فلسفہِ پراسراریت 

anbارشد نذیر

بیسویں صدی میں سائنس کے میدان کا چمکتا ہوا ستارہ آئن سٹائن جس نے فوٹو الیکٹرانک ایفیکٹ کا قانون، الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ میں کلاسیکل مکینکس کی نیوٹن کے بنیادی قوانین سے عدم مطابقت ، مخصوص نظریہِ اضافیت، ذرات کی وضاحت کا نظریہ اورمالیکیولز کی حرکت اور روشنی کا نظریہ فوٹان جیسے نظریات کے علاوہ دیگر کئی ایک اور نظریات پیش کرکے کوانٹم فزکس اور سٹیٹسٹیکل مکینکس جیسے فزکس کے شعبہ میں نہ صرف بے پناہ وسعت پیدا کی بلکہ تمام تر سائنسی فکر میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ تاہم اس عظیم سائنسدان کو بادمِ شہرت پر اسکا عمومی نظریہِ اضافیت لے کر گیا ۔ 1917 ء میں اُس نے اپنے اس نظرئیے کا اطلاق بڑے پیمانے پر کر تے ہوئے اسے پوری کائنات پر پھیلا دیا۔

یوں کہا جاسکتا ہے کہ امیجز میں سوچنے والے اس ذہن نے پوری کائنات کو دیکھا تو ایک عام انسان کی آنکھ ہی سے تھا اور یقیناًپوری کائنات کا تصوراتی تصویری عکس اُس کی آنکھ کے ریٹینا پر بھی ایک عام آدمی کے پردہِ چشم پر اُلٹا ابھرنے والے عکس ہی کی طرح کا تھالیکن اُس کے ذہن نے اس امیج کو سیدھا کرنے میں جو پراسس کیا وہ نہ صرف سائنسی تھا بلکہ وہ بیک وقت فلسفیانہ ، شاعرانہ اور موسیقارانہ بھی تھا۔ کائنات کی وسعت کو اُس نے جس طرح سمیٹ کر اپنے ذہن پر مرتسم کیا اور پھر ریاضیاتی عمل سے اسے دیگر قارئین کے لئے قابلِ فہم بنا دیاوہ بہت بڑا کارنامہ ہے۔

اس کے تمام نظرئیے ماسوائے عمومی نظریہ اضافیت کے درست ثابت ہو چکی ہیں۔ اب تک کششِ ثقل سے متعلق اس نظریے کا ثابت ہونا باقی تھا۔حال ہی میں یہ نظریہ بھی درست ثابت ہو گیا ہے ۔ اُس کے اس نظرئیے کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ کائنات میں خلائی وقت کی تنی ہوئی چادر پرتوانائی کی بہت شدید اور طاقتور ترین سرگرمی ہونے کی وجہ سے لہریں یا سلوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔

آئن سٹائن نے ریاضیاتی عمل سے یہ واضح کیا کہ جب بہت بڑے حجم کی اجسام جیسا کہ نیوٹران سٹارز یا بلیک ہولزجو ایک دوسرے کے مدار میں گھومتے ہیں ، تو خلائی وقت میں سلوٹیں پیدا ہوتی ہیں کہ ان سلوٹوں سے لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ یہی لہریں کائنات میں روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ ان لہروں میں اس بڑے پیمانے پر ہونے والے تصادم کی معلومات بھی ہوتی ہیں اور کششِ ثقل کے حوالے سے ا شارے بھی پائے جاتے ہیں۔ آئن سٹائن کے اس ریاضیاتی ماڈل کے حوالے سے زمان و مکان ایک ہو کر رہ جاتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے میں چادر کے دھاگوں کی طرح بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ چادر کے افقی دھاگے مکان تصور کئے جاسکتے ہیں اور ان کے عمودی دھاگوں کو زمانہ خیال کیا جاسکتا۔

اگر کوئی جسم روشنی کی رفتار سے سفر کرنا شروع کر دے تو جسم کی تین ڈائمنشنزاور وقت کی چوتھی ڈائمینشن ایک دوسرے میں ضم ہو جاتی ہیں اور زمان و مکان ایک ہو کر رہ جاتے ہیں۔

جب سپر نووا، بلیک ہولز یانیوٹران سٹارز یا وائٹ ڈوارف سٹارز وغیرہ جیسے اجسام ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو خارج ہونے والی لہروں کی وجہ سے کائنات کی پیدائش ہوتی ہے۔

کششِ ثقل کی ان لہروں کا

Laser Interferometers Gravitational-wave Observatory (LIGO)

کے آلے کی مدد سے لگایا گیا ہے۔ اس آبزرویٹری میں جو لہریں پیدا ہوئی ہیں یہ اُسی قسم کی ہیں جو ڈرائنگ میں بیان کی گئی ہیں۔
اس طرح سائنس جو ایک مقام پر آکر رکی ہوئی تھی، اُس کے لئے سوچوں کے نئے دریچے وا ہوئے ہیں۔ روایتی سائنسی نظریات میں تبدیلی بھی آئے گی۔ کائنات ، ہمارے نظامِ شمسی ، ہماری زمین کی تخلیق وغیرہ سے متعلق سوچ کو بھی نئے زاویے ملیں گے۔ سائنس زندگی کے جوہر پر نئے انداز سے سوچے گی۔

علمِ فلسفہ بھی عرصہ دراز سے ایک مقام پر آکر رک سا گیا ہے او ر اس میں آج تک کوئی بریک تھرو نہیں ہو پا رہا تھا۔ علمِ فلکیات کے ماہرین جو آج تک کائنات کے مطالعہ کے لئے الیکٹرومیگنیٹک سپیکٹرم جیسا کہ ویزیبل لائٹ ، ایکس ریز اور انفراریڈز ہیں کا استعمال کرتے رہے ہیں لیکن وہ اجسام جن پر الیکٹرومیگنیٹک وِیوز اثر نہیں کرتی تھیں، وہ نظر سے اوجھل ہی رہ جاتے تھے۔ لیکن اب کششِ ثقل کی لہروں کو کس طرح سے دریافت کیا جا سکتا ہے ۔ اسطرح کششِ ثقل کی یہ لہریں کائناتی مظاہرِ فطرت کو دیکھنے کے بالکل نئے زوئیے فراہم کرتی ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس سے علمِ فلکیات میں ایک انقلاب برپا ہو گیاہے۔

اگرچہ اس عظیم سائنسدان کے پیش کردہ ٹائم سپیس کی اس چادر پر ابھرنے والے ماضی کے واقعات میں بھی جھانکنا ممکن ہو سکے گا اور مستقبل پر بھی نظر دوڑائی جا سکے گی لیکن ہماری زمین کے ٹھنڈے ہونے اور اس پر زندگی کی ابتداء اور ارتقاء کا جو معاملہ ہے شاید سائن سٹائن کا یہ نظریہ اس میں کوئی زیادہ انقلابی جست نہ لگا سکے کیونکہ اب تک گیسزپر مشتمل سیاروں اور ستاروں کی ماہیت کا جو مطالعہ سامنے آیا ہے اُس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری زمین کا زندگی اور پھر انسانی زندگی کے لئے موزوں درجہِ حرارت تک پہنچنے کا یہ سفر ارتقائی تھا۔ اس ارتقائی سفر میں خود انسانی زندگی بھی لازماً بہت سے ارتقائی مراحل سے گزری ہو گی۔ تاہم زمین کے اس ارتقائی سفر، اس پر رونما ہونے والے واقعات سے اس کی تخلیق کے بارے میں کافی حد تک قابلِ یقین علم تک رسائی کے دروازے کھل جائیں گے۔ اس کے بارے میں بہت سی اساطیری ، دیومالائی اور مذہبی کہانیوں کو ضرب لگے گی۔

خود زندگی اور اس کی تخلیق کے حوالے سے نئے انداز سے سوچیں پیدا ہونگی۔ روایتی مذاہب کا دھچکا لگے گا۔ کائنات اور اس کے خالق کے تعلق اور رشتے پر ضرب لگے گی۔ الہیات، الہامیت اور ودیعت کردہ علوم اور معجزات کے بھی رویتی معنی کو شدید دھچکا لگے گا۔ لہٰذا آنے والے دو عشروں میں سماج کے روایتی اخلاقیاتی اور اخلاقی ڈھانچے کو بھی دھچکا لگے گا۔ نئی اخلاقیات اور اخلاقی اقدار جنم لیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *