جرمنی میں مسلمان مہاجرین کی جانب سے جنسی حملے

0,,18968948_303,00

نئے سال کے موقع پر افریقہ و شام سے تعلق رکھنے والے مسلمان مہاجرین کی جانب سے جرمن خواتین پر جنسی حملوں کے بعد جرمنی میں حکومت مخالف مظاہروں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

مغربی جرمن شہر کولون میں آج ہفتے کو اسلام مخالف جرمن تنظیم پیگیڈا کی طرف سے ہونے والے مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ دائیں بازو کی اسلام مخالف تحریک پیگیڈا کے کچھ حامیوں نے پہلے پولیس پر فائر کریکرز اور بیئر کی بوتلیں پھینکیں، جس کے جواب میں پولیس نے تیز دھار والے پانی کا استعمال کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس تصادم میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ایک بیان میں کہا کہ جو تارکین وطن جرمنی کے قوانین کا احترام نہیں کریں گے، انہیں سیاسی پناہ کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے۔

ہفتے کے دن میرکل نے یہ بیان اپنی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی سی ڈی یو کے سیاستدانوں کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد دیا۔ میرکل کا مزید کہنا تھا، ’’ کسی جرم کا مرتکب قرار دیے جانے یا جیل کی سزا کے مرتکب پناہ کے متلاشی افراد کا پناہ کا حق واپس لیا جا سکتا ہے۔‘‘

صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جرمن چانسلر نے کہا، ’’سلسلہ وار جرائم کرنے والوں اور خواتین کو بار بار لوٹنے اور اُن کی تضحیک کرنے والے ملزموں کو جرمن قانون کی گرفت کا مکمل ادراک ہونا چاہیے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق احتجاج کرنے والی ان خواتین نے ہاتھوں میں جو بینرز اُٹھا رکھے تھے، اُن پر خواتین کے جان و مال کے تحفظ اور احترام کی اہمیت اُجاگر کرنے والے نعرے درج تھے۔ مثال کے طور لکھا تھا،’’نہیں کا مطلب ہے، نہیں۔ یہ ہمارا قانون ہے۔ ہمارے جسموں سے دور رہو۔‘‘ یا اکثر خواتین نے ایسے بینرز اُٹھا رکھے تھے، جن پر یہ درج تھا:’’اکتوبر فیسٹیول ہو یا گھروں کے بیڈ رومز، خواتین کے خلاف کوئی تشدد نہیں۔‘‘

اس ہنگامی احتجاجی ریلی کی کال خواتین کے گروپ نے انٹر نیٹ پر دی تھی۔ یہ عورتیں اُن تضحیک آمیز اور انتہائی غیر مہذب واقعات کے خلاف اپنے غم و غُصے کا اظہار کرنے کے لیے کولون کے ریلوے اسٹیشن پر جمع ہوئیں، جو نئے سال کے استقبال کے لیے جرمنی کے ثقافتی اور رومانوی شہر کولون میں منعقد ہونے والی تقریبات میں پیش آئے تھے۔

یاد رہے کہ نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے دریائے رائن کے کنارے ہزارہا افراد رات گئے تک نئے سال کی تقریبات سے محظوظ ہونے کے لیے کولون میں اکٹھا ہوئے تھے۔ اسی موقع پر کوئی ایک ہزار کے قریب نوجوان چھوٹے چھوٹے گروپوں کی صورت میں لڑکیوں کے گرد گھیرا ڈال کر اُن پر جنسی حملوں کے ساتھ ساتھ اُن سے قیمتی چیزیں چھیننے جیسی وارداتوں میں ملوث رہے۔ حملہ آورعرب یا شمالی افریقی دکھائی دیتے تھے اوران میں سے زیادہ ترکے لیے یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ غالباً مسلمان تھے۔

ہفتے کو کولون کے ریلوے اسٹیشن پرخواتین کی اس اچانک احتجاجی ریلی کے ساتھ ساتھ اسٹیشن کے دوسری طرف ایسے سینکڑوں مظاہرین اکٹھا ہونا شروع ہو گئے جو ہفتے کی دوپہر اسی جگہ پر اسلام مخالف جرمن تنظیم پیگیڈا کی طرف سے دی گئی ایک مظاہرے کی کال کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *