ن۔م۔ راشد:جدید اردو نظم کا سالکِ اعظم

سیدہ نزہت صدیقی۔ ٹورنٹو

tft-35-p-20-e-600x400
کسے خبرتھی کہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاوں کوٹ بگہ میں یکم اگست 1910میں جس بچے نے آنکھ کھولی ہے وہ ادب کے میدان میں ایسی کرنی کر جائے گا کہ اردو شاعری کی تاریخ کے سفر میں اس کا نام ایک سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر لے گا۔میرا اشارہ جدید اردو نظم کے سالکِ اعظم جناب ن م راشد کی طرف ہے۔
پنجاب کی مٹی نے بھی کیسے کیسے نابغہء روزگار پیدا کئے جنہوں نے معرفت، ادب، موسیقی، سائنس غرض تخلیق کا کوئی میدان نہ چھوڑا جسے سر نہ کیا ہو اور بعد میں آنے والوں کی راہنمائی کے لئے اپنے نقشِ قدم نہ چھوڑے ہوں۔ مگراس مقام تک پہنچنے کے لئے جذبہء عشق ضروری ہے۔
عشق اپنی منفرد راہ بنانے کا رویہ ہے۔ اس رویہ کی ابتدا، بلوغت اور بلاغت کا عمل درونِ ذات طے پاتا ہے جہاں یہ جذبہ فرد کی سچائی کے الاؤمیں جل کر جب تک مصفا نہ ہو جائے اس وقت تک اس کا اظہار برونِ ذات نہیں ہوتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس مصفا قوت کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت ٹھہر نہیں سکتی۔عشق کا وصفِ اولیں یہ ہے کہ اپنی سچائی کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو بے معنی کر دیتا ہے۔عشق روح کی آزادی کا معاملہ ہے جو اپنے ورود کے ساتھ ہی فردکو ہر قسم کی جکڑ بندیوں سے آزاد کر تا ہے تاکہ روح کا پرندہ امکانات کی بے کنار وسعتوں میں پرواز کر سکے۔
عشاق میں سرِ فہرست پیغمبر، صوفی، مفکر، فنکار، ادیب، اور دکھی انسانیت کو گلے لگانے والے شامل ہیں۔ یہ سب لوگ انسانی عظمت کے علمبردار ہیں لیکن جب یہ روشن ضمیر اپنے تجربات دنیا کے سامنے رکھتے ہیں توکیا انسانی معاشرہ ان کی پذیرائی کرتا ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہوتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ ان کا استقبال سنگ زنی اور دشنام طرازی سے کیا گیا۔ ان کے منصب سولیوں پر بلند ہوئے اور ان کی پیاس زہر کے پیالوں سے بجھائی گئی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ابلاغ کا جتنا تعلق مبلغ کی قوتِ اظہارِٰ سے ہے اتنا ہی وصول کنندگان کی ذہنی، اخلاقی اور روحانی سطح سے بھی ہے۔ وصول کنندہ اپنی بساط کے مطابق ہی نئے تجربے کا ادراک کر سکتا ہے۔
یہاں یہ خیال آتا ہے کہ انسان تو ذی شعور ہے آخر وہ نئی سچائی کا ادراک کیوں نہیں کر سکتا؟ تو اس کا جواب خود انسانی تاریخ ہے۔ یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ اجتماعی معاشرت کی ابتدا کے ساتھ ہی اقتدار کی ہوس کے عفریت نے بھی ان بستیوں میں اپنا ٹھکانہ کر لیا تھا۔ اہلِ اقتدار کو یہ معلوم کر نے میں دیر نہیں لگی کہ ان کا سب سے بڑا دشمن انسان کا اعلیٰ شعور ہے جو اسے جانوروں سے افضل کرتا ہے اور جب انسانی شعور اپنی فطری آزادی سے ہمکنار ہوتا ہے تو کوئی منفی طاقت اس کے سامنے نہیں ٹھہر نہیں سکتی اس لئے معاشرتی عمل میں اہلِ اقتدار کی بالا دستی کے دوام کے لئے عوام کی ذہنی بلاغت سے زیادہ فرمانبرداری کی صفت کی ضرورت ہے۔
چنانچہ معاشرتی تاریخ کی ابتدا سے ہی معاشرہ کے فرمانروا ایک طرف تو عوام کو روز مرہ کے مسائل میں الجھائے رکھتے ہیں اور دوسری طرف انکے ذہن کے پر قینچ کرنے کے عمل میں مصروف رہتے ہیں حالانکہ یہ قبیح حرکت پرانے زمانے میں غلاموں کو خصی کرنے کے عمل سے ہرگز مختلف نہیں۔ اس طرح سیاست کومذہب، اور اخلاقیات کا لبادہ پہنا کر روایت کے معبد میں رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ نسل در نسل ان بتوں کی پرستش کر تے ہیں اور اپنے عقل و شعور اور روحانی آزادی کو ان بتوں کی نذر کر دیتے ہیں۔
اس فرمانبرداری کے نتیجے جو انعامات عوام کوملتے ہیں ان میں سرِ فہرست معاشرے کی طرف سے دی جانے والی فرد کی پہچان ہے ۔ پہچان کا یہ معاملہ معاشرے نے رنگ، نسل، مذہب ، قومیت اور زبان وغیرہ کے حوالے سے طے کیا ہے۔ یہ حوالے بظاہر بے ضرر نظر آتے ہیں لیکن ان کے ذریعے انسان کے شعور کی حد بندی کر دی گئی ہے اور یہ حدود انسان کو انسان سے جْدا رکھتی ہیں اور اسے ایکتائی کا تجربہ نہیں کرنے دیتیں۔ کیونکہ اگر یہ شعور بیدار ہوجائے کہ قدرت نے انسان کی سب سے بڑی پہچان صرف اور صرف اس کے ا نسان ہونے میں رکھ دی ہے اوریہ وہی پہچان ہے جو باقی تمام مخلوقات کو بھی عطا ہوئی ہے اور وہ بغیر کسی ابہام کے پہچانے جاتے ہیں تو عوام ایک واحد قوت میں ڈھل جائیں گے جس کا رخ ایک مخصوص طبقے کی سیاست کے مطابق بدلا نہ جاسکے گا۔

دوسرا عطیہاہلِ اقتدار عوام کو تحفظ کے نام پر دیتے ہیں۔ زندگی کی نا استواری اور موت انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ر ہا ہے۔ فنا اور نا معلوم کا خوف نے انسان کو ازل سے لافانی اور لامحدود قوت کی پناہ تلاش کر نے پر مجبور کیا ہے اور یہی خوف بیشمار نفسیاتی مسائل کا ذمہ دار ہے۔ اسی کمزوری کا فائدہ اْٹھا تے ہوئے اہلِ اقتدار کا پسندیدہ معاشرتی نظام مخصوص طریق کا ر کا پلندہ صداقتِ کامل اور حرفِ آخر کا لیبل لگا کر انسان کی پیدائش کے وقت ہی اس کے ساتھ نتھی کر دیتا ہے اور اس طلسم کا شکار فرد اس شرمندگی کا بوجھ اٹھائے جہانِ فانی سے کوچ کر جاتا ہے کہ افسوس وہ دیئے گئے نقشہ پر پوری طرح عمل پیرا نہ ہوسکا۔

ایسی گنجلک صورتِ حال میں کون ایسا شیر افگن ہوگا جوشعور کے جھمیلے میں پڑ ے کیونکہ اس صورت میں اسے اپنی اور دوسروں کی زندگی حرام کرکے، ہزاروں سال سے بند دماغ کے صندوق سے بوسیدہ روایتوں کونکال کر نئے امکانات کی دھوپ لگوانی پڑے گی جو جان جوکھم کا کام ہے جبکہ سہل انگاری کے مزے ہی کچھ اور ہیں۔ مگر قدرت کا ایک اپنا نظام ہے جس کے تحط معاشرے کی تمام حد بندیوں کے باوجود کوئی نہ کوئی سر پھرا ذی شعور ( جی ہاں اس ترکیب میں بظاہر تضاد ہے مگر اس مضمون کے سیاق و سباق میں اسے سمجھنا مشکل نہیں) عالمِ وجود میں آتا رہتا ہے جو ان روایت پرستوں کی کیفیتِ سکر میں خلل انداز ہوتا ہے، ان کے احساسِ تحفظ کو تباہ کرتا ہے ، ان کے عقیدوں کو رد کرتا ہے اور ان کے روایت پر مبنی تشخص پر کاری ضرب لگاتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں روایت شکن ہوتا ہے۔
اسی لئے تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی پیغمبر، فلسفی، مفکر ، فنکار یا سچے اہلِ قلم کا سفر آسان نہیں رہا ۔لیکن یہ سخت جان زخم کھا کر بھی اپنے لہو سے انسانی شعور کی آبیاری کرنے سے باز نہیں آتے اور کبھی کبھی انسانی تاریخ پر اپنا نقش چھوڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کی روشنی لوگوں کو نئے راستے پر گامزن کر تی ہے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ معاشرتی عمل کہ جس کی بنیاد طاقت پر ہے جس کا منطقی نتیجہ ہوس ہے آہستہ، آہستہ اس نئے راستے کو بھی روایت کے سانچوں میں ڈھالنے لگتا ہے ۔یوں اپنے وقت کا روایت شکن وقت گزرنے کے ساتھ روایت ساز بن جاتا ہے۔ اس حقیقت کا اظہار راشد نے یوں کیا ہے

مجھے فردا وں کے صحرا سے بھی
افسونِ روا یت کی لہک آتی ہے ۔

یہ تمہید اس لئے ضروری تھی کہ بات ن م راشد کی ہو رہی ہے جن کا ورود اردو ادب کی تاریخ میں ایک روایت شکن کی حیثیت سے ہوا اور اب وہ روایت ساز کے منصب پربھی فائز ہیں۔
روایت شکنی کے جانکاہ عمل میں جن مسائل کا شکار سب کو ہونا پڑتا ہے ، وہ بھی ہوئے۔اس سفر میں جس عشق اور استواری کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی ان کی ذات کا حصہ تھی ۔ ہاں مگرخوش قسمتی نے ان کا ساتھ دیا اور راشد اردو شاعری کے وہ فرہاد ثابت ہوئے جنہوں نے تیشہء لفظ سے روایت کے کوہِ گراں کو کاٹا اور خسروانِ ادب کی عائد کردہ تمام بندشوں کے باوجودنظمِ آزاد کی شیریں سے نہ صرف خود ہم کلام ہوئے بلکہ اس کے حسن و خوبی سے اردو ادب کو آراستہ کر دیا ۔
آج اردو ادب کی تاریخ ن م راشد کے ذکر کے بغیرنا مکمل ہے ۔وہ جدید شاعری میں آزاد نظم کے بانی اور علامت نگاری کی تحریک کے اولین مشعل بردار ہیں۔ مگر اس سے پہلے کہ ہم ان کی شعریات پر بات کریں اس کی تفہیم کے لئے ہمیں اردو نظم کی ابتدا اور راشد کے ظہور تک اس کے سفر کا جائیزہ لینا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ قدیم اردو شاعری میں خالص نظم کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے ۔سب سے پہلے قلی قطب شاہ نے دکن میں چند نظمیں بسنت، نوروز، شاہی میلہ وغیرہ کے موضوع پر لکھیں۔ ہیت کے اعتبار سے یہ پابند نظمیں ہیں ، انداز بیانیہ اور زبان پر مقامی ہندی کا رنگ ہے اور اکثر اشعار منفرد مضامین پیش کر تے ہیں۔شمالی ہند میں کچھ نظمیں سودا کے دیوان میں ملتی ہیں۔ موسمِ سرما کے عنوان سے ان کی نظم میں تشبیہ و استعارہ کا استعمال فنی مہارت سے ہوا ہے ۔ یہ نظم مثنوی کی ہیت میں ہے۔
اردو کی تاریخ میں نظیر اکبر آبادی وہ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے نظم کی صنف کو باقاعدہ اظہار کا ذریعہ بنایا۔ ان کی نظمیں آدمی نامہ، بنجارہ نامہ اور روٹی کی فلاسفی وغیر ہ میں ان کا انفرادی تجربہ اور نیا طرزِاحساس بھی ملتا ہے اور انہوں نے شاعری کی روایتی زبان سے بھی انحراف کیا ہے۔ وہ منظر نگاری اور تمثیل کا استعمال کرتے ہیں مگر ان کے سیدھے سادھے موضوعات کا بیانیہ انداز اشارئیت اور رمز و ایما کے حسن سے خالی ہے۔
نظیر اکبر آبادی کے بعد قابلِ ذکر نظمیں انگریز حاکموں کے ایما ء پر انجمنِ پنجاب کے شعرا نے لکھیں۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ1857 کی جنگِ آزادی کے بعد انگریز ہندوستان پر مکمل طور پر قابض ہو چکے تھے۔ ہندوستانی تہذیب کی بنیادیں متزلزل ہوچکی تھیں اس دور کے ہندوستانی معاشرے کا فرد اندر سے ٹوٹ رہا تھا۔ یہ پریشان حالی انگریزوں کی حکومت کے لئے ایک مستقل دردِسر بن سکتی تھی چنانچہ دیگر تدابیر کے ساتھ ساتھ عوام کے ذہنوں سے دباؤ کے نکاس کے لئے ادبی سطح پرانجمنِ پنجاب کا قیام عمل میں آیا۔اس انجمن کے شعرا کے سامنے ہندوستانیوں کی منتشر شخصیتوں کو اصلاحی بنیادوں پر مجتمع کرنے کا مقصد تھا ۔ ان شعرا میں حالی، اسماعیل میرٹھی، شبلی اور آزاد وغیرہ شامل تھے۔اسی دور میں سرسید کی تحریک بھی مصروفِ عمل تھی۔ یہ دونوں اصلاحی تحریکیں تھیں، فرق صرف یہ تھا کہ سرسید کی تحریک علمی، معاشرتی اور مذہبی اصلاح کی طرف توجہ دے رہے تھی اور انجمنِ پنجاب کے شعرا فطرت کے حسین مناظر اور حقیقی زندگی کا رجائیت سے بھر پور احساس لوگوں میں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
سر سید کی تحریک اور انجمنِ پنجاب دونوں کا لائحہ عمل عقلیت پسندی، سائنسی حقیقت نگاری اور مقصدیت پر مبنی تھا جس کے نتیجے میں بیانیہ، سپاٹ، میکانکی اور روحِ عصر سے عاری اندازِبیان وجود میں آیا اور اس کے ردِ عمل کے طور اردو ادب میں جذباتی، احساساتی اور جمالیاتی عناصر کا اظہار ہونے لگا۔ان شعرا نے اپنے رجحانات کو کوئی نام نہیں دیا تھا مگر بعد کے نقادوں نے انہیں رومانی تحریک کا شاعر مانا۔

رومانی شعرا کا زمانہ بھی ہندوستان میں انتشار کا زمانہ تھا ۔انگریز ہندو مسلم معاشرت کی خلیج کو وسعت دینے کے عمل میں کامیابی کی منزلیں طے کر رہا تھا۔ مسلمانوں میں اپنی شاندار تاریخ کا احساس پیدا کرنے میں سر سید کی تحریک ہی مصروفِ عمل نہ تھی بلکہ اقبال جو رومانی شعرا کی صف میں شامل ہیں انہوں نے بھی اپنی شاعری کا منصب مسلمانوں کی بیداری کو قرار دیا اور اپنے فکر کا اظہار عموماَ نظم کی ہیت میں کیا۔
اقبال کے علاوہ اور بہت سے رومانی شعرا مثلَا عظمت اللہ خان، جوش ملیح آبادی، اختر شیرانی اور حفیظ جالندھری نے نظم کی توسیع میں گرانقدر حصہ لیا۔ ان شعرا نے مواد کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ انگریزی شعرا کی تقلید بھی کی ۔گو یہ تقلید میکانکی تھی مگر یہ لوگ مستقبل میں ہیت اور مواد کے نئے تجربوں کے لئے راہ ہموار کر گئے۔رومانی شعرا میں اقبال ہی ایسے شاعر ہیں جو نظموں کے تاثر اور جمالیاتی کل کو ملحوظ رکھنے اور نئی تمثالوں اور صوتی آہنگ کی تخلیق میں مکمل طور پر کامیاب رہے۔ لیکن اقبال سمیت تمام رومانی شعرا بیانیہ اور وضاحتی انداز سے نہیں بچ سکے۔ ان کی نظمیں موضوعاتی ہیں اور ایمائیت سے خالی ہیں۔
اردونظم کے سفر میں رومانی شاعری ہمیں1930تک لے آئی جس دہائی میں ن م راشد کا ورود ہوتا ہے۔ یہ جدید اردو نظم کی ابتدا کا دور تھا۔ اسی زمانے میں اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کی ابتدا ہوئی۔ یہ بھی حقیقت پسندی کی تحریک تھی ۔ اس کی بنیادیں مارکسی نقطہء نظر پر استوار گئی تھیں۔فیض احمد فیض، ایم ڈی تاثیر، علی سردار جعفری ، جانثار اختر ، احمد ندیم قاسمی اور مخدوم محی الدین ، ساحر لدھیانوی اور کیفی اعظمی اس کے نمائندہ شاعر ہیں۔
یہ ترقی پسند شعرا زندگی اور معاشرے کے داخلی اور خارجی اتار چڑھاؤ سے خوب واقف تھے ۔ انہوں نے انقلاب اور سماجی مساوات کے میکانکی نقطہء نظر کو اپنایا لیکن اس کے باوجود ایسی نظمیں لکھیں جو تخلیقی جوہر اور شعریت سے معمور ہیں۔ فیض احمد فیض اس کی روشن مثال ہیں۔لیکن ایسے ترقی پسند شعرا کی بھی کمی نہیں جو اپنی انتہا پسندی کے باعث شاعری اور صحافت میں تمیز نہ کر سکے۔
اسی زمانے میں روایتی اردو شاعری اور ترقی پسند تحریک دونوں سے مختلف ، جدید شاعری کا ایک نیا زاویہ تخلیق جنم لے رہا تھا جس کا اظہار سب سے پہلے ن م راشد کے قلم سے ہوا۔یہ آزاد نظم اور علامت نگاری کی تحریک کی ابتدا تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان کا پڑھا لکھا طبقہ مغربی علوم و فنون اور سائنسی انکشافات سے آگا ہی حاصل کر رہا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے بڑھ جانے سے دنیا بھر کی خبریں ہر جگہ پہنچ رہی تھیں۔ راشد بھی نہ صرف دنیا کے سیاسی اور سماجی حالات سے واقف تھے بلکہ مغرب کی ادبی تحریکوں پر ان کی گہری نظر تھی خصوصاَ فرانسیسی علامت نگاری کی تحریک جسے بادلیراور میلارمے جیسے شعرا کی سر پرستی حاصل تھی ۔اس کے علاوہ وہ ڈی ایچ لارنس، ایذرا پاونڈ، را برٹ براوننگ، اور جان کیٹس وغیرہ سے متاثر بھی تھے۔اسی دوران وہ فرائیڈ کے جنس ، تحت الشعوری عمل اور ایگو کے انکشافات کی تفہیم بھی بڑی سنجیدگی سے کر رہے تھے۔ یہی وہ دور تھا جب پہلی جنگِ عظیم کا ا لمیہ ابھی تازہ تھا کہ پھر سے ایک نئی جنگ کے قدموں کی چاپ سنائی دینے لگی۔
جدید دور کے ہولناک حالات اور نئے مغربی علوم ، راشد کے ادراک کا حصہ بن رہے تھے جنہوں نے فرد کے داخلی ، دھندلے اور مبہم امکانات کو بھی قابلِ توجہ بنادیا تھا۔ شاعری میں ان نئے مضامین اور نئی ہیت کا در آنا ایک فطری عمل تھا اور وقت کی ضرورت بھی جسے راشد نے قبول کر لیا۔انہوں نے غزل کے روایتی پیرافرنیلیا کو چھوڑ کر غیر روایتی مضامین کو غیر روایتی ہیت میں ڈھالنے کے شعری تجربے کی ابتدا کی ۔
ان کی پہلی آزاد نظم 1931میں ادبی دنیا ، لاہور میں شایع ہوئی۔ یہ منظرِ عام پرآنے والی اردو کی پہلی آزاد نظم تھی۔ ایڈیٹرنے اس کی ہیت سے پریشان ہوکر اسے گیت کے تحت چھاپا تھا۔ راشد کی دو تین نظموں کے چھپ جانے کے بعد میرا جی اور پھر تصدق حسین خالد بھی اس سفر میں شریک ہوگئے۔
جب1940 میں راشد کا پہلا مجموعہ ماورا کے نام سے شایع ہوا تو تنقید کا ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ انہیں ہیت پرست، ابہام پرست، جنس پرست، اخلاقی اقدار سے دور اور نراجیت کا شکار کہا گیا۔ ان کے صوتی آہنگ کو جو قافیہ کی جکڑبندیوں سے آزاد تھا ناقص، ان کی زبان کو جو روائتی خصوصاَ غزل کی زبان سے مختلف تھی ناپختہ اور ان کی علامتوں کو غیر تربیت یافتہ مذاق کا نتیجہ کہا گیا اور ان کے مضامین کو سماج سے بیزاری کا عنوان دیا گیا۔
راشد کی مخالفت صرف روایت پرستوں کی طرف سے ہی نہیں ہوئی بلکہ اس میں ترقی پسند تحریک کے نقاد بھی پیش پیش تھے۔روایت کا علمبردار گروہ جو بقول راشد ان ملایانِ مکتب پر مشتمل تھا جنہیں ردیف اور قافیے سے ازلی اور ابدی محبت تھی ۔ جن کے نزدیک ہر نیا نظریہ بدعت تھا اور جنہیں دینِ بزرگاں سے کسی قسم کا انحراف گوارا نہ تھا۔ ان لوگوں کی مجبوری تو راشد کی سمجھ میں آتی تھی مگر ترقی پسندوں کی شدید مخالفت ان کے ذہن میں ہمیشہ ایک سوال بن کر ابھری جس کا اظہار انہوں نے بڑی وضاحت سے کیا کہ میرے لئے یہ تسلیم کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے کہ ترقی پسندوں کو میری نظموں میں اجنبی حکومت یا استعمار کے خلاف آواز کیوں نہیں سنائی دی یا مذہبی ریاکاری ، آمریت اور معاشرتی اور جذباتی پابندیوں کے خلاف میرے شدید ردِعمل کو انہوں نے کیوں نہیں محسوس کیا، جبکہ اس قسم کے سب افکار انہیں ہمیشہ عزیز رہے ہیں اور بعض مسائل پر میرا نقطہ نظر ان کے اپنے اندیشوں اور ارمانوں سے بہت دور بھی نہیں۔ میں ترقی پسندوں کی رسمی برادری سے ہمیشہ باہر رہا ہوں ، کیونکہ مجھے سیاسی یا نیم سیاسی لیبل لگا کر سرِ بازار نکلنا اس وقت گوارا تھا نہ اب گوارا ہے” (ایک مصاحبہ ص 8)۔

ترقی پسند اور روایت پرست دونوں قبیلوں کے نقاد ان کی مخالفت میں اسقدر سیخ پا ہوئے کہ حد سے بڑھ گئے یہاں تک کہ ان کی کردار کشی پراتر آئے اور راشد کو ایک مصاحبہ کے دوران ان کے لئے مضحکہ خیز حد تک یوں تصحیح کرنی پڑی کہیہ نظمیں کسی طرح اس نیازمند کی سوانح حیات نہیں ہیں” (ص11 ۔لا : انسان)ان نقادو ں کے خیال میں راشد نے شاعری میں یہ باغیانہ رویہ قاری کو چونکا دینے اور اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے اختیار کیا تھا جبکہ اس کی وجہ راشد کا سنجیدہ تفکرتھا ۔انکے اپنے الفاظ میں،
آج انسان اور خدا کا رشتہ ہی نہیں بلکہ انسانوں کے باہمی رشتے اور انسان اور موجودات کے رشتے بدل رہے ہیں۔۔ ان رشتوں نے ہمارے بہت سے خیالات ، جذبات بلکہ احساست کو وافر اور متروک کر دیا ہے۔۔۔ وہ جسمانی یا ذہنی حجرہ نشینی جس میں قدیم شاعر دوسروں کے عشقیہ تجربات کے سہارے شعر گنگنا سکتا تھا آج مضحکہ خیز ہو چکی ہے۔ آج کے شاعر کے لئے ضروری ہے کہ وہ زندگی کو اپنی آنکھوں دیکھے، اپنے کانوں سنے اور اپنے دل سے محسوس کرے۔ اس کے لئے صرف یہ بیان ضروری نہیں کہ آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں بلکہ یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کی آنکھیں آگے چل کر کیا دیکھیں گی یا انہیں کیا دیکھنا چاہئے۔” ( ایک مصاحبہ )۔

ترقی پسند تحریک سے اختلاف کی وجہ بھی راشد کا سنجیدہ استدلال تھا ۔ وہ روسی ہمہ اوستکے قائل نہ تھے۔ ان کے اپنے الفاظ میںترقی پسندوں کا نظریہ یہ تھا کہ شاعر کو موضوع کے انتخاب میں اپنے انفرادی حق سے دستبردار ہو جانا چاہئے ۔۔۔میری رائے یہ رہی ہے کہ اگر ادیب یا شاعر اپنے ہنر کے ساتھ خیانت کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا تو اسے صرف اپنے ہی اندرونی یا بیرونی تجربات کی روشنی میں اپنا راستہ تلاش کر نا چاہیے اور موضوع کے ردو قبول یا کسی موضوع کے بارے میں عقلی یا جذباتی ردِ عمل کے لئے کسی خارجی ہدایت کی پیروی نہیں کر نی چاہئے” (ایک مصاحبہ
شدید مخالفت کی اس فضا میں بھی راشد نے ا پنی منفرد تخلیق کا سلسلہ جاری رکھا اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ اردو ادب میں کوئی آزاد نظم اور علامت کی روش کو کبھی قبول بھی کرے گا یا نہیں۔ انہیں اس وقت معلوم نہیں تھا کہ اہلِ قلم کا ایک قافلہ ان کے راستے پر چل نکلے گا جس میں مختار صدیقی، قیوم نظر، ضیا جالندھری، یوسف ظفر، عزیز حامد مدنی، مجید امجد، صفدر میر اور منیر نیازی جیسے شاعر اور ان کے بعد کی نسلیں بھی شامل ہو جائیں گی۔
مندرجہ بالا ادبی ، معاشرتی اور سیاسی صورتِ حال کا مختصر جائزہ اردو شاعری میں آزاد نظم اور علامت نگاری کی ابتدا اور ن م راشد کے مقام کے تعین کے لئے ضروری تھا۔
راشد کی شعری کاوشات پر بات کرنے کے لئے، آزاد نظم اور علامت نگاری کی اصناف کی تفہیم نا گزیر ہے ۔ یوں تو ان اصناف کی ابتدا کے80 سال کے بعد آج اردوکا عام قاری بھی یہ جانتا ہے کہ آزاد نظم کی صنف میں ردیف اور قافیہ کا اہتمام پابندی سے نہیں ہوتا۔ مگر شاید اسے یہ خبرنہ ہو کہ یہ بحر سے کلیتہَ آزاد نہیں ہے۔ آزاد نظم کی سب سے بڑی خصوصیت مواد اور اظہار کا آہنگ ہے ۔ اس آہنگ کو برقرار رکھنے کے لئے بحرکے مروجہ ارکان کو گھٹا یا بڑھایا جاسکتا ہے ۔روایت کے تناظر میں آزاد نظم کی تعریف یوں بھی ہو سکتی ہے کہ روائیتی شاعری میں مواد ہیت کا تابع ہوتا ہے اور آزاد نظم میں ہیت مواد کی تابع ہوتی ہے۔
جہاں تک علامت اور علامت نگاری کا تعلق ہے تو پہلی بات تو یہ ہے کہ زبان بذاتِ خودعلامتوں کا ایک سلسلہ ہے ۔ زبان ایک نامیاتی نظام ہے جس کے اجزائے ترکیبی اور مرکبات علامتیں ہی ہو تی ہیں۔ علامت کا کام تشبیہ یا اشارہ کی طرح اشیا کی نمائیندگی کرنا نہیں بلکہ اشیا کے تصورات کا اظہار ہے۔ یہ گہرے داخلی شعور کے نتیجے میں نمودار ہوتی ہے جس میں اجتماعی لا شعور کا بہت بڑا حصہ ہے۔
سوزن کے لینگر نے اپنی کتاب’’ فلاسفی ان اے نیو کی ‘‘ میں علامت کو اشیا کا نہیں بلکہ ان کے تصورات کا آ ئینہ قراردیا ہے۔

یونگ کے کمپلیکس، آرکیٹائپ اورسمبلکے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ علامت ٹھوس شے کے بصری معنی مہیا کرتی ہے اور اس کے پیچھے عمیق اور پیچیدہ مفاہیم کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔
تحت الشعورکے دھندلے نقوش اور شعور کی بے کنار کائینات کو زبان کی گرفت میں لانے کے لئے علامت نگاری سے بہتر ابھی کوئی اور وسیلہ معرضِ وجود میں نہیں آیا۔ چونکہ راشد کے موضوعات بھی یہی تھے اس لئے انہوں نے اظہار کے لئے علامت نگاری کو اختیارکیا۔ اس طرح ان کی شاعری فکر ی اور فنی دونوں لحاظ سے اردو میں اجتہاد کا درجہ رکھتی ہے۔

راشد کا دوسرا مجموعہ ایران میں اجنبی 1955 میں شائع ہوا ۔ کرشن چندر نے تو ان کے پہلے مجموعے ماورا کے تعارف میں ہی ان کی شاعری کو اردو میں ایک نئے دور کی تمہید سے تعبیر کردیا تھا اب ایران میں اجنبی، کی اشاعت نے گویا اس بیان پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی اگرچہ ان کی شاعری میں ابھی مغربی شعرا کا اثر نظر آرہا تھا۔ ایران میں اجنبی کو انہوں نے نظم بھی جارج بائیرن کی چائیلڈ ھیرلڈ اور ایذرا پاونڈ کے کانتو کی ہیت میں کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس میں کانتو کی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے اسے قطعات کے زْمرہ میں شامل کر دیا۔

مشرق اور خصوصاَ ایشیا سے راشد کو لگاؤ تھا چنانچہ وہ اسی ماحول میں مذہب، سیاست اور عشق کے تجزیات کرتے ہیں ۔ وہ مشرق کی مرتی ہوئی روح ، افراد کی ذہنی شکستگی اوراعصابی تھکن کو محسوس کرتے ہیں اور شعر میں اس کا علامتی اظہار کر کے ، ادراک قاری پر چھوڑ دیتے ہیںَ۔ان کی شاعری میں عام انسان نظر آتے ہیں۔ ان کے کردار معاشرے کے مثالی کردار نہیں بلکہ اپنے ماحول سے غیر مطمئن، اور انتشار کا شکار ہیں اور اپنے معاشرے کے اجتماعی المیہ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے کردار فن، شراب اور عورت کی آغوش میں پناہ لیتے ہیں اور اس فرار کے باوجود انہیں زندگی کی وحشتوں کے وارد ہونے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ اس عہد کے غلام ہندوستان کا نوجوان جن جنسی ،معاشی اور سیاسی مسائل کا اسیر تھا راشد نے اسکا تجزیہ بڑی کامیابی سے کیا ۔مثال کے لئے ان کی نظم ’’رقص‘‘ سے اقتباس حاضر ہے۔
اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے
عہدِ پارینہ کا میں انساں نہیں
بندگی سے اس درو دیوار کی
ہو چکی ہیں خواہشیں بے سوزو رنگ و ناتواں
جسم سے تیرے لپٹ سکتا تو ہوں
زندگی پر میں جھپٹ سکتا نہیں
اے حسین و اجنبی عورت مجھے اب تھام لے.

یہ ا قتباس میں نے اس لئے بھی چْنا کہ راشد کی شاعری میں عورت کے کردارکی عکاسی بھی ہوجائے۔ راشد کے نزدیک اس وقت کی ہندوستانی عورت ہندوستان کا ایک مر بوط استعارہ ہے جومرد کی غلامی سے آزاد ہو رہی ہے لیکن اخلاقی اور نفسیاتی فساد کا شکار بھی ہو رہی ہے مندرجہ بالا نظم کی عورت روائتی شاعری کی محبوبہ نہیں، نہ ہی روائتی مشرقی عورت ہے۔ یہ ایک ایسے معاشرے کی حقیقی عورت ہے جس کی پرانی قدریں مٹ چکی ہیں اور نئی اقدار ابھی شرمندہء4 تعمیر نہیں ہوئیں۔ نہ ہی اس کا مرد روائتی پدر سری نظام کا طاقتور مردہے ۔ اجنبی استعمار سے ٹوٹا ہوا یہ مرد جو ہمیشہ عورت کو کمزور سمجھتا رہا اب اس کی پناہ میں آنا چاہتا ہے۔ خواہ وقتی طور پر ہی صحیح لیکن یہ تجربہ دونوں کی بدلی ہوئی صورتِ حال کا ثبوت ہے۔
یہ بہت ہی گمبھیر نفسیاتی مسئلے ہیں جن کی جڑیں اپنے زمانے کے سیاسی اور معاشرتی حالات میں پیوست ہیں یہ الجھاو راشد اختصار، بہاو اور خوبصورتی کے ساتھ نظم کرتے چلے جاتے ہیں اوراپنے قاری کو زندگی کی جھلکیاں کچھ اس انداز سے دکھاتے ہیں کہ وہ اس کے شعور کا حصہ بنتی چلی جاتی ہیں۔
راشد کومذہب کے موضوع سے بھی دلچسپی ہے ۔انہیں لگتا ہے مشرق کا خدا زندگی میں ناموجود ہے ا ور مشرق کا انسان تششکک کا شکار ہورہا ہے۔ ایک اقتباص ان کی نظم دریچے کے قریب ،سے پیشِ خدمت ہے،
آ مری جان! مرے پاس دریچے کے قریب
دیکھ کس پیار سے انوارِ سحر چومتے ہیں مسجدِ شہر کے میناروں کو
جن کی رفعت سے مجھے اپنی برسوں کی تمنا کا خیال آتا ہے
اسی مینار کے سائے تلے کچھ یاد بھی ہے!
اپنے بیکار خدا کی ماننداونگھتا ہے کسی تاریک نہاں خانے میں
ایک افلاس کا مارا ہوا ملاےء4 حزیں،
ایک عفریت اداس ،تین سو سال کی ذلت کا نشاں
ایسی ذلت کہ نہیں جس کا مداوا کوئی
دیکھ بازار میں لوگوں کا ہجوم، بے پناہ سیلِ رواں کی مانند
جیسے جنات بیابانوں میں، مشعلیں لے کے سرِشام نکل آتے ہیں۔
ان میں ہر شخص کے سینے کے کسی گوشے میں،
ایک دلہن سی بنی بیٹھی ہے،ٹمٹماتی ہوئی ننھی سی خودی کی قندیل
لیکن اتنی بھی توانائی نہیں،
بڑھ کے ان میں سے کوئی شعلہء جوالہ بنے
ان میں مفلسس بھی ہیں بیمار بھی ہیں
زیرٰ افلاک مگر ظلم سہے جاتے ہیں
میں بھی اس شہر کے لوگوں کی طرح
بہرِ جمع خس و خاشاک نکل جاتا ہوں چرخِ گرداں ہے جہاں
شام کو پھر اسی کاشانے میں لوٹ آتا ہوں
بے بسی میری ذرا دیکھ کہ میں
مسجدِ شہر کے میناروں کو اس دریچے میں سے پھر جھانکتا ہوں
جب انہیں عالمِ رخصت میں شفق چومتی ہے۔۔۔

اس نظم میں مسجد ، ملا ،لوگ اور خود متکلم سب علامتیں ہیں ،مذہب کی لا معنویت اور عوام کی زندگی کے رائیگاں سفر کی۔راشد کی شاعری میں ،دیوار، نئے عہد میں پرانی اقدار سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی علامت ہے۔ تیرگی عصرِ حاضر کے فرد کے باطنی سفر کی لا حاصلی کی علامت ہے ۔ راشد کی شاعری میں خودکشی کا عمل بھی ایک علامت بن کر ابھرا ہے جو کرشن چندر کے خیال میں ارضِ مشرق کی ڈیتھ وِشکا اظہار ہے۔ایسی بیشمار علامتیں راشد کے اجتماعی شعور کی عکاس ہیں۔
راشد نے اپنی شاعری میں واحدمتکلم کو خوب برتا ہے۔ مکالمے اور تخاطب نے ان کی شاعری کو ڈرامائی انداز اور زندگی کا تحرک دیا ہے۔

ن م راشد کا تیسرا مجموعہ لا۔ انسان1968 اور چوتھا اور آخری مجموعہ گمان کا ممکن ان کی وفات کے بعد1979 میں شائع ہوا ۔ یہ دونوں مجموعے راشد کے اپنے منفرد اسلوب کا اعلان ہیں۔
لا۔ انسان کی نظمیں بین الاقوامی انسان کے انتشار اور امیدِ نو کی عکاس ہیں۔ راشد انسان کو ایک ایسا ہندسہ تصور کرتے ہیں جس کی قیمت معلوم نہیَں ۔ زندگی میں تلاش کا عمل اسی قیمت کو معلوم کرنے کی تگ ودو ہے۔اس تگ و دو کا محرک عشق ہے۔ عشق کے مختلف رنگ کبھی انسانیت سے ، کبھی فطرت سے ، کبھی فن سے ،کبھی ذات سے اور کبھی جنسِ مقابل سے عشق کی صورت میں اپنا جلوہ دکھاتے ہیں۔ زندگی کی عظمت اور معنویت اسی جذبہ کی بدولت ہے۔ یہ فلسفہ بین السطور تو ان کی پوری شاعری میں موجود ہے ہی لیکن اس کا براہِ راست اظہار بھی موجود ہے۔
نظم ملاحظہ فرمایئے
ہم کہ عشاق نہیں
اور کبھی تھے بھی نہیں
ہم تو عشاق کے سائیبھی نہیں
عشق اک ترجمہء4 بوالہوسی ہے گو یا
عشق اپنی ہی کمی ہے گویا
اور اس ترجمے میں ذکرِ زرو سیم تو ہے
اپنے لمحاتِ گریزاں کا زرو سیم تو ہے
لیکن اْس لمس کی لہروں کا کہیں ذکر نہیں
جس سے بول اٹھتے ہیں سوئے ہوئے الہام کے لب
جس جی اٹھتے ہیں ایام کے لب۔

اسی نوع کی ایک اور نظم میرے بھی ہیں کچھ خواب کے چار بند ملاحظہ فرمایئے۔
اے عشقِ ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خواب
اس دور سے، اس دور کے سوکھے ہوئے دریاوں سے
پھیلے ہوئے صحراوں سے، اور شہروں کے ویرانوں سے
ویرانہ گروں سے میں حزیں اور اداس!
اے عشقِ ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خواب
۔۔۔کچھ خواب ہیں پروردہ انوار مگر ان کی سحر گم
جس آگ سے اٹھتا ہے محبت کا خمیر اس کے شرر گم
ہے کل کی خبر ان کو مگر جز کی خبر گم
یہ خواب ہیں وہ جن کے لئے مرتبہِ دیدہِ تر ہیچ
دل ہیچ ہے، سر اتنے برابر ہیں کہ سر ہیچ ، عرضِ ہنر ہیچ
اے عشقِ ازل گیرو ابد تاب
یہ خواب مرے خواب نہیں ہیں کہ مرے خواب ہیں کچھ اور
کچھ اور مرے خواب ہیں ، کچھ اور مرا دور
خوابوں کے نئے دور میں نے مور و ملخ نے اسدو ثور
نے لذتِ تسلیم کسی میں نہ کسی کو ہوسِ جور،سب کے نئے طور
۔۔۔اے عشقِ ازل گیروابد تاب، میرے بھی ہیں کچھ خواب
وہ خواب ہیں آزادیِ کامل کے نئے خواب
ہر سعیِ جگردوز کے حاصل کے نئے خواب
آدم کی ولادت کے نئے جشن پہ لہراتے جلاجل کے نئے خواب
اس خاک کی سطوت کی منازل کے نئے خواب
یا سینہء4 گیتی میں نئے دل کے نئے خواب
اے عشقِ ازل گیروابدتابمیرے بھی ہیں کچھ خواب!
میرے بھی ہیں کچھ خواب۔

راشد کی شاعری میں فارسی الفاظ و تراکیب کی بھرمار کا الزام لگایا جاتا ہے ۔ وہ شعر اور زبان کے استعمال کو خوب سمجھتے تھے چنانچہ انہوں نے کہیں بھی غیر ضروری الفاظ کااستعمال نہیں کیا اس لئے بھر مار کا الزام تو سرا سر بیانصافی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ صرف ایران کی زبان سے ہی نہیں بلکہ اس کی ثقافت اور معاشرت سے بھی بہت متاثر تھے۔ انہیں اپنی فارن سروس کے سلسے میں ایران میں رہنے کا مو قع بھی ملا اور انہوں نے ایک مجموعہ ایران میں اجنبیکے نام سے مرتب کیا۔ یہ بات میں اس لئے کر رہی ہوں کہ یہ سب ان کے ایران سے عشق کا منہ بولتا ثبوت ہیں لیکن اس عشق کا سب سے بڑا معجزہ ان کا شہرہ آفاق کردار حسن کوزہ گرہے۔یہ کردار ان داخل کی ان گہرایؤں سے معرضِ وجود میں آیا ہے جہاں خالق اور مخلوق میں دوئی مٹ جاتی ہے۔ قاری کے لئے یہ پہچاننا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ راشد ،حسن کوزہ گرہے یا حسن کوزہ گر، راشد ہے۔ اس کردار میں راشد نے خود اپنا ہمزاد پیدا کیا اور ایرانی نڑاد پیدا کیا۔ سوچتی ہوں راشد کے تحت الشعورمیں کہیں ایران میں پیدا ہونے کی خواہش تو نہیں تھی ؟ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ اگر انہیں دنیا میں دوبارہ آنے کا موقع ملا تو وہ کوٹ بگہ ،پنجاب میں ہرگز پیدا نہیں ہوں گے بلکہ یا تو اصفہان میں مےء4 نابِ قزوین سے شوق فرماتے ہوئے پا ئے جائیں گے یا شیراز میں مجذوبِ شیرازی کی درگاہ پہ عالمِ جذب میں کہ یہ بھی نشہ مے سے کم نہیں۔

بات حسن کوزہ گر کی ہورہی تھی۔ راشد کا یہ کردار ان کی چار نظموں کا ہیرو ہے اور یہ چاروں نظمیں انہوں نے حسن کوزہ گر کے فن کے نذرانے کے طور پر اس کے نام کر دی ہیں۔ پہلی نظم لا۔انسان میں شایع ہوئی۔باقی تین نظمیں ان کے آخری مجموعے گمان کا ممکنمیں شامل ہیں۔ کہنے کو تو یہ الگ الگ نظمیں ہیں اور مختلف اوقعات میں لکھی گئی ہیں لیکن ان میں ایک تسلسل ہے۔ اول تو ان کا مرکزی کردار ایک ہے ۔دوسرے یہ ایک زندگی کے سفر کی داستان ہے ۔ یہ ایک جیتے جاگتے ، معاشرتی اور جذباتی کرب سے گزرتے حساس فنکار کی داخلی سوانح حیات ہے جس کی ابتدا صنفِ مقابل سے عشق سے ہوتی ہے۔ ہجر کے الاؤ میں اس کا داخل فنا سے ہمکنار ہو تا ہے اور نتیجتاً اس کی خارجی زندگی کے خس و خاشاک بھی جل جاتے ہیں ۔ وہ در بدری کی ٹھو کریں کھاتا ہوا ،معاشرے اور تاریخ کے پیچ و خم سے گزرتا ہوا زندگی کی سب سے بڑی دو حقیقتوں کو پہچانتا ہے اول عشق اور آخر فنا جو دونوں اصل میں ایک ہی ہیں ۔ فنا اور حسن اور فنکاری سے سے دو آتشہ عشق حسن کوزہ گر کی آخری نظم میں ایک دوسرے میں ضم ہوکر تسلسلِ حیات کے سفر میں اپنا نشان چھوڑ جاتے ہیں نظم کے کچھ حصے ملاحظہ فرمایئے۔
حسن کوزہ گر
جہاں زاد کیسے ہزاروں برس بعد
اک شہرِ مدفون کی ہر گلی میں
مرے جام و مینا و گلداں کے ریزے ملے ہیں
کہ جیسے وہ اس شہرِ برباد کا حافظہ ہوں۔
۔۔۔جہاں زاد یہ کیسا کہنہ پرستوں کا انبوہ
کوزوں کی لاشوں میں اترا ہے دیکھو۔
۔۔۔ہزاروں برس بعد ریزوں کو چنتے ہو ئے
جان سکتے ہیں کیسے؟
کہ میرے گِل و خاک کے رنگ و روغن
ترے نازک اعضا کے رنگوں سے مل کر
ابد کی صدا بن گئے تھے
میں اپنے مساموں سے ، ہر پور سے
تیری بانہوں کی پہنائیاں جذب کرتا رہا تھا
کہ ہر آنے والے کی آنکھوں کے معبد پہ جا کر چڑھاوں
یہ ریزوں کی تہذیب پالیں تو پالیں
حسن کوزہ گر کو کہاں لا سکیں گے۔
۔۔۔یہ کوزوں کے لاشے جو انکے لئے ہیں
کسی داستانِ فنا کے وغیرہ وغیرہ
۔۔۔یہ اپنے سکوتِ اجل میں بھی یہ کہ رہے ہیں
وہ آنکھیں ہمیں ہیں جو اندر کھلی ہیں
تمہیں دیکھتی ہیں، ہر اک درد کو بھانپتی ہیں
ہر اک حسن کے راز کو جانتی ہیں
کہ ہم ایک سنسان حجرے کی ، اْس رات کی آرزو ہیں
جہاں ایک چہرہ درختوں کی شاخوں کی مانند
اک اور چہرے پہ جھک کر ہر انساں کے سینے میں اک برگِ گل رکھ گیا تھا
اْ سی شب کا دزدیدہ بوسہ ہمیں ہیں
میرے خیال میں یہ نظم دنیا کی چند بہتریں نظموں میں سے ہے۔ میں یہ مضمون اسی نظم پر ختم کرتی ہوں کیونکہ یہی نقطہ اختتام ہے ایک عظیم تخلیقی سفرکا ، اردو آزاد نظم کے سالکِ اعظم کا، نذر محمد راشد کا، حسن کوزہ گر کا۔ شکریہ

یہ مضمون22 فروری2013 کو رائیٹرز فورم کینیڈا کی جانب سے ن۔م۔راشد کی یاد میں منائے جانے والے پروگرام میں پیش کیا گیا جس کی صدارت عابد جعفری کر رہے تھے اور مہمانِ خصوصی ن ۔م راشد کی صاحبزادی یاسمیں حسن تھیں۔

2 Comments

  1. Arshad Nazeer says:

    It is a good read and very impressive one.

  2. Syeda Nuzhat Siddiqui says:

    Thank you for your kind words.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *