صنفی برابری کو یقینی بنانا

بات چِیت

kamrani

ڈاکٹر سنتوش کامرانی 

اکیسویں صدی میں زندہ رہنے اور بین الاقوامی گاؤں کے تقاضے ہم سے اس با ت کی امید کرتے ہیں کہ ہم صنفی برابری کو یقینی بنائیں۔ صنفی برابری کی وجہ سے وہ لوگ جو عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں، جیسا کہ لڑکیاں، عورتیں، خانہ بدوش بچیاں اور غربت کے مارے ہوئے لوگ بھی اس قابل ہوجاتے ہیں کہ وہ آب و ہوا میں تبدیلی، شدید موسم اور قدرتی آفات کے زندگیوں پر اثرات کو سمجھ سکیں، ان کا مقابلہ کرسکیں اور گھروں اور سماج میں موجود خطرات کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کر سکیں۔

دنیا میں با معنی اور فائدہ مند زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا خیال رکھیں۔ معاشرے میں حقوق وفرائض کا ایک حصہ مرد و زن سے متعلق ہے۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ مرد و زن معاشرتی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ اس استعماری زبان کے کئی اہم مضمرات ہیں مثال کے طور پر اگرگاڑی کا ایک پہیہ خراب ہو تو اس وقت تک گاڑی آگے حرکت نہیں کرسکے گی جب تک وہ خرابی دور نہ ہو اور پہیہ دوسرے ٹھیک پہیے کی طرح ٹھیک نہ ہوں۔ اگرچہ اس مثال کی بعض تفصیلات معاشرے میں مرد و عورت کے تعلق پر لاگو نہیں ہوتیں، تاہم برابری اور مساوات کی اہمیت کا تصور فراہم ہوتا ہے۔

جنسی اعتبار سے مرد و عورت یقیناً مختلف ہیں، لیکن بحیثیت انسان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ ایک انسان ہونے کے ناطے عورت کی بھی وہی ضروریا ت ہیں جو مرد کی ہیں۔ عورت کو بھی کھانے کی ضرورت ہے، کپڑوں کی ضرورت ہے، مکان کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عورت کی بھی عزت نفس ہے، خود داری اور تشخص ہے۔ لہٰذا پُر امن معاشرے کیلئے ضروری ہے کہ ایک معاشرے میں بسنےوالے خواتین و حضرات کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔ یہ حقوق معاش، معاشرتی زندگی، تعلیمی سہولیات، صحت کی سہولیات کے علاوہ سیاست، گھریلو ذمہ داریوں اور تفریحی سرگرمیوں کا بھی احاطہ کریں۔

جدید دور میں یہ شکایت عام ہے کہ غیر ترقی یافتہ ممالک میں عورت حقوق سے محروم ہے ،اس لئے احساس محرومی میں مبتلا رہتی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ عورت سے بحیثیت انسان سلوک کیا جائے۔ اس کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔ اس کو بھی ترقی کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ اس کیلئے بھی سیاسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں حصے لینے کے انتظامات کئے جائیں۔ انفرادی، گھریلو اور معاشرتی ترقی میں حصہ لینے کیلئے حوصلہ افزائی کی جائے۔ یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہے جب صنفی برابری کے اصول کو نہ صرف کتابوں میں پڑھایا جائے بلکہ اس پر عمل کرنے کیلئے لوگوں کو ذہنی طور پر بھی تیار کیا جائے۔

لوگوں کیلئے ذہنی طور پر تیار کرنے کیلئے تعلیمی ادارے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صنفی برابری کے اصول کو معاشرے میں عام کرنے کیلئے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بحث مباحثے کئے جاسکتے ہیں۔ ورکشاپس اور سیمینار بھی منعقد کرائے جاسکتے ہیں۔

چونکہ ہماری معاشرتی اقدار مذہبی عقائد سے جڑی ہوئی ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ عورت کے مقام کو ثابت کرنے کیلئے قرآنی آیات، احادیث اور اسلامی تاریخ میں پائی جانے والی مشہور خواتین کا حوالہ دیکر سامعین کو سمجھایا جائے کہ بحیثیت انسان مرد اور عورت برابر ہیں۔ عورتوں کو اسلام میں کاروبار کرنے یا معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے نہیں روکا گیا ہے۔

کیا اسلام ہمیں کہتا ہے کہ: عورت عمر بھر روٹی پکاتی رہے، کپڑے دھوتی رہے ، برتن اور گھر کو صاف کرتی رہے اور اگر ان کاموں میں مرد عورت کی مدد کرے تو اللہ نارض ہو جائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مرد حضرات اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لائیں اور یہ تبدیلی اس وقت ممکن ہے جب مرد حضرات عورتوں کو انسان سمجھنا شروع کریں اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں اگر مرد اپنے رویے میں تبدیلی لائیں گے تو عورتوں کو تنظیمات بنا کر اپنے حقوق کیلئے وقت و توانائی صرف کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

یہ تبدیلی اس وقت ممکن ہے کہ مرد اپنے رویوں میں نرمی پیدا کریں اور نرمی پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی بچپن کی زندگی اور بے بسی کے لمحات کا سوچیں کہ کس طرح ہماری مائیں ہماری سہولیات کیلئے اپنی ذات کو قربان کرتی تھی۔ مراقبے کا یہ لمحہ مرد کے رویوں میں نرمی پیدا کرنے کیلئے کام کرے گا۔ اپنے اندر یہ تبدیلی لانے کیلئے کچھ حقائق پر غور و فکر بھی ضروری ہے کہ عورتیں بھی گوشت پوست کی مخلوق ہیں اگرچہ ہمارے شاعروں نے ان کو پھول اور پھول سے پری بنا دیا ہے۔

عورت نہ پھول ہے، نہ پری یہ مردانہ تخیل کی گل کاریاں ہیں۔ عورت بھی مردوں کی طرح انسان ہے۔ کچھ مخصوص جزئیات سے قطع نظر، ان کا جسم بھی ان ہی خلیوں سے بنا ہے جن خلیوں سے مردوں کا۔ ان کے جسم کے اندر بھی ہڈیاں ہیں۔ ان کے رگوں میں بھی خون دوڑتا ہے یعنی جسمانی طور پر کوئی چیز ایسی نہیں جس کی بنیاد پر ان کو حقوق سے محروم کیا جائے۔ صنفی برابری کا تقاضا ہے کہ ان کو تعلیم کا حق دیا جائے بلکہ عورتوں کی تعلیم کو زیادہ اہمیت دی جائے کیونکہ ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی تربیت اچھے خطوط پر کرسکتی ہے۔ گھر کا نظم و نسق اچھے طریقے سے چلا سکتی ہے۔ معاشرتی مسائل کو سمجھ سکتی ہے۔ معاشرتی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکتی ہے۔ صحت کے اصولوں کا خیال رکھ سکتی ہے۔ زندگی کی ذمہ داریوں کو موثر طریقے سے ادا کر سکتی ہے یعنی ایک تعلیم یافتہ ماں معاشرے کی ماں ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *