اسلامی بینکاری کیا ہے؟

ڈاکٹر اقدس علی کاظمی۔ سابق چیف اکانومسٹ پلاننگ کمیشن

0111
اسلامی بینکاری کی عمومی تعریف کے مطابق یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں بنک سود کا لین دین نہیں کرتے۔بطور ایک معاشی تصور اسلامی بینکاری نظام نسبتاً نیا ہے اور تاریخ میں گہری جڑیں نہیں رکھتا ۔یہ کوئی پچاس سال کی بات ہے کہ مسلم دنیا کے ماہرین شریعت ،علما اور معیشت دانوں نے اسلامی بینکاری نظام کی نظریاتی اور عملی بنیادیں استوار کرنے کی کوششوں کا آغازکیااور یہ انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اسلامی بینکاری اور اس سے متعلقہ موضوعات ۔۔۔اسلامی معیشت ،اسلامی مالیاتی نظام اوراسلامی مانیٹری سسٹم کے بارے میں لٹریچر کا وسیع ذخیرہ وجود میں آچکا ہے۔

اسلامی بینکاری کے حوالے سے لا تعداد جرائد اور رسائل چھپ رہے ہیں جن میں اسلامی بینکاری کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں مسلم دنیا کے دانشوروں کے خیالات و افکار جگہ پاتے ہیں ۔ دنیا کی بہت سی یونیورسٹیوں نے اپنے ماسٹرزڈگری کے نصاب میں اسلامی بینکاری کو بطور مضمون شامل کر رکھا ہے اور ڈاکٹریٹ کے مقالو ں پر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی دی ہیں۔نہ صرف مسلم دنیا بلکہ عالمی مالیاتی نظام کے مراکز لندن اور نیو یارک وغیرہ میں بھی گزشتہ پانچ دہائیوں میں اسلامی بینکاری کے حوالے سے سینکڑوں سیمینارز، ورکشاپس اور کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں ۔

جدہ میں قائم اسلامی ترقیاتی بنک ہی نہیں بلکہ عالمی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے ادارو ں نے بھی اسلامی بینکاری کی تحریک کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ایک مرحلے پر تو آئی ایم ایف نے اپنا ایک باقاعدہ شریعت ڈیپارٹمنٹ قائم کیا تھا جس کے ذمے یہ کام لگایا گیا تھا کہ وہ اسلامی ممالک کے اندورنی اور بیرونی قرضوں کے لئے شریعت کی روشنی میں تحفظات کا نظام وضع کرے اور ساتھ ہی ساتھ ان ممالک میں موجود معاشی نظاموں کی شریعت ڈیپارٹمنٹ کے وضع کردہ خطوط کی مطابق تبدیلی کا اہتمام کرے۔ آئی ایم ایف اپنی ان کوششوں میں کس قدر کامیاب ہو ا اس مطالعے کی اہمیت محض اکیڈمک ہے ۔

اسلامی بینکاری نظام اور اسلامی معیشت پر موجود کتابیات متعدد جلدوں اور ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں اسلامی ترقیاتی بنک جدہ کے تحت قائم اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ نے مطبوعات کے اس شعبے میں نمایاں کام کیا ہے۔اس کے علاوہ متعدد لکھاریوں اور ماہرین نے بھی اسلامی معیشت اور اس سے متعلق مختلف شعبوں کے بارئے میں سینکڑوں کتب تحریر اور مرتب کی ہیں۔

اسلامی بینکاری پرموجود لٹریچر کا تنقیدی جائزہ اور دنیا بھر میں کام کرنے والے نام نہاد اسلامی بنکوں کی جانچ پڑتال ہمیں اس حیران کن اور اہم انکشاف کی طرف لے کر جاتی ہے کہ اسلامی بینکاری بطور نظریہ اور عمل محض ایک مفروضہ کے سوا کچھ نہیں ہے، اسلامی بینکاری بطور عملی معاشی تصور اور نظریہ صرف دیو مالائی ہے جس کا موجود معاشی حقائق سے کو ئی لینا دینا نہیں ۔اس مفروضے کے آغاز،ایک نظام کے طور پر اس کی موجودگی کے دعوے اور اس کے معاشی و سماجی مضمرات کا تجزیہ کیا جانا ضروری ہے ۔

اگر موجود بینکاری نظام کا جائزہ لیا جائے تو بلا تامل یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ کو ئی بنک اپنی تعریف،ڈھانچے ،کارکردگی اور تنظیم و حکمت عملی کے حوالے سے سود کے بغیر زندہ نہیں سکتا۔ سود اور بنک باہم لازم وملزوم ہیں اور انھیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی بینکاری ایک ایسا مفروضہ ہے جومتناقص ہے۔اگر سود ختم کرنا مقصود ہے تو اس کے لئے بنکوں کے پورے موجودہ نظام کو مکمل طور پر ختم کرنا ہو گا،باالفاظ دیگر اسے یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ بنکوں کی بنیاد سود کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے ان کے پورے اوپری ڈھانچے کو ختم کیاجائے۔تاہم اسلامی بینکاری کا جواز پیدا کرنے کے لئے گزشتہ پانچ دہایوں میں ماہرین شریعت،بینکار اور دانشور نت نئے مفروضے پیش کرتے چلے جارہے ہیں۔

اس ضمن میں پہلا اور بنیادی مفروضہ جو پوری اسلامی دنیا میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے قرآن میں ربوٰا کی ممانعت کے بارے میں موجود آیات کی غلط تفسیر پر مبنی ہے ۔ربوٰا اور موجودہ سود کو ایک خیال کرتے ہوئے اس کو معیشت کے تمام شعبوں بشمول بنکو ں سے ختم کیا جانا ایمانی تقاضا سمجھا جاتا ہے ۔اسلامی دانشوروں نے کبھی بھی سنجیدگی اور غیر جذباتی انداز میں تین بنیادی اور باہم جڑے سوالات پر بحث وتمحیص نہیں کی۔ربوٰاکیا ہے ؟سود کیا ہے؟کیاسود اور ربوٰاایک ہی چیز ہیں؟اسلامی سکالرز کا ان سوالات کا تنقیدی جائزہ نہ لینے کی وجہ سے اسلامی بینکاری نظام کا مفروضہ پھل پھول رہاہے۔

دوسرا مفروضہ جس کے گرد اسلامی بینکنگ اور اسلامی معاشی نظام کے تصورات کا تانا بانا بنا جاتاہے وہ یہ ہے کہ سود کی وجہ سے جدید دور کے معاشی نظاموں میں بیروزگاری،افراط زر،سماجی عدم مساوات،غربت اور کسادبازاری وغیرہ پائی جاتی ہے۔ سود ختم کرنے سے معیشت پاک (اسلامی) ہوجائے گی اور افراط زر، بیروزگاری اور دولت کی عدم مساوات سے چھٹکارہ حاصل ہو جائے گا۔

اس حوالے سے تیسرا مفروضہ عوامی دعوے کی شکل میں ہے کہا جاتا ہے کہ پوری دنیا میں دوسو کے قریب ایسے بنک اور بنکنگ کمپنیاں موجود ہیں جو سود کے بغیر کام کررہی ہیں اور سود پر مبنی اداروں کے مقابلے میں یہ ایک متبادل ماڈل ہیں۔اب تو مغرب کے سیکولر بنک اور مالیاتی اداروں نے بھی مسلمان ممالک کے سرمایہ کاروں کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلامی بنکنگ کے شعبے قائم کر لئے ہیں۔

چوتھا مفروضہ یہ ہے کہ کینز جس کا شمار بیسویں صدی کے معروف ماہرین معیشت میں ہوتا ہے نے بھی اپنی بہت سی تحریروں میں ایسے معاشی نظام کے تصور کی تائید کی ہے جو سو د سے پاک ہو۔ اس طرح قرآن کے احکامات اور تفاسیر جو سود کی ممانعت میں ہیں ان کی تائید مغربی ماہرین معیشت بھی کرتے ہیں۔

پانچواں مفروضہ یہ ہے کہ نفع نقصان میں حصہ داری یعنی پی ایل ایس والا طریقہ عین اسلامی اصولوں کے مطابق ہے اور اس کو اسلامی بینکنگ نظام کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔پی ایل ایس والا نظام بنکوں میں سود کی جگہ لے سکتا ہے اور بڑی حد تک مثبت نتائج دے سکتا ہے ۔

چھٹا مفروضہ اس مغالطے کے گرد گھومتا ہے کہ اگر مکمل اسلامی معاشی نظام قائم ہو جائے تواسلامی بینکنگ حقیقت کا روپ دھار لے گی۔دوسرے لفظوں میں اس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی بینکاری سسٹم کے قیام کا انحصار موجود سیکولر نظام کوایک ایسے نظام میں ڈھالنے میں مضمر ہے جو اپنے رنگ روپ اورسپرٹ میں اسلامی اصولوں پر استوار ہو۔ اگر مکمل اسلامی نظام کسی مخصوص ملک یا دنیا میں قائم ہو جائے تو اسلامی بینکنگ سسٹم پر عمل درآمد ممکن ہو جائے گا۔

اصل مسٗلہ یہ کہ اسلامی بینکاری کے مفروضہ کا پرچار بطور ایک نئی معاشی سائنس پوری اسلامی دنیا میں کیا جارہا ہے ۔مسلمان سکالرزنے پاکستان،بنگلہ دیش،انڈونیشیا،ملائشیا،مصر ،سوڈان اور سعودی عرب وغیرہ میں اسلامی بینکاری نظام اور اسلامی معیشت کے تصورات کو تحقیق ،تشریح اور متبادل ماڈل بنانے کے حوالے سے نئی جہتیں دی ہیں۔ لیکن ان تمام کاوشوں کے باوجود سو د نہ صرف موجود ہے بلکہ معیشت کے تمام شعبے اس کی گرفت میں ہیں۔ مارک اپ ہو یا نفع نقصان والا سسٹم یہ محض ناموں کی تبدیلی ہے اس کے سوا کچھ نہیں ۔

پاکستان میں بینکنگ اور مالیاتی نظام کو اسلامائز کرنے کا جو عمل شروع کیا گیا تھا اس کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو ئے ہیں اور اس اسلامائزیشن کے مضمرات معیشت کے لئے بہت سنگین ہیں۔ اگر سود کو کسی آرڈی نینس یا انتظامی حکم کے ختم کردیا جاتا ہے توملک کو ایک بہت بڑے معاشی بحران اور تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ترجمہ :لیاقت علی ایڈووکیٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *