پاکستانی سماج اور فنون لطیفہ

saeedسعید اختر ابراہیم

یہ بات صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے کہ پاکستان میں اجتماعی طور پر زندگی کے ہر شعبے میں تخلیق کا عمل تیزی کے ساتھ زوال پذیر ہواہے۔ اب نہ یہاں شاعری کا کوئی معیار رہا نہ کہانی کا، نہ موسیقی کا اور نہ ہی فلم کا۔ موسیقی مفہوم سے بے بہرہ بے سُری چیخوں میں ڈھل چکی ہے اور فلم جیسا حسّاس مگر طاقتور شعبہ سوسائٹی کے جاہل، بدمعاش اور منشیات فروش گروہوں کے ہاتھوں میں یرغمال ہے۔ مصوری اشرافیہ کی لونڈی ہے۔

ڈرامے کی حالت یہ ہے کہ وہ یا تو ٹی وی پر اشیاء کی اشتہا بڑھانے کے کام آرہاہے اور یا پھر سٹیج پر اسکی مدد سے ماں بہن کی جدید گالیاں اختراع کی جارہی ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ ان ستاون سالوں میں ہم نے آرٹ کو ایک گھٹیا آوارہ طوائف کا روپ دے دیا ہے جسے ہمہ شمہ آتے جاتے چھیڑ کر اپنی گھٹیا جبلتوں کی تسکین کرتا ہے۔یوں ہماری قومی صورت اس قدر مسخ ہوچکی ہے کہ پہچانی نہیں جاتی۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا قومی خمیرمثبت اقدار کی بجائے ہندو دشمنی سے اٹھایا گیا۔ہماری اقدار کی دیوار ہندوؤں اور سکھوں سے دشمنی اور نفرت کی ٹیڑھی بنیاد پر اٹھائی گئی۔مسلمان جاگیرداروں نے دشمنی کی آگ کو بھڑکانے کے لیے نفرت کا تیل انڈیلاتاکہ اس نوزائیدہ ملک میں ان کے طبقاتی مفادات آسانی اور تیزی کیساتھ پھل پھول سکیں۔قائد اعظم نے جس بنیاد پر ہندو سے علیحدگی اختیار کی تھی اسے جلد ہی فیوڈلز نے پاکستان دشمن مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر ہائی جیک کرلیااور اس پر اپنی سوچ کے ردّے چڑھانا شروع کردیے۔

ہندو دشمنی کا تقاضہ یہ ٹھہرا کہ یہ ثابت کیا جائے کہ انکے پاس بحیثیت قوم سرے سے ہی کوئی مثبت قدر موجود نہیں تھی۔چنانچہ اپنے قومی وجود کو ہندو تہذیب سے مکمل طور پر الگ ثابت کرنے کے لیے یہ ضروری ٹھہرا کہ اس تہذیب کے تمام عناصرکو غیر اسلامی کہہ کر رد کردیا جائے۔

پاکستان میں تقریباََ ایک چوتھائی صدی تک اچھی فلمیں بھی بنیں اور اچھی موسیقی بھی تخلیق ہوئی، اچھی کہانی اور شاعری بھی لکھی گئی۔ لیکن اس کے بعد جو زوال آیا ہم اس سے سنبھل نہیں پائے۔ چوتھائی صدی کے عرصہ میں جو کچھ قدرے بہتر تخلیق ہوا تو اسکی وجہ وہ بچی کھچی نسل تھی جو متحدہ ہندوستان کی فضا میں پروان چڑھی تھی اور جیسے جیسے اس نسل کے افراد اس دنیا سے رخصت ہوتے گئے تخلیقی سوچ بھی رخصت ہوتی چلی گئی۔

تخلیقی فرد سماجی تبدیلی میں عمل انگیز (catalyst) کا کردار ادا کرتا ہے۔لیکن فیوڈل سوچ کا حامل سماج اپنے جمود کی وجہ سے تخلیقی فرد کی عمل انگیزی سے خوف کھاتا ہے۔ایسے سماج میں حکمران طبقات کی یہ خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ عام آدمی کو اس بات کی کسی بھی طرح سے سمجھ نہ آسکے کہ یہ اسکی کمائی ہے جس پر اسکے حکمران ہاتھ پیر ہلائے بغیر اللے تللے کررہے ہیں۔اس مقصد کے لیے مذہب بہت کام کی چیز ثابت ہوتا ہے جسکا سارا فلسفہ ہی ناہموار خدائی تقسیم پر کھڑا ہے۔

تخلیقی علم ہمہ وقت تازہ اور جدید سوچ کا تقاضہ کرتا ہے۔ نئی نئی ایجادات اور دریافتوں کے در وا ہوتے ہیں، جمود ٹوٹتا ہے اور زندگی نئی سمتوں سے آشنا ہوتی ہے ۔پہاڑ کے اندھیرے غاروں میں پڑے بے لباس ،بے بس جانور نما انسان کا اپنی مرضی کے موجودہ ماحول تک کا سفر تخلیقی سوچ کا ہی مرہونِ منت ہے۔غالب نے تخلیق کے اسی سفر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب، ہم نے دشتِ امکاں کوایک نقشِ پا پایا

سائنس کی تعلیم مادے کی ماہئیت کی تفہیم کا راستہ کھولتی ہے اور انسان قدم بقدم کائناتی قوانین کو سمجھ کرانہیں اپنے مصرف میں لانے کی صلاحیت حاصل کرتاہے اور یوں ترقی کے زینوں پر آگے ہی آگے بڑھتاچلا جاتا ہے۔ آرٹ نہ صرف انسان کی داخلیت کو اظہار کے راستے فراہم کرتی ہے بلکہ داخلیت اور خارجیت کو باہم جوڑ کر اسکے بامعنی ابلاغ کو ممکن بھی بناتی ہے۔اور یوں انسان کا انسان اور انسان کا کائنات کیساتھ رشتہ سمجھنے میں مدد گار ہوتی ہے۔

وسائل پر قابض مٹھی بھر لوگوں کے گروہ کو صرف اس بات سے غرض ہوتی ہے کہ عام رعایا انکے آرام اور عیاشیوں کیلئے روبوٹ کی طرح کام کرے۔ اس مقصد کیلئے انہیں تخلیقی نہیں بلکہ محض ہُنر مند افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ہنر مند افراد لکیر کے فقیر ہوتے ہیں جو لگے بندھے سماجی نظام میں کوئی ہلچل پیدا نہیں کرسکتے مگر ایک تخلیقی فرد کے ذہن میں ہمہ وقت نت نئے خیالات جنم لیتے رہتے ہیں جو معاشرے میں نئی تبدیلیوں کا تقاضہ بھی کرتے ہیں اور یہی وہ بات ہے جو وسائل پر قابض مٹھی بھر لوگوں کے گروہ کوکسی بھی قیمت پر منظور نہیں ہوتی۔

تبدیلی کے عمل سے جان چھڑانے کیلئے وہ اپنے مفادات کو مذہبی تقدس کے سبز غلاف میں لپیٹ دیتے ہیں اورمناسب معاوضے پر مولوی کو اپنے مفادات کے پہرے کا فریضہ سونپ دیتے ہیں ۔مولوی عوام الناس کو چن چن کر آیات سناتا ہے اور انہیں بتاتا ہے کہ اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ اپنے حاکموں کی اطاعت کرو۔ عزت اور ذلت سب اسی کی جانب سے ملتی ہے اور وہ جسکو جتناچاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے، سو اپنے حاکموں کو حاصل مراعات پر اعتراض مت کرو مباداکہ خدا تم سے ناراض ہو کر تمہیں جہنم میں پھینک دے۔

ہم شروع دن سے جاگیردار حکمرانوں اور انکے عمامہ پوش حواریوں کے چنگل میں پھنسے ہیں اور جاگیردار طبقے نے تخلیقی لوگوں کوکبھی بھی اپنے میراثیوں سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں دی ۔ انہوں نے ادب، شاعری، فلم، رقص اور میوزک کو محض دلبستگی کا سامان سمجھا۔ پاکستان میں ان لوگوں کے طفیل ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے۔ یہاں کبھی بھی آرٹ کیساتھ عوام کا سنجیدہ تعلق استوار نہیں ہونے دیا گیا۔آرٹ کے بارے میں ہمارے ہاں ایک عمومی سوچ یہ بنائی گئی کہ یہ کوئی خلافِ مذہب کام ہے۔ لہٰذا ہم نے فنونِ لطیفہ سے متعلق ہر شعبے کومکمل شرحِ صدر کی بجائے ایک نفسیاتی تضادکے ساتھ اپنایا۔

مڈل کلاس جو کہ کسی بھی سوسائٹی میں رائج اخلاقی نظام کی نمائندہ ہوتی ہے اسکے گھروں میں بچوں کو آرٹ سے متعلق شعبوں سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی ہے مبادا کہ انکی اخلاقی تربیت میں کوئی بگاڑ در آئے۔ بچوں کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ ڈرائنگ، شاعری، افسانہ نگاری اور موسیقی محض وقت کا ضیاع ہیں جبکہ رقص اور اداکاری سراسر فحش ہیں۔ڈرائنگ سے بچے کو دور کرنے کیلئے یہ بتایا جاتا ہے کہ قیامت والے دن اسے اس تصویر میں جان ڈالنا پڑے گی اور مجسمہ سازی کو سیدھا سیدھا بت پرستی کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔اداکاری، رقص اور موسیقی کے بارے میں یہ فرمایا جاتا ہے کہ یہ شریف لوگوں کے نہیں بلکہ کنجروں کے کام ہیں۔ بچہ اٹھتے بیٹھتے بزرگوں کے یہ تبصرے سنتا ہے مگر وہ آرٹ کی کشش سے پھر بھی بچ نہیں پاتا۔ چونکہ ہمارے معاشرے میں تجزیاتی سوچ کی روائت کا شدید فقدان ہے سوبچہ کشش اور ردِّ کشش کی کشمکش میں پوری زندگی گزار دیتا ہے۔اسے شاعری، موسیقی، فلم اورڈرامہ سبھی کشش کرتے ہیں مگر ایک احساسِ گناہ کے ساتھ۔چنانچہ یہ دوئی اسکے ذہن کو مثبت انداز میں آرٹ کی تخلیقی قوت کیساتھ جڑنے سے روکتی ہے۔

تخلیقی عمل سے وابستہ لوگوں کا مضحکہ اڑانے کیلئے ایک منصوبے کے تحت ان کے بارے میں لطیفے گھڑے گئے جن میں شاعروں اور مصوروں کو اپنی سماجی ذمہ داریوں سے لاپرواہ اور فلسفی اور پروفیسر حضرات کو ہونَّق کرداروں کی صورت میں پیش کیا گیا۔ان لطائف نما واقعات کو خاص طور پر بچوں کے ادب کا حصہ بنایا گیا۔ اسکا مقصد سوائے اسکے اور کچھ نہیں تھا کہ بچوں کو ابتدا سے ہی سوسائٹی کے سوچنے اور غوروفکر کرنے والے افراد سے بدظن کردیا جائے مبادا وہ کہیں اُن کی سوچ کو نہ اپنالیں۔اس مقصد کے لئے ایک طرف تو تخلیقی علوم کا مضحکہ اڑایا گیا اور دوسری طرف انکا رخ انتہائی چالاکی کے ساتھ فحاشی کی جانب موڑ دیا گیا تاکہ انکو بیکار اور فحش ثابت کرکے رگیدنے میں آسانی ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ایک طرف تو ٹی وی کی اناؤنسرز کو دوپٹے اوڑھائے گئے تو دوسری طرف تھیٹر پر ذومعنی اور غلیظ جگت بازی کی کھلی اجازت دیدی گئی۔ یہی وہ زمانہ تھا جب سینما ہال تھیٹروں میں تبدیل ہونا شروع ہوئے اور بچے کھچے سینماؤں میں یا تو سلطان راہی کی ماردھاڑ سے بھرپور فلمیں لگتی تھیں اور یا پھر انگریزی فلموں کی آڑ میں دیسی اور بدیسی بلیو پرنٹ چلتے تھے۔یہ بوالعجبی بھی اسی زمانے میں دیکھنے میں آئی کہ ڈرامے کی ہیروئین کو چاہے سوتے،جاگتے، بھاگتے یا سمندر میں ڈوبتے ہوئے دکھایا گیا مگر اس کے سر سے دوپٹا نہیں اترا۔ اس زمانے میں ہی کلاسیکل رقص کے انتہائی شائستہ پروگرام پائل کو اسلام کے نام پر بند کیا گیا اور مہتاب راشدی پر محض اس جرم میں ٹی وی کے دروازے بند کئے گئے کہ اس نے حکومتی پابندی کے خلاف دوپٹہ اوڑھنے سے انکار کردیاتھا۔

کسی بھی سماج میں یہ طاقت نہیں ہوتی کہ وہ آرٹ سے لوگوں کا تعلق ختم کرسکے، ہاں البتہ وہ بہت حد تک اس طاقت کو مسخ کرنے اور اسکا رخ بدلنے میں ضرور کامیاب رہتا ہے۔ برِّ صغیر میں اسکی مثال یوں دیکھی جاسکتی ہے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں نے موسیقی کو نعت، قوالی اور مرثیہ کیساتھ، مجسمہ سازی کو تعزیہ اور مسجدِنبوی کے ماڈلز کیساتھ اور ڈرامے کے عنصر کو محرم اور عید میلاد کے جلسوں اور جلوسوں کیساتھ اور رقص کو دھمال کیساتھ جوڑ کر اپنے تئیں اسلامائز کرلیا ہے۔اس سے یہ ضرور ہوا کہ آرٹ سے حاصل ہونے والی سرمستی اور کیتھارسز کا راستہ کھل گیا مگر تخلیقی عمل کا حقیقی مقصد خاصی حد تک بے معنویت کی بھول بھلیوں میں بھٹک کر رہ گیا۔

آرٹ کا ہر شعبہ اپنی ذات میں ایک طاقت کا مظہر ہوتا ہے اور یہ طاقت اپنی ذات میں نہ تو نیک ہوتی ہے اور نہ ہی بد، بلکہ یہ معاشرے کی ایک مخصوص دور کی سوچ ہوتی ہے جو اسے نیکی یا بدی کے معنے پہناتی ہے۔برِّ صغیر میں بہت سے نامور موسیقار، گائیک، رقاص اور اداکارپیدا ہوئے۔ ان لوگوں کو عوام وخواص نے پرستش کی حد تک چاہا بھی مگر اخلاق کے علمبرداروں نے انہیں کبھی معقول اور عزت دار افراد کے طور پر قبول نہیں کیابلکہ وہ انہیں حاصل ہونے والی عوامی پسندیدگی سے ہمیشہ دکھی رہے اور انکی یہ خواہش اور کوشش رہی کہ انکی نئی نسل ان فنکاروں کو آئیڈیل کے طور پر قبول نہ کرے۔ ہمارے معاشرے میں فنونِ لطیفہ کو مثبت معنوں میں قبول ہی نہیں کیا گیاسو ہم آرٹ کی طاقت کے مثبت پہلووں سے آج تک محروم چلے آرہے ہیں۔

ہم نے شائد ہی کبھی اس بات پر غور کیا ہو کہ ہماری زندگی میں ڈرائنگ اور سکیچ کی کتنی اہمیت ہے۔ اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ انسان کی بنائی ہوئی ہر شے ڈرائنگ کی مرہونِ منت ہے تو کوئی غلط نہیں ہوگابلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر انسان کی زندگی میں ڈرائنگ کا وجود نہ ہوتا تو میڈیکل اور خاص طور پر سرجری کا علم وجود پذیر نہ ہوسکتا۔یہ عظیم مصور لیونارڈو ڈاونچی تھا جس نے آرتھوڈوکس پادریوں سے چھپ چھپا کر مردہ اجسام کی چیر پھاڑ کی اور انسانی جسم کی ہڈیوں اور پٹھوں کے سکیچز بنائے جس سے ڈاکٹر اس قابل ہوئے کہ آپریشن کے عمل سے انسانوں کو نئی زندگی دے سکیں۔

فنونِ لطیفہ کے ساتھ اپنے غیرعقلی اور دوغلے رویوں کی وجہ سے آج یورپ تو خیر بہت دور کی بات ہے ہم تو اپنے قریب ترین پڑوسی ممالک سے بھی کم از کم ایک صدی پیچھے ہیں۔آرٹ اور سائنس کی ترقی مکالمے کو جنم دیتی ہے اور مکالمے سے تحمل اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔ اب بھلا جمہوریت اور کیا ہے مگر اس مقصد کیلئے ہمیں جاگیرداری رویوں کی جڑ کاٹنا ہوگی۔جاگیرداری کے خاتمے کیلئے سائنس اور فنونِ لطیفہ کا فروغ لازمی شرط ہے جس سے نہ صرف ہمارے مادی معاملات میں ترقی آئیگی بلکہ ہمیں اپنی اخلاقیات کو بھی زندگی کے حقیقی تقاضوں کے مطابق استوار کرنے میں مدد ملے گی۔کھلی آنکھوں سے حالات اور مسائل کا جائزہ لینے کے نتیجے میں ہمیں مجہول دعاؤں سے بھی نجات ملے گی کہ جن سے پچھلے ستاون برسوں میں ہم اپنے دشمنوں کا بال تک بھی ٹیڑھا نہیں کر پائے۔

مذہب سے جڑے ہوئے لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ آزاد سوچ کی صلاحیت سے مُتّصف نہیں ہوتے۔ انکی سوچ کا مرکز و محور انسان نہیں آسمان ہوتا ہے جہاں سے اب ان سے کوئی مخاطب نہیں ہوتا۔ تخلیقی عمل شک اور تجسس کا متقاضی ہے اور اسکے لئے غیر مشروط آزاد فضا لازمی ہے، ہاں اگر کوئی شرط ہے توصرف اتنی کہ اس عمل سے دنیا کو انسان کیلئے جنت کس طرح بنایا جاسکتاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *