شیخ ایاز ، حمیدہ کھوڑو اور میں

ڈاکٹر مبارک علی

hameeda khouro

ستمبرکا مہینہ اور 1972کا سال تھا کہ ہم جرمنی سے پاکستان آئے۔ کراچی ایر پورٹ پر آئے تو ایک افراتفری کا عالم تھا ۔ بڑی مشکلوں سے سامان لیا ۔باہر آئے۔سخت گرمی تھی ۔حبس علیحدہ سے ،وہاں سے چلے تو حیدر آباد ۔حیدر آباد کا حال کراچی سے زیادہ خراب تھا ۔سڑکیں نہ صرف کہ ٹوٹی ہوئی تھیں بلکہ غائب تھیں اور ان میں گہرے گڑھے پڑے ہوئے تھے ۔بارش ہوئی تھی جس کی وجہ سے جگہ جگہ پانی بھرا ہوا تھا ۔بجلی کی سپلائی اپنی مرضی کی تھی ۔ سوچا کہ حالات تو خراب ہیں مگر رہنا بھی یہیں ہے۔

دوسرے دن صبح صبح یونیورسٹی گیا تاکہ ملازمت جوائن کر وں۔ اس وقت ہسٹری کی چیئر پرسن حمیدہ کھوڑو تھیں۔ان سے یعقوب مغل نے ملاقات کرائی ۔جوائن رپورٹ پر ان کے دستخط لئے اور رجسٹرار کے آفس بھجوادی ۔

مجھے تو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ میرے آنے سے شعبہ کے لوگ پریشان ہوجائیں گے ، لیکن کافی لوگوں کو میرا واپس آنا اور پھر آسانی سے اس طرح جوائن کرنا اچھا نہیں لگا ۔لہذا خاموشی سے سازشیں ہونے لگیں ۔ میں اس انتظار میں تھا کہ تنخواہ ملنی شروع ہو تاکہ ہم گھر کا خرچہ چلائیں ۔ معلوم ہوا کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے اس میں تین چار مہینے لگ جاتے ہیں ۔

حمید کھوڑو اگرچہ شعبہ کی سربراہ تھیں مگر تھیں اپنی مرضی کی مالک ۔ جب مرضی ہو آتیں تھیں ، ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں تھا ۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر شیخ ایاز تھے ، جو کہ سندھی کے مشہور شاعر اور دانشور ہیں۔ جب دو مہینے گذر گئے تو کسی نے کہا کہ شیخ صاحب سے جاکر ملو اور ان کی خدمت میں اپنا حال احوال کہو ، شاید کہ رحم آ جائے اور تمہاری تنخواہ مقرر ہو جائے ۔دینے والے نے مشورہ دیا کہ شیخ صاحب کا دربار روز شام کو وی۔سی ہاؤ س میں لگتا ہے ۔شام کو وقت ہوتا ہے ، شیخ صاحب مصاحبوں کی محفل میں عالم سرور میں ہوتے ہیں ۔لہذا یہ وقت مناسب ہے ۔یہ بھی معلوم ہوا کہ اس وقت احمد سلیم ان کے قریب ہیں کیونکہ انہیں شیخ صاحب نے یونیورسٹی اس لئے بلایا ہے کہ وہ ان کے کلام کا پنجابی میں ترجمہ کریں ۔

احمد سلیم سے یہ میرا پہلا تعارف تھا ۔میں نے مدعا بیان کیا تو وہ فورا تیار ہوگئے ۔ شام کو وی۔سی ہاؤس کے باہر ملنے کا وقت طے ہوا ۔حیدر آباد سے جام شورو آنا ایک مصیبت ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ کا انتظام انتہائی ناقص ہے ۔مگر میں پبلک بس پکڑ کر پہنچا ۔ احمد سلیم کو وی۔ سی کے اسٹاف والے جانتے تھے ۔ اس لئے ان کے ساتھ جاکر ڈارائنگ روم میں بیٹھ گئے ۔ سات بجے شام کو دروازہ کھلا ، شیخ صاحب سو کر اٹھے تھے ۔ دروازے سے ایک نگاہ ڈال کر دیکھا کہ کون کون بیٹھا ہے ۔ پھر دروازہ بند ہوگیا ۔ہم سب حاضرین دم بخود ،خاموشی سے ان کے ظاہر ہونے کا انتظار کرنے لگے ۔ جب شیخ صاحب نہا دھو کر آئے تو سب نے کھڑے ہوکر استقبال کیا ۔ احمد سلیم نے تعارف کرایا ۔میں نے ادب کے ساتھ اپنے تھیسس کی ایک کاپی جو چھپ چکی تھی ان کی خدمت میں پیش کی ۔ ا س کو پلٹ کر ادھر اُدھر سے دیکھا پھر پوچھنے لگے ’’آپ نے تاج محل دیکھا ہے ‘‘۔ میں نے کہا ’’ جی نہیں ‘‘۔

بولے۔’’پھر مغلوں پر بغیر تاج محل دیکھے کیسے کتاب لکھ دی ‘‘۔

سوچا کہ کہوں کہ غلطی ہوئی ۔لیکن اب تو ایسا ہوگیا ۔ اس کے بعد ان کی توجہ دوسرے امور پر ہوگئی ۔ میں مصاحبوں کے درمیان آدھ گھنٹہ با ادب بیٹھا رہا ، پھر اجازت چاہی اور دوبارہ بس پکڑ کر واپس حیدر آباد آیا ۔

اس ملاقات کا کچھ نتیجہ نہیں نکلا ۔اس عرصہ میں یہ کوششیں ہوئیں کہ کس طرح مجھے یونیورسٹی سے نکال دیا جائے۔ بعد میں حمیدہ کھوڑو کو بھی بڑا افسوس ہوا کہ انہوں نے میری جوائننگ رپورٹ کیوں سائن کردی ۔ اس کی وجہ سے اب لوگ مجبور تھے کہ مجھے برداشت کریں۔

سلسلہ چلتے چلتے دسمبر آگیا ۔ ایک دن یونیورسٹی میں تھا کہ فون آیا کہ وی۔سی آپ کو بلاتے ہیں ۔میں خوش ہوا کہ شاید میرے معاملات طے ہو جائیں گے ۔سندھ یونیورسٹی کا کیمپس جس انداز سے بنایا گیا ہے وہ بھی اپنی جگہ ایک کارنامہ ہے ۔آرٹس فیکلٹی سے ایڈمنسٹریشن کی عمارت تک پید ل جانے کے لئے بیس منٹ چاہئیں۔یہ فاصلہ ویرانے سے ہوکر طے کرنا ہوتا ہے ۔یہ کارنامہ بھی غلام مصطفے شاہ کا ہے ۔اس کا مقصد یہ تھا کہ اساتذہ و طلبہ کو انتظامیہ سے دور رکھو ۔ بہر حال میں ہانپتا ہوا وی ۔سی کے آفس پہنچا ۔پہلے ان کے پی ۔اے کے کمرے میں بٹھایا گیا ۔ کچھ دیر بعد طلبی ہوئی ۔ شیخ صاحب کے چہرے پر دانشوری کی روشنی سے زیادہ جاگیر دارانہ رعونت تھی ۔میں نے مودبانہ سلام کیا ، جس کا انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ نہ ہی کرسی پر بیٹھنے کو کہا ۔جب انہوں نے نہیں کہا تو میں خود بیٹھ گیا ۔ میز پر سے نظریں اٹھا کر بڑی ناراضی سے بولے ’’آپ کو جتنے دن کی چھٹی دی گئی تھی اس سے زیادہ وقت لگا کر آپ آئے ہیں ۔‘‘

میں نے کہا کہ’’ درست ہے مگر وجہ یہ تھی کہ میں کسی وظیفہ پر نہ تھا ۔ وہاں محنت مزدوری کی اور پڑھا ، اس میں دیر لگی ۔اگر وقت پر آجاتا تو پی ۔ایچ ۔ڈی نامکمل رہ جاتی ‘‘۔

کہنے لگے ’’ ہمیں آپ کی پی ۔ایچ ۔ڈی سے کوئی مطلب نہیں ،آپ کو ہر حالت میں وقت پر آنا تھا ‘‘۔
میں نے کہا ’’ اگر آپ میری بات نہیں سمجھتے اور اس پر توجہ نہیں دیتے تو آپ کے ساتھ مزید گفتگو بے کار ہے ‘‘ ۔خدا حافظ۔میں یہ کہہ کر اٹھ کر چلا آیا۔

دوسرے دن وی۔ سی صاحب کا ایک خط ملا کہ چونکہ آپ نے وی ۔سی کے ساتھ بدتمیزی کی ہے اس لئے آپ کو ملازمت سے معطل کیا جاتا ہے ۔۔ یہ معطلی جو شروع ہوئی تو اس نے ختم ہونے کا نام نہیں لیا ۔اس زمانے میں یہ بھی تجربہ ہوا کہ لوگ اتھارٹی سے کس قدر ڈرتے ہیں ۔ یونیورسٹی میں ، میں اکثر شعبہ فلسفہ میں جایا کرتا تھا جہاں ڈاکٹر عطاء الرحیم اور فریدالدین میرے دوستوں میں سے ہیں۔اس واقعہ کے بعد ایک دن جو گیا تو ان کے صدر شعبہ کہنے لگے کہ مبارک صاحب ذرا یہاں آنے میں احتیاط کریں۔ یونیورسٹی میں ٹیچرز یونین یا کسی نے میرے حق میں نہ کوئی آواز اٹھائی نہ میری مدد کی ۔معطلی کا یہ زمانہ میں نے انتہائی پریشانی میں گزارا ۔دوستوں سے قرض لے کر گزارا کیا ۔جب مہینہ بھر کے لئے قرض مل جاتا تھا تو میں مطمئن ہو جاتا تھا کہ چلو ایک مہینہ تو گزر جائے گا ۔ ستمبر سے لے کر جون 1977تک اسی حالت میں وقت گزرا۔ ایک دن میرے دوست وکیل قریشی نے کہا کہ صوبائی تعلیم پیر آفتاب جیلانی ان کے دوست ہیں ،لہذا ان نے سفارش کراتے ہیں ۔

وزیر صاحب سے ملنے کے لئے کراچی گئے ۔ شکر ہے کہ وہ وکیل قریشی کو نہ صرف پہچان گئے بلکہ عزت کے ساتھ پیش آئے ۔ہمیں دوسرے دن اپنے آفس میں بلایا کہ وہاں سے وہ شیخ ایاز کو فون کریں گے ۔ وزیر کے آفس میں جانے اور وہاں جو کچھ دیکھا وہ بھی میرے لئے ایک تجربہ تھا ۔ان کے آفس میں پچاس کے قریب لوگ ہوں گے کہ جو ان کے ارد گرد کھڑے تھے ۔ ان میں سے کچھ وزیر کے جاننے والے تھے ، کچھ سفارشی خطوط لے کر آئے تھے ۔ ان کے ارد گرد دو ٹیلی فون تھے جن پر دو آدمی بیٹھے اس شخص کو نمبر ملانے میں مصروف تھے کہ جن سے سفارش کرنا ہوتی تھی ۔ ان میں کوئی تبادلہ کرانا چاہتا تھا ، کوئی نئی ملازمت کا خواہش مند تھا تو کوئی میڈیکل کالج یا انجینئر نگ کالج میں داخلے کے لئے کوشاں تھا ۔وزیر صاحب کو کسی سے انکار نہیں تھا ۔ وہ خوش قسمت ہوتا تھا کہ جس کا مطلوبہ نمبر مل جاتا تھا ۔ اب پتہ نہیں کام ہوتا تھا یا نہیں لیکن سفارش ہر ایک کی جاتی تھی ۔ہماری سیاست میں یہ سر پرستی نہ ہو تو ووٹ کیسے ملیں ۔ شیخ صاحب بڑی دیر میں ملے ۔ انہوں نے نہ جانے فون پر میرے بارے میں کیا کہا لیکن کہا کہ اسے بھیج دو۔میں اس سے بات کروں گا ۔ اس ساری کاروائی میں پورا ایک دن بیت گیا۔

دوسرے دن میں حیدر آباد سے وی۔سی صاحب سے ملنے گیا ۔ کمرے میں بلایا تو دیکھا کہ کوئی کتاب پڑھنے میں اس قدر مصروف ہیں کہ میرے آنے کی بھی انہیں خبر نہیں ہوئی ۔میں نے سلام کیا تو سر اٹھا کر دیکھا ۔کہنے لگے ’’ پیر صاحب میرے دوست ہیں ۔ انہوں نے سفارش کی ہے تو میں تمہیں دوبارہ سے رکھ لیتا ہوں ‘‘۔
میں نے کہا ’’ جناب کا شکریہ ‘‘۔

کہنے لگے ’’ مگر تمہیں ایک کام کرنا ہوگا ۔ ایک معافی نامہ لکھ دو ، باقی سنڈیکیٹ سے میں کرالوں گا ‘‘۔
میں نے کہا ’’ کیسا معافی نامہ ‘‘۔

بولے ’’یہی کہ تم نے میرے ساتھ بدتمیزی کی ‘‘۔
’’
مگر میں نے تو کوئی بدتمیزی نہیں کی ‘‘۔
’’
بھئی ٹھیک ہے ،مگر یہ معافی نامہ نہیں ہوگا ، تو بات مجھ پر آئے گی کہ تمہیں کیوں معطل کیا ‘‘۔
میں نے کہا ’’یہ آپ کا درد سر ہے ۔ میرا س سے کیا تعلق اور اگر معافی نامہ دینا ہوتا تو یہ شروع ہی میں دے دیتا ‘‘۔
کہنے لگے ’’ افوہ تم سے تو بات کرنا مشکل ہے ۔بھئی میں تمہار وائس چانسلر ہوں ، تم سے بڑا ہوں ، کیا تم میری بات نہیں مانو گے ‘‘۔
میں نے کہا ’’ یہاں تو نہیں ‘‘۔

پھر بولے ’’ اچھا تمہارا کوئی دوست ہے کہ جس سے بات کی جائے اور تمہیں سمجھائے ‘‘۔
’’
مرزا امجد بیگ ڈین آف فیکلٹی آف آرٹس کو میرے پاس بھیج دو ، میں اُن سے بات کروں گا ‘‘۔

میں نے یہ پیغام مرزا صاحب تک پہنچا دیا ۔ اس عرصہ میں دوستوں نے کہا ’’ یار دے دو معافی نامہ کیا فرق پڑتا ہے ‘‘؟۔میں نے کہا بھائی فرق تو پڑتا ہے ،انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے ۔ دوسرے دن مرزا صاحب نے کہا کہ اچھا ایک درخواست لکھ دو کہ کن وجوہات کی وجہ سے تم وقت پر نہیں آئے اور ایک جملہ یہ کہ ’’میرا مقصد وی ۔سی کی بے عزتی کرنا نہیں تھا ‘‘۔

یہ درخواست لکھی گئی ۔ شیخ صاحب نے در خواست جیب میں رکھی اور سنڈیکیٹ میں کہا کہ مبارک نے معافی مانگ لی ہے اس لئے اسے دوبارہ سے ملازمت پر بحال کر دیا جائے ۔جب میں نے سنا تو غصہ آیا کہ لوگ کس دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتے ہیں ۔ سنڈیکیٹ نے فیصلہ کیا کہ مجھے بحال تو کر دیا جا ئے مگر میرا معطلی کا پریڈ بغیر تنخواہ کے ہوگا ۔

جب ضیا ء الحق مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر بنے اور اس کے کچھ مہینوں بعد اانہوں نے اسلامی نظام کے نفاذ کی جو عملی کوششیں کیں تو اس کا سب سے پہلا اثر شیخ ایاز پر ہوا۔شیخ صاحب کی مدت ملازمت پوری ہورہی تھی مگر وہ ہر حالت میں وی۔سی رہنے چاہتے تھے ۔اس لئے حکومت کی خوشنودی کے لئے انہوں نے اپنے کمرے سے باہر نماز با جماعت کا انتظام کیا چونکہ ان کا پیٹ کافی نکلا ہوا ہے اس لئے ان کے لئے علیحدہ سے ایک چوکی رکھی گئی کہ جہاں شیخ صاحب سب کے سامنے نماز با جماعت ادا کرتے تھے ۔اس پر بس نہیں ہوا بلکہ مولانا صلاح الدین جو اُس وقت جماعت اسلامی کے ترجمان روزنامہ اخبار ’جسارت‘ کے ایڈیٹر تھے ، ان کی شاندارد عوت کی گئی اور ان کی کتاب جو شاید حقو ق انسانی اور اسلام پر تھی اس کی کاپیاں خرید کر یونیورسٹی کے تما م شعبوں کو بھیجی گئیں ۔ شیخ صاحب نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ مولانا مودودی کی تفسیر ’تفہیم القران‘ کا سندھی میں ترجمہ کرنا چاہتے ہیں ۔

لیکن شیخ صاحب کی یہ ساری پلاننگ دھری کی دھری رہ گئی کیونکہ ایک دن آرٹس فیکلٹی کے سامنے طلبہ نے مظاہرہ کیا ۔ ان کے خلاف پولیس کو بلایا گیا کہ جس نے آنسو گیس پھینکی اور طلبہ کو فیکلٹی کی بلڈنگ میں پنا ہ لینے پر مجبور کیا۔اس پر یونیورسٹی کے اساتذہ نے احتجاج کیا اور سب مل کر آرٹس فیکلٹی سے وی ۔سی آفس تک پید ل گئے ۔وہاں سب کو سینٹ ہال میں بٹھایا گیا ۔ اس دوران حیدر آباد ریجن کے مارشل لا ء ایڈ منسٹریٹر بھی آگئے ۔اس محفل میں ایک کے بعد ایک استاد نے کھڑے ہو کر سب کے سامنے شیخ صاحب کو بر بھلا کہا ۔ یہاں دلچسپ باتیں ہوئیں ۔

مثلا ایک استاد نے مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر سے کہا کہ کیا آپ بینک کے منیجر کو فوج میں جنرل بنا دیں گے ؟اگر نہیں تو ایک ایسے شخص کو کیوں وی۔سی بنایا ہے کہ جس نے خود کبھی یونیورسٹی میں نہیں پڑھا ۔شیخ صاحب کی بد عنوانیوں اور نالائقیوں کی تمام تفصیلات ایک ایک کرکے پیش ہوئیں ۔مجھے تعجب اس بات پر ہوا کہ خاموشی سے سب سنتے رہے اور قطعی یہ نہیں کہا کہ وہ اس وقت احتجاجا مستعفی ہوتے ہیں ۔ وہ خود تو مستعفی نہیں ہوئے مگر انہیں مزید توسیع نہیں دی گئی اور وہ اس حالت میں یونیورسٹی سے گئے کہ کسی نے انہیں الوداعی تقریب بھی نہیں دی بلکہ ایک عرصہ تک ان کی شاعری پر یونیورسٹی میں طلبہ نے پابندی لگائے رکھی ۔

اس کے بعد سے میرا شیخ صاحب سے کبھی کوئی واسطہ نہیں پڑا ۔نہ ہی میں کبھی ان سے ملا ۔لیکن بعد میں جب میری کتابیں چھپیں اور میری شہرت ہوئی تو سنا ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میرے معاملہ میں ان سے غلطی ہوئی ۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں میں بھی میرا ذکر اچھا ہی کیا ہے ۔ اب سنا ہے کہ واقعی شیخ صاحب پکے و سچے مسلمان ہو گئے ہیں۔

ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو ابھی بھی ہمارے شعبہ میں پروفیسر تھیں مگر وہ بہت کم آتی تھیں ۔ اس لئے نہ تو کلاس لیتی تھیں اور نہ ہی کسی کو ریسرچ وغیرہ کراتی تھیں ۔شیخ صاحب نے انہیں کھلی چھٹی دے رکھی تھی۔ تنخواہ پوری ملتی تھی ۔ابڑو صاحب (نئے وائس چانسلر )کا تعلق شعبہ معاشیات سے تھا ، اس لئے وہ اس فیاضی کا مظاہرہ نہیں کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ جتنے دن یونیورسٹی آئیں گی ، اتنے ہی دنوں کی تنخواہ ملے گی بغیر درخواست غیر حاضری ، فرائض سے لاپرواہی ،یہ اور اس قسم کے کوئی چارجز ان پر نہیں لگے کیونکہ ان کا تعلق جس طبقہ سے ہے وہ قانون سے بالا تر ہوتا ہے ۔ قانون کی خلاف ورزی کی سزا تو ہم جیسے لوگوں کو بھگتنی ہوتی ہے اس لئے کھوڑو صاحبہ کو کبھی ایک دن کی تنخواہ ملتی تھی تو کبھی چار پانچ دن کی ۔ پروفیسری انہوں نے بھی نہیں چھوڑی ۔

جب مظہر صدیقی صاحب وی۔سی ہو کر آئے تو انہوں نے بھی کھوڑو صاحبہ کے سلسلہ میں کوئی ایکشن نہیں لیا ۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اچانک انہیں خیال آیا کہ وہ سیاست میں عملی حصہ لیں ۔اس میں دقت یہ تھی کہ حکومت نے پابندی لگا رکھی تھی کہ ملازمت کے دو سال تک کوئی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا تھا ۔ سنا ہے کہ جنرل ضیا ء الحق نے انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ ان کے لئے اس شرط کو ختم کر ادیں گے یعنی یہ صدر کا استحقاق تھا کہ وہ جس کو چاہے اجازت دے دے اس لئے اچانک ایک دن حمیدہ کھوڑو صاحبہ آئیں ،وی سی سے ملیں اپنا استعفیٰ دیا اور میرے پاس اپنا ڈرائیور بھیجا کہ میں انہیں یہ لیٹر دے ووں کہ ان کے ذمہ شعبہ کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ یہ سب کچھ جلدی میں ہوگیا مگر ہوا یہ کہ صدر نے ان کے لئے اس شرط میں نرمی نہیں کی ۔ اس لئے انہوں نے فورا جی ایم سید کی جئے سندھ پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ۔
ا ن کے استعفیٰ دینے سے جو پروفیسر شپ خالی ہوئی اس پر میرا تقرر ہوگیا ۔

ڈاکٹر مبارک کی خود نوشت ’در در ٹھوکر کھائے ‘کا ایک باب
انتخاب: لیاقت علی ایڈووکیٹ

One Comment

  1. Dear Dr. Mubarak Ali – You had not told me all this when I asked you about the reasons for quitting your post in the Sind University. I had no idea that matters were so bad in that University. After obtaining my PhD from the University of Hamburg I had written to Dr. Jalbani of the Sind University and asked his advice if I should return to Pakistan and join some University. He as well as a Professor of the Panjab University wrote that I should rather stay where I was and forget about returning to Pakistan. They said that they had made this mistake of coming back to Pakistan and were lamenting for making this mistake. What they wrote was the same which you experienced at the hands of the Vice-chancler and others. You have done a much batter job after leaving the Sind University. I have always admired you and have a very positive opinion about your performance as a historian and a writer.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *