پٹھانکوٹ حملہ، سید صلاح الدین نے ذمہ داری قبول کر لی

1606_777435655695173_704277146040936551_n
بی بی سی کے مطابق پٹھانکوٹ ائیر بیس پر حملے کی ذمہ داری یونائٹیڈ جہاد کونسل ، جس کے سربراہ سید صلاح الدین ہیں، نے قبول کر لی ہے۔

پیر کو جہاو کونسل کے ترجمان سید صداقت حسین نے ایک مقامی خبررساں ایجنسی کو ای میل کیے گئے مختصر بیان میں کہا:’پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملہ نیشنل ہائی وے سکواڈ سے وابستہ مجاہدین نے انجام دیا۔

دراصل مجاہدین کشمیر کا پیغام ہے کہ کوئی حساس بھارتی تنصیب مجاہدین کی دسترس سے باہر نہیں ہے۔ بھارتی قیادت کے لیے ابھی وقت ہے کہ وہ کوئی وقت ضائع کئے بغیر کشمیریوں کو اپنا فیصلہ کرنے کا موقعہ فراہم کرے اور جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طور بند کرے۔‘

متحدہ جہاد کونسل کم ا ز کم ایک درجن چھوٹی بڑی مسلح تنظیموں کا اتحاد ہے جس کی قیادت پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقیم ہے۔27 سال سے سرگرم کشمیری گروپ حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین جہاد کونسل کے چیئرمین ہیں۔

یونائٹیڈ جہاد کونسل یا متحدہ جہاد کونسل کا قیام 1992 میں عمل میں آیا تھا۔ یہ تنظیم بھارتی کشمیر میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں مصروف ہے۔

متحدہ جہاد کونسل میں حرکت الانصار، لشکر طیبہ، حزب المجاہدین،جمعیت المجاہدین، الجہاد،البراق، البدر، اخوان المسلیمین اور تحریک مجاہدین نامی جماعتیں شامل ہیں جو بھارتی کشمیر میں جہاد کر رہی ہیں۔

گو کہ متحدہ جہاد کونسل کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’پاکستان پر الزامات لگا کر بھارت کشمیریوں کی جہدوجہد آزادی کو سبوتارژ نہ ماضی میں کر سکا ہے اور نہ آئندہ کر سکے گا‘۔ لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ متحدہ جہاد کونسل کی تمام قیادت پاکستان میں بیٹھی ہے۔

سید صلاح الدین حزب المجاہدین کے بھی سربراہ ہیں۔ حزب المجاہدین بھی عسکری جماعت ہے جس کا قیام 1985 میں عمل میں آیا تھا اور یہ 1989 سے کشمیر میں عسکری کاروائیاں کر رہی ہے۔حزب المجاہدین کو بھارت، یورپین یونین اور امریکہ نے دہشت گرد جماعت قرار دے رکھا ہے مگر پاکستان میں یہ جماعت کھلے عام اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔

سید صلاح الدین جماعت اسلامی کے قریب ہیں اور ماضی میں جماعت اسلامی کی طرف سے منعقد کی گئی تقریبات میں شرکت بھی کرتے رہے ہیں۔

پچیس دسمبر کو لاہور میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ا چانک دورہ لاہور کے خلاف جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور دوسرے مرکزی رہنماوں نے حزب المجاہدین کے بینر تلے ہی ایک احتجاجی ریلی نکالی تھی جس میں نریندر مودی کے دورہ کو سخت تنقیدکا نشانہ بنایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ جولائی 1999 میں کارگل پر حملے کی ذمہ داری حزب المجاہدین نے ہی قبول کی تھی۔ پاکستان کا اصرار تھا کہ یہ حملہ کشمیری مجاہدین نے کیا ہے جو بعد میں غلط ثابت ہوا ۔ اس جنگ میں پاک فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

پاکستان اور  بھارت کے تجزیہ کاروں نے مودی کے حالیہ دورہ کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گرد کوئی بڑی کاروائی کر سکتے ہیں۔اور اس تازہ حملے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان کی ملٹری ایسٹیبشلمنٹ پاک بھارت تعلقات میں کوئی پیش رفت نہیں چاہتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *