو سمجھتی ہیں۔ اگر کوئی عورت اس کا دکھ سنے گی تو وہ روہی پڑے گی۔
نذیر ان سب خیالوں میں، گھوڑی کو ایک نظر دیکھنے کے لئے اصطبل کے باہربنے برآمدے میں آیا۔ اسے لگا برآمدے میں سردی ہے، گھوڑی کو اصطبل کے اندرلے جانا چاہئے۔ مگر پھر اس کا دھیان اپنے بیٹے کی موت کی طرف چلا گیا۔ وہ گھوڑی کے پاس آیا۔ کہنے لگا:
’’
دانہ چبارہی ہو‘‘ اس نے گھوڑی کے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا’’اب تو اتنی مزدوری بھی نہیں ملتی کہ دانہ روز خریدا جاسکے۔ کوئی بات نہیں، ہم گھاس پر گزارہ کرلیں گے۔۔۔ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں او رتانگہ چلانے کاکام مجھ سے نہیں ہوتا۔۔۔ اب تو یہ کام میرے بیٹے کو سنبھالنا چاہئے تھا۔۔۔ مگر۔۔۔ وہ کوچوانی بڑے اچھے طریقے سے کرتا۔۔۔ اسے کچھ دن۔۔۔‘‘
یہ کہہ کر نذیر چپ ہوگیا۔ گھوڑی نذیر کو دیکھ رہی تھی۔ نذیر کچھ دیر اسی طرح خاموش رہا، پھر گھوڑی سے کہنے لگا:
’’
بیٹی بات یہ ہے۔۔۔ میرا بیٹا مرگیا ہے۔۔۔ اسے پتہ نہیں کیا ہوا۔۔۔؟ ایک دم مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔‘‘ اس نے گھوڑی کے منہ پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔
’’
یوں سمجھ لو، کہ تمہارا ایک بچھیرا ہو۔۔۔ تم اس کی ماں ہوئی ناں۔۔۔ اگر وہ اچانک ۔۔۔ مر جائے۔۔۔ تمہیں اس کا کتنا دکھ ہوگا۔۔۔ ہوگا ناں۔۔۔!!‘‘
گھوڑی نے سرجھکالیا۔ وہ خالی خالی پر نم آنکھوں سے نذیر کو دیکھ رہی تھی۔ نذیر نے آگے بڑھ کر گھوڑی کو گلے لگالیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

One Comment

  1. اف ہم ایسے ھی خود غرض اور بے حس ھوتے جارہے ھین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *