کفن ۔۔ پریم چند

سبط حسن lily-cofin-spray-from-£70.00

جھونپڑی کے دروازے پر باپ او ربیٹا دونوں گرم راکھ کے سامنے بیٹھے تھے۔ ہوا سرکتی تو راکھ میں چھپے چھوٹے چھوٹے انگارے چند سکینڈکے لئے دہک اٹھتے۔ وہ دونوں اپنے پاؤں پر اکڑوں بیٹھے تھے او ربڑی گہری سوچ میں گم راکھ کو مسلسل دیکھ رہے تھے۔ جھونپڑی سے کچھ دیر کے بعد لگاتار کسی عورت کی چیخوں کی آواز آتی۔ چیخیں ایسی خوفناک تھیں کہ جیسے اسے ذبح کرنے کے لئے زبردستی لٹایا جارہاہو۔ جب چیخ کی آواز آتی تو دونوں ایک دوسرے کی طرف خالی خالی آنکھوں سے دیکھتے او رسردی سے بچنے کے لئے پھٹی پرانی چادرکندھوں کے گرد ٹھیک کرلیتے۔ چیخ ختم ہوتی تو فضا میں سناٹا سا چھا جاتا۔ سردیوں کی رات تھی او رساراگاؤں تاریکی میں جذب ہوچکا تھا۔

’’معلوم ہوتا ہے سخت تکلیف میں ہے۔ سارا دن تڑپتے گزرگیا، جا، میرا پتر ایک نظر دیکھ تو آ۔۔۔‘‘ گھیسو نے کہا۔
’’
مجھے سے نہیں دیکھا جاتا۔۔۔ اس کا تڑپنا۔ وہ ہاتھ پاؤں اس طرح پٹکتی ہے، ایسا درد اور پھر ہم مرد کیا کرسکتے ہیں۔ اردگرد کوئی عورت بھی نہیں۔‘‘ مادھو نے کہا۔
’’
تو بڑا ظالم ہے، تیری بیوی ہے، اس کا کچھ خیال تو کر۔۔۔ اٹھ، ایک نظر دیکھ آ۔۔۔!‘‘ گھیسو نے کہا۔
’’
میں تو کہتا ہوں،اللہ اس کی مشکل آسان کردے۔۔۔ کم سے کم اس تکلیف سے تونکلے۔۔۔!! مادھو نے کہا۔

یہ چماروں کی جھونپڑی تھی۔ گھیسو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام سے گھر میں پڑا رہتا۔مادھو تو اوّل نمبر کا کام چور تھا۔ ایک گھنٹہ کام کرتا تو تین گھنٹے حقہ پیتارہتا۔ ان کی اسی کام چوری کی وجہ سے کوئی بھی انہیں کام پر نہ رکھتا تھا۔یہ عجیب طرح کے قناعت پسند تھے، گھر میں دو تین روز کے لئے آٹا آجاتا تو ان کے لئے کام کرنا حرام ہوجاتا۔ آٹا ختم ہوجاتا اورفاقوں کی نوبت آجاتی تو گھیسو درختوں پر چڑھ لکڑیاں توڑلاتا اور مادھو اسے بازار میں بیچ کر دو پیسے کمالاتا۔ جب تک یہ پیسے رہتے، وہ باپ بیٹا سارادن حقہ پیتے او راِدھر اُدھر مٹر گشت میں گزاردیتے۔ گاؤں میں کام کی کمی نہ تھی۔ کاشتکاروں کا گاؤں تھا۔ محنتی آدمی کے لئے پچاس کام تھے مگر ان دونوں کو کوئی کام دینے کے لئے تیار نہ ہوتا۔ صرف گندم کی کٹائی کے دنوں میں انہیں کام ملتا او ران کو کام دینے والا اس بات پر تیار ہوتا کہ دو کو مزدوری دے کر کام صرف ایک آدمی کے برابر ہوگا۔

گھیسو او رمادھو میں کم سے کم چیز پرگزارہ کرنے کی اہلیت تھی۔ انہوں نے کبھی ایک دو دن سے زیادہ کھانے کے بارے میں سوچاہی نہ تھا۔ ان کے پاس ضرورت کی ہر چیز کم سے کم تھی، اس سے کم کا ہونا ممکن ہی نہ تھا۔ کھانے پینے کے لئے مٹی کے دو چار برتن، پھٹے پرانے چیتھڑوں سے جسم ڈھانپتے، انہیں کسی قسم کی نمائش کا کوئی فکر نہ تھا۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کی اس حالت پر کوئی دوسرا کیا کہے گا۔ انہوں نے کبھی قرض نہیں لیا تھا۔ جو ملتا، اسی پر گزارہ کرتے۔ لوگ انہیں گالیاں دیتے یا بے عزت کرتے، اس کا ان پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ مسکین ایسے کہ کوئی نہ کوئی انہیں کچھ نہ کچھ دے ہی دیتا۔ بھوک مٹانا ان کے لئے کبھی مسئلہ نہ تھا۔ کھیتوں سے مٹر اور آلولے آتے او رانہیں گرم راکھ میں بھون کر کھالیتے۔ چری کے ڈنٹھل گنے کی طرح چوس لیتے۔ اگر روٹی پکتی تو بڑی عیاشی سمجھی جاتی او راسے نمک سے کھالیا جاتا۔

گھیسو نے اسی درویشی میں اپنی ساٹھ سالہ زندگی گزاری۔ مادھو بھی مکمل طور پر اپنے باپ کے نقش قدم پر چل رہا تھا۔ اس وقت بھی دونوں راکھ میں آلوبھون رہے تھے۔ گیسو کی بیوی کو مرے ہوئے عرصہ گزرچکا تھا۔ مادھو کی پچھلے سال شادی ہوئی تھی۔ جب سے اس کی بیوی جھونپڑی میں آئی اس نے یہاں کے رہن سہن کی درویشی میں دراڑڈالنے کی کوشش شروع کردی۔ وہ سرکنڈے چھیل کر ہر روز سیر بھر آٹے کا انتظام کرلیتی۔ وہ ان دونوں درویشوں کا پیٹ بھرتی رہتی۔ جب سے وہ آئی، یہ دونوں کچھ اور ہی آلسی او رآرام طلب ہوگئے تھے۔ بلکہ اگر کوئی انہیں کام کے لئے کہتا تو وہ اکڑ دکھاتے جیسے انہیں کسی کام کی ضرورت ہی نہ ہو۔ یہی عورت اب جھونپڑی میں اپنی موت سے لڑرہی تھی۔ اس کے بچے ہونے والا تھا او رکوئی اس کا مددگار وہاں موجود نہ تھا۔ گھیسو نے راکھ سے آلو نکالا۔ اسے چھیلتے ہوئے مادھو سے کہا:۔

’’جا، جھونپڑی میں جھانک آ۔۔۔ کافی دیر سے اس کی چیخ کی آواز نہیں آئی۔۔۔‘‘۔
مادھو کو اندیشہ تھا کہ وہ کوٹھڑی میں گیا تو گھیسو آلوؤں کا بڑا حصہ صاف کردے گا۔کہنے لگا:۔
’’
مجھے ڈرلگتا ہے۔۔۔ کہیں وہ مر نہ گئی ہو۔۔۔‘‘
’’
ڈر کس بات کا ہے۔ ادھر میں بیٹھا ہوں ناں۔۔۔‘‘۔
’’
تو تم ہی کیوں نہیں دیکھ آتے۔۔۔‘‘۔
’’
میری عورت جب مری تھی تو میں تین دن اس کے پاس سے ہلانہ تھا۔۔۔!‘‘ گھیسو نے کہا۔

’’میں سوچتا ہوں کہ کوئی بال بچہ ہوگیا تو کیا ہوگا۔۔۔؟ گھر میں گھٹی کے لئے کچھ تو نہیں۔۔۔‘‘ مادھو نے پریشانی سے پوچھا۔
’’
اگر اللہ نے بچہ دیا تو وہ اس کے لئے سب کچھ دے دے گا۔ میرے نولڑکے ہوئے، گھر میں ہر بار کچھ نہیں ہوتا تھا مگر ہر بار کام چل ہی جاتا تھا۔‘‘ گھیسو نے کہا۔
گھیسو کو اردگرد بسے کسانوں کے تعاون او رمدد کے جذبے پر بڑا یقین تھا۔ اس میں اس کا مکر بھی چھپا ہوا تھا کہ کسان تو جی توڑکر محنت کریں او رضرورت کے وقت اسے مفت میں سب کچھ مل جائے۔
دونوں راکھ سے آلو نکال کر جلدی جلدی کھارہے تھے۔ دونوں کی کوشش تھی کہ وہ دوسرے سے جلدی، زیادہ سے زیادہ آلوکھالیں۔ وہ چھلکا اتارتے اور ٹھنڈا ہوجانے کا انتظار کئے بغیر منہ میں رکھ لیتے۔ آلو دانتوں تلے آتے ہی زبان ، تالو او رحلق کو جلا دیتا کیونکہ راکھ میں انگلیاں مارتے مارتے، ان کی انگلیوں کو آلو کے گرم ہونے کا احساس ہی نہ ہوتا اور منہ میں رکھتے ہی معلوم ہوتا کہ جیسے انگارہ ہو۔ منہ جلتا تو آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔ انہوں نے زندگی میں شاید ایک آدھ بار ہی پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا۔ آلو کھاتے ہوئے گھیسو کو خیال آیا کہ بیس سال پہلے وہ گاؤں کے چودھری کی بارات کے ساتھ گیا تھا۔ لڑکی والوں نے سب باراتیوں کو طرح طرح کے کھانے کھلائے۔ کھانے کی بہتات تھی او رجتنا چاہو، اتنا کھاسکتے تھے۔ سب لوگوں نے ایسا کھایا کہ خدا کی پناہ۔ لوگ مزید کھانے کے لئے منع کرتے اور گھر والے زبردستی پلیٹوں میں ڈال دیتے۔ گھیسوکو یاد آیا کہ کھانا کھانے کے بعد اس سے سیدھا کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا۔ یہ سب یاد کرتے ہوئے گھیسو نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔

’’اب کوئی بھی جی بھر کے کھلانے کا نہیں کہتا۔۔۔ اب تو بس مال جمع کرنے کی دوڑلگی ہے۔۔۔ شادی بیاہ پر بھی کوئی خرچ نہیں کرتا۔‘‘
’’
تم نے تین بڑی پلیٹیں بھرکے زردہ کھایا ہوگا۔۔۔‘‘ مادھونے پوچھا۔
’’
تین سے بھی زیادہ۔۔۔ او رپوریاں حلوہ الگ تھا۔۔۔‘‘ گھیسونے اتراتے ہوئے کہا۔
’’
میں اکیلا بڑی پلیٹیں زردے کی بھری، تو آرام سے کھاسکتا ہوں۔‘‘
پوریاں تو ایسے ہی چکھنے کے لئے ہوتی ہیں۔ دس پندرہ تو بندہ کھاہی لیتا ہے۔۔۔‘‘ مادھو نے ڈھینگ ماری۔

’’جب میں تیرے جیسا گھبروتھا تو چاول پلیٹوں میں نہیں، پرات میں ڈال کرکھاتا تھا۔ اب تو کھلانے والے ہی نہیں رہے۔۔۔‘‘ گھیسو نے کہا۔
آلوکھا کر دونوں نے پانی پیا او روہیں الاؤ کے پاس اپنی دھوتیاں اوڑھ کر گھٹنے پیٹ میں ڈالے سو رہے۔ جھونپڑی میں عورت مسلسل کراہ رہی تھی۔
صبح کو مادھو نے کوٹھڑی میں جاکر دیکھا تو اس کی بیوی مرچکی تھی۔ اس کے منہ پر مکھیاں بھنک رہی تھیں۔ آنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں اودماتھے کی طرف مڑچکی تھیں۔ ساراجسم خاک میں لت پت تھا۔ بچہ، اس کے پیٹ میں مر گیا تھا۔
مادھو بھاگا ہوا گھیسو کے پاس آیا اور زور زور سے ہاہا کار مچانے لگا تاکہ پڑوس والے اس کی آہ وزاری سن لیں۔

اب رونے دھونے سے زیادہ کفن دفن کا معاملہ زیادہ یریشان کن تھا۔ گھر میں پیسہ دھیلہ اسی طرح غائب تھا جیسے چیل کے گھونسے میں مانس۔ دونوں باپ بیٹا روتے پیٹتے گاؤں کے چودھری کے پاس گئے۔ چودھری سے ان کی کبھی نہیں بنتی تھی۔ چوری کرنے اور کام چوری کی وجہ سے وہ کئی دفعہ دونوں باپ بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے پیٹ چکا تھا۔ چودھری نے ان کو جو اس قدر پریشان دیکھا تو کہنے لگا:۔
’’
اوئے گھیسو، کیوں روتا ہے۔۔۔ تم نے عرصے سے اپنی شکل ہی نہیں دکھائی۔۔۔‘‘
گھیسو نے ہاتھ باندھتے ہوئے، بڑی رقّت سے آنکھوں میں آنسو لاکر کہا:۔

’’جناب بڑی مصیبت آگئی، مادھو کی گھر والی رات کوگزر گئی۔ دن بھر تڑپتی رہی۔ آدھی رات سے بہت بعد تک ہم دونوں اس کے سرہانے بیٹھے رہے ۔جو دوا دارُد ہوسکتا تھا، کیا۔۔۔ مگر وہ نہ بچ سکی۔۔۔ اب ہمیں روٹی دینے والا کوئی نہیں رہا۔۔۔ حضور ہم برباد ہوگئے۔ ہمارے پاس جو کچھ تھا، سب اس کے علاج پر خرچ ہوگیا۔ اب آپ کی مہربانی سے ہی اس کا جنازہ اٹھے گا۔ آپ کے علاوہ ہمارا کون ہے۔۔۔‘‘
زمیندار کے دل میں رحم کی ایک لہر آئی۔ مگر اسے گھیسو ہر گز اچھا نہیں لگتا تھا۔ جب کبھی کام کے لئے بلواتا تو وہ بہانہ کرکے کام سے بھاگ جاتا۔ اسے دونوں کی حرام خوری کا پکا یقین تھا۔ مگر یہ وقت غصے یا انتقام کا نہیں تھا۔ اس نے دوروپے نکال کر گھیسو کی طرف پھینکے۔ گھیسو نے دوروپے اٹھالئے اور بلند آواز میں زمیندار کا شکریہ ادا کرنے لگا۔ اس وقت زمیندار کے پاس مہاجن بھی بیٹھا تھا۔ اس نے ایک روپیہ دیا۔ گاؤں میں جس کسی کو مادھو کی بیوی کی موت کا پتا چلا، اس نے کچھ نہ کچھ گھیسو کو ضرور دیا۔ گھیسو کے پاس دس روپے جمع ہوگئے۔ یہ کفن دفن کی ضرورت سے زیادہ تھے۔ گاؤں کی عورتیں گروہ در گروہ آآکر لاش دیکھتیں اور مرنے والی کی بے بسی پر دو آنسو بہاکر چلی جاتیں۔
دونوں باپ بیٹا کفن لینے کے لئے شہر کی طرف گئے۔ راستے میں گھیسو نے مادھو سے صلاح کی:۔
’’
ہلکے سے کپڑے کا کفن لے لیتے ہیں۔۔۔‘‘
’’
جنازہ اٹھاتے رات ہوجائے گی، رات کو کفن کون دیکھے گا۔ ساری زندگی تو اس نیک بخت کی چیتھڑوں میں گزری، اب دنیا سے جاتے وقت کیا اسے نیا کفن چاہئے؟‘‘
’’
کفن تو مٹی میں مٹی ہوجائے گا۔۔۔ لوتھ کا کچھ نہیں رہے گا۔۔۔ سب کیڑے کھاجائیں گے۔‘‘
’’
یہی روپے پہلے مل جاتے تو، اس کا دوادار وتو کروالیتے۔۔۔!!‘‘
دونوں اس گفتگو میں اصل بات ایک دوسرے کو سمجھارہے تھے۔

راستے میں شہر کے قریب ایک بڑا قبرستان تھا۔ اس میں ملنگوں کا ڈیرہ تھا او رمشہور تھا کہ یہاں لوگ بھنگ پیتے ہیں۔ دونوں تذبذب میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ دونوں نے کوئی بات نہ کی۔ وہ ڈیرے میں داخل ہوگئے۔
ڈیرے میں ایک جھونپڑی کے آگے، گھنے درختوں کے نیچے چار پانچ ملنگ بڑے بڑے مٹی کے کونڈوں کے آگے بیٹھے تھے۔ ملنگوں نے کالے رنگ کی دھوتیاں پہن رکھی تھیں او ران کے بال بے تحاشا بڑھے ہوئے تھے۔ سر اور چہرے کے بال آپس میں گڈمڈ ہوچکے تھے او ران میں صرف ناک کے اوپر آنکھوں تک کا حصہ ہی نظر آرہا تھا۔ پاؤں او ربازوؤں پر لوہے کے بڑے بڑے کڑے پہن رکھے تھے۔ ان میں سے ایک کچھ دیر کے بعد نہایت بلند آواز میں کچھ کہتا او ردوسرے اس کی آواز میں اپنی آواز ملادیتے۔ گھیسو او رمادھو ڈرے ڈرے ڈیرے میں داخل ہوئے اور ملنگوں سے کچھ فاصلے پر رک گئے۔ انہیں دیکھ کر ایک ملنگ نے کہا:۔

’’بوُٹی پینے آئے ہو۔۔۔ ادھر بیٹھو‘‘۔
دونوں چپ چاپ ایک قبر کی اوٹ میں بیٹھ گئے۔ ایک ملنگ اٹھا او راس نے آب خوروں میں ہر ا سا مشروب انہیں دیا۔ دونوں نے ایک دم ان کو خالی کردیا او راپنے سامنے زمین پر رکھ دیا۔ ملنگ نے ایک صراحی سے انہیں پھر بھر دیا۔ دو تین آب خورے پینے کے بعد دونوں کی مت ماری گئی اور وہ اول فول بکنے لگے۔ بڑے ملنگ نے اشارہ کیا کہ انہیں مزید بھنگ نہ دی جائے۔ اس نے دونوں باپ بیٹے سے کہا کہ اب وہ جائیں، اگر ان کے پاس پیسے ہیں تو ادھر رکھ دے، ورنہ اللہ بیلی۔۔۔ گھیسو ترنگ میں تھا او راب اپنے آپ کو بہت بڑا زمیندار سمجھ رہا تھا۔اس نے بڑی شان سے دو روپے نکالے او ربڑے ملنگ کے سامنے رکھ دیے۔

دونوں گم سم چلتے بازار تک پہنچے۔ انہیں سخت بھوک لگ رہی تھی۔ وہ ایک دکان میں گئے اور وہاں جو سمجھ میں آیا، کھانے کے لئے منگوایا۔ گوشت، سبزی، پوریاں، تلی مچھلی او رحلوہ۔۔۔ خوب پیٹ بھر کر کھایا او راس پر اٹھ روپے خرچ ہوگئے۔۔۔ کھانے کے بعد گھیسو کو محسوس ہوا کہ آج کتنا اچھا دن ہے، جو بیس سال کے بعد آیا۔۔۔ چودھری کی شادی کے بعد، مادھو کی بیوی کے مرنے کا دن۔ دونوں بڑی اونچی گفتگو کرنے لگے۔
’’
کفن کا کیا کریں گے؟‘‘ مادھو نے پوچھا۔
’’
کہہ دیں گے، جیب سے روپے گرگئے، بہت ڈھونڈا، کہیں نہیں ملے۔‘‘ گھیسو نے تسلی دی۔
’’
اس نیک بخت کو کفن نہ ملا تو اگلے جہان ہم کیا منہ دکھائیں گے؟‘‘ مادھو نے پوچھا۔
’’
تو پریشان نہ ہو، اسے کفن ملے گا او رضرور ملے گا۔۔۔‘‘ گھیسو نے کہا:۔

’’پیسے تو ہم چٹ کرگئے، اب کفن کہاں سے آئے گا؟‘‘ مادھو نے کہا۔
’’
تم پریشان کیوں ہوتے ہو، وہی لوگ اسے کفن دیں گے، جنہوں نے ہمیں کفن لانے کے لئے پیسے دیے تھے۔ اگر ہم تین دفعہ روپے لے کر انہیں کھاجائیں تو بھی چوتھی دفعہ اس عورت کو کفن ملے گا۔۔۔ یہ میرا ساٹھ سالہ تجربہ مجھے سمجھارہا ہے۔۔۔ تم ابھی بچے ہو، سمجھ جاؤ گے۔‘‘ گھیسو نے کہا۔
کھانے سے فارغ ہوکر مادھو نے بچاکھچا کھانا ایک اخبار کے کاغذ میں ڈالا اور سامنے کھڑے ایک بھکاری کو دے دیا۔ گھیسو نے کہا:۔

’’لے جا او رخوب عیش کر۔۔۔ جس کی کمائی تھی وہ تو مرگئی مگر اس کا ثواب اسے ضرور پہنچے گا۔۔۔‘‘
’’
وہ بڑی نیک بخت تھی، ضرور جنت میں جائے گی۔ سال بھر جیسے تیسے ہماری خدمت کی۔ مرتے وقت بھی ہمارے پیٹ بھرکھانے کی آرزو پوری کردی۔ وہ ضرور جنت میں جائے گی۔‘‘ مادھو نے کہا۔
’’
مگر ان موٹے موٹے ٹھگوں کا کیا ہوگا؟ کیا یہ بھی جنت میں جائیں گے؟ اگر یہ وہاں جائیں گے تو تمہاری بیوی کدھر جائے گی؟‘‘ گھیسو نے ترنگ میں کہا۔
’’
مگر وہ تو زندگی میں دکھی رہی او رمری بھی کتنا دکھ سہہ کر‘‘۔۔۔ مادھو نے کہا او رآنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگا۔
گھیسو نے اسے سمجھایا:۔

’’اوئے، تو کیوں روتا ہے، اس کے تو سارے دکھ ختم ہوگئے۔۔۔ وہ سکھی ہوگئی۔‘‘
دونوں، باپ بیٹا لہراتے ہوئے دکان سے نکلے اور گاؤں کی طرف چل دیے۔

2 Comments

  1. عمران ازفر says:

    ایک شاندار افسانہ جو انسانی نفسیات کی گرہ کشائی سماجی برتاوے کے ترازو میں کرتا یے,معاشرے سے دھتکارے ہوئے باپ بیٹا جو بہترین سماجی اور منطقی شعور رکھتے ہیں مگر دولت نہ ہونے کے باعث بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں… پریم چند نے اپنے ناول اور افسانے میں ہندوستان کے زرعی معاشرے کو خوبی سے بیان کیا ہے, کسان,مزدور,بنیا,جاگیردار پریم چند کی کہانی کے معنوی پھیلاؤ کے مختلف دھارے ہیں جو باہم پیوست ہیں…. اردو افسانہ اس قدر زرخیز ہے کہ اپنے پھیلاؤ میں کئی امکانات کو سموئے ہوئے ہے….

  2. Ahh! I agreed with imran comments.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *