عرب و عجم مخاصمت اور ہم

sibte hasanسبط حسن گیلانی۔ لندن

کسی بھی عرب کے منہ سے جب عجم کا لفظ نکلتا ہے تو اس کا پہلا مطلب ایران ہوتا ہے۔ اس کے بعد باقی ساری غیر عرب دنیا۔اسی طرح جب کوئی ایرانی عرب یا عربی کہتا ہے تو اس کی مراد سعودی عرب اور پھر باقی عرب دنیا ہوتی ہے۔یہ عرب وعجم کی کشمکش کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ ہی ماضی قریب کا کوئی قصہ۔اس کی تاریخ بہت پُرانی ہے۔حتیٰ کہ اسلام سے بھی بہت پُرانی۔عربوں نے اسلامی جھنڈے تلے ایران فتح کیا تھا۔یہ زخم ایرانی آج تک نہیں بھولے۔ان کا کلیجہ آج بھی اس تپش کو محسوس کرتا ہے۔ روز اول کی طرح۔

لطف یہ ہے کہ ایرانیوں نے عرب کی سرزمین پر جنم لینے والے مذہب اسلام کو تو تسلیم کر لیا لیکن عربوں کو ایک لمحے کے بھی دل میں جگہ نہیں دی۔ٹھیک یہی رویہ عربوں کا بھی رہا۔ عربوں کی ایک کہاوت ہے کہ عجم گونگا ہے۔زبان و بیان فصاحت و بلاغت کے وہ بلا شرکت غیرے مالک و مختار ہیں۔وہ آج بھی اس پر دل سے یقین رکھتے ہیں۔ان کا عقیدہ ہے کہ ایک عرب ایک ہزار عجمیوں سے زیادہ اعلیٰ و قیمتی ہے۔

ایران کا برصغیر کے ساتھ صدیوں پرانا رشتہ ہے۔ یہ رشتہ اتنا مضبوط رہا کہ آج بھی ہمارے تہذیب و تمدن پر اس کے نقوش بہت گہرے ہیں۔ہمارے خسرو ۔ بیدل۔ غالب۔ اقبال۔ سب کو انہوں نے دل میں جگہ دی اور آنکھوں پر بٹھایا۔ ہم نے بھی سعدی شیرازی و حافظ سے اتنی ہی محبت کی۔اس کے مقابلے میں عربوں نے ہمارے تہذیب وتمدن کو رتی بھر اہمیت نہیں دی بلکہ اس سے نفرت کی۔چلیں تاریخی پس منظر اور ماضی بعید کو چھوڑ کر قریب کی بات کریں۔پاکستان وجود میں آیا تو سب سے پہلے جس نے اسے تسلیم کیا وہ ایران تھا۔ ایران کے ساتھ ہماری طویل سرحد جُڑی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہمارا ہمسائیگی کا اٹوٹ رشتہ ہے۔اور سعودی عرب وہ ملک ہے جہاں کی سرزمین پر مکہ و مدینہ جیسے شہر بستے ہیں۔ جہاں کی خاک کو ہر کلمہ گو مسلمان اپنی آنکھ کا سرمہ سمجھتا ہے۔لیکن کچھ زمینی حقائق ہیں جو نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔

ایران نے کبھی بھی ہم سے دشمنی نہیں کی۔ لیکن کبھی شیرو شکر بھی نہیں رہا۔وہ ہمارا بھائی ہے۔ لیکن اس کا برتاو کبھی سگوں جیسا رہا نہیں۔ زیادہ سے زیادہ شریکے برادری جیسا۔اس کے مقابلے میں سعودی عرب ہمارے ہر دکھ سکھ میں شریک رہا۔جب بھی پاکستان پر کڑا وقت آیا اس نے ہمیں اکیلا محسوس نہیں ہونے دیا۔لیکن رشتہ ہمیشہ ریاست و حکومت سے ہی رکھا۔عام پاکستانی کو اس نے کبھی در خور اعتنا نہیں جانا۔ہماری بات پر یقین نہ ہو تو جو بھی پاکستانی وہاں کام کر رہا ہے اس سے پوچھ لیجیے۔

عرب و عجم یعنی ایران و سعودی عرب کے ساتھ بدقسمتی یہ رہی کہ کبھی انہوں نے ایک دوسرے کو دل سے تسلیم کیا ہی نہیں۔ایک مذہب کے ہو کر بھی وہ فرقوں میں بٹے رہے۔ اور ہر لمحہ اس فرقہ واریت کو ہوا ہی دیتے رہے۔آج ایک مرتبہ پھر ان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔جس کی بنیاد سیاسی ہے لیکن چہرہ فرقہ وارانہ ہے۔مدینے و مشہد کی خاک کی قسم ہے کہ یہ براہ راست ایک دوسرے پر حملہ کبھی نہیں کریں گے ۔لیکن ایک دوسرے کو معاف بھی کبھی نہیں کریں گے۔اور نہ ہی پراکسی جنگ سے پیچھے ہٹیں گے۔انہوں نے آپس کی لڑائی میں اپنے تمام لائے لگتوں کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ہم ان کے لائے لگتے ہیں۔ایک مذہب ہی نہیں اور کئی رشتوں میں بھی بندھے ہوے ہیں لیکن دن اور رات کی طرح کا سچ یہ ہے کہ ہم سُنی بھی ہیں اور شیعہ بھی لیکن نہ ہی عرب ہیں اور نہ ہی ایرانی ہیں۔ ہم پاکستانی ہیں۔ اور ہمیں اس پر فخر ہے۔

ہمارے پاس جو کچھ ہے ۔تہذیب وتمدن ہو یا تاریخ یہ سب ہمارا اپنا ہے۔ اس میں کچھ بھی مانگے کا نہیں ہے۔ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں اس کے بعد کچھ اور۔اسلام ہمارا مذہب ہے تو پاکستان ہمارا وطن ہے۔اوردنیا کا کوئی بھی مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا جس پر عمل کرنے سے وطن پر آنچ آتی ہو۔اپنا وطن اپنی دھرتی انسان کا ایمان ہوتا ہے جیسے مذہب۔ وطن اس دنیا کا ایمان ہے تو مذہب آخرت کا۔ ایک کا حساب اس دنیا میں دینا ہے تو دوسرے کا آخرت میں۔اس وقت ہمارے پاک وطن کا تقاضہ ہے کہ ہم عرب وعجم کی اس کشمکش سے دور رہیں۔ہماری اور ہمارے ملک کی عزت اس میں ہے کہ ہم مکمل طور پر غیر جانب دار رہیں۔

رات گئے میری عالمی مذاکرات کا ر جناب فیصل محمد سے بات ہو رہی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی وزیر خارجہ پاکستان دؤرے پر تشریف لائے تو سب سے پہلے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملے۔ انہیں فوج کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے یہی پیغام دیا گیا کہ ہماری اور آپ کی خیر اسی میں ہے کہ ہم غیر جانب دار رہیں۔اگر ہم کسی ایک کے حق میں خدانخواستہ فریق بن بیٹھے تواس کہانی سے خیر کی توقع ہی ختم ہو جائے گی۔اور یہی فیصلہ حکومت اور دیگر تمام سیاسی قوتوں کا ہے ۔

فرض کریں اگر ہم آنکھیں بند کر کے سعودی کیمپ میں کود جاتے ہیں۔ تو ہمارے ایک طرف ہندوستان ہے تو دوسری سمت ایران۔ کیا ہم اس جغرافیائی حقیقت کو اپنے لیے دو پڑوں والی چکی بنا سکتے ہیں؟۔یا ایران کا ساتھ دے کر سعودی عرب اور ترکی جیسے دوست گنوا سکتے ہیں؟۔بہت سارے دانشور ملک کے اندر فرقہ وارانہ لڑائی اور خدا نخواستہ خانہ جنگی کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

لیکن یقین جانیں ایسی کسی بات کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔ اس یقین کی وجہ یہ سماجی حقیقت ہے کہ ایک عام سنی اور ایک عام شیعہ کسی بھی قیمت پر آپس میں لڑنا نہیں چاہتے۔ہاں مگر کچھ عناصر دونوں گروہوں میں ایسے موجود ہیں جن کی روزی روٹی کا وسیلہ یہی فرقہ واریت ہے۔وہ اپنی بساط بھر کوشش ضرور کریں گے۔ان سے بچنا اور اپنا برا بھلا سوچنا عوام کا کام ہے ۔ اور ان پر نظر رکھنا ریاست و حکومت کی ذمہ داری ہے۔

One Comment

  1. An average Sunni or Shia never took part in sectarian violence and bloodshed except those who were trained and financed to do so on surety. It is the ruling elite, who are being lured by saudi defence minister. Unfortunately, the previous history of fighting proxy wars for idealogical reasons and funds, show little hope. Putting our weight in saudi scale would land us in inescapable quagmire.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *